پارہ 21
العنكبوت
عنکبوت
پڑھنے کی ترتیبات
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 46
۞ وَلَا تُجَـٰدِلُوٓا۟ أَهْلَ ٱلْكِتَـٰبِ إِلَّا بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ إِلَّا ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنْهُمْ ۖ وَقُولُوٓا۟ ءَامَنَّا بِٱلَّذِىٓ أُنزِلَ إِلَيْنَا وَأُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلَـٰهُنَا وَإِلَـٰهُكُمْ وَٰحِدٌ وَنَحْنُ لَهُۥ مُسْلِمُونَ
اور اہل کتاب کے ساتھ بحﺚ ومباحثہ نہ کرو مگر اس طریقہ پر جو عمده ہو[1] مگر ان کے ساتھ جو ان میں ﻇالم ہیں[2] اور صاف اعلان کر دو کہ ہمارا تو اس کتاب پر بھی ایمان ہے اور جو ہم پر اتاری گئی ہے اور اس پر بھی جو تم پر اتاری گئی[3]، ہمارا تمہارا معبود ایک ہی ہے۔ ہم سب اسی کے حکم برادر ہیں.
حواشی
[1] اس لئے کہ وہ اہل علم وفہم ہیں، بات کو سمجھنے کی صلاحیت واستعداد رکھتے ہیں۔ بنا بریں ان سے بحث وگفتگو میں تلخی اور تندی مناسب نہیں۔ [2] یعنی جو بحث ومجادلہ میں افراط سےکام لیں تو تمہیں بھی سخت لب ولہجہ اختیار کرنے کی اجازت ہے۔ بعض نے پہلے گروہ سے مراد وہ اہل کتاب لئے ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے اور دوسرے گروہ سے وہ اشخاص جو مسلمان نہیں ہوئے بلکہ یہودیت ونصرانیت پر قائم رہے اور بعض نے ظَلَمُوا مِنْهُمْ کا مصداق ان اہل کتاب کو لیا ہے جو مسلمانوں کےخلاف جارحانہ عزائم رکھتے تھے اور جدال وقتال کے بھی مرتکب ہوتے تھے۔ ان سے تم بھی قتال کرو تا آنکہ مسلمان ہو جائیں، یا جزیہ دیں۔ [3] یعنی تورات وانجیل پر۔ یعنی یہ بھی اللہ کی طرف سےنازل کردہ ہیں اور یہ کہ یہ شریعت اسلامیہ کے قیام اور بعثت محمدیہ تک شریعت الہیہٰ ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 47
وَكَذَٰلِكَ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبَ ۚ فَٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَـٰهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ يُؤْمِنُونَ بِهِۦ ۖ وَمِنْ هَـٰٓؤُلَآءِ مَن يُؤْمِنُ بِهِۦ ۚ وَمَا يَجْحَدُ بِـَٔايَـٰتِنَآ إِلَّا ٱلْكَـٰفِرُونَ
اور ہم نے اسی طرح آپ کی طرف اپنی کتاب نازل فرمائی ہے، پس جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وه اس پر ایمان ﻻتے ہیں[1] اور ان (مشرکین) میں سے بعض اس پر ایمان رکھتے ہیں[2] اور ہماری آیتوں کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں.
حواشی
[1] اس سے مراد عبداللہ بن سلام (رضي الله عنه) وغیرہ ہیں۔ ایتائے کتاب سے مراد اس پر عمل ہے۔ گویا اس پر جو عمل نہیں کرتے، انہیں یہ کتاب دی ہی نہیں گئی۔ [2] ان سے مراد اہل مکہ ہیں جن میں سے کچھ لوگ ایمان لے آئے تھے۔
آیت کے اختیارات
- 48
وَمَا كُنتَ تَتْلُوا۟ مِن قَبْلِهِۦ مِن كِتَـٰبٍ وَلَا تَخُطُّهُۥ بِيَمِينِكَ ۖ إِذًا لَّٱرْتَابَ ٱلْمُبْطِلُونَ
اس سے پہلے تو آپ کوئی کتاب پڑھتے نہ تھے[1] اور نہ کسی کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھتے[2] تھے کہ یہ باطل پرست لوگ شک وشبہ میں پڑتے.[3]
حواشی
[1] اس لئے کہ ان پڑھ تھے۔ [2] اس لئے کہ لکھنے کے لئے بھی علم ضروری ہے، جو آپ نےکسی سے حاصل ہی نہیں کیا تھا۔ [3] یعنی اگر آپ (صلى الله عليه وسلم) پڑھے لکھے ہوتے یا کسی استاد سےکچھ سیکھا ہوتا تو لوگ کہتے کہ یہ قرآن مجید فلاں کی مدد سے یا اس سے تعلیم حاصل کرنے کا نتیجہ ہے۔
آیت کے اختیارات
- 49
بَلْ هُوَ ءَايَـٰتٌۢ بَيِّنَـٰتٌ فِى صُدُورِ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ ۚ وَمَا يَجْحَدُ بِـَٔايَـٰتِنَآ إِلَّا ٱلظَّـٰلِمُونَ
بلکہ یہ (قرآن) تو روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں محفوظ ہیں[1] ، ہماری آیتوں کا منکر بجز ﻇالموں کے اور کوئی نہیں.
حواشی
[1] یعنی قرآن مجید کے حافظوں کے سینوں میں۔ یہ قرآن مجید کا اعجاز ہےکہ قرآن مجید لفظ بہ لفظ سینے میں محفوظ ہوتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 50
وَقَالُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَـٰتٌ مِّن رَّبِّهِۦ ۖ قُلْ إِنَّمَا ٱلْـَٔايَـٰتُ عِندَ ٱللَّهِ وَإِنَّمَآ أَنَا۠ نَذِيرٌ مُّبِينٌ
انہوں نے کہا کہ اس پر کچھ نشانیاں (معجزات) اس کے رب کی طرف سے کیوں نہیں اتارے گئے۔ آپ کہہ دیجئے کہ نشانیاں تو سب اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں[1] میں تو صرف کھلم کھلا آگاه کر دینے واﻻ ہوں.
حواشی
[1] یعنی یہ نشانیاں اس کی حکمت ومشیت، جن بندوں پر اتارنے کی مقتضی ہوتی ہے، وہاں وہ اتارتا ہے، اس میں اللہ کے سوا کسی کا اختیار نہیں ہے۔
آیت کے اختیارات
- 51
أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّآ أَنزَلْنَا عَلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبَ يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَىٰ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
کیا انہیں یہ کافی نہیں؟ کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل فرما دی جو ان پر پڑھی جا رہی ہے[1] ، اس میں رحمت (بھی) ہے اور نصیحت (بھی) ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان والے ہیں.[2]
حواشی
[1] یعنی وہ نشانیاں طلب کرتے ہیں۔ کیا ان کے لئےبطور نشانی یہ قرآن کافی نہیں ہے جو ہم نے آپ پر نازل کی ہے اور جس کی بابت انہیں چیلنج دیا گیا ہے کہ اس جیسا قرآن لا کر دکھائیں یا کوئی ایک سورت ہی بنا کر پیش کر دیں۔ جب قرآن کی اس معجز ہ نمائی کےباوجود یہ قرآن پر ایمان نہیں لا رہے ہیں تو حضرت موسیٰ وعیسیٰ علیہما السلام کی طرح انہیں معجزے دکھا بھی دیئے جائیں تو ان پر یہ کون سا ایمان لے آئیں گے؟ [2] یعنی ان لوگوں کے لئےجو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے آیا ہے، کیونکہ وہی اس سے متمتع اور فیض یاب ہوتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 52
قُلْ كَفَىٰ بِٱللَّهِ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ شَهِيدًا ۖ يَعْلَمُ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۗ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱلْبَـٰطِلِ وَكَفَرُوا۟ بِٱللَّهِ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَـٰسِرُونَ
کہہ دیجئے کہ مجھ میں اور تم میں اللہ تعالیٰ گواه ہونا کافی ہے[1] وه آسمان وزمین کی ہر چیز کا عالم ہے، جو لوگ باطل کے ماننے والے اور اللہ تعالیٰ سے کفر کرنے والے[2] ہیں وه زبردست نقصان اور گھاٹے میں ہیں.[3]
حواشی
[1] اس بات پر کہ میں اللہ کا نبی ہوں اور جو کتاب مجھ پر نازل ہوئی ہے، یقیناً منجانب اللہ ہے۔ [2] یعنی غیر اللہ کو عبادت کا مستحق ٹھہراتے ہیں اور جو فی الواقع مستحق عبادت ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ، اس کا انکار کرتے ہیں۔ [3] کیونکہ یہی لوگ فساد عقلی اور سوء فہم میں مبتلا ہیں، اسی لئے انہوں نے جو سودا کیا ہےکہ ایمان کے بدلے کفر اور ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی ہے، اس میں بھی یہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 53
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِٱلْعَذَابِ ۚ وَلَوْلَآ أَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ ٱلْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
یہ لوگ آپ سے عذاب کی جلدی کر رہے ہیں[1] ۔ اگر میری طرف سے مقرر کیا ہوا وقت نہ ہوتا تو ابھی تک ان کے پاس عذاب آچکا ہوتا[2]، یہ یقینی بات ہے کہ اچانک ان کی بے خبری میں ان کے پاس عذاب آپہنچے گا.[3]
حواشی
[1] یعنی پیغمبر کی بات ماننے کے بجائے، کہتے ہیں کہ اگر تو سچا ہے تو ہم پر عذاب نازل کروا دے۔ [2] یعنی ان کے اعمال واقوال تو یقیناً اس لائق ہیں کہ انہیں فوراً صفحۂ ہستی سے ہی مٹا دیا جائے۔ لیکن ہماری سنت ہے کہ ہر قوم کو ایک وقت خاص تک مہلت دیتے ہیں، جب وہ مہلت عمل ختم ہو جاتی ہے تو ہمارا عذاب آجاتا ہے۔ [3] یعنی جب عذاب کا وقت مقرر آجائے گا تو اس طرح اچانک آئے گا کہ انہیں پتہ بھی نہیں چلےگا، یہ وقت مقرر وہ ہےجو اس نے اہل مکہ کے لئے لکھ رکھا تھا، یعنی جنگ بدر میں اسارت وقتل، یا پھر قیامت کا وقوع ہے جس کے بعد کافروں کے لئے عذاب ہی عذاب ہے۔
آیت کے اختیارات
- 54
يَسْتَعْجِلُونَكَ بِٱلْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌۢ بِٱلْكَـٰفِرِينَ
یہ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں اور (تسلی رکھیں) جہنم کافروں کو گھیر لینے والی ہے.[1]
حواشی
[1] پہلا يَسْتَعْجِلُونَكَ بطور خبر کے تھا اور یہ دوسرا بطور تعجب کے ہے یعنی یہ امر تعجب انگیز ہے کہ عذاب کی جگہ (جہنم) ان کو اپنےگھیرے میں لئے ہوئے ہے۔ پھر بھی عذاب کے لئے جلدی مچا رہے ہیں؟ حالاں کہ ہرآنے والی چیز قریب ہی ہوتی ہے، اسے دور کیوں سمجھتے ہیں؟ یا پھر یہ تکرار بطور تاکید کے ہے۔
آیت کے اختیارات
- 55
يَوْمَ يَغْشَىٰهُمُ ٱلْعَذَابُ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ وَيَقُولُ ذُوقُوا۟ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
اس دن ان کے اوپر تلے سے عذاب ڈھانﭗ رہا ہوگا اور اللہ تعالیٰ[1] فرمائے گا کہ اب اپنے (بد) اعمال کا مزه چکھو.
حواشی
[1] يَقُولُ، کا فاعل اللہ ہے یا فرشتے، یعنی جب چاروں طرف سے ان پر عذاب ہو رہا ہوگا تو کہا جائے گا۔
آیت کے اختیارات
- 56
يَـٰعِبَادِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّ أَرْضِى وَٰسِعَةٌ فَإِيَّـٰىَ فَٱعْبُدُونِ
اے میرے ایمان والے بندو! میری زمین بہت کشاده ہے سو تم میری ہی عبادت کرو.[1]
حواشی
[1] اس میں ایسی جگہ سے، جہاں اللہ کی عبادت کرنی مشکل ہو اور دین پر قائم رہنا دوبھر ہو رہا ہو، ہجرت کرنے کا حکم ہے، جس طرح مسلمانوں نے پہلے مکہ سے حبشہ کی طرف اور پھر بعد میں مدینہ کی طرف ہجرت کی۔
آیت کے اختیارات
- 57
كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ ٱلْمَوْتِ ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
ہر جاندار موت کا مزه چکھنے واﻻ ہےاور تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے.[1]
حواشی
[1] یعنی موت کا جرعۂ تلخ تو لامحالہ ہر ایک کو پینا ہے، ہجرت کرو گے تب بھی اور نہ کرو گے تب بھی، اس لئےتمہارے لئےوطن کا، رشتے داروں کا، اور دوست احباب کا چھوڑنا مشکل نہیں ہونا چاہئے۔ موت تو تم جہاں بھی ہوں گے آجائے گی۔ البتہ اللہ کی عبادت کرتے ہوئے مرو گے تو تم اخروی نعمتوں سے شاد کام ہو گے، اس لئے کہ مر کر تو اللہ ہی کے پاس جانا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 58
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُم مِّنَ ٱلْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَا ۚ نِعْمَ أَجْرُ ٱلْعَـٰمِلِينَ
اور جولوگ ایمان ﻻئے اور نیک کام کیے انہیں ہم یقیناً جنت کے ان باﻻ خانوں میں جگہ دینگے جن کے نیچے چشمے بہہ رہے ہیں[1] جہاں وه ہمیشہ رہیں گے[2]، کام کرنے والوں کا کیا ہی اچھا اجر ہے.
حواشی
[1] یعنی اہل جنت کے مکانات بلند ہوں گے، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ نہریں پانی، شراب، شہد اور دودھ کی ہوں گی، علاوہ ازیں انہیں جس طرف پھیرنا چاہیں گے، ان کا رخ اسی طرف ہو جائے گا۔ [2] ان کے زوال کا خطرہ ہوگا، نہ انہیں موت کا اندیشہ نہ کسی اور جگہ پھر جانے کا خوف۔
آیت کے اختیارات
- 59
ٱلَّذِينَ صَبَرُوا۟ وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
وه جنہوں نے صبر کیا[1] ، اور اپنے رب تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہیں.[2]
حواشی
[1] یعنی دین پر مضبوطی سے قائم رہے، ہجرت کی تکلیفیں برداشت کیں، اہل وعیال اور عزیز واقربا سےدوری کو محض اللہ کی رضا کے لئے گوارا کیا۔ [2] دین اور دنیا کے ہر معاملے اور حالات میں۔
آیت کے اختیارات
- 60
وَكَأَيِّن مِّن دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا ٱللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ ۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ
اور بہت سے[1] جانور ہیں جو اپنی روزی اٹھائے نہیں پھرتے[2]، ان سب کو اور تمہیں بھی اللہ تعالیٰ ہی روزی دیتا ہے[3]، وه بڑا ہی سننے جاننے واﻻ ہے.[4]
حواشی
[1] كَأَيِّنْ میں کاف تشبیہ کا ہے اور معنی ہیں کتنے ہی یا بہت سے۔ [2] کیونکہ اٹھا کر لے جانے کی ان میں ہمت ہی نہیں ہوتی، اسی طرح وہ ذخیرہ بھی نہیں کر سکتے۔ مطلب یہ ہے کہ رزق کسی خاص جگہ کے ساتھ مختص نہیں ہے بلکہ اللہ کا رزق اپنی مخلوق کے لئے عام ہے وہ جو بھی ہو اور جہاں بھی ہو بلکہ اللہ تعالیٰ نےہجرت کو جانے والے صحابہ (رضي الله عنهم) کو پہلے سے کہیں زیادہ وسیع اور پاکیزہ رزق عطا فرمایا، نیز تھوڑے ہی عرصے کے بعد انہیں عرب کے متعدد علاقوں کا حکمران بنا دیا۔ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ. [3] یعنی کمزور ہے یا طاقت ور، اسباب ووسائل سے بہرہ ور ہے یا بے بہرہ، اپنے وطن میں ہے یا مہاجر اور بے وطن، سب کا روزی رساں وہی اللہ ہے جو چیونٹی کو زمین کے کونوں کھدروں میں، پرندوں کو ہواؤں میں اور مچھلیوں اور دیگر آبی جانوروں کو سمندر کی گہرائیوں میں روزی پہنچاتا ہے۔ اس موقع پر مطلب یہ ہے کہ فقر وفاقہ کا ڈر ہجرت میں رکاوٹ نہ بنے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اور تمام مخلوقات کی روزی کا ذمے دار ہے۔ [4] وہ جاننے والا ہے تمہارے اعمال وافعال کو اور تمہارے ظاہر وباطن کو، اس لئے صرف اسی سے ڈرو، اس کے سوا کسی سے مت ڈرو! اسی کی اطاعت میں سعادت وکمال ہے اور اس کی معصیت میں شقاوت ونقصان۔
آیت کے اختیارات
- 61
وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَسَخَّرَ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُ ۖ فَأَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ
اور اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ زمین وآسمان کا خالق اور سورج چاند کو کام میں لگانے واﻻ کون ہے؟ تو ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ[1] ، پھر کدھر الٹے جا رہے ہیں.[2]
حواشی
[1] یعنی یہ مشرکین، جو مسلمانوں کو محض توحید کی وجہ سے ایذائیں پہنچا رہے ہیں، ان سے اگر پوچھا جائے کہ آسمان وزمین کو عدم سےوجود میں لانے والا اور سورج اور چاند کو اپنے اپنے مدار پر چلانے والا کون ہے؟ تو وہاں یہ اعتراف کیے بغیر انہیں چارہ نہیں ہوتا کہ یہ سب کچھ کرنے والا اللہ ہے۔ [2] یعنی دلائل واعتراف کے باوجود حق سے یہ اعراض اور گریز باعث تعجب ہے۔
آیت کے اختیارات
- 62
ٱللَّهُ يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ وَيَقْدِرُ لَهُۥٓ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے فراخ روزی دیتا ہے اور جسے چاہے تنگ[1] ۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے واﻻ ہے.[2]
حواشی
[1] یہ مشرکین کے اعتراض کا جواب ہے جو وہ مسلمانوں پر کرتے تھے کہ اگر تم حق پر ہوتو پھر غریب اور کمزور کیوں ہو؟ اللہ نے فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور کمی اللہ کے اختیار میں ہے وہ اپنی حکمت ومشیت کے مطابق جس کو چاہتا ہے کم یا زیادہ دیتا ہے، اس کا تعلق اس کی رضا مندی یا غضب سے نہیں ہے۔ [2] اس کو بھی وہی جانتا ہے کہ زیادہ رزق کس کے لئے بہتر ہے اور کس کے لئے نہیں؟
آیت کے اختیارات
- 63
وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّن نَّزَّلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً فَأَحْيَا بِهِ ٱلْأَرْضَ مِنۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُ ۚ قُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ
اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمان سے پانی اتار کر زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کس نے کیا؟ تو یقیناً ان کا جواب یہی ہوگا اللہ تعالیٰ نے۔ آپ کہہ دیں کہ ہر تعریف اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے، بلکہ ان میں سے اکثر بے عقل ہیں.[1]
حواشی
[1] کیونکہ عقل ہوتی تو اپنے رب کےساتھ پتھروں کو اور مردوں کو رب نہ بناتے۔ نہ ان کے اندر یہ تناقض ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی خالقیت وربوبیت کے اعتراف کے باوجود، بتوں کو حاجت روا اور لائق عبادت سمجھ رہے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 64
وَمَا هَـٰذِهِ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَآ إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ ۚ وَإِنَّ ٱلدَّارَ ٱلْـَٔاخِرَةَ لَهِىَ ٱلْحَيَوَانُ ۚ لَوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ
اور دنیا کی یہ زندگانی تو محض کھیل تماشا ہے[1] البتہ آخرت کے گھر کی زندگی ہی حقیقی زندگی ہے[2]، کاش! یہ جانتے ہوتے.[3]
حواشی
[1] یعنی جس دنیا نے انہیں آخرت سے اندھا اور اس کے لئے توشہ جمع کرنے سے غافل رکھا ہے، وہ ایک کھیل کود سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی، کافر دنیا کے کاروبار میں مشغول رہتا ہے، اس کے لئے شب روز محنت کرتا ہے لیکن جب مرتا ہے تو خالی ہاتھ ہوتا ہے۔ جس طرح بچے سارا دن مٹی کے گھروندوں سے کھیلتے ہیں، پھر خالی ہاتھ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں، سوائے تھکاوٹ کے انہیں کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ [2] اس لئے ایسےعمل صالح کرنے چاہئے جن سے آخرت کا یہ گھر سنور جائے۔ [3] کیونکہ اگر وہ یہ بات جان لیتے تو آخرت سے بے پرواہ ہو کر دنیا میں مگن نہ ہوتے۔ اس لئے انکا علاج علم ہے، علم شریعت۔
آیت کے اختیارات
- 65
فَإِذَا رَكِبُوا۟ فِى ٱلْفُلْكِ دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ فَلَمَّا نَجَّىٰهُمْ إِلَى ٱلْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ
پس یہ لوگ جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اس کے لئے عبادت کو خالص کر کے پھر جب وه انہیں خشکی کی طرف بچا ﻻتا ہے تو اسی وقت شرک کرنے لگتے ہیں.[1]
حواشی
[1] مشرکین کے اس تناقض کو بھی قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان فرمایا گیا ہے۔ اس تناقض کو حضرت عکرمہ (رضي الله عنه) سمجھ گئے تھے جس کی وجہ سے انہیں قبول اسلام کی توفیق حاصل ہوگئی۔ ان کے متعلق آیا ہے کہ فتح مکہ کے بعد یہ مکہ سے فرار ہوگئے تاکہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی گرفت سے بچ جائیں۔ یہ حبشہ جانے کے لئے ایک کشتی میں بیٹھے، کشتی گرداب میں پھنس گئی، تو کشتی میں سوار لوگوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ پورے خلوص سے رب سے دعائیں کرو، اس لئےکہ یہاں اس کےعلاوہ کوئی نجات دینے والا نہیں ہے۔ حضرت عکرمہ (رضي الله عنه) نے یہ سن کر کہا کہ اگر یہاں سمندر میں اس کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا تو خشکی میں بھی اس کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا۔ اور اسی وقت اللہ سے عہد کر لیا کہ اگر میں یہاں سے بخیرت ساحل پر پہنچ گیا تو میں محمد (صلى الله عليه وسلم) کے ہاتھ پر بیعت کر لوں گا یعنی مسلمان ہو جاؤں گا، چنانچہ یہاں سے نجات پاکر انہوں نے اسلام قبول کرلیا (رضي الله عنه)۔ (ابن کثیر بحوالہ سیرت محمد بن اسحاق)
آیت کے اختیارات
- 66
لِيَكْفُرُوا۟ بِمَآ ءَاتَيْنَـٰهُمْ وَلِيَتَمَتَّعُوا۟ ۖ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ
تاکہ ہماری دی ہوئی نعمتوں سے مکرتے رہیں اور برتتے رہیں[1] ۔ ابھی ابھی پتہ چل جائے گا.
حواشی
[1] یہ لام کئی ہے جو علت کے لئے ہے۔ یعنی نجات کے بعد ان کا شرک کرنا، اس لئے ہے کہ وہ کفران نعمت کریں اور دنیا کی لذتوں سے متمتع ہوتے رہیں۔ کیونکہ اگر وہ یہ ناشکری نہ کرتے تو اخلاص پر قائم رہتے اور صرف الہٰ واحد کو ہی ہمیشہ پکارتے۔ بعض کے نزدیک یہ لام عاقبت کے لئے ہے، یعنی گو ان کا مقصد کفر کرنا نہیں ہے لیکن دوبارہ شرک کے ارتکاب کا نتیجہ بہرحال کفر ہی ہے۔
آیت کے اختیارات
- 67
أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا ءَامِنًا وَيُتَخَطَّفُ ٱلنَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۚ أَفَبِٱلْبَـٰطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ ٱللَّهِ يَكْفُرُونَ
کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو با امن بنا دیا ہے حاﻻنکہ ان کے اردگرد سے لوگ اچک لیے جاتے ہیں[1] ، کیا یہ باطل پر تو یقین رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر ناشکری کرتے ہیں.[2]
حواشی
[1] اللہ تعالیٰ اس احسان کا تذکرہ فرما رہاہے جو اہل مکہ پر اس نے کیا کہ ہم نے ان کے حرم کو امن والا بنایا جس میں اس کے باشندے قتل وغارت، اسیری، لوٹ مار وغیرہ سے محفوظ ہیں، جب کہ عرب کے دوسرےعلاقے اس امن وسکون سے محروم ہیں قتل وغارت گری ان کے ہاں معمول اور آئے دن کا مشغلہ ہے۔ [2] یعنی کیا اس نعمت کا شکر یہی ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائیں، اور جھوٹے معبودوں اور بتوں کی پرستش کرتے رہیں۔ اس احسان کا اقتضا تو یہ تھا کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے اور اس کے پیغمبر (صلى الله عليه وسلم) کی تصدیق کرتے۔
آیت کے اختیارات
- 68
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِٱلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُۥٓ ۚ أَلَيْسَ فِى جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكَـٰفِرِينَ
اور اس سے بڑا ﻇالم کون ہوگا؟ جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے[1] یا جب حق اس کے پاس آجائے وه اسے[2] جھٹلائے، کیا ایسے کافروں کا ٹھکانا جہنم میں نہ ہوگا؟
حواشی
[1] یعنی دعویٰ کرے کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے دراں حالیکہ ایسا نہ ہو یا کوئی یہ کہے کہ میں بھی وہ چیز اتار سکتا ہوں جو اللہ نے اتاری ہے۔ یہ افتراہے اور مدعی مفتری۔ [2] یہ تکذیب ہے اور اس کا مرتکب مکذب۔ افترا اور تکذیب دونوں کفر ہیں جس کی سزا جہنم ہے۔
آیت کے اختیارات
- 69
وَٱلَّذِينَ جَـٰهَدُوا۟ فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَمَعَ ٱلْمُحْسِنِينَ
اور جو لوگ ہماری راه میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں[1] ہم انہیں اپنی راہیں ضرور دکھا دیں گے[2]۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کا ساتھی ہے.[3]
حواشی
[1] یعنی دین پر عمل کرنے میں جو دشواریاں، آزمائشیں اور مشکلات پیش آتی ہیں۔ [2] اس سے مراد دنیا وآخرت کے وہ راستے ہیں جن پر چل کر انسان کو اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ [3] احسان کا مطلب ہے اللہ کوحاضر ناظر جان کر ہرنیکی کےکام کو اخلاص کے ساتھ کرنا، سنت نبوی (صلى الله عليه وسلم) کے مطابق کرنا، برائی کے بدلے میں برائی کے بجائے حسن سلوک کرنا، اپنا حق چھوڑ دینا اور دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دینا۔ یہ سب احسان کےمفہوم میں شامل ہیں۔
آیت کے اختیارات
الروم
روم
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ روم
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
الٓمٓ
الم.
آیت کے اختیارات
- 2
غُلِبَتِ ٱلرُّومُ
رومی مغلوب ہوگئے ہیں.
آیت کے اختیارات
- 3
فِىٓ أَدْنَى ٱلْأَرْضِ وَهُم مِّنۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ
نزدیک کی زمین پر اور وه مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے.
آیت کے اختیارات
- 4
فِى بِضْعِ سِنِينَ ۗ لِلَّهِ ٱلْأَمْرُ مِن قَبْلُ وَمِنۢ بَعْدُ ۚ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ ٱلْمُؤْمِنُونَ
چند سال میں ہی۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی اختیار اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔ اس روز مسلمان شادمان ہوں گے.
آیت کے اختیارات
- 5
بِنَصْرِ ٱللَّهِ ۚ يَنصُرُ مَن يَشَآءُ ۖ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
اللہ کی مدد سے[1] ، وه جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے۔ اصل غالب اور مہربان وہی ہے.
حواشی
[1] عہدرسالت میں دو بڑی طاقتیں تھیں۔ ایک فارس (ایران) کی، دوسری روم کی۔ اول الذکر حکومت آتش پرست اور دوسری عیسائی یعنی اہل کتاب تھی۔ مشرکین مکہ کی ہمدردیاں فارس کے ساتھ تھیں کیونکہ دونوں غیر اللہ کے پجاری تھے۔ جبکہ مسلمانوں کی ہمدردیاں روم کی عیسائی حکومت کے ساتھ تھیں، اس لیے کہ عیسائی بھی مسلمان کی طرح اہل کتاب تھے اور وحی ورسالت پر یقین رکھتے تھے۔ ان کی آپس میں ٹھنی رہتی تھی۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی بعثت کے چند سال بعد ایسا ہوا کہ فارس کی حکومت عیسائی حکومت پر غالب آگئی، جس پر مشرکوں کو خوشی اور مسلمانوں کو غم ہوا، اس موقعہ پر قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوئیں، جن میں یہ پیش گوئی کی گئی کہ بِضْعِ سِنِينَ کے اندر رومی پھر غالب آجائیں گے اور غالب، مغلوب اور مغلوب غالب ہو جائیں گے۔ بظاہر اسباب یہ پیش گوئی ناممکن العمل نظر آتی تھی۔ تاہم مسلمانوں کو اللہ کےاس فرمان کی وجہ سےیقین تھا کہ ایسا ضرور ہو کر رہے گا۔ اسی لئےحضرت ابو بکر صدیق (رضي الله عنه) نےابوجہل سے یہ شرط باندھ لی کہ رومی پانچ سال کےاندر دوبارہ غالب آجائیں گے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) کے علم میں یہ بات آئی تو فرمایا کہ بِضْعٌ کا لفظ تین سےدس تک کےعدد کے لئے استعمال ہوتا ہے تم نے 5 سال کی مدت کم رکھی ہے، اس میں اضافہ کر لو۔ چنانچہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی ہدایت کے مطابق حضرت ابوبکر (رضي الله عنه) نے اس مدت میں اضافہ کروا لیا۔ اور پھر ایسا ہی ہوا کہ رومی 9 سال کی مدت کےاندر اندر یعنی ساتویں سال دوبارہ فارس پر غالب آگئے، جس سے یقیناً مسلمانوں کو بڑی خوشی ہوئی، (ترمذی، تفسیر سورۃ الروم) بعض کہتے ہیں کہ رومیوں کو یہ فتح اس وقت ہوئی، جب بدر میں مسلمانوں کو کافروں پر غلبہ حاصل ہوا،اور مسلمان اپنی فتح پر خوش ہوئے۔ رومیوں کی یہ فتح قرآن کریم کی صداقت کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ نزدیک کی زمین سے مراد، عرب کی زمین کے قریب کے علاقے ہیں، یعنی شام وفلسطین وغیرہ، جہاں عیسائیوں کی حکومت تھی۔
آیت کے اختیارات
- 6
وَعْدَ ٱللَّهِ ۖ لَا يُخْلِفُ ٱللَّهُ وَعْدَهُۥ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
اللہ کا وعده ہے[1] ، اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کا خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے.
حواشی
[1] یعنی اے محمد! (صلى الله عليه وسلم) ہم آپ کو جو خبر دے رہے ہیں کہ عنقریب رومی، فارس پر دوبارہ غالب آجائیں گے، یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے جو مدت موعود کے اندر یقیناً پورا ہو کر رہے گا۔
آیت کے اختیارات
- 7
يَعْلَمُونَ ظَـٰهِرًا مِّنَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ ٱلْـَٔاخِرَةِ هُمْ غَـٰفِلُونَ
وه تو (صرف) دنیوی زندگی کے ﻇاہر کو (ہی) جانتے ہیں اور آخرت سے تو بالکل ہی بےخبر ہیں.[1]
حواشی
[1] یعنی اکثر لوگوں کو دنیوی معاملات کا خوب علم ہے۔ چنانچہ وہ ان میں تو اپنی چابک دستی اور مہارت فن کا مظاہرہ کرتے ہیں جن کا فائدہ عارضی اور چند روزہ ہے لیکن آخرت کےمعاملات سے یہ غافل ہیں جن کا نفع مستقل اورپائیدار ہے۔ یعنی دنیا کےامور کو خوب پہچانتے ہیں اور دین سے بالکل بے خبر ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 8
أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا۟ فِىٓ أَنفُسِهِم ۗ مَّا خَلَقَ ٱللَّهُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ إِلَّا بِٱلْحَقِّ وَأَجَلٍ مُّسَمًّى ۗ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ ٱلنَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكَـٰفِرُونَ
کیا ان لوگوں نے اپنے دل میں یہ غور نہیں کیا؟ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے سب کو بہترین قرینے[1] سے مقرر وقت تک کے لئے (ہی) پیدا کیا ہے، ہاں اکثر لوگ یقیناً اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں.[2]
حواشی
[1] یا ایک مقصد اور حق کےساتھ پیدا کیا ہے، بے مقصد اور بیکار نہیں۔ اور وہ مقصد ہے کہ نیکوں کو ان کی نیکیوں کی جزا اور بدوں کو ان کی بدی کی سزا دی جائے۔ یعنی کیا وہ اپنے وجود پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح انہیں نیست سےہست کیا اور پانی کے ایک حقیرقطرے سےان کی تخلیق کی۔ پھر آسمان وزمین کا ایک خاص مقصد کے لئےوسیع وعریض سلسلہ قائم کیا، نیز ان سب کے لئے ایک خاص وقت مقرر کیا یعنی قیامت کا دن۔ جس دن یہ سب کچھ فنا ہو جائےگا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ ان باتوں پر غور کرتے تو یقیناً اللہ کے وجود، اس کی ربوبیت والوہیت اور اس کی قدرت مطلقہ کا انہیں ادراک واحساس ہو جاتا اور اس پر ایمان لےآتے۔ [2] اور اس کی وجہ وہی کائنات میں غور وفکر کا فقدان ہے ورنہ قیامت کےانکار کی کوئی معقول بنیاد نہیں ہے۔
آیت کے اختیارات
- 9
أَوَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَانُوٓا۟ أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَأَثَارُوا۟ ٱلْأَرْضَ وَعَمَرُوهَآ أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ ۖ فَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَـٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
کیا انہوں نے زمین پر چل پھر کر یہ نہیں دیکھا[1] کہ ان سے پہلے لوگوں کا انجام کیسا (برا) ہوا[2]؟ وه ان سے بہت زیاده توانا (اور طاقتور) تھے[3] اور انہوں نے (بھی) زمین بوئی جوتی تھی[4] اور ان سے زیاده آباد کی تھی[5] اور ان کے پاس ان کے رسول روشن دﻻئل لے کر آئے تھے[6]۔ یہ تو ناممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ ان[7] پر ﻇلم کرتا لیکن (دراصل) وه خود اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے تھے.[8]
حواشی
[1] یہ آثار وکھنڈرات اور نشانات عبرت پر غور وفکر نہ کرنے پر توبیخ کی جا رہی ہے۔ مطلب ہے کہ چل پھر کر وہ مشاہدہ کر چکے ہیں۔ [2] یعنی ان کافروں کا، جن کو اللہ نے ان کے کفر باللہ، حق کے انکار اور رسولوں کی تکذیب کی وجہ سے ہلاک کیا۔ [3] یعنی قریش اور اہل مکہ سے زیادہ۔ [4] یعنی اہل مکہ تو کھیتی باڑی سے ناآشنا ہیں لیکن پچھلی قومیں اس وصف میں بھی ان سے بڑھ کر تھیں۔ [5] اس لئے کہ ان کی عمریں بھی زیادہ تھیں، جسمانی قوت میں بھی زیادہ تھے اسباب معاش بھی ان کو زیادہ حاصل تھے، پس انہوں نے عمارتیں بھی زیادہ بنائیں، زراعت وکاشتکاری بھی کی اور وسائل رزق بھی زیادہ مہیا کئے۔ [6] لیکن وہ ان پر ایمان نہیں لائے۔ نتیجتاً تمام تر قوتوں، ترقیوں اور فراغت وخوش حالی کے باوجود ہلاکت ان کا مقدر بن کر رہی۔ [7] کہ انہیں بغیر گناہ کے عذاب میں مبتلا کر دیتا۔ [8] یعنی اللہ کا انکار اور رسولوں کی تانیث کرکے۔
آیت کے اختیارات
- 10
ثُمَّ كَانَ عَـٰقِبَةَ ٱلَّذِينَ أَسَـٰٓـُٔوا۟ ٱلسُّوٓأَىٰٓ أَن كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ وَكَانُوا۟ بِهَا يَسْتَهْزِءُونَ
پھر آخر برا کرنے والوں کا بہت ہی برا انجام ہوا[1] ، اس لئے کہ وه اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلاتے اور ان کی ہنسی اڑاتے تھے.
حواشی
[1] سُوآى، بروزن فُعْلَى، سُوءٌ سے أَسْوَأُ کی تانیث ہے جیسے حُسْنَى، أَحْسَنُ کی تانیث ہے۔ یعنی ان کا جو انجام ہوا، بدترین انجام تھا۔
آیت کے اختیارات
- 11
ٱللَّهُ يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
اللہ تعالیٰ ہی مخلوق کی ابتدا کرتا ہے[1] پھر وہی اسے دوباره پیدا کرے گا پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے.[2]
حواشی
[1] یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ پہلی مرتبہ پیدا کرنے پر قادرہے، وہ مرنے کے بعد دوبارہ انہیں زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ اس لئے کہ دوبارہ پیدا کرنا، پہلی مرتبہ سے زیادہ مشکل نہیں ہے۔ [2] یعنی میدان محشر اور موقف حساب میں، جہاں وہ عدل وانصاف کا اہتمام فرمائے گا۔
آیت کے اختیارات
- 12
وَيَوْمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يُبْلِسُ ٱلْمُجْرِمُونَ
اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو گنہگار حیرت زده ره جائیں گے.[1]
حواشی
[1] إِبْلاسٌ کے معنی ہیں، اپنے موقف کے اثبات میں کوئی دلیل پیش نہ کر سکنا اور حیران وساکت کھڑے رہنا۔ اسی کو ناامیدی کے مفہوم سے تعبیر کر لیتے ہیں۔ اس اعتبار سے مُبْلِسٌ وہ ہوگا جو ناامید ہو کر خاموش کھڑا ہو اور اسے دلیل نہ سوجھ رہی ہو،قیامت والے دن کافروں اور مشرکوں کا یہی حال ہوگا یعنی معاینہ عذاب کے بعد وہ ہر خبرسے مایوس اور دلیل وحجت پیش کرنے سے قاصر ہوں گے۔ مجرموں سے مراد کافر ومشرک ہیں جیسا کہ اگلی آیت سے واضح ہے۔
آیت کے اختیارات
- 13
وَلَمْ يَكُن لَّهُم مِّن شُرَكَآئِهِمْ شُفَعَـٰٓؤُا۟ وَكَانُوا۟ بِشُرَكَآئِهِمْ كَـٰفِرِينَ
اور ان کے تمام تر شریکوں میں سے ایک بھی ان کا سفارشی نہ ہوگا[1] اور (خود یہ بھی) اپنے شریکوں کے منکر ہو جائیں گے.[2]
حواشی
[1] شریکوں سے مراد وہ معبودان باطلہ ہیں جن کی مشرکین، یہ سمجھ کر عبادت کرتے تھے کہ یہ اللہ کے ہاں ان کے سفارشی ہوں گے، اور انہیں اللہ کے عذاب سے بچالیں گے۔ لیکن اللہ نے یہاں وضاحت فرما دی کہ اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرنے والوں کے لئے اللہ کے ہاں کوئی سفارشی نہیں ہوگا۔ [2] یعنی وہاں ان کی الوہیت کے منکر ہو جائیں گے کیونکہ وہ دیکھ لیں گے کہ یہ کسی کو کوئی فائدہ پہنچانے پر قادر نہیں ہیں۔ (فتح القدیر) دوسرے معنی ہیں کہ یہ معبود اس بات سے انکار کر دیں گے کہ یہ لوگ انہیں اللہ کا شریک گردان کر ان کی عبادت کرتے تھے، کیونکہ وہ تو ان کی عبادت سے ہی بے خبر ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 14
وَيَوْمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ
اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن (جماعتیں) الگ الگ ہو جائیں گی.[1]
حواشی
[1] اس سے مراد ہر فرد کا دوسرے فرد سے الگ ہونا نہیں ہے۔ بلکہ مطلب مومنوں کا اور کافروں کا الگ الگ ہونا ہے۔ اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر وشرک جہنم میں چلے جائیں گے اور ان کے درمیان دائمی جدائی ہو جائے گی، یہ دونوں پھر کبھی اکھٹے نہیں ہوں گے یہ حساب کے بعد ہوگا۔ چنانچہ اسی علیحدگی کی وضاحت اگلی آیات میں کی جا رہی ہے۔
آیت کے اختیارات
- 15
فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ فَهُمْ فِى رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ
جو ایمان ﻻکر نیک اعمال کرتے رہے وه تو جنت میں خوش وخرم کر دیئے جائیں گے.[1]
حواشی
[1] یعنی انہیں جنت میں اکرام وانعام سے نوازا جائے گا، جن سے وہ مزید خوش ہوں گے۔
آیت کے اختیارات
- 16
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا وَلِقَآئِ ٱلْـَٔاخِرَةِ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ فِى ٱلْعَذَابِ مُحْضَرُونَ
اور جنہوں نے کفر کیا تھا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو جھوٹا ٹھہرایا تھا وه سب عذاب میں پکڑ کر حاضر رکھے جائیں گے.[1]
حواشی
[1] یعنی ہمیشہ اللہ کےعذاب کی گرفت میں رہیں گے۔
آیت کے اختیارات
- 17
فَسُبْحَـٰنَ ٱللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ
پس اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھا کرو جب کہ تم شام کرو اور جب صبح کرو.
آیت کے اختیارات
- 18
وَلَهُ ٱلْحَمْدُ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ
تمام تعریفوں کے ﻻئق آسمان وزمین میں صرف وہی ہے تیسرے پہر کو اور ﻇہر کے وقت بھی (اس کی پاکیزگی بیان کرو).[1]
حواشی
[1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی ذات مقدسہ کے لئے تسبیح وتحمید ہے، جس سے مقصد اپنے بندوں کی رہنمائی ہے کہ ان اوقات میں، جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں اور جو اس کے کمال قدرت وعظمت پر دلالت کرتے ہیں، اس کی تسبیح وتحمید کیا کرو، شام کا وقت، رات کی تاریکی کا پیش خیمہ اور سپیدۂ سحر دن کی روشنی کا پیامبر ہوتا ہے۔ عشاء، شدت تاریکی کا اور ظہر، خوب روشن ہو جانے کا وقت ہے۔ پس وہ ذات پاک ہےجو ان سب کی خالق ہے اور جس نے ان تمام اوقات میں الگ الگ فوائد رکھے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ تسبیح سے مراد، نماز ہے اور دونوں آیات میں مذکور اوقات پانچ نمازوں کے اوقات ہیں۔ تُمْسُونَ میں مغرب وعشاء، تُصْبِحُونَ میں نماز فجر، عَشِيًّا (سہ پہر) میں عصر اور تُظْهِرُونَ میں نماز ظہر آجاتی ہے، (فتح القدیر) ایک ضعیف حدیث میں ان دونوں آیات کو صبح وشام پڑھنے کی یہ فضیلت بیان ہوئی ہے کہ اس سے شب وروز کی کوتاہیوں کا ازلہ ہوتا ہے۔ (أبو داود ، كتاب الأدب ، باب ما يقول إذا أصبح)۔
آیت کے اختیارات
- 19
يُخْرِجُ ٱلْحَىَّ مِنَ ٱلْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ ٱلْمَيِّتَ مِنَ ٱلْحَىِّ وَيُحْىِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ وَكَذَٰلِكَ تُخْرَجُونَ
(وہی) زنده کو مرده سے اور مرده کو زنده سے نکالتا ہے[1] ۔ اور وہی زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کرتا ہے اسی طرح تم (بھی) نکالے جاؤ گے.[2]
حواشی
[1] جیسے انڈے کو مرغی سے، مرغی کو انڈے سے۔ انسان کو نطفے سے، نطفے کو انسان سے اور مومن کو کافر سے، کافر کو مومن سے پیدا فرماتا ہے۔ [2] یعنی قبروں سے زندہ کرکے۔
آیت کے اختیارات
- 20
وَمِنْ ءَايَـٰتِهِۦٓ أَنْ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ إِذَآ أَنتُم بَشَرٌ تَنتَشِرُونَ
اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب انسان بن کر (چلتے پھرتے) پھیل رہے ہو.[1]
حواشی
[1] إِذَا فُجَائِيَّة ہے۔ مقصود اس سے ان اطوار کی طرف اشارہ ہےجن سے گزر کر بچہ پورا انسان بنتا ہے جس کی تفصیل قرآن میں دوسرے مقامات پر بیان کی گئی ہے۔ تَنْتَشِرُونَ سے مراد انسان کا کسب معاش اور دیگر حاجات وضروریات بشریہ کے لئے چلنا پھرنا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 21
وَمِنْ ءَايَـٰتِهِۦٓ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَٰجًا لِّتَسْكُنُوٓا۟ إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں[1] تاکہ تم ان سے آرام پاؤ[2] اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی[3]، یقیناً غور وفکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں.
حواشی
[1] یعنی تمہاری ہی جنس سے عورتیں پیدا کیں تاکہ وہ تمہاری بیویاں بنیں اور تم جوڑا جوڑا ہو جاؤ زَوْجٌ عربی میں جوڑے کو کہتے ہیں۔ اس اعتبار سے مرد عورت کے لئے اور عورت مرد کے لئے زوج ہے۔ عورت کے جنس بشر ہونے کا مطلب ہے کہ دنیا کی پہلی عورت۔ حضرت حوا۔ کو حضرت آدم (عليه السلام) کی بائیں پسلی سے پیدا کیا گیا۔ پھر ان دونوں سے نسل انسانی کا سلسلہ چلا۔ [2] مطلب یہ ہے کہ اگر مرد اور عورت کی جنس ایک دوسرے سے مختلف ہوتی، مثلاً عورتیں جنات یا حیوانات میں سے ہوتیں، تو ان سے وہ سکون کبھی حاصل نہ ہوتا جو اس وقت دونوں کے ایک ہی جنس سے ہونے کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔ بلکہ ایک دوسرے سے نفرت ووحشت ہوتی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کمال رحمت ہے کہ اس نے انسانوں کی بیویاں، انسان ہی بنائیں۔ [3] مَوَدَّةٌ یہ ہے کہ مرد بیوی سے بے پناہ پیار کرتا ہے اور ایسے ہی بیوی شوہر سے۔ جیسا کہ عام مشاہدہ ہے۔ ایسی محبت جو میاں بیوی کے درمیان ہوتی ہے، دنیا میں کسی بھی دو شخصوں کے درمیان نہیں ہوتی۔ اور رحمت یہ ہے کہ مرد بیوی کو ہر طرح کی سہولت اور آسائشیں بہم پہنچاتا ہے، جس کا مکلف اسے اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے اور ایسے ہی عورت بھی اپنے قدرت واختیار کے دائرہ میں۔ تاہم انسان کو یہ سکون اور باہمی پیار انہی جوڑوں سے حاصل ہوتا ہےجو قانون شریعت کے مطابق باہم نکاح سے قائم ہوتے ہیں اور اسلام انہی کو جوڑا قرار دیتا ہے۔ غیر قانونی جوڑوں کو وہ جوڑا ہی تسلیم نہیں کرتا بلکہ انہیں زانی اور بدکار قرار دیتا اور ان کے لئے سخت سزا تجویز کرتا ہے۔ آج کل مغربی تہذیب کے علم بردار شیاطین ان مذموم کوششوں میں مصروف ہیں کہ مغربی معاشروں کی طرح اسلامی ملکوں میں بھی نکاح کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے بدکار مرد وعورت کو (جوڑا) (COUPLE) تسلیم کروایا جائے اور ان کے لئےسزا کے بجائے، وہ حقوق منوائے جائیں، جو ایک قانونی جوڑے کو حاصل ہوتے ہیں۔ قَاتَلَهُمْ اللهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ.
آیت کے اختیارات
- 22
وَمِنْ ءَايَـٰتِهِۦ خَلْقُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱخْتِلَـٰفُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَٰنِكُمْ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍ لِّلْعَـٰلِمِينَ
اس (کی قدرت) کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف (بھی) ہے[1] ، دانش مندوں کے لئے اس میں یقیناً بڑی نشانیاں ہیں.
حواشی
[1] دنیا میں اتنی زبانوں کا پیدا کر دینا بھی اللہ کی قدرت کی ایک بہت بڑی نشانی ہے، عربی ہے،ترکی ہے،انگریزی ہے، اردو ، ہندی ہے، پشتو، فارسی، سندھی، بلوچی وغیرہ ہے۔ پھر ایک ایک زبان کے مختلف لہجے اور اسلوب ہیں۔ ایک انسان ہزاروں اور لاکھوں کے مجمع میں اپنی زبان اور اپنے لہجے سے پہچان لیا جاتا ہے کہ یہ شخص فلاں ملک اور فلاں علاقہ کا ہے۔ صرف زبان ہی اس کا مکمل تعارف کرا دیتی ہے۔ اسی طرح ایک ہی ماں باپ (آدم وحواعليهما السلام) سے ہونے کے باوجود رنگ ایک دوسرے سے مختلف ہیں، کوئی کالا ہے، کوئی گورا، کوئی نیلگوں ہے تو کوئی گندمی رنگ کا، پھر کالے اور سفید رنگ میں بھی اتنے درجات رکھ دیئے ہیں کہ بیشتر انسانی آبادی دو رنگوں میں تقسیم ہونے کے باوجود ان کی بیسیوں قسمیں ہیں اور ایک دوسرے سےیکسر الگ اور ممتاز۔ پھر ان کے چہروں کے خدوخال، جسمانی ساخت اور قدوقامت میں ایسا فرق رکھ دیاگیا ہے کہ ایک ایک ملک کا انسان الگ سے پہچان لیا جاتا ہے۔ یعنی باوجود اس بات کہ ایک انسان دوسرے انسان سے نہیں ملتا، حتیٰ کہ ایک بھائی دوسرے بھائی سے مختلف ہے لیکن اللہ کی قدرت کا کمال ہے کہ پھر بھی کسی ایک ہی ملک کے باشندے، دوسرے ملک کے باشندوں سے ممتاز ہوتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 23
وَمِنْ ءَايَـٰتِهِۦ مَنَامُكُم بِٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ وَٱبْتِغَآؤُكُم مِّن فَضْلِهِۦٓ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍ لِّقَوْمٍ يَسْمَعُونَ
اور (بھی) اس کی (قدرت کی) نشانی تمہاری راتوں اور دن کی نیند میں ہے اور اس کے فضل (یعنی روزی) کو تمہارا تلاش کرنا بھی ہے[1] ۔ جو لوگ (کان لگا کر) سننے کے عادی ہیں ان کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں.
حواشی
[1] نیند کا، باعث سکون وراحت ہونا چاہئے وہ رات کو ہو یا بہ وقت قیلولہ، اور دن کو تجارت وکاروبار کے ذریعے سے اللہ کا فضل تلاش کرنا، یہ مضمون کئی جگہ گزر چکاﮨے۔
آیت کے اختیارات
- 24
وَمِنْ ءَايَـٰتِهِۦ يُرِيكُمُ ٱلْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَيُنَزِّلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً فَيُحْىِۦ بِهِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَآ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ (بھی) ہے کہ وه تمہیں ڈرانے اور امیدوار بنانے کے لئے بجلیاں دکھاتا[1] ہے اور آسمان سے بارش برساتا ہے اور اس مرده زمین کو زنده کر دیتا ہے، اس میں (بھی) عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں.
حواشی
[1] یعنی آسمان میں بجلی چمکتی اور بادل کڑکتے ہیں، تو تم ڈرتے بھی ہو کہ کہیں بجلی گرنے یا زیادہ بارش ہونے کی وجہ سے کھیتیاں برباد نہ ہو جائیں اور امیدیں بھی وابستہ کرتے ہو کہ بارشیں ہوں گی تو فصل اچھی ہوگی۔
آیت کے اختیارات
- 25
وَمِنْ ءَايَـٰتِهِۦٓ أَن تَقُومَ ٱلسَّمَآءُ وَٱلْأَرْضُ بِأَمْرِهِۦ ۚ ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِّنَ ٱلْأَرْضِ إِذَآ أَنتُمْ تَخْرُجُونَ
اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ آسمان وزمین اسی کے حکم سے قائم ہیں، پھر جب وه تمہیں آواز دے گا صرف ایک بار کی آواز کے ساتھ ہی تم سب زمین سے نکل آؤ گے.[1]
حواشی
[1] یعنی جب قیامت برپا ہوگی تو آسمان وزمین کا یہ سارا نظام، جو اس وقت اس کے حکم سے قائم ہے، درہم برہم ہو جائےگا اور تمام انسان قبروں سے زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے۔
آیت کے اختیارات
- 26
وَلَهُۥ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ كُلٌّ لَّهُۥ قَـٰنِتُونَ
اور زمین وآسمان کی ہر چیز اس کی ملکیت ہےاور ہر ایک اس کے فرمان کے ماتحت ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی اس کے تکوینی حکم کے آگے سب بے بس اور لاچار ہیں۔ جیسے موت وحیات، صحت ومرض، ذلت وعزت وغیرہ ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 27
وَهُوَ ٱلَّذِى يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ ۚ وَلَهُ ٱلْمَثَلُ ٱلْأَعْلَىٰ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ
وہی ہے جو اول بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے پھر سے دوباره پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت ہی آسان ہے۔ اسی کی بہترین اور اعلیٰ صفت ہے[1] ، آسمانوں میں اور زمین میں بھی اور وہی غلبے واﻻ حکمت واﻻ ہے.
حواشی
[1] یعنی اتنے کمالات اور عظیم قدرتوں کا مالک، تمام مثالوں سےاعلیٰ اور برتر ہے۔ «لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ» (الشورى:11)۔
آیت کے اختیارات
- 28
ضَرَبَ لَكُم مَّثَلًا مِّنْ أَنفُسِكُمْ ۖ هَل لَّكُم مِّن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُكُم مِّن شُرَكَآءَ فِى مَا رَزَقْنَـٰكُمْ فَأَنتُمْ فِيهِ سَوَآءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنفُسَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْـَٔايَـٰتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک مثال خود تمہاری ہی بیان فرمائی، جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے کیا اس میں تمہارے غلاموں میں سے بھی کوئی تمہارا شریک ہے؟ کہ تم اور وه اس میں برابر درجے کے ہو[1] ؟ اور تم ان کا ایسا خطره رکھتے ہو جیسا خود اپنوں کا[2]، ہم عقل رکھنے والوں کے لئے اسی طرح کھول کھول کر آیتیں بیان کر دیتے ہیں.[3]
حواشی
[1] یعنی جب تم یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہارےغلام اور نوکر چاکر، جو تمہارے ہی جیسےانسان ہیں، وہ تمہارے مال ودولت میں شریک اور تمہارے برابر ہو جائیں تو پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ کے بندے، چاہے وہ فرشتے ہوں، پیغمبر ہوں، اولیاء وصلحاء ہوں یا شجر وحجر کے بنائے ہوئے معبود، وہ اللہ کے ساتھ شریک ہو جائیں جب کہ وہ بھی اللہ کے غلام اور اس کی مخلوق ہیں؟ یعنی جس طرح پہلی بات نہیں ہو سکتی، دوسری بھی نہیں ہوسکتی۔ اس لئے اللہ کےساتھ دوسروں کی بھی عبادت کرنا اور انہیں بھی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا یکسر غلط ہے۔ [2] یعنی کیا تم اپنے غلاموں سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح تم (آزاد لوگ) آپس میں ایک دوسرے سے ڈرتے ہو۔ یعنی جس طرح مشترکہ کاروبار جائیداد میں سے خرچ کرتے ہوئے ڈر محسوس ہوتا ہے کہ دوسرے شریک باز پرس کریں گے۔ کیا تم اپنے غلاموں سے اس طرح ڈرتے ہو؟ یعنی نہیں ڈرتے۔ کیونکہ تم انہیں مال ودولت میں شریک قرار دے کر اپنا ہم مرتبہ بنا ہی نہیں سکتے تو اس سے ڈر بھی کیسا؟ [3] کیونکہ وہ اپنی عقلوں کو استعمال میں لاکر اور غور وفکر کا اہتمام کرکے آیات تنزیلیہ اور تکوینیہ سےفائدہ اٹھاتے ہیں اور جو ایسا نہیں کرتے، ان کی سمجھ میں توحید کا مسئلہ بھی نہیں آتا جو بالکل صاف اور نہایت واضح ہے۔
آیت کے اختیارات
- 29
بَلِ ٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ أَهْوَآءَهُم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۖ فَمَن يَهْدِى مَنْ أَضَلَّ ٱللَّهُ ۖ وَمَا لَهُم مِّن نَّـٰصِرِينَ
بلکہ بات یہ ہے کہ یہ ﻇالم تو بغیر علم کے[1] خواہش پرستی کر رہے ہیں، اسے کون راه دکھائے جسے اللہ تعالیٰ راه سے ہٹا دے[2]، ان کا ایک بھی مددگار نہیں.[3]
حواشی
[1] یعنی اس حقیقت کا انہیں ادراک ہی نہیں ہے کہ وہ علم سے بے بہرہ اور ضلالت کا شکار ہیں اور اسی بے علمی اور گمراہی کی وجہ سے وہ اپنی عقل کو کام میں لانے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور اپنی نفسانی خواہشات اور آرائے فاسدہ کے پیرو کار ہیں۔ [2] کیونکہ اللہ کی طرف سےہدایت اسے ہی نصیب ہوتی ہے جس کے اندر ہدایت کی طلب کی اور آرزو ہوتی ہے،جو اس طلب صادق سےمحروم ہوتے ہیں، انہیں گمراہی میں بھٹکنے کے لئے چھوڑدیا جاتا ہے۔ [3] یعنی ان گمراہوں کا کوئی مددگار نہیں جو انہیں ہدایت سے بہرہ ور کر دے یا ان سے عذاب کو پھیر دے۔
آیت کے اختیارات
- 30
فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِى فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ ٱللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
پس آپ یک سو ہو کر اپنا منھ دین کی طرف متوجہ کر دیں[1] ۔ اللہ تعالیٰ کی وه فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے[2]، اللہ تعالیٰ کے بنائے کو بدلنا نہیں،[3] یہی سیدھا دین ہے[4] لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے.[5]
حواشی
[1] یعنی اللہ کی توحید اور اس کی عبادت پر قائم رہیں اور ادیان باطلہ کی طرف التفات ہی نہ کریں۔ [2] فطرت کےاصل معنی خلقت (پیدائش) کے ہیں۔ یہاں مراد ملت اسلام (وتوحید) ہے مطلب یہ ہے کہ سب کی پیدائش، بغیر مسلم وکافر کی تفریق کے، اسلام اور توحید پر ہوتی ہے، اس لئے توحید ان کی فطرت یعنی جبلت میں شامل ہے جس طرح کہ عہدالست سےواضح ہے۔ بعد میں بہت سوں کو ماحول یادیگر عوارض، فطرت کی اس آواز کی طرف نہیں آنے دیتے، جس کی وجہ سےوہ کفر پر ہی باقی رہتے ہیں جس طرح نبی (صلى الله عليه وسلم) کی حدیث ہے ”ہربچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، لیکن پھر اس کے ماں باپ، اس کو یہودی، عیسائی اور مجوسی وغیرہ بنا دیتے ہیں“۔ (صحيح بخاري، تفسير سورة الروم، مسلم كتاب القدر ، باب معنى كل مولود يولد على الفطرة)۔ [3] یعنی اللہ کی اس خلقت (فطرت) کو تبدیل نہ کرو بلکہ صحیح تربیت کےذریعےسےاس کی نشوونما کرو تاکہ ایمان وتوحید بچوں کے دل ودماغ میں راسخ ہوجائے۔ یہ خبربمعنی انشا ہے یعنی نفی، نہی کے معنی میں ہے۔ [4] یعنی وہ دین جس کی طرف یکسو اور متوجہ ہونے کا حکم ہے، یا جو فطرت کا تقاضا ہے وہ یہی دین قیم ہے۔ [5] اسی لئے وہ اسلام اور توحید سے ناآشنا رہتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 31
۞ مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَٱتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَلَا تَكُونُوا۟ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ
(لوگو!) اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہو کر اس سے ڈرتے رہو اور نماز کو قائم رکھو اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ.[1]
حواشی
[1] یعنی ایمان وتقویٰ اور اقامت صلوۃ سے گریز کرکے، مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ۔
آیت کے اختیارات
- 32
مِنَ ٱلَّذِينَ فَرَّقُوا۟ دِينَهُمْ وَكَانُوا۟ شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ
ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود بھی گروه گروه ہوگئے[1] ہر گروه اس چیز پر جو اس کے پاس ہے مگن ہے.[2]
حواشی
[1] یعنی اصل دین کو چھوڑ کر یا اس میں من مانی تبدیلیاں کرکےالگ الگ فرقوں میں بٹ گئے، جیسے کوئی یہودی، کوئی نصرانی، کوئی مجوسی وغیرہ ہوگیا۔ [2] یعنی ہر فرقہ اور گروہ سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور دوسرے باطل پر، اور جو سہارے انہوں نے تلاش کر رکھے ہیں، جن کو وہ دلائل سے تعبیر کرتے ہیں، ان پر خوش اور مطمئن ہیں، بدقسمتی سے ملت اسلامیہ کا بھی یہی حال ہوا کہ وہ بھی مختلف فرقوں میں بٹ گئی اور ان کا بھی ہر فرقہ اسی زعم باطل میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے، حالانکہ حق پر صرف ایک ہی گروہ ہے جس کی پہچان نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بتلا دی ہے کہ میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر چلنے والا ہوگا۔
آیت کے اختیارات
- 33
وَإِذَا مَسَّ ٱلنَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا۟ رَبَّهُم مُّنِيبِينَ إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَآ أَذَاقَهُم مِّنْهُ رَحْمَةً إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ
لوگوں کو جب کبھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اپنے رب کی طرف (پوری طرح) رجوع ہو کر دعائیں کرتے ہیں، پھر جب وه اپنی طرف سے رحمت کاذائقہ چکھاتا ہے تو ان میں سے ایک جماعت اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتی ہے.
آیت کے اختیارات
- 34
لِيَكْفُرُوا۟ بِمَآ ءَاتَيْنَـٰهُمْ ۚ فَتَمَتَّعُوا۟ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
تاکہ وه اس چیز کی ناشکری کریں جو ہم نے انہیں دی ہے[1] اچھا تم فائده اٹھا لو! ابھی ابھی تمہیں معلوم ہو جائے گا.
حواشی
[1] یہ وہی مضمون ہےجو سورۂ عنکبوت کے آخر میں گزرا۔
آیت کے اختیارات
- 35
أَمْ أَنزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطَـٰنًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوا۟ بِهِۦ يُشْرِكُونَ
کیا ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی ہے جو اسے بیان کرتی ہے جسے یہ اللہ کے ساتھ شریک کر رہے ہیں.[1]
حواشی
[1] یہ استفہام انکاری ہے۔ یعنی یہ جن کو اللہ کا شریک گردانتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں، یہ بلا دلیل ہے۔ اللہ نے اس کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ بھلا اللہ تعالیٰ شرک کے اثبات وجواز کے لئے کس طرح کوئی دلیل اتار سکتا تھا جبکہ اس نے سارے پیغمبر بھیجے ہی اس لئے تھے کہ وہ شرک کی تردید اور توحید کا اثبات کریں۔ چنانچہ ہر پیغمبر نے آکر سب سے پہلے اپنی قوم کو توحید ہی کا وعظ کیا۔ اور آج اہل توحید مسلمانوں کو بھی نام نہاد مسلمانوں میں توحید وسنت کا وعظ کرنا پڑ رہا ہے۔ کیونکہ مسلمان عوام کی اکثریت شرک وبدعت میں مبتلا ہے۔ هَدَاهُمْ اللهُ تَعَالَى۔
آیت کے اختیارات
- 36
وَإِذَآ أَذَقْنَا ٱلنَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوا۟ بِهَا ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ إِذَا هُمْ يَقْنَطُونَ
اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزه چکھاتے ہیں تو وه خوب خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں ان کے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے کوئی برائی پہنچے تو ایک دم وه محض ناامید ہو جاتے ہیں.[1]
حواشی
[1] یہ وہی مضمون ہے جو سورۂ ھود میں گزرا اور جو انسانوں کی اکثریت کا شیوہ ہے کہ راحت میں وہ اترانےلگتے ہیں اور مصیبت میں ناامید ہوجاتے ہیں۔ البتہ اہل ایمان اس سےمستثنیٰ ہیں۔ وہ تکلیف میں صبر اور راحت میں اللہ کا شکر یعنی عمل صالح کرتے ہیں۔ یوں دونوں حالتیں ان کے لئے خیر اور اجر وثواب کا باعث بنتی ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 37
أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقْدِرُ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے کشاده روزی دیتا ہے اور جسے چاہے تنگ[1] ، اس میں بھی ان لوگوں کے لئے جو ایمان ﻻتے ہیں نشانیاں ہیں.
حواشی
[1] یعنی اپنی حکمت ومصلحت سے وہ کسی کو مال ودولت زیادہ اور کسی کوکم دیتا ہے۔ حتیٰ کہ بعض دفعہ عقل وشعور میں اور ظاہری اسباب ووسائل میں دو انسان ایک جیسے ہی محسوس ہوتے ہیں، ایک جیسا ہی کاروبار بھی شروع کرتے ہیں۔ لیکن ایک کے کاروبار کو خوب فروغ ملتا ہے اور اس کےوارے نیارے ہو جاتے ہیں، جب کہ دوسرےشخص کا کاروبار محدود ہی رہتا ہے اور اسے وسعت نصیب نہیں ہوتی۔ آخر یہ کون ہستی ہے، جس کے پاس تمام اختیارات ہیں اور وہ اس قسم کے تصرفات فرماتا ہے۔ علاوہ ازیں وہ کبھی دولت فراواں کے مالک کو محتاج اور محتاج کو مال ودولت سے نواز دیتا ہے۔ یہ سب اسی ایک اللہ کے ہاتھ میں ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔
آیت کے اختیارات
- 38
فَـَٔاتِ ذَا ٱلْقُرْبَىٰ حَقَّهُۥ وَٱلْمِسْكِينَ وَٱبْنَ ٱلسَّبِيلِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجْهَ ٱللَّهِ ۖ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ
پس قرابت دار کو مسکین کو مسافر کو ہر ایک کو اس کا حق دیجئے[1] ، یہ ان کے لئے بہتر ہے جو اللہ تعالیٰ کا منھ دیکھنا چاہتے ہوں[2]، ایسے ہی لوگ نجات پانے والے ہیں.
حواشی
[1] جب وسائل رزق تمام تر اللہ ہی کےاختیار میں ہیں اور وہ جس پر چاہے اس کےدروازے کھول دیتا ہےتو اصحاب ثروت کو چاہئے کہ وہ اللہ کے دیے ہوئےمال میں سے ان کا وہ حق ادا کرتے رہیں جو ان کے مال میں ان کے مستحق رشتے داروں، مساکین اور مسافر کا رکھا گیا ہے، رشتےدار اس لئے مقدم کیاکہ اس کی فضیلت زیادہ ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ غریب رشتےدار کے ساتھ احسان کرنا دوہرے اجر کا باعث ہے۔ ایک صدقے کا اجر اور دوسرا صلۂ رحمی کا۔ علاوہ ازیں اسے حق سےتعبیر کرکے اس طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ امداد کرکے ان پر تم احسان نہیں کرو گے بلکہ ایک حق کی ہی ادائیگی کرو گے۔ [2] یعنی جنت میں اس کے دیدار سےمشرف ہونا۔
آیت کے اختیارات
- 39
وَمَآ ءَاتَيْتُم مِّن رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِىٓ أَمْوَٰلِ ٱلنَّاسِ فَلَا يَرْبُوا۟ عِندَ ٱللَّهِ ۖ وَمَآ ءَاتَيْتُم مِّن زَكَوٰةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ ٱللَّهِ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُضْعِفُونَ
تم جو سود پر دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے وه اللہ تعالیٰ کے ہاں نہیں بڑھتا[1] ۔ اور جو کچھ صدقہ زکوٰة تم اللہ تعالیٰ کا منھ دیکھنے (اورخوشنودی کے لئے) دو تو ایسے لوگ ہی اپنا دو چند کرنے والے ہیں.[2]
حواشی
[1] یعنی سود سے بظاہر اضافہ معلوم ہوتا ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہوتا، بلکہ اس کی نحوست بالآخر دنیا وآخرت میں تباہی کا باعث ہے۔ حضرت ابن عباس اور متعدد صحابہ وتابعین (رضي الله عنهم) نےاس آیت میں ربا سے مراد سود (بیاج) نہیں، بلکہ وہ ہدیہ اور تحفہ لیا ہے جو کوئی غریب آدمی کسی مالدار کو یا رعایا کا کوئی فرد بادشاہ یا حکمران کو اور ایک خادم اپنے مخدوم کو اس نیت سے دیتا ہے کہ وہ اس کے بدلے میں مجھے اس سے زیادہ دے گا۔ اسے ”ربا“ سے اس لئے تعبیرکیا گیا ہے کہ دیتے وقت اس میں زیادتی کی نیت ہوتی ہے۔ یہ اگرچہ مباح ہے تاہم اللہ کے ہاں اس پر اجر نہیں ملے گا، فَلا يَرْبُو عِنْدَ اللَّهِ سے اسی اخروی اجر کی نفی ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا جو تم عطیہ دو، اس نیت سے کہ واپسی کی صورت میں زیادہ ملے، پس اللہ کے ہاں اس کا ثواب نہیں۔ (ابن کثیر، ایسر التفاسیر)۔ [2] زکوٰۃ وصدقات سےایک تو روحانی ومعنوی اضافہ ہوتا ہے یعنی بقیہ مال میں اللہ کی طرف سے برکت ڈال دی جاتی ہے۔ دوسرے، قیامت والے دن اس کا اجر وثواب کئی کئی گنا ملے گا، جس طرح حدیث میں ہے کہ حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ بڑھ بڑھ کراحد پہاڑ کے برابر ہو جائے گا۔ (صحیح مسلم،کتاب الزکٰوۃ)۔
آیت کے اختیارات
- 40
ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ۖ هَلْ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَفْعَلُ مِن ذَٰلِكُم مِّن شَىْءٍ ۚ سُبْحَـٰنَهُۥ وَتَعَـٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ
اللہ تعالیٰ وه ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر روزی دی پھر مار ڈالے گا پھر زنده کر دے گا بتاؤ تمہارے شریکوں میں سے کوئی بھی ایسا ہے جو ان میں سے کچھ بھی کر سکتا ہو۔ اللہ تعالیٰ کے لئے پاکی اور برتری ہے ہر اس شریک سے جو یہ لوگ مقرر کرتے ہیں.
آیت کے اختیارات
- 41
ظَهَرَ ٱلْفَسَادُ فِى ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِى ٱلنَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ ٱلَّذِى عَمِلُوا۟ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے باعﺚ فساد پھیل گیا۔ اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے (بہت) ممکن ہے کہ وه باز آجائیں.[1]
حواشی
[1] خشکی سے مراد، انسانی آبادیاں اور تری سے مراد سمندر، سمندری راستےاور ساحلی آبادیاں ہیں۔ فساد سے مراد ہر وہ بگاڑ ہےجس سےانسانوں کے معاشرے اور آبادیوں میں امن وسکون تہ وبالا اور ان کے عیش وآرام میں خلل واقع ہو۔ اس لئے اس کا اطلاق معاصی وسیئات پر بھی صحیح ہے کہ انسان ایک دوسرے پر ظلم کر رہے ہیں، اللہ کی حدوں کو پامال اور اخلاقی ضابطوں کو توڑ رہے ہیں اور قتل وخونریزی عام ہوگئی ہے اور ان ارضی وسماوی آفات پر بھی اس کا اطلاق صحیح ہے۔ جو اللہ کی طرف سے بطور سزا وتنبیہ نازل ہوتی ہیں۔ جیسے قحط، کثرت موت، خوف اور سیلاب وغیرہ مطلب یہ ہے کہ جب انسان اللہ کی نافرمانیوں کو اپنا وطیرہ بنا لیں تو پھر مکافات عمل کے طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کے اعمال وکردار کا رخ برائیوں کی طرف پھر جاتا ہےاور زمین فساد سے بھر جاتی ہے امن وسکون ختم اور اس کی جگہ خوف ودہشت، سلب ونہب اور قتل وغارت گری عام ہو جاتی ہے اس کےساتھ ساتھ بعض دفعہ آفات ارضی وسماوی کا بھی نزول ہوتا ہے۔ مقصد اس سے یہی ہوتا ہے کہ اس عام بگاڑ یا آفات الہیہٰ کو دیکھ کر شاید لوگ گناہوں سے باز آجائیں، توبہ، کر لیں اور ان کا رجوع اللہ کی طرف ہوجائے۔ اس کے برعکس جس معاشرے کا نظام اطاعت الٰہی پر قائم ہو اور اللہ کی حدیں نافذ ہوں، ظلم کی جگہ عدل کا دور دورہ ہو۔ وہاں امن وسکون اور اللہ کی طرف سے خیر وبرکت کا نزول ہوتا ہے۔ جس طرح ایک حدیث میں آتا ہے زمین میں اللہ کی ایک حد کا قائم کرنا، وہاں کے انسانوں کے لئے چالیس روز کی بارش سے بہتر ہے۔ (النسائي، كتاب قطع يد السارق، باب الترغيب في إقامة الحد - وابن ماجه) اسی طرح یہ حدیث ہے کہ جب ایک بدکار (فاجر) آدمی فوت ہو جاتا ہے تو بندے ہی اس سے راحت محسوس نہیں کرتے شہر بھی اور درخت اور جانور بھی آرام پاتے ہیں۔ (صحيح بخاري، كتاب الرقاق، باب سكرات الموت- مسلم، كتاب الجنائز، باب ما جاء في مستريح ومستراح منه)۔
آیت کے اختیارات
- 42
قُلْ سِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلُ ۚ كَانَ أَكْثَرُهُم مُّشْرِكِينَ
زمین میں چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ اگلوں کا انجام کیا ہوا۔ جن میں اکثر لوگ مشرک تھے.[1]
حواشی
[1] شرک کا خاص طور پر ذکر کیا، کہ یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ علاوہ ازیں اس میں دیگر سیئات ومعاصی بھی آجاتی ہیں۔ کیونکہ ان کا ارتکاب بھی انسان اپنے نفس کی بندگی ہی اختیار کرکے، کرتا ہے، اسی لئے اسے بعض لوگ عملی شرک سے تعبیر کرتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 43
فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ ٱلْقَيِّمِ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِ ۖ يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ
پس آپ اپنا رخ اس سچے اور سیدھے دین کی طرف ہی رکھیں قبل اس کے کہ وه دن آجائے جس کا ٹل جانا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ہی نہیں[1] ، اس دن سب متفرق[2] ہو جائیں گے.
حواشی
[1] یعنی اس دن کے آنے کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اس لئے اس دن (قیامت) کے آنے سے پہلے پہلے اطاعت الٰہی کا راستہ اختیار کر لیں اور نیکیوں سے اپنا دامن بھر لیں۔ [2] یعنی دو گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے، ایک مومنوں کادوسرا کافروں کا۔
آیت کے اختیارات
- 44
مَن كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُۥ ۖ وَمَنْ عَمِلَ صَـٰلِحًا فَلِأَنفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ
کفر کرنے والوں پر ان کے کفر کا وبال ہوگا اور نیک کام کرنے والے اپنی ہی آرام گاه سنوار رہے ہیں.[1]
حواشی
[1] مَهْدٌ کے معنی ہیں راستہ ہموار کرنا، فرش بچھانا، یعنی یہ عمل صالح کے ذریعے سے جنت میں جانے اور وہاں اعلیٰ منازل حاصل کرنے کے لئےراستہ ہموار کر رہے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 45
لِيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ مِن فَضْلِهِۦٓ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْكَـٰفِرِينَ
تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے جزا دے جو ایمان ﻻئے اور نیک[1] اعمال کیے وه کافروں کو دوست نہیں رکھتا ہے.
حواشی
[1] یعنی محض نیکیاں دخول جنت کے لئے کافی نہیں ہوں گی، جب تک ان کے ساتھ اللہ کا فضل بھی شامل حال نہ ہوگا۔ پس وہ اپنے فضل سے ایک ایک نیکی کا اجر دس سے سات سو گنا تک بلکہ اس سے زیادہ بھی دے گا۔
آیت کے اختیارات
- 46
وَمِنْ ءَايَـٰتِهِۦٓ أَن يُرْسِلَ ٱلرِّيَاحَ مُبَشِّرَٰتٍ وَلِيُذِيقَكُم مِّن رَّحْمَتِهِۦ وَلِتَجْرِىَ ٱلْفُلْكُ بِأَمْرِهِۦ وَلِتَبْتَغُوا۟ مِن فَضْلِهِۦ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
اس کی نشانیوں میں سے خوشخبریاں دینے والی[1] ہواؤں کو چلانا بھی ہے اس لئے کہ تمہیں اپنی رحمت سے لطف اندوز کرے[2]، اور اس لئے کہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں[3]، اور اس لئے کہ اس کے فضل کو تم ڈھونڈو[4]، اور اس لئے کہ تم شکر گزاری کرو.[5]
حواشی
[1] یعنی یہ ہوائیں بارش کی پیامبر ہوتی ہیں۔ [2] یعنی بارش سےانسان بھی لذت وسرور محسوس کرتا ہے اور فصلیں بھی لہلہا اٹھتی ہیں۔ [3] یعنی ان ہواؤں کے ذریعے سے کشتیاں بھی چلتی ہیں۔ مراد بادبانی کشتیاں ہیں۔ اب انسان نے اللہ کی دی ہوئی دماغی صلاحیتوں کے بھرپور استعمال سے دوسری کشتیاں اور جہاز ایجاد کر لئے ہیں جو مشینوں کے ذریعے سے چلتے ہیں۔ تاہم ان کے لئے بھی موافق اور مناسب ہوائیں ضروری ہیں، ورنہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی طوفانی موجوں کے ذریعے سے غرق آب کر دینے پر قادر ہے۔ [4] یعنی ان کے ذریعے سے مختلف ممالک میں آجا کر تجارت وکاروبار کرکے۔ [5] ان ظاہری وباطنی نعمتوں پر، جن کا کوئی شمار ہی نہیں۔ یعنی یہ ساری سہولتیں اللہ تعالیٰ تمہیں اس لئے بہم پہنچاتا ہے کہ تم اپنی زندگی میں ان سے فائدہ اٹھاؤ اور اللہ کی بندگی واطاعت بھی کرو!
آیت کے اختیارات
- 47
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ رُسُلًا إِلَىٰ قَوْمِهِمْ فَجَآءُوهُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ فَٱنتَقَمْنَا مِنَ ٱلَّذِينَ أَجْرَمُوا۟ ۖ وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ ٱلْمُؤْمِنِينَ
اور ہم نے آپ سے پہلے بھی اپنے رسولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا وه ان کے پاس دلیلیں ﻻئے۔ پھر ہم نے گناه گاروں سے انتقام لیا۔ ہم پر مومنوں کی مدد کرنا ﻻزم ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی اے محمد!(صلى الله عليه وسلم) جس طرح ہم نے آپ کو رسول بنا کر آپ کی قوم کی طرف بھیجا ہے، اسی طرح آپ سے پہلے بھی رسول ان کی قوموں کی طرف بھیجے، ان کےساتھ دلائل اور معجزات بھی تھے، لیکن قوموں نے ان کی تکذیب کی، ان پر ایمان نہیں لائے، بالآخر ان کےاس جرم تکذیب اور ارتکاب معصیت پر ہم نے انہیں اپنی سزا وتعزیر کا نشانہ بنایا اور اہل ایمان کی نصرت وتائید کی جو ہم پر لازم ہے۔ یہ گویا نبی (صلى الله عليه وسلم) اور ان پر ایمان لانے والے مسلمانوں کو تسلی دی جا رہی ہے کہ کفار ومشرکین کی روش تکذیب سےگھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر نبی کے ساتھ اس کی قوم نے یہی معاملہ کیا ہے۔ نیز کفار کو تنبیہ ہے کہ اگر وہ ایمان نہ لائے تو ان کا حشر بھی وہی ہوگا جو گزشتہ قوموں کا ہو چکا ہے۔ کیونکہ اللہ کی مدد تو بالآخر مومنوں ہی کو حاصل ہوگی، جس میں پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والے سب شامل ہیں۔ حَقًّا کان کی خبر ہے، جو مقدم ہے نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ اس کا اسم ہے۔
آیت کے اختیارات
- 48
ٱللَّهُ ٱلَّذِى يُرْسِلُ ٱلرِّيَـٰحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهُۥ فِى ٱلسَّمَآءِ كَيْفَ يَشَآءُ وَيَجْعَلُهُۥ كِسَفًا فَتَرَى ٱلْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَـٰلِهِۦ ۖ فَإِذَآ أَصَابَ بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦٓ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ
اللہ تعالیٰ ہوائیں چلاتا ہے وه ابر کو اٹھاتی ہیں[1] پھر اللہ تعالیٰ اپنی منشا کے مطابق اسے آسمان میں پھیلا دیتا ہے [2]اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے[3] پھر آپ دیکھتے ہیں کہ اس کےاندر سے قطرے نکلتے ہیں،[4] اور جنہیں اللہ چاہتا ہے ان بندوں پر پانی برساتا ہے تو وه خوش خوش ہو جاتے ہیں۔
حواشی
[1] یعنی وہ بادل جہاں بھی ہوتے ہیں، وہاں سے ہوائیں ان کو اٹھا کر لے جاتی ہیں۔ [2] کبھی چلا کر، کبھی ٹھہرا کر، کبھی تہ بہ تہ کرکے، کبھی دور دراز تک۔ یہ آسمان پر بادلوں کی مختلف کیفیتیں ہوتی ہیں۔ [3] یعنی ان کو آسمان پر پھیلانے کے بعد، کبھی ان کو مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ [4] وَدْقٌ کے معنی بارش کے ہیں، یعنی ان بادلوں سے اللہ اگر چاہتا ہے تو بارش ہو جاتی ہے، جس سے بارش کے ضرورت مند خوش ہو جاتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 49
وَإِن كَانُوا۟ مِن قَبْلِ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْهِم مِّن قَبْلِهِۦ لَمُبْلِسِينَ
یقین ماننا کہ بارش ان پر برسنے سے پہلے پہلے تو وه ناامید ہو رہے تھے.
آیت کے اختیارات
- 50
فَٱنظُرْ إِلَىٰٓ ءَاثَـٰرِ رَحْمَتِ ٱللَّهِ كَيْفَ يُحْىِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَآ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
پس آپ رحمت الٰہی کے آﺛار دیکھیں کہ زمین کی موت کے بعد کس طرح اللہ تعالیٰ اسے زنده کر دیتا ہے؟ کچھ شک نہیں کہ وہی مردوں کو زنده کرنے واﻻ ہے[1] ، اور وه ہر ہر چیز پر قادر ہے.
حواشی
[1] آثار رحمت سے مراد وہ غلہ جات اور میوے ہیں جو بارش سے پیدا ہوتے اور خوش حالی وفراغت کا باعث ہوتے ہیں۔ دیکھنے سے مراد نظر عبرت سےدیکھنا ہے تاکہ انسان اللہ کی قدرت کا اور اس بات کا قائل ہو جائے کہ وہ قیامت والے دن اسی طرح مردوں کو زندہ فرما دے گا۔
آیت کے اختیارات
- 51
وَلَئِنْ أَرْسَلْنَا رِيحًا فَرَأَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوا۟ مِنۢ بَعْدِهِۦ يَكْفُرُونَ
اور اگر ہم باد تند چلا دیں اور یہ لوگ انہی کھیتوں کو (مرجھائی ہوئی) زرد پڑی ہوئی دیکھ لیں تو پھر اس کے بعد ناشکری کرنے لگیں.[1]
حواشی
[1] یعنی ان ہی کھیتوں کو، جن کو ہم بارش کے ذریعے سے شاداب کیا تھا، اگر سخت (گرم یا ٹھنڈی) ہوائیں چلا کر ان ہریالی کو زردی میں بدلدیں۔ یعنی تیار فصل کو تباہ کر دیں تو یہی بارش سےخوش ہونے والے اللہ کی ناشکری پر اتر آئیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کو نہ ماننے والے صبر اور حوصلے سےبھی محروم ہوتے ہیں۔ ذرا سی بات پر مارے خوشی کے پھولے نہیں سماتے اور ذرا سی ابتلا پر فوراً ناامید اور گریہ کناں ہو جاتے ہیں۔ اہل ایمان کا معاملہ دونوں حالتوں میں ان سے مختلف ہوتا ہے جیسا کہ تفصیل گزر چکی ہے۔
آیت کے اختیارات
- 52
فَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ ٱلْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوْا۟ مُدْبِرِينَ
بیشک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے[1] اور نہ بہروں کو (اپنی) آواز سنا سکتے ہیں[2] جب کہ وه پیٹھ پھیر کر مڑ گئے ہوں.[3]
حواشی
[1] یعنی جس طرح مردے فہم وشعور سے عاری ہوتے ہیں، اسی طرح یہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی دعوت کو سمجھنے اور اسےقبول کرنے سے قاصر ہیں۔ [2] یعنی آپ (صلى الله عليه وسلم) کا وعظ ونصیحت ان کے لئے بےاثر ہے جس طرح کوئی بہرہ ہو، اسے تم اپنی بات نہیں سنا سکتے۔ [3] یہ ان کے اعراض وانحراف کی مزید وضاحت ہے کہ مردہ اور بہرہ ہونے کے ساتھ وہ پیٹھ پھیر کر جانے والے ہیں، حق کی بات ان کے کانوں میں کس طرح پڑ سکتی اور کیوں کر ان کے دل ودماغ میں سما سکتی ہے؟
آیت کے اختیارات
- 53
وَمَآ أَنتَ بِهَـٰدِ ٱلْعُمْىِ عَن ضَلَـٰلَتِهِمْ ۖ إِن تُسْمِعُ إِلَّا مَن يُؤْمِنُ بِـَٔايَـٰتِنَا فَهُم مُّسْلِمُونَ
اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے ہدایت کرنے والے[1] ہیں آپ تو صرف ان ہی لوگوں کو سناتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے[2] ہیں پس وہی اطاعت کرنے والے ہیں.[3]
حواشی
[1] اس لئے کہ یہ آنکھوں سے کما حقہ فائدہ اٹھانے سے یابصیرت (دل کی بینائی) سے محروم ہیں۔ یہ گمراہی کی جس دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں، اس سے کس طرح نکلیں؟ [2] یعنی یہی سن کر ایمان لانے والے ہیں، اس لئے کہ اہل تفکر وتدبر ہیں اور آثار قدرت سے موثر حقیقی کی معرفت حاصل کر لیتے ہیں۔ [3] یعنی حق کے آگے سر تسلیم خم کر دینے والے اور اس کے پیروکار۔
آیت کے اختیارات
- 54
۞ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَشَيْبَةً ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۖ وَهُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْقَدِيرُ
اللہ تعالیٰ وه ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت[1] میں پیدا کیا پھر اس کمزوری کے بعد توانائی[2] دی، پھر اس توانائی کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا[3] جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے[4]، وه سب سے پورا واقف اور سب پر پورا قادر ہے.
حواشی
[1] یہاں سے اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کا ایک اور کمال بیان فرما رہا ہے اور وہ ہے مختلف اطوار سےانسان کی تخلیق۔ ضعف (کمزوری کی حالت) سےمراد نطفہ یعنی قطرۂ آب ہے یا عالم طفولیت۔ [2] یعنی جوانی، جس میں قوائے عقلی وجسمانی تکمیل ہو جاتی ہے۔ [3] کمزوری سے مراد کہولت کی عمر ہے جس میں عقلی وجسمانی قوتوں میں نقصان کا آغاز ہو جاتا ہے اور بڑھاپے سے مراد شیخوخت کا وہ دور ہے جس میں ضعف بڑھ جاتا ہے۔ ہمت پست، ہاتھ پیروں کی حرکت وگرفت کمزور،بال سفید اور تمام ظاہری وباطنی صفات متغیر ہو جاتی ہیں۔ قرآن نے انسان کے یہ چار بڑےاطوار بیان کیے ہیں،بعض علما نے دیگر چھوٹے چھوٹے اطوار بھی شمار کر کے انہیں قدرے تفصیل سے بیان کیا ہے جو قرآن کےاجمال کی توضیح اور اس کے اعجاز بیان کی شرح ہے مثلاً امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ انسان یکے بعد دیگرے ان حالات واطوار سےگزرتا ہے۔ اس کی اصل مٹی ہے۔ یعنی اس کے باپ آدم (عليه السلام) کی تخلیق مٹی سے ہوئی تھی۔ یا انسان جو کچھ کھاتا ہے، جس سے وہ منی پیدا ہوتی ہے جو رحم مادر میں جاکر اس کے وجود وتخلیق کا باعث بنتی ہے، وہ سب مٹی ہی کی پیداوار ہے پھر وہ نطفہ، نطفہ سے علقہ، پھر مضغہ، پھر ہڈیاں، جنہیں گوشت کا لباس پہنایا جاتا ہے۔ پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ پھر ماں کے پیٹ سے اس حال میں نکلتا ہے کہ نحیف ونزار اور نہایت نرم ونازک ہوتا ہے۔ پھر بتدریج نشوونما پاتا، بچپن، بلوغت اور جوانی کو پہنچتا ہے اور پھر بتدریج رجعت قہقریٰ کا عمل شروع ہو جاتا ہے، کہولت، شیخوخت اور پھر کبر سنی (بڑھاپا) تا آنکہ موت اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ [4] انہی اشیاء میں ضعف وقوت بھی ہے۔ جس سے انسان گزرتا ہے جیسا کہ ابھی تفصیل بیان ہوئی ہے۔
آیت کے اختیارات
- 55
وَيَوْمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يُقْسِمُ ٱلْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا۟ غَيْرَ سَاعَةٍ ۚ كَذَٰلِكَ كَانُوا۟ يُؤْفَكُونَ
اور جس دن قیامت[1] برپا ہو جائے گی گناه گار لوگ قسمیں کھائیں گے کہ (دنیا میں) ایک گھڑی[2] کے سوا نہیں ٹھہرے، اسی طرح یہ بہکے ہوئے ہی رہے.[3]
حواشی
[1] ساعت کے معنی ہیں، گھڑی، لمحہ، مراد قیامت ہے، اس کو ساعت اس لئے کہا گیا ہے کہ اس کا وقوع جب اللہ چاہے گا، ایک گھڑی میں ہو جائے گا۔ یا اس لئے کہ یہ اس گھڑی میں ہوگی جب دنیا کی آخری گھڑی ہوگی۔ [2] دنیا میں یاقبروں میں۔ یہ اپنی عادت کے مطابق جھوٹی قسم کھائیں گے، اس لئے کہ دنیا میں وہ جتنا عرصہ رہے ہوں گے، ان کے علم میں ہی ہوگا اور اگر مراد قبر کی زندگی ہے تو ان کا حلف جہالت پر ہوگا کیونکہ وہ قبر کی مدت نہیں جانتے ہوں گے۔ بعض کہتے ہیں کہ آخرت کے شدائد اور ہولناک احوال کے مقابلے میں دنیا کی زندگی انہیں گھڑی کی طرح ہی لگے گی۔ [3] أَفَكَ الرَّجُلُ کے معنی ہیں۔ سچ سے پھر گیا، مطلب یہ ہوگا، اسی پھرنے کے مثل وہ دنیا میں پھرتے رہے یا بہکے رہے۔
آیت کے اختیارات
- 56
وَقَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ وَٱلْإِيمَـٰنَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِى كِتَـٰبِ ٱللَّهِ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْبَعْثِ ۖ فَهَـٰذَا يَوْمُ ٱلْبَعْثِ وَلَـٰكِنَّكُمْ كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا وه جواب دیں گے[1] کہ تم تو جیسا کہ کتاب اللہ میں[2] ہے یوم قیامت تک ٹھہرے رہے[3]۔ آج کا یہ دن قیامت ہی کا دن ہے لیکن تم تو یقین ہی نہیں مانتے تھے.[4]
حواشی
[1] جس طرح یہ علما دنیا میں بھی سمجھاتے رہے تھے۔ [2] كِتَابِ اللهِ سے مراد اللہ کا علم اور اس کا فیصلہ ہے یعنی لوح محفوظ۔ [3] یعنی پیدائش کے دن سے قیامت کے دن تک۔ [4] کہ وہ آئے گی بلکہ استہزا اور تکذیب کےطور پر اس کا تم مطالبہ کرتے تھے۔
آیت کے اختیارات
- 57
فَيَوْمَئِذٍ لَّا يَنفَعُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ
پس اس دن ﻇالموں کو ان کا عذر بہانہ کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان سے توبہ اور عمل طلب کیا جائے گا.[1]
حواشی
[1] یعنی انہیں دنیا میں بھیج کر یہ موقع نہیں دیا جائے گا کہ وہاں توبہ واطاعت کے ذریعے سےعتاب الٰہی کا ازالہ کرلو۔
آیت کے اختیارات
- 58
وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِى هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانِ مِن كُلِّ مَثَلٍ ۚ وَلَئِن جِئْتَهُم بِـَٔايَةٍ لَّيَقُولَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا مُبْطِلُونَ
بیشک ہم نےاس قرآن میں لوگوں کے سامنے کل مثالیں بیان کر دی ہیں[1] ۔ آپ ان کے پاس کوئی بھی نشانی ﻻئیں[2]، یہ کافر تو یہی کہیں گے کہ تم (بے ہوده گو) بالکل جھوٹے ہو.[3]
حواشی
[1] جن سے اللہ کی توحید کا اثبات اور رسولوں کی صداقت واضح ہوتی ہےاور اسی طرح شرک کی تردید اور اس کا بطلان نمایاں ہوتا ہے۔ [2] وہ قرآن کریم کی پیش کردہ کوئی دلیل ہو یا ان کی خواہش کے مطابق کوئی معجزہ وغیرہ۔ [3] یعنی ان کی مخالفت وعناد اور ان کی تکلیف دہ باتوں پر، اس لئے کہ اللہ نے آپ سے مدد کا جو وعدہ کیا ہے، وہ یقیناً حق ہے جو بہر صورت پورا ہوگا۔
آیت کے اختیارات
- 59
كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں پر جو سمجھ نہیں رکھتے یوں ہی مہر کر دیتا ہے.
آیت کے اختیارات
- 60
فَٱصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّ ۖ وَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ ٱلَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ
پس آپ صبر کریں[1] یقیناً اللہ کا وعده سچا ہے۔ آپ کو وه لوگ ہلکا (بے صبرا) نہ کریں جویقین نہیں رکھتے.[2]
حواشی
[1] یعنی جادو وغیرہ کے پیرو کار۔ مطلب یہ ہے کہ بڑی سے بڑی نشانی اور واضح سےواضح دلیل بھی اگر وہ دیکھ لیں، تب بھی ایمان بہرحال نہیں لائیں گے، کیوں؟ اس کی وجہ آگے بیان کر دی گئی ہے کہ اللہ نے ان کےدلوں پر مہر لگا دی ہے جو اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ ان کا کفر وطغیان اس آخری حد کو پہنچ گیا ہے جس کے بعد حق کی طرف واپسی کےتمام راستے ان کے لئے مسدود ہیں۔ [2] یعنی آپ کو غضب ناک کرکےصبر وعلم ترک کرنے یا مداہنت پر مجبور نہ کر دیں بلکہ آپ اپنے موقف پر ڈٹے رہیں اور اس سے سرمو انحراف نہ کریں۔
آیت کے اختیارات
لقمان
لقمان
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ لقمان
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
الٓمٓ
الم.[1]
حواشی
[1] اس کے آغاز میں بھی یہ حروف مقطعات ہیں، جن کےمعنی ومراد کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ تاہم بعض مفسرین نے اس کےدو فوائد بڑے اہم بیان کیے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ قرآن اسی قسم کے حروف مقطعات سے ترتیب وتالیف پایا ہے جس کے مثل تالیف پیش کرنے سےعرب عاجز آگئے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قرآن اللہ ہی کا نازل کردہ ہے اور جس پیغمبر پر یہ نازل ہوا ہے وہ سچا رسول ہے، جو شریعت وہ لے کر آیا ہے، انسان اس کی محتاج ہے اور اس کی اصلاح اور سعادت کی تکمیل اسی شریعت سے ممکن ہے۔ دوسرا، یہ کہ مشرکین اپنےساتھیوں کو اس قرآن کے سننے سے روکتے تھے کہ مبادا وہ اس سے متاثر ہو کر مسلمان ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف سورتوں کا آغاز ان حروف مقطعات سےفرمایا تاکہ وہ اس کے سننے پر مجبور ہو جائیں کیونکہ یہ انداز بیاں نیا اور اچھوتا تھا۔ (ایسر التفاسیر) واللہ اعلم۔
آیت کے اختیارات
- 2
تِلْكَ ءَايَـٰتُ ٱلْكِتَـٰبِ ٱلْحَكِيمِ
یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں.
آیت کے اختیارات
- 3
هُدًى وَرَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِينَ
جو نیکو کاروں کے[1] لئے رہبر اور (سراسر) رحمت ہے.
حواشی
[1] مُحْسِنِينَ، مُحْسِنٌ کی جمع ہے۔ اس کے ایک معنی تو یہ ہیں احسان کرنےوالا، والدین کے ساتھ، رشتے داروں کےساتھ، مستحقین اور ضرورت مندوں کے ساتھ۔ دوسرے معنی ہیں، نیکیاں کرنے والا، یعنی برائیوں سے مجتنب اور نیکو کار۔ تیسرے معنی ہیں اللہ کی عبادت نہایت اخلاص اور خشوع وخضوع کے ساتھ کرنے والا۔ جس طرح حدیث جبرائیل (عليه السلام) میں ہے، أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ قرآن ویسے تو سارے جہاں کے لئے ہدایت اور رحمت کا ذریعہ ہے لیکن اس سے اصل فائدہ چونکہ صرف محسنین اور متقین ہی اٹھاتے ہیں، اس لئے یہاں اس طرح فرمایا۔
آیت کے اختیارات
- 4
ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلْـَٔاخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ
جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں اور آخرت پر (کامل) یقین رکھتے ہیں.[1]
حواشی
[1] نماز، زکوٰۃ اور آخرت پر یقین۔ یہ تینوں نہایت اہم ہیں، اس لئے ان کا بطور خاص ذکر کیا، ورنہ محسنین ومتقین تمام فرائض وسنن بلکہ مستحبات تک کی پابندی کرتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 5
أُو۟لَـٰٓئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ ۖ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ
یہی لوگ ہیں جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ نجات پانے والے ہیں.[1]
حواشی
[1] فلاح کے مفہوم کے لئےدیکھئے سورۂ بقرۃ اور مومنون کا آغاز۔
آیت کے اختیارات
- 6
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشْتَرِى لَهْوَ ٱلْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ
اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو لغو باتوں کو مول لیتے ہیں[1] کہ بےعلمی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی راه سے بہکائیں اور اسے ہنسی بنائیں[2]، یہی وه لوگ ہیں جن کے لئے رسوا کرنے واﻻ عذاب ہے.[3]
حواشی
[1] اہل سعادت، جو کتاب الٰہی سے راہ یاب اور اس کے سماع سے فیض یاب ہوتے ہیں، ان کے ذکر کے بعد ان اہل شقاوت کا بیان ہو رہا ہے جو کلام الٰہی کے سننے سے تو اعراض کرتے ہیں، البتہ ساز وموسیقی، نغمہ وسرور اور گانے وغیرہ خوب شوق سے سنتے اور ان میں دلچسپی لیتے ہیں۔ خریدنے سے مراد یہی ہے کہ آلات طرب شوق سے اپنے گھروں میں لاتے اور پھر ان سے لذت اندوز ہوتے ہیں۔ لَهْوَ الْحَدِيثِ سے مراد گانا بجانا، اس کا ساز وسامان اور آلات، سازو موسیقی اور ہر وہ چیز ہے جو انسانوں کو خیر اور معروف سے غافل کر دے۔ اس میں قصے، کہانیاں، افسانے، ڈرامے، ناول اور جنسی اور سنسنی خیز لٹریچر، رسالے اور بے حیائی کے پرچارک اخبارات سب ہی آجاتے ہیں اور جدید ترین ایجادات ریڈیو، ٹی وی، وی سی آر، ویڈیو فلمیں وغیرہ بھی۔ عہد رسالت میں بعض لوگوں نے گانے بجانے والی لونڈیاں بھی اسی مقصد کے لئے خریدی تھیں کہ وہ لوگوں کا دل گانے سنا کر بہلاتی رہیں تاکہ قرآن واسلام سے وہ دور رہیں۔ اس اعتبار سے اس میں گلوکارائیں بھی آجاتی ہیں جو آج کل فن کار، فلمی ستارہ اور ثقافتی سفیر اور پتہ نہیں کیسے کیسے مہذب، خوش نما اور دل فریب ناموں سے پکاری جاتی ہیں۔ [2] ان تمام چیزوں سے یقیناً انسان اللہ کے راستے سےگمراہ ہو جاتے ہیں اور دین کو استہزا وتمسخر کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔ [3] ان کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کرنے والے ارباب حکومت، ادارے، اخبارات کے مالکان، اہل قلم اور فیچر نگار بھی اسی عذاب مہین کے مستحق ہوں گے۔ أَعَاذَنَا اللهُ مِنْهُ.
آیت کے اختیارات
- 7
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ءَايَـٰتُنَا وَلَّىٰ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِىٓ أُذُنَيْهِ وَقْرًا ۖ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
جب اس کے سامنے ہماری آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو تکبر کرتا ہوا اس طرح منھ پھیر لیتا ہے گویا اس نے سنا ہی نہیں گویا کہ اس کے دونوں کانوں میں ڈاٹ لگے ہوئے ہیں[1] ، آپ اسے درد ناک عذاب کی خبر سنا دیجئے.
حواشی
[1] یہ اس شخص کا حال ہےجو مذکورہ لہوولعب کی چیزوں میں مگن رہتا ہے، وہ آیات قرانیہ اور اللہ ورسول کی باتیں سن کر بہرہ بن جاتا ہے حالانکہ وہ بہرہ نہیں ہوتا اور اس طرح منہ پھیر لیتا ہے گویا اس نے سنا ہی نہیں، کیوں کہ اس کے سننے سےوہ ایذا محسوس کرتا ہے، اس لئے اس سے اس کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا، وقرا کے معنی ہیں کانوں میں ایسا بوجھ جو اسے سننے سے محروم کر دے۔
آیت کے اختیارات
- 8
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ لَهُمْ جَنَّـٰتُ ٱلنَّعِيمِ
بیشک جن لوگوں نےایمان قبول کیا اور کام بھی نیک (مطابق سنت) کیے ان کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں.
آیت کے اختیارات
- 9
خَـٰلِدِينَ فِيهَا ۖ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقًّا ۚ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ
جہاں وه ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ کا سچا وعده[1] ہے، وه بہت بڑی عزت وغلبہ واﻻ اور کامل حکمت واﻻ ہے.
حواشی
[1] یعنی یہ یقیناً پورا ہوگا، اس لئے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ وَاللهُ لا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ۔
آیت کے اختیارات
- 10
خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ۖ وَأَلْقَىٰ فِى ٱلْأَرْضِ رَوَٰسِىَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٍ ۚ وَأَنزَلْنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً فَأَنۢبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ
اسی نے آسمانوں کو بغیر ستون کے پیدا کیا ہے تم انہیں دیکھ رہے[1] ہو اور اس نے زمین میں پہاڑوں کو ڈال دیا تاکہ وه تمہیں جنبش نہ دے[2] سکے اور ہر طرح کے جاندار زمین میں پھیلا دیئے[3]۔ اور ہم نے آسمان سے پانی برسا کر زمین میں ہر قسم کے نفیس جوڑے اگا دیئے.[4]
حواشی
[1] تَرَوْنَها، اگر عَمَدٌ کی صفت ہو تو معنی ہوں گے ایسے ستونوں کے بغیر جنہیں تم دیکھ سکو۔ یعنی آسمان کے ستون ہیں لیکن ایسے کہ تم انہیں دیکھ نہیں سکتے۔ [2] رَوَاسِيَ، رَاسِيَة کی جمع ہے جس کے معنی ثَابِتَةٌ کے ہیں۔ یعنی پہاڑوں کو زمین پر اس طرح بھاری بوجھ بنا کر رکھ دیا کہ جن سے زمین ثابت رہے یعنی حرکت نہ کرے۔ اسی لئے آگے فرمایا، أَنْ تَمِيدَ بِكُم يَعْنِي كَرَاهَةَ أَنْ تَمِيدَ (تَمِيلَ) بِكُمْ أَوْ لِئَلا تَمِيدَ یعنی اس بات کی ناپسندیدگی سے کہ زمین تمہارے ساتھ ادھر ادھر ڈولے، یا اس لئے کہ زمین ادھر ادھر نہ ڈولے۔ جس طرح ساحل پر کھڑے بحری جہازوں میں بڑے بڑے لنگر ڈال دیئے جاتے ہیں تاکہ جہاز نہ ڈولے زمین کے لئے پہاڑوں کی بھی یہی حیثیت ہے۔ [3] یعنی انواع واقسام کے جانور زمین میں ہر طرف پھیلا دیئے جنہیں انسان کھاتا بھی ہے، سواری اور بار برداری کے لئے بھی استعمال کرتا ہے اور بطور زینت اور آرائش کے بھی اپنے پاس رکھتا ہے۔ [4] زَوْجٍ یہاں صِنْفٍ کے معنی میں ہے یعنی ہرقسم کے غلے اور میوے پیدا کیے۔ ان کی صفت کریم، ان کے حسن لون اور کثرت منافع کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
آیت کے اختیارات
- 11
هَـٰذَا خَلْقُ ٱللَّهِ فَأَرُونِى مَاذَا خَلَقَ ٱلَّذِينَ مِن دُونِهِۦ ۚ بَلِ ٱلظَّـٰلِمُونَ فِى ضَلَـٰلٍ مُّبِينٍ
یہ ہے اللہ کی مخلوق[1] اب تم مجھے اس کے سوا دوسرے کسی کی کوئی مخلوق تو دکھاؤ[2] (کچھ نہیں)، بلکہ یہ ﻇالم کھلی گمراہی میں ہیں.
حواشی
[1] هَذَا (یہ) اشارہ ہے اللہ کے ان پیدا کردہ چیزوں کی طرف جن کا گزشتہ آیات میں ذکر ہوا۔ [2] یعنی جن کی تم عبادت کرتے اور انہیں مدد کے لئے پکارتے ہو، انہوں نے آسمان وزمین میں کون سی چیز پیدا کی ہے؟ کوئی ایک چیز تو بتلاؤ؟ مطلب یہ ہے کہ جب ہر چیز کا خالق صرف اور صرف اللہ ہے، تو عبادت کا مستحق بھی صرف وہی ہے۔ اس کے سوا کائنات میں کوئی ہستی اس لائق نہیں کہ اس کی عبادت کی جائے اور اسے مدد کے لئے پکارا جائے۔
آیت کے اختیارات
- 12
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا لُقْمَـٰنَ ٱلْحِكْمَةَ أَنِ ٱشْكُرْ لِلَّهِ ۚ وَمَن يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِۦ ۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِىٌّ حَمِيدٌ
اور ہم نے یقیناً لقمان کو حکمت دی[1] تھی کہ تو اللہ تعالیٰ کا شکر کر[2] ہر شکر کرنے واﻻ اپنے ہی نفع کے لئے شکر کرتا ہے جو بھی ناشکری کرے وه جان لے کہ اللہ تعالیٰ بے نیاز اور تعریفوں واﻻ ہے.
حواشی
[1] حضرت لقمان، اللہ کے نیک بندے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے حکمت یعنی عقل وفہم اور دینی بصیرت میں ممتاز مقام عطا فرمایا تھا۔ ان سے کسی نےپوچھا تمہیں یہ فہم وشعور کس طرح حاصل ہوا؟ انہوں نے فرمایا، راست بازی، امانت کے اختیار کرنے اور بے فائدہ باتوں سے اجتناب اور خاموشی کی وجہ سے۔ ان کا حکمت ودانش پر مبنی ایک واقعہ یہ بھی مشہور ہے کہ یہ غلام تھے، ان کے آقا نے کہا کہ بکری ذبح کرکے اس کے سب سے بہترین دو حصے لاؤ، چنانچہ وہ زبان اور دل نکال کر لے گئے۔ ایک دوسرے موقعے پر آقا نے ان سے کہا کہ بکری ذبح کرکے اس کے سب سے بدترین حصے لاؤ۔ وہ پھر وہی زبان اور دل لے کر چلے گئے۔ پوچھنے پر انہوں نے بتلایا کہ زبان اور دل، اگر صحیح ہوں تو یہ سب سے بہتر ہیں اور اگر یہ بگڑ جائیں تو ان سے بدتر کوئی چیز نہیں۔ (ابن کثیر)۔ [2] شکر کا مطلب ہے، اللہ کی نعمتوں پر اس کی حمد وثنا اور اس کے احکام کی فرماں برداری۔
آیت کے اختیارات
- 13
وَإِذْ قَالَ لُقْمَـٰنُ لِٱبْنِهِۦ وَهُوَ يَعِظُهُۥ يَـٰبُنَىَّ لَا تُشْرِكْ بِٱللَّهِ ۖ إِنَّ ٱلشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
اور جب کہ لقمان نے وعﻆ کہتے ہوئے اپنے لڑکے سے فرمایا کہ میرے پیارے بچے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا[1] بیشک شرک بڑا بھاری ﻇلم ہے.[2]
حواشی
[1] اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان کی سب سے پہلی وصیت یہ نقل فرمائی کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو شرک سے منع فرمایا، جس سے یہ واضح ہوا کہ والدین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو شرک سے بچانے کی سب سے زیادہ کوشش کریں۔ [2] یہ بعض کے نزدیک حضرت لقمان ہی کا قول ہے اور بعض نے اسے اللہ کا قول قرار دیا ہے اور اس کی تائید میں وہ حدیث پیش کی ہے جو «الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ» کے نزول کے تعلق سے وارد ہے جس میں آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا تھا کہ یہاں ظلم سے مراد عظیم ہے اور آیت «إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ» کا حوالہ دیا۔ (صحیح بخاری نمبر 4776) مگر درحقیقت اس سے اللہ کا قول ہونے کی نہ تائید ہوتی ہے نہ تردید۔
آیت کے اختیارات
- 14
وَوَصَّيْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ بِوَٰلِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُۥ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَـٰلُهُۥ فِى عَامَيْنِ أَنِ ٱشْكُرْ لِى وَلِوَٰلِدَيْكَ إِلَىَّ ٱلْمَصِيرُ
ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی[1] ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر[2] اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے[3] کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے.
حواشی
[1] توحید وعبادت الٰہی کے ساتھ ہی والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید سےاس نصیحت کی اہمیت واضح ہے۔ [2] اس کا مطلب ہے کہ رحم مادر میں بچہ جس حساب سے بڑھتا جاتا ہے، ماں پر بوجھ بڑھتا جاتا ہے جس سے عورت کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ ماں کی اس مشقت کے ذکر سے اس طرف بھی اشارہ نکلتا ہے کہ والدین کے ساتھ احسان کرتے وقت ماں کو مقدم رکھا جائے، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے۔ [3] اس سے معلوم ہوا کہ مدت رضاعت دو سال ہے، اس سے زیادہ نہیں۔
آیت کے اختیارات
- 15
وَإِن جَـٰهَدَاكَ عَلَىٰٓ أَن تُشْرِكَ بِى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۖ وَصَاحِبْهُمَا فِى ٱلدُّنْيَا مَعْرُوفًا ۖ وَٱتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَىَّ ۚ ثُمَّ إِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
اور اگر وه دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو تو ان کا کہنا نہ ماننا، ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح بسر کرنا اور اس کی راه چلنا جو میری طرف جھکا ہوا[1] ہو تمہارا سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے تم جو کچھ کرتے ہو اس سے پھر میں تمہیں خبردار کروں گا.[2]
حواشی
[1] یعنی مومنین کی راہ۔ [2] یعنی میری طرف رجوع کرنے والوں (اہل ایمان) کی پیروی اس لئے کرو کہ بالآخر تم سب کو میری ہی بارگاہ میں آنا ہے، اور میری ہی طرف سے ہر ایک کو اس کے (اچھے یا برے) عمل کی جزا ملنی ہے۔ اگر تم میرے راستے کی پیروی کرو گے اور مجھے یاد رکھتے ہوئے زندگی گزارو گے تو امید ہے کہ قیامت والے روز میری عدالت میں سرخ رو ہو گے بصورت دیگر میرے عذاب میں گرفتار ہو گے۔ سلسلۂ کلام حضرت لقمان کی وصیتوں سے متعلق تھا۔ اب آگے پھر وہی وصیتیں بیان کی جا رہی ہیں جو لقمان نے اپنے بیٹے کو کی تھیں۔ درمیان کی دو آیتوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے جملہ معترضہ کے طور پر ماں باپ کے ساتھ احسان کی تاکید فرمائی، جس کی ایک وجہ تو یہ بیان کی گئی ہے۔ کہ لقمان نے وصیت اپنے بیٹے کو نہیں کی تھی کیونکہ اس میں ان کا اپنا ذاتی مفاد بھی تھا۔ دوسرا یہ واضح ہو جائے کہ اللہ کی توحید وعبادت کے بعد والدین کی خدمت واطاعت ضروری ہے۔ تیسرا یہ کہ شرک اتنا بڑا گناہ ہے کہ اگر اس کا حکم والدین بھی دیں، تو ان کی بات نہیں ماننی چاہئے۔
آیت کے اختیارات
- 16
يَـٰبُنَىَّ إِنَّهَآ إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِى صَخْرَةٍ أَوْ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ أَوْ فِى ٱلْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا ٱللَّهُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ
پیارے بیٹے! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر ہو[1] پھر وه (بھی) خواه کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں ہو اسے اللہ تعالیٰ ضرور ﻻئے گا اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین اور خبردار ہے.
حواشی
[1] إِنْ تَكُ کا مرجع خَطِيئَةٌ ہو تو مطلب گناہ اور اللہ کی نافرمانی والا کام ہے اور اگر اس کا مرجع خَصْلَةٌ ہو تو مطلب اچھائی یا برائی کی خصلت ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ انسان اچھا یا برا کام کتنا بھی چھپ کر کرے، اللہ سے مخفی نہیں رہ سکتا، قیامت والے دن اللہ تعالیٰ اسے حاضر کر لے گا۔ یعنی اس کی جزا دے گا، اچھے عمل کی اچھی جزا، برے عمل کی بری جزا۔ رائی کے دانے کی مثال اس لئے دی کہ وہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ جس کا وزن محسوس ہوتا ہے نہ تول میں وہ ترازو کے پلڑے کو جھکا سکتا ہے۔ اسی طرح چٹان (آبادی سے دور جنگل، پہاڑ میں) مخفی ترین اور محفوظ ترین جگہ ہے۔ یہ مضمون حدیث میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ فرمایا ”اگر تم میں سے کوئی شخص بے سوراخ کے پتھر میں بھی عمل کرے گا، جس کا کوئی دروازہ ہو نہ کھڑکی، اللہ تعالیٰ اسے لوگوں پر ظاہر فرما دے گا، چاہے وہ کیسا ہی عمل ہو“۔ (مسند احمد / 281) اس لئے کہ وہ لطیف (باریک بین) ہے، اس کا علم مخفی ترین چیز تک محیط ہے، اور خبیر ہے، اندھیری رات میں چلنے والی چیونٹی کی حرکات وسکنات سے بھی وہ باخبر ہے۔
آیت کے اختیارات
- 17
يَـٰبُنَىَّ أَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ وَأْمُرْ بِٱلْمَعْرُوفِ وَٱنْهَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَٱصْبِرْ عَلَىٰ مَآ أَصَابَكَ ۖ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ ٱلْأُمُورِ
اے میرے پیارے بیٹے! تو نماز قائم رکھنا، اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا، برے کاموں سے منع کیا کرنا اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا[1] (یقین مانو) کہ یہ بڑے تاکیدی کاموں میں سے ہے.[2]
حواشی
[1] إِقَامَةُ صَلاةٍ، أَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ، نَهْيٌ عَنْ الْمُنْكَرِ اور مصائب پر صبر کا اس لئے ذکر کیا کہ یہ تینوں اہم ترین عبادات اور امور خیر کی بنیاد ہیں۔ [2] یعنی مذکورہ باتیں ان کاموں میں سے ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے تاکید فرمائی ہے اور بندوں پر انہیں فرض قرار دیا ہے۔ یا یہ ترغیب ہے عزم وہمت پیدا کرنے کی کیونکہ عزم وہمت کے بغیر طاعات مذکورہ پر عمل ممکن نہیں۔ بعض مفسرین کے نزدیک ذلک کا مرجع صبر ہے۔ اس سے پہلے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی وصیت ہے اور اس راہ میں شدائد ومصائب اور طعن وملامت ناگزیر ہے، اس لئے اس کے فوراً بعد صبر کی تلقین کرکے واضح کر دیا کہ صبر کا دامن تھامے رکھنا کہ یہ عزم وہمت کے کاموں میں سے ہےاور اہل عزم وہمت کا ایک بڑا ہتھیار ہے۔ اس کے بغیر فریضۂ تبلیغ کی ادائیگی ممکن نہیں۔
آیت کے اختیارات
- 18
وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِى ٱلْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ
لوگوں کے سامنے اپنے گال نہ پھلا[1] اور زمین پر اترا کر نہ چل[2] کسی تکبر کرنے والے شیخی خورے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا.
حواشی
[1] یعنی تکبر نہ کر کہ لوگوں کو حقیر سمجھے اور جب وہ تجھ سے ہم کلام ہوں تو تو ان سے منہ پھیر لے۔ یا گفتگو کے وقت اپنا منہ پھیرے رکھے۔ صعر ایک بیماری ہے جو اونٹ کے سریا گردن میں ہوتی ہے۔ جس سےاس کی گردن مڑ جاتی ہے۔ یہاں بطور تکبر منہ پھیر لینے کے معنی میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ (ابن کثیر)۔ [2] یعنی ایسی چال یا رویہ، جس سے مال ودولت یا جاہ ومنصب یا قوت وطاقت کی وجہ سے فخر وغرور کا اظہار ہوتا ہو، یہ اللہ کو ناپسند ہے، اس لئے کہ انسان ایک بندۂ عاجز وحقیر ہے، اللہ تعالیٰ کو یہی پسند ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق عاجزی وانکساری ہی اختیار کیے رکھے اس سےتجاوز کرکے بڑائی کا اظہار نہ کرے کہ بڑائی صرف اللہ ہی کےلئے زیبا ہے جو تمام اختیارات کا مالک اور تمام خوبیوں کا منبع ہے۔ اسی لئے حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ ”وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا، جس کے دل میں ایک رائی کے دانے کے برابر بھی کبر ہوگا“۔ (مسند أحمد: 1/412، ترمذي، أبواب البر، ما جاء في الكبر) ”جو تکبر کے طور پر اپنے کپڑے کو کھینچتے (گھسیٹتے) ہوئے چلے گا، اللہ اس کی طرف (قیامت والے دن) نہیں دیکھے گا“۔(مسند أحمد 5 / 9، 10 وانظر البخاري، كتاب اللباس) تاہم تکبر کا اظہار کیے بغیر اللہ کے انعامات کا ذکر یا اچھا لباس اور خوراک وغیرہ کا استعمال جائز ہے۔
آیت کے اختیارات
- 19
وَٱقْصِدْ فِى مَشْيِكَ وَٱغْضُضْ مِن صَوْتِكَ ۚ إِنَّ أَنكَرَ ٱلْأَصْوَٰتِ لَصَوْتُ ٱلْحَمِيرِ
اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کر[1] ، اور اپنی آواز پست کر[2] یقیناً آوازوں میں سب سے بدتر آواز گدھوں کی آواز ہے.
حواشی
[1] یعنی چال اتنی سست نہ ہو جیسے کوئی بیمار ہو اور نہ اتنی تیز ہو کہ شرف ووقار کے خلاف ہو، اسی کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا «يَمْشُونَ عَلَى الأَرْضِ هَوْنًا» (الفرقان: 63) ”اللہ کے بندے زمین پر وقار اور سکونت کےساتھ چلتے ہیں“۔ [2] یعنی چیخ یا چلا کر بات نہ کر، اس لئے کہ زیادہ اونچی آوازسے بات کرنا پسندیدہ ہوتا تو گدھے کی آواز سب سے اچھی سمجھی جاتی لیکن ایسا نہیں ہے، بلکہ گدھے کی آواز سب سے بدتر اور کریہ ہے۔ اسی لئے حدیث میں آتا ہے کہ (گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے پناہ مانگو) (بخاری، کتاب بدء الخلق اور مسلم وغیرہ)۔
آیت کے اختیارات
- 20
أَلَمْ تَرَوْا۟ أَنَّ ٱللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُۥ ظَـٰهِرَةً وَبَاطِنَةً ۗ وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُجَـٰدِلُ فِى ٱللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَـٰبٍ مُّنِيرٍ
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان کی ہر چیز کو ہمارے کام میں لگا رکھا ہے[1] اور تمہیں اپنی ﻇاہری وباطنی نعمتیں بھرپور دے رکھی ہیں[2]، بعض لوگ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب کے جھگڑا کرتے ہیں.[3]
حواشی
[1] تسخیر کا مطلب ہے انتفاع (فائدہ اٹھانا) جس کو (یہاں کام سے لگا دیا) سے تعبیر کیا گیا ہے جیسے آسمانی مخلوق، چاند، سورج، ستارے وغیرہ ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے ایسے ضابطوں کا پابند بنا دیا ہے کہ یہ انسانوں کے لئے کام کر رہے ہیں اور انسان ان سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ دوسرا مطلب تسخیر کا تابع بنا دینا ہے۔ چنانچہ بہت سی زمینی مخلوق کو انسان کے تابع بنا دیا گیا ہے جنہیں انسان اپنی حسب منشاء استعمال کرتا ہے جیسے زمین اور حیوانات وغیرہ ہیں۔ گویا تسخیر کا مفہوم یہ ہوا کہ آسمان وزمین کی تمام چیزیں انسانوں کے فائدے کے لئے کام میں لگی ہوئی ہیں، چاہے وہ انسان کے تابع اور اس کے زیر تصرف ہوں یا اس کے تصرف اور تابعیت سے بالا ہوں۔ (فتح القدیر)۔ [2] ظاہری سے وہ نعمتیں مراد ہیں جن کا ادراک عقل، حواس وغیرہ سے ممکن ہو اور باطنی نعمتیں وہ جن کا ادراک واحساس انسان کو نہیں۔ یہ دونوں قسم کی نعمتیں اتنی ہیں کہ انسان ان کو شمار بھی نہیں کر سکتا۔ [3] یعنی اس کے باوجود لوگ اللہ کی بابت جھگڑتے ہیں، کوئی اس کے وجود کے بارے میں، کوئی اس کے ساتھ شریک گرداننے میں اور کوئی اس کے احکام وشرائع کے بارے میں۔
آیت کے اختیارات
- 21
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱتَّبِعُوا۟ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ قَالُوا۟ بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَآ ۚ أَوَلَوْ كَانَ ٱلشَّيْطَـٰنُ يَدْعُوهُمْ إِلَىٰ عَذَابِ ٱلسَّعِيرِ
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی وحی کی تابعداری کرو تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو جس طریق[1] پر اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اسی کی تابعداری کریں گے، اگرچہ شیطان ان کے بڑوں کو دوزخ کےعذاب کی طرف بلاتا ہو.
حواشی
[1] یعنی طرفگی یہ ہے کہ ان کےپاس کوئی عقلی دلیل ہے، نہ کسی ہادی کی ہدایت اور نہ کسی صحیفہ آسمانی سے کوئی ثبوت، گویا لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں۔
آیت کے اختیارات
- 22
۞ وَمَن يُسْلِمْ وَجْهَهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ ٱسْتَمْسَكَ بِٱلْعُرْوَةِ ٱلْوُثْقَىٰ ۗ وَإِلَى ٱللَّهِ عَـٰقِبَةُ ٱلْأُمُورِ
اور جو (شخص) اپنے آپ کو اللہ کے تابع کردے[1] اور ہو بھی وه نیکو کار[2] یقیناً اس نے مضبوط کڑا تھام لیا[3]، تمام کاموں کا انجام اللہ کی طرف ہے.
حواشی
[1] یعنی صرف اللہ کی رضا کے لئے عمل کرے، اس کے حکم کی اطاعت اور اس کی شریعت کی پیروی کرے۔ [2] یعنی مامور بہ چیزوں کا اتباع اور منہیات کو ترک کرنے والا۔ [3] یعنی اللہ سے اس نے مضبوط عہد لےلیا کہ وہ اس کو عذاب نہیں کرے گا۔
آیت کے اختیارات
- 23
وَمَن كَفَرَ فَلَا يَحْزُنكَ كُفْرُهُۥٓ ۚ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
کافروں کے کفر سے آپ رنجیده نہ ہوں[1] ، آخر ان سب کو لوٹنا تو ہماری جانب ہی ہے پھر ہم ان کو بتائیں گے جو انہوں نے کیا ہے، بے شک اللہ سینوں[2] کے بھیدوں[3] تک سے واقف ہے.
حواشی
[1] اس لئے کہ ایمان کی سعادت ان کے نصیب میں ہی نہیں ہے۔ آپ کی کوشش اپنی جگہ بجا اور آپ کی خواہش بھی قابل قدر لیکن اللہ کی تقدیر اور مشیت سب پر غالب ہے۔ [2] یعنی ان کےعملوں کی جزا دے گا۔ [3] پس اس پر کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی۔
آیت کے اختیارات
- 24
نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ
ہم انہیں گو کچھ یونہی سا فائده دے دیں لیکن (بالﺂخر) ہم انہیں نہایت بیچارگی کی حالت میں سخت عذاب کی طرف ہنکا لے جائیں گے.[1]
حواشی
[1] یعنی دنیا میں آخر کب تک رہیں گے اور اس کی لذتوں اور نعمتوں سے کہاں تک شاد کام ہوں گے؟ یہ دنیا اور اس کی لذتیں تو چند روزہ ہیں، اس کے بعد ان کے لئے سخت عذاب ہی عذاب ہے۔
آیت کے اختیارات
- 25
وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُ ۚ قُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ آسمان وزمین کا خالق کون ہے؟ تو یہ ضرور جواب دیں گے کہ اللہ[1] ، تو کہہ دیجئے کہ سب تعریفوں کے ﻻئق اللہ ہی ہے[2]، لیکن ان میں کے اکثر بے علم ہیں.
حواشی
[1] یعنی ان کو اعتراف ہے کہ آسمان وزمین کا خالق اللہ ہے نہ کہ وہ معبود جن کی وہ عبادت کرتے ہیں۔ [2] اس لئے کہ ان کے اعتراف سے ان پر حجت قائم ہوگئی۔
آیت کے اختیارات
- 26
لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْغَنِىُّ ٱلْحَمِيدُ
آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے وه سب اللہ ہی کا ہے[1] یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بڑا بے نیاز[2] اور سزاوار حمد وﺛنا ہے.[3]
حواشی
[1] یعنی ان کا خالق بھی وہی ہے، مالک بھی وہی اور مدبر ومتصرف کائنات بھی وہی۔ [2] بے نیاز ہے اپنے ماسوا سے، یعنی ہر چیز اس کی محتاج ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں۔ [3] اپنی تمام پیدا کردہ چیزوں میں۔ پس اس نےجو کچھ پیدا کیا اور جو احکام نازل فرمائے، اس پر آسمان وزمین میں سزا وار حمد ثنا، صرف اسی کی ذات ہے۔
آیت کے اختیارات
- 27
وَلَوْ أَنَّمَا فِى ٱلْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَـٰمٌ وَٱلْبَحْرُ يَمُدُّهُۥ مِنۢ بَعْدِهِۦ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَـٰتُ ٱللَّهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
روئے زمین کے (تمام) درختوں کے اگر قلمیں ہو جائیں اور تمام سمندروں کی سیاہی ہو اور ان کے بعد سات سمندر اور ہوں تاہم اللہ کے کلمات ختم نہیں ہو سکتے[1] ، بیشک اللہ تعالیٰ غالب اور باحکمت ہے.
حواشی
[1] اس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت وکبریائی، جلالت شان، اس کے اسمائے حسنیٰ اور صفات علیا اور اس کے وہ کلمات جو اس کی عظمتوں پر دلالت کناں ہیں کا بیان ہے کہ وہ اتنے ہیں کہ کسی کے لئے ان کا احاطہ یا ان سے آگاہی یا ان کی کنہ اور حقیقت تک پہنچنا ممکن ہی نہیں ہے۔ اگر کوئی ان کو شمار کرنا اور حیطۂ تحریر میں لانا چاہے، تو دنیا بھر کے درختوں کے قلم گھس جائیں، سمندروں کے پانی کی بنائی ہوئی سیاہی ختم ہو جائے، لیکن اللہ کی معلومات، اس کے تخلیق وصنعت کے عجائبات اور اس کی عظمت وجلالت کے مظاہر کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ سات سمندر بطور مبالغہ ہے، حصر مراد نہیں ہے، اس لئے کہ اللہ کی آیات وکلمات کا حصرواحصا ممکن ہی نہیں (ابن کثیر) اسی مفہوم کی آیت سورۂ کہف کے آخر میں گزر چکی ہے۔
آیت کے اختیارات
- 28
مَّا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ وَٰحِدَةٍ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌۢ بَصِيرٌ
تم سب کی پیدائش اور مرنے کے بعد جلانا ایسا ہی ہے جیسے ایک جی کا[1] ، بیشک اللہ تعالیٰ سننے واﻻ دیکھنے واﻻ ہے.
حواشی
[1] یعنی اس کی قدرت اتنی عظیم ہے کہ تم سب کا پیدا کرنا یا قیامت والے دن زندہ کرنا، ایک نفس کے زندہ کرنے یا پیدا کرنے کی طرح ہے۔ اس لئے کہ وہ جو چاہتا ہے لفظ كُنْ سے پلک جھپکتے میں معرض وجود میں آجاتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 29
أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يُولِجُ ٱلَّيْلَ فِى ٱلنَّهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِى ٱلَّيْلِ وَسَخَّرَ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِىٓ إِلَىٰٓ أَجَلٍ مُّسَمًّى وَأَنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں کھپا دیتا ہے[1] ، سورج چاند کو اسی نے فرماں بردار کر رکھا ہے ہر ایک مقرره وقت تک چلتا رہے[2]، اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے جو تم کرتے ہو خبردار ہے.
حواشی
[1] یعنی رات کا کچھ حصہ لے کر دن میں شامل کر دیتا ہے، جس سے دن بڑا اور رات چھوٹی ہو جاتی ہے۔ جیسے گرمیوں میں ہوتا ہے، اور پھر دن کا کچھ حصہ لے کر رات میں شامل کر دیتا ہے، جس سے رات بڑی اور دن چھوٹا ہو جاتا ہے۔ جیسے سردیوں میں ہوتا ہے۔ [2] مقررہ وقت تک سے مراد قیامت تک ہے یعنی سورج اور چاند کے طلوع وغروب کا یہ نظام، جس کا اللہ نے ان کو پابند کیا ہوا ہے، قیامت تک یوں ہی قائم رہے گا دوسرا مطلب ہے ایک متعینہ منزل تک یعنی اللہ نے ان کی گردش کے لئے ایک منزل اور ایک دائرہ متعین کیا ہوا ہے جہاں ان کا سفر ختم ہوتا ہے اور دوسرے روز پھر وہاں سے شروع ہو کر پہلی منزل پر آکر ٹھہر جاتا ہے۔ ایک حدیث سے بھی اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت ابوذر (رضي الله عنه) سے فرمایا: جانتے ہو، یہ سورج کہاں جاتا (غروب ہوتا) ہے؟ ابوذر (رضي الله عنه) کہتے ہیں، میں نے کہا اللہ اور اس کے رسول (صلى الله عليه وسلم) خوب جانتے ہیں فرمایا: اس کی آخری منزل عرش الٰہی ہے یہ وہاں جاتا ہے اور زیر عرش سجدہ ریز ہوتا ہے پھر (وہاں سے نکلنے کی) اپنے رب سے اجازت مانگتا ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ اس کو کہا جائے گا۔ ارجعي من حيث جئت تو جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا تو وہ مشرق سے طلوع ہونے کے بجائے مغرب سے طلوع ہوگا۔ جیسا کہ قرب قیامت کی علامت میں آتا ہے۔ (صحيح بخاري ، كتاب التوحيد ـ ومسلم، كتاب التوحيد، ومسلم، كتاب الإيمان، باب بيان الزمن الذي لا يقبل فيه الإيمان) حضرت ابن عباس (رضي الله عنهما) فرماتے ہیں سورج رہٹ کی طرح ہے، دن کو آسمان پر اپنے مدار پر چلتا رہتا ہے، جب غروب ہو جاتا ہے، تو رات کو زمین کے نیچے اپنے مدار پر چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ مشرق سے طلوع ہو جاتا ہے۔ اسی طرح چاند کا معاملہ ہے۔ (ابن کثیر)۔
آیت کے اختیارات
- 30
ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِ ٱلْبَـٰطِلُ وَأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْعَلِىُّ ٱلْكَبِيرُ
یہ سب (انتظامات) اس وجہ سے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حق ہے اور اس کے سوا جن جن کو لوگ پکارتے ہیں[1] سب باطل ہیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بلندیوں واﻻ اور بڑی شان واﻻ ہے.[2]
حواشی
[1] یعنی یہ انتظامات یا نشانیاں، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے ظاہر کرتا ہے تاکہ تم سمجھ لو کہ کائنات کا نظام چلانے والا صرف ایک اللہ ہے، جس کے حکم اور مشیت سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے، اور اس کے سوا سب باطل ہے یعنی کسی کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے بلکہ سب اس کے محتاج ہیں کیونکہ سب اس کی مخلوق اور اس کے ماتحت ہیں، ان میں سے کوئی بھی ایک ذرے کو بھی ہلانے کی قدرت نہیں رکھتا۔ [2] اس سے برتر شان والا کوئی ہے نہ اس سے بڑا کوئی۔ اس کی عظمت شان، علوم مرتبت اور بڑائی کے سامنے ہر چیز حقیر اور پست ہے۔
آیت کے اختیارات
- 31
أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱلْفُلْكَ تَجْرِى فِى ٱلْبَحْرِ بِنِعْمَتِ ٱللَّهِ لِيُرِيَكُم مِّنْ ءَايَـٰتِهِۦٓ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ
کیا تم اس پر غور نہیں کرتے کہ دریا میں کشتیاں اللہ کے فضل سے چل رہی ہیں اس لئے کہ وه تمہیں اپنی نشانیاں دکھاوے[1] ، یقیناً اس میں ہر ایک صبر وشکر کرنے والے[2] کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں.
حواشی
[1] یعنی سمندر میں کشتیوں کا چلنا، یہ بھی اس کے لطف وکرم کا ایک مظہر اور اس کی قدرت تسخیر کا ایک نمونہ ہے۔ اس نے ہوا اور پانی دونوں کو ایسے مناسب انداز سے رکھا کہ سمندر کی سطح پر کشتیاں چل سکیں، ورنہ وہ چاہے تو ہوا کی تندی اور موجوں کی طغیانی سے کشتیوں کا چلنا ناممکن ہو جائے۔ [2] تکلیفوں میں صبر کرنے والے، راحت اور خوشی میں اللہ کا شکر کرنے والے۔
آیت کے اختیارات
- 32
وَإِذَا غَشِيَهُم مَّوْجٌ كَٱلظُّلَلِ دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ فَلَمَّا نَجَّىٰهُمْ إِلَى ٱلْبَرِّ فَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمَا يَجْحَدُ بِـَٔايَـٰتِنَآ إِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُورٍ
اور جب ان پر موجیں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو وه (نہایت) خلوص کے ساتھ اعتقاد کر کے اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں[1] ۔ پھر جب وه (باری تعالیٰ) انہیں نجات دے کر خشکی کی طرف پہنچاتا ہے تو کچھ ان میں سے اعتدال پر رہتے ہیں[2]، اور ہماری آیتوں کا انکار صرف وہی کرتے ہیں جو بدعہد اور ناشکرے ہوں.[3]
حواشی
[1] یعنی جب ان کی کشتیاں ایسی طوفانی موجوں میں گھر جاتی ہیں جو بادلوں اور پہاڑوں کی طرح ہوتی ہیں اور موت کا آہنی پنجہ انہیں اپنی گرفت میں لیتا نظر آتا ہے تو پھر سارے زمینی معبود ان کے ذہنوں سے نکل جاتے ہیں اور صرف ایک آسمانی الہٰ کو پکارتے ہیں جو واقعی اور حقیقی معبود ہے۔ [2] بعض نے مُقْتَصِدٌ کے معنی بیان کیے ہیں عہد کو پورا کرنے والا، یعنی بعض ایمان، توحید اور اطاعت کے اس عہد پر قائم رہتے ہیں جو موج گرداب میں انہوں نے کیا تھا۔ ان کے نزدیک کلام میں حذف ہے، تقدیر کلام یوں ہوگا، فَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ كَاَفِرٌ پس بعض ان میں سے مومن اور بعض کافر ہوتے ہیں (فتح القدیر) دوسرے مفسرین کے نزدیک اس کے معنی ہیں اعتدال پر رہنے والا یہ باب انکار سے ہوگا۔ یعنی اتنی ہولناک حالات اور پھر وہاں رب کی اتنی عظیم آیات کا مشاہدہ کرنے اور اللہ کے اس احسان کے باوجود کہ اس نے وہاں سے نجات دی، انسان اب بھی اللہ کی مکمل عبادت واطاعت نہیں کرتا؟ اور متوسط راستہ اختیار کرتا ہے، جب کہ وہ حالات، جن سے گزر کر آیا ہے، مکمل بندگی کا تقاضا کرتے ہیں، نہ کہ اعتدال کا۔(ابن کثیر) مگر پہلا مفہوم سیاق کے زیادہ قریب ہے۔ [3] خَتَّارٍ غدار کے معنی میں ہے۔ بدعہدی کرنے والا، کفور ناشکری کرنے والا۔
آیت کے اختیارات
- 33
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُوا۟ رَبَّكُمْ وَٱخْشَوْا۟ يَوْمًا لَّا يَجْزِى وَالِدٌ عَن وَلَدِهِۦ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِۦ شَيْـًٔا ۚ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّ ۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِٱللَّهِ ٱلْغَرُورُ
لوگو! اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنے بیٹے کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا اور نہ بیٹا اپنے باپ کا ذرا سا بھی نفع کرنے واﻻ ہوگا[1] (یاد رکھو) اللہ کا وعده سچا ہے (دیکھو) تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکے باز (شیطان) تمہیں دھوکے میں ڈال دے.
حواشی
[1] جَازٍ اسم فاعل ہے جَزَى يَجْزِي سے، بدلہ دینا، مطلب یہ ہے کہ اگر باپ چاہے کہ بیٹے کو بچانے کے لئے اپنی جان کا بدلہ، یا بیٹا باپ کے لئے اپنی جان بطور معاوضہ پیش کر دے، تو وہاں یہ ممکن نہیں ہوگا۔ ہر شخص کو اپنے کیے کی سزا بھگتنی ہوگی۔ جب باپ بیٹا ایک دوسرے کے کام نہ آسکیں گے تو دیگر رشتے داروں کی کیا حیثیت ہوگی؟ اور وہ کیوں کر ایک دوسرے کو نفع پہنچا سکیں گے؟
آیت کے اختیارات
- 34
إِنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥ عِلْمُ ٱلسَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ ٱلْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى ٱلْأَرْحَامِ ۖ وَمَا تَدْرِى نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِى نَفْسٌۢ بِأَىِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌۢ
بے شک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے۔ کوئی (بھی) نہیں جانتا کہ کل کیا (کچھ) کرے گا؟ نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا[1] ۔ (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ ہی پورے علم واﻻ اور صحیح خبروں واﻻ ہے.
حواشی
[1] حدیث میں بھی آتا ہے کہ ”پانچ چیزیں مفاتیح الغیب ہیں، جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا“۔ (صحيح بخاري، تفسير سورة لقمان وكتاب الاستسقاء باب لا يدري متى يجيء المطر إلا لله) 1 قرب قیامت کی علامت تو نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بیان فرمائی ہے لیکن قیامت کے وقوع کا یقینی علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں، کسی فرشتے کو، نہ کسی نبی مرسل کو۔ 2 بارش کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ آثار وعلائم سے تخمینہ تو لگایا جاتا اور لگایا جا سکتا ہے لیکن یہ بات ہر شخص کے تجربہ ومشاہدے کا حصہ ہے کہ یہ تخمینے کبھی صحیح نکلتے ہیں اور کبھی غلط۔ حتیٰ کہ محکمہ موسمیات کے اعلانات بھی بعض دفعہ صحیح ثابت نہیں ہوتے۔ جس سے صاف واضح ہے کہ بارش کا بھی یقینی علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ 3 رحم مادر میں مشینی ذرائع سے جنسیت کا ناقص اندازہ تو شاید ممکن ہے کہ بچہ ہے یابچی؟ لیکن ماں کے پیٹ، میں نشوونما پانے والا یہ بچہ نیک بخت ہے یا بدبخت ناقص ہوگا یا کامل۔ خوب رو ہوگا کہ بدشکل، کالا ہوگا یا گورا، وغیرہ باتوں کا علم اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں۔ 4 انسان کل کیا کرے گا؟ وہ دین کا معاملہ ہو یا دنیا کا؟ کسی کو آنے والے کل کے بارے میں علم نہیں ہے کہ وہ اس کی زندگی میں آئے گا بھی یا نہیں؟ اور اگر آئے گا تووہ اس کیا کچھ کرے گا؟ 5 موت کہاں آئے گی؟ گھر میں یا گھر سے باہر، اپنے وطن میں یا دیار غیر میں، جوانی میں آئے گی یا بڑھاپے میں، اپنی آرزوؤں اور خواہشات کی تکمیل کے بعد آئے گی یا اس سے پہلے؟ کسی کومعلوم نہیں۔
آیت کے اختیارات
السجدة
سجدہ
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ سجدہ
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
الٓمٓ
الم.
آیت کے اختیارات
- 2
تَنزِيلُ ٱلْكِتَـٰبِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ
بلاشبہ اس کتاب کا اتارنا تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے.[1]
حواشی
[1] مطلب یہ ہے کہ یہ جھوٹ، جادو، کہانت اور من گھڑت قصے کہانیوں کی کتاب نہیں ہے بلکہ رب العالمین کی طرف سے صحیفہ ہدایت ہے۔
آیت کے اختیارات
- 3
أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَرَىٰهُ ۚ بَلْ هُوَ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّآ أَتَىٰهُم مِّن نَّذِيرٍ مِّن قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے[1] ۔ (نہیں نہیں) بلکہ یہ تیرے رب تعالیٰ کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ انہیں ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے واﻻ نہیں آیا[2]۔ تاکہ وه راه راست پر آجائیں.
حواشی
[1] یہ بطور توبیخ ہے کہ کیا رب العالمین کے نازل کردہ اس کلام بلاغت نظام کی بابت یہ کہتے ہیں کہ اسے خود (محمد صلى الله عليه وسلم نے) گھڑ لیا ہے؟ [2] یہ نزول قرآن کی علت ہے۔ اس سے بھی معلوم ہوا (جیسا کہ پہلے بھی وضاحت گزر چکی ہے) کہ عربوں میں نبی (صلى الله عليه وسلم) پہلے نبی تھے۔ بعض لوگوں نے حضرت شعیب (عليه السلام) کو بھی عربوں میں مبعوث نبی قرار دیا ہے۔ واللہ اعلم۔ اس اعتبار سے قوم سے مراد پھر خاص قریش ہوں گے جن کی طرف کوئی نبی آپ (صلى الله عليه وسلم) سے پہلے نہیں آیا۔
آیت کے اختیارات
- 4
ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِى سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ ۖ مَا لَكُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَلِىٍّ وَلَا شَفِيعٍ ۚ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ
اللہ تعالیٰ وه ہے جس نے آسمان وزمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو چھ دن میں پیدا کر دیا پھر عرش پر قائم ہوا[1] ، تمہارے لئے اس کے سوا کوئی مددگار اور سفارشی نہیں[2]۔ کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے.[3]
حواشی
[1] اس کے لئے دیکھئے سورۂ اعراف 54 کا حاشیہ۔ یہاں اس مضمون کو دہرانے سے مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت اور عجائب صنعت کے ذکر سے شاید وہ قرآن کو سنیں اور اس پر غور کریں۔ [2] یعنی وہاں کوئی ایسا دوست نہیں ہوگا، جو تمہاری مدد کر سکے اور تم سے اللہ کے عذاب کو ٹال دے، نہ وہاں کوئی سفارشی ہی ایسا ہوگا جو تمہاری سفارش کر سکے۔ [3] یعنی اے غیر اللہ کے پجاریو اور دوسروں پر بھروسہ کرنے والو! کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟
آیت کے اختیارات
- 5
يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ إِلَى ٱلْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِى يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُۥٓ أَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ
وه آسمان سے لے کر زمین تک (ہر) کام کی تدبیر کرتا ہے[1] ۔ پھر (وه کام) ایک ایسے دن میں اس کی طرف چڑھ جاتا ہے جس کا اندازه تمہاری گنتی کے ایک ہزار سال کے برابر ہے.[2]
حواشی
[1] آسمان سے، جہاں اللہ کا عرش اور لوح محفوظ ہے، اللہ تعالیٰ زمین پر احکام نازل فرماتا یعنی تدبیر کرتا اور زمین پر ان کا نفاذ ہوتا ہے۔ جیسے موت اور زندگی، صحت اور مرض، عطا اور منع، غنا اور فقر، جنگ اور صلح، عزت اور ذلت، وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر سے اپنی تقدیر کے مطابق یہ تدبیریں اور تصرفات کرتا ہے۔ [2] یعنی پھر اس کی یہ تدبیر یا امر اس کی طرف واپس لوٹتا ہے ایک ہی دن میں، جسےفرشتے لے کر جاتے ہیں اور صعود (چڑھنے) کا یا آنےجانے کا فاصلہ اتنا ہے کہ غیر فرشتہ ہزار سال میں طے کرے۔ یا اس سے قیامت کا دن مراد ہے کہ اس دن انسانوں کے سارے اعمال اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے۔ اس (یوم) کی تعیین وتفسیر میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہے۔ امام شوکانی نے 16،15 اقوال اس ضمن میں ذکر کیے ہیں اس لئے حضرت ابن عباس نے اس کے بارے میں توقف کو پسند فرمایا اور اس کی حقیقت کو اللہ کے سپرد کر دیا ہے۔ صاحب ایسر التفاسیر کہتے ہیں کہ قرآن میں یہ تین مقامات پر آیا ہے اور تینوں جگہ الگ الگ دن مراد ہے۔ سورۂ حج (آیت۔ 47) میں ”یوم“ کا لفظ عبارت ہے اس زمانہ اور مدت سے جو اللہ کے ہاں ہے اور سورۂ معارج میں، جہاں یوم کی مقدار پچاس ہزار سال بتلائی گئی ہے، یوم حساب مراد ہے اور اس مقام (زیر بحث) میں یوم سے مراد دنیا کا آخری دن ہے، جب دنیا کے تمام معاملات فنا ہو کر اللہ کی طرف لوٹ جائیں گے۔
آیت کے اختیارات
- 6
ذَٰلِكَ عَـٰلِمُ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَـٰدَةِ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
یہی ہے چھپے کھلے کا جاننے واﻻ، زبردست غالب بہت ہی مہربان.
آیت کے اختیارات
- 7
ٱلَّذِىٓ أَحْسَنَ كُلَّ شَىْءٍ خَلَقَهُۥ ۖ وَبَدَأَ خَلْقَ ٱلْإِنسَـٰنِ مِن طِينٍ
جس نے نہایت خوب بنائی جو چیز بھی بنائی[1] اور انسان کی بناوٹ مٹی سے شروع کی.[2]
حواشی
[1] یعنی جو چیز بھی اللہ نے بنائی ہے، وہ چوں کہ اس کی حکمت ومصلحت کا اقتضا ہے، اس لئے اس میں اپنا ایک حسن اور انفرادیت ہے۔ یوں اس کی بنائی ہوئی ہر چیز حسین ہے اور بعض نے أَحْسَنَ کے معنی أَتْقَنَ وَأَحْكَمَ کے کیے ہیں، یعنی ہر چیز مضبوط اور پختہ بنائی۔ بعض نے اسے الھم کے مفہوم میں لیا ہے، یعنی ہر مخلوق کو ان چیزوں کا الہام کر دیا جس کی وہ محتاج ہے۔ [2] یعنی انسان اول (آدم عليه السلام) کو مٹی سے بنایا، جن سے انسانوں کا آغاز ہوا۔ اور اس کی زوجہ حضرت حوا کو آدم (عليه السلام) کی بائیں پسلی سے پیدا کر دیا جیسا کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 8
ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُۥ مِن سُلَـٰلَةٍ مِّن مَّآءٍ مَّهِينٍ
پھر اس کی نسل ایک بے وقعت پانی کے نچوڑ سے چلائی.[1]
حواشی
[1] یعنی منی کے قطرے سے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک انسانی جوڑا بنانے کے بعد، اس کی نسل کے لئے ہم نے یہ طریقہ مقرر کر دیا کہ مرد اور عورت آپس میں نکاح کریں، ان کے جنسی ملاپ سے جو قطرۂ آب، عورت کے رحم میں جائے گا، اس سے ہم ایک انسانی پیکر تراش کر باہر بھیجتے رہیں گے۔
آیت کے اختیارات
- 9
ثُمَّ سَوَّىٰهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِن رُّوحِهِۦ ۖ وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَـٰرَ وَٱلْأَفْـِٔدَةَ ۚ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ
جسے ٹھیک ٹھاک کر کے اس میں اپنی روح پھونکی[1] ، اسی نے تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے[2] (اس پر بھی) تم بہت ہی تھوڑا احسان مانتے ہو.[3]
حواشی
[1] یعنی اس بچے کی، ماں کے پیٹ میں نشوونما کرتے، اس کے اعضا بناتے، سنوارتے ہیں اور پھر اس میں روح پھونکتے ہیں۔ [2] یعنی یہ ساری چیزیں پیدا کیں تاکہ وہ اپنی تخلیق کی تکمیل کر دے، پس تم ہر سننے والی بات کو سن سکو، دیکھنے والی چیز کو دیکھ سکو اور ہر عقل وفہم میں آنے والی بات کو سمجھ سکو۔ [3] یعنی اتنے احسانات کے باوجود انسان اتنا ناشکرا ہے کہ وہ اللہ کا شکر بہت ہی کم ادا کرتا ہے یا شکر کرنے والے آدمی بہت تھوڑے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 10
وَقَالُوٓا۟ أَءِذَا ضَلَلْنَا فِى ٱلْأَرْضِ أَءِنَّا لَفِى خَلْقٍ جَدِيدٍۭ ۚ بَلْ هُم بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ كَـٰفِرُونَ
انہوں نے کہا کیا جب ہم زمین میں مل جائیں[1] گے کیا پھر نئی پیدائش میں آجائیں گے؟ بلکہ (بات یہ ہے) کہ وه لوگ اپنے پروردگار کی ملاقات کے منکر ہیں.
حواشی
[1] جب کسی چیز پر کوئی دوسری چیز غالب آجائے اور پہلی کے تمام اثرات مٹ جائیں تو اس کی ضلالت (گم ہو جانے) سے تعبیر کرتے ہیں ضَلَلْنَا فِي الأَرْضِ کے معنی ہوں گے کہ جب مٹی میں مل کر ہمارا وجود زمین میں غائب ہو جائے گا۔
آیت کے اختیارات
- 11
۞ قُلْ يَتَوَفَّىٰكُم مَّلَكُ ٱلْمَوْتِ ٱلَّذِى وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ
کہہ دیجئے! کہ تمہیں موت کا فرشتہ فوت کرے گا جو تم پر مقرر کیا گیا ہے[1] . پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے.
حواشی
[1] یعنی اس کی ڈیوٹی ہی یہ ہے کہ جب تمہاری موت کا وقت آجائے تو وہ آکر روح قبض کر لے۔
آیت کے اختیارات
- 12
وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلْمُجْرِمُونَ نَاكِسُوا۟ رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَٱرْجِعْنَا نَعْمَلْ صَـٰلِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ
کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں[1] گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب[2] تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں.[3]
حواشی
[1] یعنی اپنےکفر وشرک اور معصیت کی وجہ سے مارے ندامت کے۔ [2] یعنی جس کی تکذیب کرتے تھے، اسے دیکھ لیا، جس کا انکار کرتے تھے، اسے سن لیا۔ یا تیری وعیدوں کی سچائی کو دیکھ لیا اور پیغمبروں کی تصدیق کو سن لیا لیکن اس وقت کا دیکھنا، سننا ان کے کچھ کام نہیں آئے گا۔ [3] لیکن اب یقین کیا تو کس کام کا؟ اب تو اللہ کا عذاب ان پرثابت ہو چکا جسے بھگتنا ہوگا۔
آیت کے اختیارات
- 13
وَلَوْ شِئْنَا لَـَٔاتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدَىٰهَا وَلَـٰكِنْ حَقَّ ٱلْقَوْلُ مِنِّى لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ أَجْمَعِينَ
اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت نصیب[1] فرما دیتے، لیکن میری یہ بات بالکل حق ہو چکی ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو انسانوں اور جنوں سے پر کردوں گا.[2]
حواشی
[1] یعنی دنیا میں، لیکن یہ ہدایت جبری ہوتی، جس میں امتحان کی گنجائش نہ ہوتی۔ [2] یعنی انسانوں کی دو قسموں میں سے جو جہنم میں جانے والے ہیں، ان سے جہنم کو بھرنے والی میری بات سچ ثابت ہوگئی۔
آیت کے اختیارات
- 14
فَذُوقُوا۟ بِمَا نَسِيتُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هَـٰذَآ إِنَّا نَسِينَـٰكُمْ ۖ وَذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْخُلْدِ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
اب تم اپنے اس دن کی ملاقات کے فراموش کر دینے کا مزه چکھو، ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا[1] اور اپنے کیے ہوئے اعمال (کی شامت) سے ابدی عذاب کا مزه چکھو.
حواشی
[1] یعنی جس طرح تم ہمیں دینا میں بھلائے رہے، آج ہم بھی تم سے ایسا ہی معاملہ کریں گے ورنہ ظاہر بات ہے کہ اللہ تو بھولنے والا نہیں ہے۔
آیت کے اختیارات
- 15
إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِـَٔايَـٰتِنَا ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا۟ بِهَا خَرُّوا۟ سُجَّدًا وَسَبَّحُوا۟ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ ۩
ہماری آیتوں پر وہی ایمان ﻻتے ہیں[1] جنہیں جب کبھی ان سے نصیحت کی جاتی ہے تو وه سجدے میں گر پڑتے ہیں[2] اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح پڑھتے ہیں[3] اور تکبر نہیں کرتے ہیں.[4]
حواشی
[1] یعنی تصدیق کرتے اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ [2] یعنی اللہ کی آیات کی تعظیم اور اس کی سطوت وعذاب سے ڈرتے ہوئے۔ [3] یعنی رب کو ان چیزوں سے پاک قرار دیتے ہیں جو اس کی شان کے لائق نہیں ہیں اور اس کے ساتھ اس کی نعمتوں پر اس کی حمد کرتے ہیں جن میں سب سے بڑی اور کامل نعمت ایمان کی ہدایت ہے۔ یعنی وہ اپنے سجدوں میں ”سَبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ“ یا ”سُبْحَانَ رَبِّي الأَعْلَى وَبِحَمْدِهِ“ وغیر کلمات پڑھتے ہیں۔ [4] یعنی اطاعت وانقیاد کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ جاہلوں اور کافروں کی طرح تکبر نہیں کرتے۔ اس لئے کہ اللہ کی عبادت سے تکبر کرنا، جہنم میں جانے کا سبب ہے۔«إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ» (سورة المؤمن: 60) اس لئے اہل ایمان کا معالہ ان کے برعکس ہوتا ہے، وہ اللہ کے سامنے ہر وقت عاجزی، ذلت ومسکینی اور خشوع وخضوع کا اظہار کرتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 16
تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ ٱلْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَـٰهُمْ يُنفِقُونَ
ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں[1] اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں[2] اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وه خرچ کرتے ہیں.[3]
حواشی
[1] یعنی راتوں کو اٹھ کر نوافل (تہجد) پڑھتے توبہ واستغفار، تسبیح وتحمید اور دعا الحاح وزاری کرتے ہیں۔ [2] یعنی اس کی رحمت اور فضل وکرم کی امید بھی رکھتے ہیں اور اس کے عتاب وغضب اور مؤاخذہ وعذاب سے ڈرتے بھی ہیں۔ محض امید ہی امید نہیں رکھتے کہ عمل سے بے پرواہ ہو جائیں۔ (جیسے بے عمل اور بد عمل لوگوں کا شیوہ ہے اور نہ عذاب کا اتنا خوف طاری کر لیتے ہیں کہ اللہ کی رحمت سے ہی مایوس ہو جائیں کہ یہ مایوسی بھی کفر وضلالت ہے۔ [3] انفاق میں صدقات واجبہ (زکٰوۃ) اور عام صدقہ وخیرات دونوں شامل ہیں۔ اہل ایمان دونوں کا حسب استطاعت اہتمام کرتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 17
فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ أُخْفِىَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیده کر رکھی ہے[1] ، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے.[2]
حواشی
[1] نَفْسٌ، نکرہ ہے جو عموم کا فائدہ دیتا ہے یعنی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ان نعمتوں کو جو اس نے مذکورہ اہل ایمان کے لئے چھپا کر رکھی ہیں جن سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں گی۔ اس کی تفسیر میں نبی (صلى الله عليه وسلم) نے یہ حدیث قدسی بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیں سنا، نہ کسی انسان کے وہم وگمان میں ان کا گزر ہوا“۔ (صحیح بخاری، تفسیر سورۃ السجدۃ)۔ [2] اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی رحمت کا مستحق بننے کے لئے اعمال صالحہ کا اہتمام ضروری ہے۔
آیت کے اختیارات
- 18
أَفَمَن كَانَ مُؤْمِنًا كَمَن كَانَ فَاسِقًا ۚ لَّا يَسْتَوُۥنَ
کیا وه جو مومن ہو مثل اس کے ہے جو فاسق ہو[1] ؟ یہ برابر نہیں ہو سکتے.
حواشی
[1] یہ استفہام انکاری ہے یعنی اللہ کے ہاں مومن اور کافر برابر نہیں ہیں بلکہ ان کے درمیان بڑا فرق وتفاوت ہوگا مومن اللہ کے مہمان ہوں گے اور اعزاز وکرام کے مستحق اور فاسق وکافر تعزیر وعقوبت کی بیڑیوں میں جکڑے ہوئے جہنم کی آگ میں جھلسیں گے۔ اس مضمون کو دوسرے مقامات پر بھی بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۂ جاثیہ:21، سورۂ ص:28، سورۂ حشر:20، وغیرھا۔
آیت کے اختیارات
- 19
أَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ فَلَهُمْ جَنَّـٰتُ ٱلْمَأْوَىٰ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور نیک اعمال بھی کیے ان کے لئے ہمیشگی والی جنتیں ہیں، مہمانداری ہے ان کے اعمال کے بدلے جو وه کرتے تھے.
آیت کے اختیارات
- 20
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ فَسَقُوا۟ فَمَأْوَىٰهُمُ ٱلنَّارُ ۖ كُلَّمَآ أَرَادُوٓا۟ أَن يَخْرُجُوا۟ مِنْهَآ أُعِيدُوا۟ فِيهَا وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلنَّارِ ٱلَّذِى كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ
لیکن جن لوگوں نے حکم عدولی کی ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ جب کبھی اس سے باہر نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے[1] ۔ اور کہہ دیا جائے گا کہ[2] اپنے جھٹلانے کے بدلے آگ کا عذاب چکھو.
حواشی
[1] یعنی جہنم کے عذاب کی شدت اور ہولناکی سے گھبرا کر باہر نکلنا چاہیں گے تو فرشتے انہیں پھر جہنم کی گہرائیوں میں دھکیل دیں گے۔ [2] یہ فرشتے کہیں گے یااللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا آئے گی، بہرحال اس میں مکذبین کی ذلت ورسوائی کا جو سامان ہے، وہ مخفی نہیں۔
آیت کے اختیارات
- 21
وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ ٱلْعَذَابِ ٱلْأَدْنَىٰ دُونَ ٱلْعَذَابِ ٱلْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
بالیقین ہم انہیں قریب کے چھوٹے سے بعض عذاب[1] اس بڑے عذاب کے سوا چکھائیں گے تاکہ وه لوٹ آئیں.[2]
حواشی
[1] عذاب ادنیٰ (چھوٹے سے یا قریب کے بعض عذاب) سے دنیا کا عذاب یا دنیا کی مصیبتیں اور بیماریاں وغیرہ مراد ہیں۔ بعض کےنزدیک وہ قتل اس سے مراد ہے، جس سے جنگ بدر میں کافر دوچار ہوئے یا وہ قحط سالی ہے جو اہل مکہ پر مسلط کی گئی تھی۔ امام شوکانی فرماتے ہیں، تمام صورتیں ہی اس میں شامل ہو سکتی ہیں۔ [2] یہ آخرت کے بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب بھیجنے کی علت ہے کہ شاید وہ کفر وشرک اور معصیت سے باز آجائیں۔
آیت کے اختیارات
- 22
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِـَٔايَـٰتِ رَبِّهِۦ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهَآ ۚ إِنَّا مِنَ ٱلْمُجْرِمِينَ مُنتَقِمُونَ
اس سے بڑھ کر ﻇالم کون ہے جسے اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے وعﻆ کیا گیا پھر[1] بھی اس نے ان سے منھ پھیر لیا، (یقین مانو) کہ ہم بھی گناه گاروں سے انتقام لینے والے ہیں.
حواشی
[1] یعنی اللہ کی آیتیں سن کر جو ایمان واطاعت کی موجب ہیں، جو شخص ان سے اعراض کرتا ہے، اس سے بڑا ظالم کون ہے؟ یعنی یہی سب سے بڑا ظالم ہے۔
آیت کے اختیارات
- 23
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَـٰبَ فَلَا تَكُن فِى مِرْيَةٍ مِّن لِّقَآئِهِۦ ۖ وَجَعَلْنَـٰهُ هُدًى لِّبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ
بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، پس آپ کو ہرگز اس کی ملاقات میں شک[1] نہ کرنا چاہئے اور ہم نے اسے[2] بنی اسرائیل کی ہدایت کا ذریعہ بنایا.
حواشی
[1] کہا جاتا ہے کہ یہ اشارہ ہے اس ملاقات کی طرف جو معراج کی رات نبی (صلى الله عليه وسلم) اور حضرت موسیٰ (عليه السلام) کے درمیان ہوئی، جس میں حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے نمازوں میں تخفیف کرانے کا مشورہ دیا تھا۔ [2] (اسے) سے مراد کتاب (تورات) ہے یا خود حضرت موسیٰ (عليه السلام) ۔
آیت کے اختیارات
- 24
وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا۟ ۖ وَكَانُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا يُوقِنُونَ
اور جب ان لوگوں نے صبر کیا تو ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے تھے، اور وه ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے.[1]
حواشی
[1] اس آیت سے صبر کی فضیلت واضح ہے۔ صبر کا مطلب ہے اللہ کے اوامر کے بجا لانے اور ترک زواجر میں اور اللہ کے رسولوں کی تصدیق اور ان کے اتباع میں جو تکلیفیں آئیں، انہیں خندہ پیشانی سے جھیلنا۔ اللہ نے فرمایا، ان کے صبر کرنے اور آیات الٰہی پر یقین رکھنے کی وجہ سے ہم نے ان کو دینی امامت اور پیشوائی کے منصب پر فائز کیا۔ لیکن جب انہوں نے اس کے برعکس تبدیل وتحریف کا ارتکاب شروع کر دیا، تو ان سے یہ مقام سلب کر لیا گیا۔ چنانچہ اس کے بعد ان کے دل سخت ہوگئے، پھر ان کا عمل صالح رہا اور نہ ان کا اعتقاد صحیح۔
آیت کے اختیارات
- 25
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ فِيمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
آپ کا رب ان (سب) کے درمیان ان (تمام) باتوں کا فیصلہ قیامت کے دن کرے گا جن میں وه اختلاف کر رہے ہیں.[1]
حواشی
[1] اس سے وہ اختلاف مراد ہے جو اہل کتاب میں باہم برپا تھا، ضمناً وہ اختلافات بھی آجاتے ہیں۔ جو اہل ایمان اور اہل کفر، اہل حق اور اہل باطل اور اہل توحید اور اہل شرک کے درمیان دنیا میں رہے اور ہیں چونکہ دنیا میں تو ہر گروہ اپنے دلائل پر مطمئن اور اپنی دگر پر قائم رہتا ہے۔ اس لئے ان اختلافات کا فیصلہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا، جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل حق کو جنت میں اور اہل کفر وباطل کو جہنم میں داخل فرمائے گا۔
آیت کے اختیارات
- 26
أَوَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّنَ ٱلْقُرُونِ يَمْشُونَ فِى مَسَـٰكِنِهِمْ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍ ۖ أَفَلَا يَسْمَعُونَ
کیا اس بات نے بھی انہیں ہدایت نہیں دی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کر دیا جن کے مکانوں میں یہ چل پھر رہے ہیں[1] ۔ اس میں تو (بڑی) بڑی نشانیاں ہیں۔ کیا پھر بھی یہ نہیں سنتے؟
حواشی
[1] یعنی پچھلی امتیں، جو تکذیب اور عدم ایمان کی وجہ سے ہلاک ہوئیں، کیا یہ نہیں دیکھتے کہ آج ان کا وجود دنیا میں نہیں ہے، البتہ ان کے مکانات ہیں جن کے یہ وارث بنے ہوئے ہیں، مطلب اس سے اہل مکہ کو تنبیہ ہے کہ تمہارا حشر بھی یہی ہو سکتا ہے، اگر ایمان نہ لائے۔
آیت کے اختیارات
- 27
أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّا نَسُوقُ ٱلْمَآءَ إِلَى ٱلْأَرْضِ ٱلْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِۦ زَرْعًا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَـٰمُهُمْ وَأَنفُسُهُمْ ۖ أَفَلَا يُبْصِرُونَ
کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم پانی کو بنجر (غیر آباد) زمین کی طرف بہا کر لے جاتے ہیں پھر اس سے ہم کھیتیاں نکالتے ہیں جسے ان کے چوپائے اور یہ خود کھاتے ہیں[1] ، کیا پھر بھی یہ نہیں دیکھتے؟
حواشی
[1] پانی سے مراد آسمانی بارش اور چشموں نالوں اور وادیوں کا پانی ہے، جسے اللہ تعالیٰ ارض جرز (بنجر اور بے آباد) علاقوں کی طرف بہا کر لے جاتا ہے اور اس سے پیداوار ہوتی ہے جو انسان کھاتے ہیں اور جو بھوسی یا چارہ ہوتا ہے، وہ جانور کھا لیتے ہیں۔ اس سے مراد کوئی خاص زمین یا علاقہ مراد نہیں ہے بلکہ عام ہے۔ جو ہر بے آباد، بنجر اور چٹیل زمین کو شامل ہے۔
آیت کے اختیارات
- 28
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا ٱلْفَتْحُ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ
اور کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ کب ہوگا؟ اگر تم سچے ہو (تو بتلاؤ).[1]
حواشی
[1] اس فیصلے (فتح) سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ عذاب ہے جو کفار مکہ نبی (صلى الله عليه وسلم) سے طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اے محمد! (صلى الله عليه وسلم) تیرے اللہ کی مدد تیرے لئے کب آئے گی؟ جس سے تو ہمیں ڈراتا رہتا ہے۔ فی الحال تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ تجھ پر ایمان لانے والے چھپے پھرتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 29
قُلْ يَوْمَ ٱلْفَتْحِ لَا يَنفَعُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِيمَـٰنُهُمْ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ
جواب دے دو کہ فیصلے والے دن ایمان ﻻنا بے ایمانوں کو کچھ کام نہ آئے گا اور نہ انہیں ڈھیل دی جائے گی.[1]
حواشی
[1] اس یوم الفتح سے مراد آخرت کے فیصلے کا دن ہے، جہاں ایمان مقبول ہوگا اور نہ مہلت دی جائے گی۔ فتح مکہ کا دن مراد نہیں ہے کیونکہ اس دن تو طلقاء کا اسلام قبول کر لیا گیا تھا، جن کی تعداد تقریباً دو ہزار تھی۔ (ابن کثیر) طلقاء سے مراد، وہ اہل مکہ ہیں جن کو نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فتح مکہ والے دن، سزا وتعزیر کے بجائے معاف فرما دیا تھا اور یہ کہہ کر آزاد کر دیا تھا کہ آج تم سے تمہاری پچھلی ظالمانہ کاروائیوں کا بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ چنانچہ ان کی اکثریت مسلمان ہو گئی تھی۔
آیت کے اختیارات
- 30
فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَٱنتَظِرْ إِنَّهُم مُّنتَظِرُونَ
اب آپ ان کا خیال چھوڑ دیں[1] اور منتظر رہیں[2]۔ یہ بھی منتظر ہیں.[3]
حواشی
[1] یعنی ان مشرکین سے اعراض کر لیں اور تبلیغ ودعوت کا کام اپنے انداز سے جاری رکھیں، جو وحی آپ (صلى الله عليه وسلم) کی طرف نازل کی گئی ہے، اس کی پیروی کریں۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا «اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ لا إِلَهَ إِلا هُوَ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ» (سورة الأنعام: 106) ”آپ خود اس طریقت پر چلتے رہئے جس کی وحی آپ کے رب تعالیٰ کی طرف سے آپ کے پاس آئی ہے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور مشرکین کی طرف خیال نہ کیجئے“۔ [2] یعنی اللہ کے وعدے کا کہ کب وہ پورا ہوتا ہے اور تیرے مخالفوں پر تجھے غلبہ عطا فرماتا ہے؟ وہ یقیناً پورا ہو کر رہے گا۔ [3] یعنی یہ کافر منتظر ہیں کہ شاید یہ پیغمبر ہی گردشوں کا شکار ہو جائے اور اس کی دعوت ختم ہو جائے۔ لیکن دنیا نے دیکھ لیا کہ اللہ نے اپنے نبی کے ساتھ کیے ہوئے وعدوں کو پورا فرمایا اور آپ پر گردشوں کے منتظر مخالفوں کو ذلیل وخوار کیا یا ان کو آپ کا غلام بنا دیا۔
آیت کے اختیارات
الأحزاب
احزاب
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ اَحزاب
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ ٱتَّقِ ٱللَّهَ وَلَا تُطِعِ ٱلْكَـٰفِرِينَ وَٱلْمُنَـٰفِقِينَ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا
اے نبی! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا[1] اور کافروں اور منافقوں کی باتوں میں نہ آجانا، اللہ تعالیٰ بڑے علم واﻻ اور بڑی حکمت واﻻ ہے.[2]
حواشی
[1] آیت میں تقویٰ پر مداومت اور تبلیغ ودعوت سے استقامت کا حکم ہے۔ طلق بن حبیب کہتے ہیں، تقویٰ کا مطلب ہے کہ تو اللہ کی اطاعت اللہ کی دی ہوئی روشنی کے مطابق کرے اور اللہ سے ثواب کی امید رکھے اور اللہ کی معصیت اللہ کی دی ہوئی روشنی کے مطابق ترک کر دے، اللہ کےعذاب سے ڈرتے ہوئے۔ (ابن کثیر) [2] پس وہی اس بات کا حق دار ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اس لئے کہ عواقب کو وہی جانتا ہے اور اپنے اقوال وافعال میں وہ حکیم ہے۔
آیت کے اختیارات
- 2
وَٱتَّبِعْ مَا يُوحَىٰٓ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا
جو کچھ آپ کی جانب آپ کے رب کی طرف سے وحی کی جاتی ہے[1] اس کی تابعداری کریں (یقین مانو) کہ اللہ تمہارے ہر ایک عمل سے باخبر ہے.[2]
حواشی
[1] یعنی قرآن کی اور احادیث کی بھی، اس لئے کہ احادیث کے الفاظ گو نبی (صلى الله عليه وسلم) کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے ہیں لیکن ان کے معانی ومفاہیم من جانب اللہ ہی ہیں۔ اسی لئے ان کو وحی خفی یا وحی غیر متلو کہا جاتا ہے۔ [2] پس اس سے تمہاری کوئی بات مخفی نہیں رہ سکتی۔
آیت کے اختیارات
- 3
وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلًا
آپ اللہ ہی پر توکل رکھیں[1] ، وه کار سازی کے لئے کافی ہے.[2]
حواشی
[1] اپنے تمام معاملات اور احوال میں۔ [2] ان لوگوں کے لئے جو اس پر بھروسہ رکھتے، اور اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 4
مَّا جَعَلَ ٱللَّهُ لِرَجُلٍ مِّن قَلْبَيْنِ فِى جَوْفِهِۦ ۚ وَمَا جَعَلَ أَزْوَٰجَكُمُ ٱلَّـٰٓـِٔى تُظَـٰهِرُونَ مِنْهُنَّ أُمَّهَـٰتِكُمْ ۚ وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَآءَكُمْ أَبْنَآءَكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ قَوْلُكُم بِأَفْوَٰهِكُمْ ۖ وَٱللَّهُ يَقُولُ ٱلْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِى ٱلسَّبِيلَ
کسی آدمی کے سینے میں اللہ تعالیٰ نے دو دل نہیں رکھے[1] ، اور اپنی جن بیویوں کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو انہیں اللہ نے تمہاری (سچ مچ کی) مائیں نہیں[2] بنایا، اور نہ تمہارے لے پالک لڑکوں کو (واقعی) تمہارے بیٹے بنایا ہے[3]، یہ تو تمہارے اپنے منھ کی باتیں ہیں[4]، اللہ تعالیٰ حق بات فرماتا ہے[5] اور وه (سیدھی) راه سجھاتا ہے.
حواشی
[1] بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک منافق یہ دعویٰ کرتا تھا کہ اس کے دو دل ہیں۔ ایک دل مسلمانوں کے ساتھ ہے اور دوسرا دل کفر اور کافروں کے ساتھ ہے۔ (مسند احمد ا / 267) یہ آیت اس کی تردید میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ایک دل میں اللہ کی محبت اور اس کے دشمنوں کی اطاعت جمع ہو جائے۔ بعض کہتے ہیں کہ مشرکین مکہ میں سے ایک شخص جمیل بن معمر فہری تھا، جو بڑا ہشیار، مکار اور نہایت تیز طرار تھا، اس کا دعویٰ تھا کہ میرے تو دو دل ہیں جن سے میں سوچتا سمجھتا ہوں۔ جب کہ محمد (صلى الله عليه وسلم) کا ایک ہی دل ہے۔ یہ آیت اس کے رد میں نازل ہوئی۔ (ایسر التفاسیر) بعض مفسرین کہتے ہیں کہ آگے جو دو مسئلے بیان کیے جا رہے ہیں، یہ ان کی تمہید ہے یعنی جس طرح ایک شخص کے دو دل نہیں ہو سکتے، اسی طرح اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے ظہار کر لے یعنی یہ کہہ دے کہ تیری پشت میرے لئے ایسے ہی ہے جیسے میری ماں کی پشت۔ تو اس طرح کہنے سے اس کی بیوی، اس کی ماں نہیں بن جائے گی۔ یوں اس کی دو مائیں نہیں ہو سکتیں۔ اسی طرح کوئی شخص کسی کو اپنا بیٹا (لے پالک) بنالے تو وہ اس کا حقیقی بیٹا نہیں بن جائے گا، بلکہ وہ بیٹا تو اپنے باپ ہی کا رہے گا، اس کے دو باپ نہیں ہو سکتے۔ (ابن کثیر)۔ [2] یہ مسئلۂ ظہار کہلاتا ہے، اس کی تفصیل سورۂ مجادلہ میں آئے گی۔ [3] اس کی تفصیل اسی سورت میں آگے چل کر آئے گی۔ أَدْعِياءُ، دَعِيٌّ کی جمع ہے۔ منہ بولا بیٹا۔ [4] یعنی کسی کو ماں کہہ دینے سے وہ ماں نہیں بن جائے گی، نہ بیٹا کہنے سے وہ بیٹا بن جائے گا، یعنی ان پر امومت اور بنوت کے شرعی احکام جاری نہیں ہوں گے۔ [5] اس لئے اس کا اتباع کرو اور ظہار والی عورت کو ماں اور لے پالک کو بیٹا مت کہو، خیال رہے کہہ کسی کو پیار اور محبت میں بیٹا کہنا اور بات ہے اور لے پالک کو حقیقی بیٹا تصور کرکے بیٹا کہنا اور بات ہے۔ پہلی بات جائز ہے، یہاں مقصود دوسری بات کی ممانعت ہے۔
آیت کے اختیارات
- 5
ٱدْعُوهُمْ لِـَٔابَآئِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ ٱللَّهِ ۚ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوٓا۟ ءَابَآءَهُمْ فَإِخْوَٰنُكُمْ فِى ٱلدِّينِ وَمَوَٰلِيكُمْ ۚ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَآ أَخْطَأْتُم بِهِۦ وَلَـٰكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا
لے پالکوں کو ان کے (حقیقی) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی[1] ہے۔ پھر اگر تمہیں ان کے (حقیقی) باپوں کا علم ہی نہ ہو تو وه تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں[2]، تم سے بھول چوک میں جو کچھ ہو جائے اس میں تم پر کوئی گناه نہیں[3]، البتہ گناه وه ہے جس کا تم اراده دل سے کرو[4]۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے واﻻ مہربان ہے.
حواشی
[1] اس حکم سے اس رواج کی ممانعت کر دی گئی جو زمانۂ جاہلیت سے چلا آرہا تھا اور ابتدائے اسلام میں بھی رائج تھا کہ لے پالک بیٹوں کو حقیقی بیٹا سمجھا جاتا تھا۔ صحابہ کرام (رضي الله عنهم) بیان فرماتے ہیں کہ ہم زید بن حارثہ ! کو (جنہیں رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) ) نے آزاد کرکے بیٹا بنا لیا تھا) زید بن محمد ( (صلى الله عليه وسلم) ) کہہ کر پکارﺗے تھے، حتیٰ کہ قرآن کریم کی آیت ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ نازل ہوگئی۔ (صحیح بخاری، تفسیر سورۃ الاحزاب) اس آیت کے نزول کے بعد حضرت ابو حذیفہ ! کے گھر میں بھی ایک مسئلہ پیدا ہو گیا، جنہوں نے سالم کو بیٹا بنایا ہوا تھا جب منہ بولے بیٹوں کو حقیقی بیٹا سمجھنے سے روک دیا گیا تو اس سے پردہ کرنا ضروری ہوگیا نبی (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت ابو حذیفہ ! کی بیوی کو کہا کہ اسےدودھ پلا کر اپنا رضاعی بیٹا بنالو کیونکہ اس طرح تم اس پر حرام ہو جاؤ گی۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ (صحيح مسلم، كتاب الرضاع، باب رضاعة الكبير ، أبو داود، كتاب النكاح، باب فيمن حرم به)۔ [2] یعنی جن کے حقیقی باپوں کا علم ہے، اب دوسری نسبت ختم کرکے انہیں کی طرف انہیں منسوب کرو، البتہ جن کے باپوں کا علم نہ ہو سکے تو تم انہیں اپنا بھائی اور دوست سمجھو، بیٹا مت سمجھو۔ [3] اس لئے کہ خطا ونسیان معاف ہے، جیسا کہ حدیث میں بھی صراحت ہے۔ [4] یعنی جو جان بوجھ کر غلط انتساب کرے گا، وہ سخت گناہ گار ہوگا۔ حدیث میں آتاہے۔ جس نے جانتے بوجھتے اپنے کو غیر باپ کی طرف منسوب کیا۔ اس نے کفر کا ارتکاب کیا۔ (صحيح بخاري، كتاب المناقب ، باب ، نسبة اليمن إلى إسماعيل عليه السلام)
آیت کے اختیارات
- 6
ٱلنَّبِىُّ أَوْلَىٰ بِٱلْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ ۖ وَأَزْوَٰجُهُۥٓ أُمَّهَـٰتُهُمْ ۗ وَأُو۟لُوا۟ ٱلْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِى كِتَـٰبِ ٱللَّهِ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُهَـٰجِرِينَ إِلَّآ أَن تَفْعَلُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَوْلِيَآئِكُم مَّعْرُوفًا ۚ كَانَ ذَٰلِكَ فِى ٱلْكِتَـٰبِ مَسْطُورًا
پیغمبر مومنوں پر خود ان سے بھی زیاده حق رکھنے والے[1] ہیں اور پیغمبر کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں[2]، اور رشتے دار کتاب اللہ کی رو سے بہ نسبت دوسرے مومنوں اور مہاجروں کے آپس میں زیاده حق دار ہیں[3] (ہاں) مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہو[4]۔ یہ حکم کتاب (الٰہی) میں لکھا ہوا ہے.[5]
حواشی
[1] نبی (صلى الله عليه وسلم) اپنی امت کے لئے جتنے شفیق اور خیر خواہ تھے، محتاج وضاحت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کی اس شفقت اور خیر خواہی کو دیکھتے ہوئے اس آیت میں آپ (صلى الله عليه وسلم) کو مومنوں کے اپنے نفسوں سے بھی زیادہ حق دار، آپ (صلى الله عليه وسلم) کی محبت کو دیگر تمام محبتوں سے فائق تر اور آپ (صلى الله عليه وسلم) کے حکم کو اپنی تمام خواہشات سے اہم تر قرار دیا ہے۔ اس لئے مومنوں کے لئے ضروری ہے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) ان کے جن مالوں کا مطالبہ۔ اللہ کے لئے کریں، وہ آپ (صلى الله عليه وسلم) پر نچھاور کر دیں چاہے انہیں خود کتنی ہی ضرورت ہو، آپ (صلى الله عليه وسلم) سے اپنے نفسوں سے بھی زیادہ محبت کریں۔ (جیسے حضرت عمر ! کا واقعہ ہے) آپ (صلى الله عليه وسلم) کے حکم کو سب پر مقدم اور آپ (صلى الله عليه وسلم) کی اطاعت کو سب سے اہم سمجھیں۔ جب تک یہ خود سپردگی نہیں ہوگی «فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ» (النساء: 65) کے مطابق آدمی مومن نہیں ہوگا۔ اسی طرح جب تک آپ کی محبت تمام محبتوں پر غالب نہیں ہوگی «لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِه».. کی رو سے مومن نہیں، ٹھیک اسی طرح اطاعت رسول (صلى الله عليه وسلم) میں کوتاہی بھی «لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ ..» کا مصداق بنا دے گی۔ [2] یعنی احترام وتکریم میں اور ان سے نکاح نہ کرنے میں۔ مومن مردوں اور مومن عورتوں کی مائیں بھی ہیں۔ [3] یعنی اب مہاجرت، اخوت اور موالات کی وجہ سے وراثت نہیں ہوگی۔ اب وراثت صرف قریبی رشتہ کی بنیاد پر ہوگی۔ [4] ہاں تم غیر رشتے داروں کے لئے احسان اور بر وصلہ کا معاملہ کر سکتے ہو، نیز ان کے لئے ایک تہائی مال میں سے وصیت بھی کر سکتے ہو۔ [5] یعنی لوح محفوظ میں اصل حکم یہی ہے، گو عارضی طور پر مصلحتاً دوسروں کو بھی وارث قرار دے دیا گیا تھا، لیکن اللہ کے علم میں تھا کہ یہ منسوخ کر دیا جائے گا۔ چنانچہ اسے منسوخ کرکے پہلا حکم بحال کر دیا گیا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 7
وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ مِيثَـٰقَهُمْ وَمِنكَ وَمِن نُّوحٍ وَإِبْرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَى ٱبْنِ مَرْيَمَ ۖ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَـٰقًا غَلِيظًا
جب کہ ہم نے تمام نبیوں سے عہد لیا اور (بالخصوص) آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے، اور ہم نے ان سے (پکا اور) پختہ عہد لیا.[1]
حواشی
[1] اس عہد سے کیا مراد ہے؟ بعض کے نزدیک یہ وہ عہد ہے جو ایک دوسرے کی مدد اور تصدیق کا انبیا علیہم السلام سے لیا گیا تھا جیسا کہ سورۂ آل عمران کی آیت 81 میں ہے۔ بعض کے نزدیک یہ وہ عہد ہے، جس کا ذکر شوریٰ کی ایت 13 میں ہے کہ دین قائم کرنا اور اس میں تفرقہ مت ڈالنا۔ یہ عہد اگرچہ تمام انبیا علیہم السلام سے لیا گیا تھا لیکن یہاں بطور خاص پانچ انبیا علیہم السلام کا نام لیا گیا ہے جن سے ان کی اہمیت وعظمت واضح ہے اور ان میں بھی نبی (صلى الله عليه وسلم) کا ذکر سب سے پہلے ہے دراں حالیکہ نبوت کے لحاظ سے آپ (صلى الله عليه وسلم) سب سے متاخر ہیں، اس سے آپ (صلى الله عليه وسلم) کی عظمت اور شرف کا جس طرح اظہار ہو رہا ہے، محتاج وضاحت نہیں۔
آیت کے اختیارات
- 8
لِّيَسْـَٔلَ ٱلصَّـٰدِقِينَ عَن صِدْقِهِمْ ۚ وَأَعَدَّ لِلْكَـٰفِرِينَ عَذَابًا أَلِيمًا
تاکہ اللہ تعالیٰ سچوں سے ان کی سچائی کے بارے میں دریافت فرمائے[1] ، اور کافروں کے لئے ہم نے المناک عذاب تیار کر رکھے ہیں.
حواشی
[1] یہ لام كَيْ ہے۔ یعنی یہ عہد اس لئے لیا تاکہ اللہ سچے نبیوں سے پوچھے کہ انہوں نے اللہ کا پیغام اپنی قوموں تک ٹھیک طریقے سے پہنچا دیا تھا؟ یا دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ انبیا سے پوچھے کہ تمہاری قوموں نے تمہاری دعوت کا جواب کس طرح دیا؟ مثبت انداز میں یا منفی طریقے سے؟ جس طرح کہ دوسرے مقام پر ہے کہ ہم ان سے بھی پوچھیں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور رسولوں سے بھی پوچھیں گے۔ (الاعراف۔ 6) اس میں داعیان حق کے لئے بھی تنبیہ ہے کہ وہ دعوت حق کا فریضہ پوری تن دہی اور اخلاص سے ادا کریں تاکہ بارگاہ الٰہی میں سرخرو ہو سکیں، اور ان لوگوں کے لئے بھی وعید ہے جن کو حق کی دعوت پہنچائی جائے کہ اگر وہ اسے قبول نہیں کریں گے تو عنداللہ مجرم اور مستوجب سزا ہوں گے۔
آیت کے اختیارات
- 9
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُودٌ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَجُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے جو احسان تم پر کیا اسے یاد کرو جبکہ تمہارے مقابلے کو فوجوں پر فوجیں آئیں پھر ہم نے ان پر تیز وتند آندھی اور ایسے لشکر بھیجے جنہیں تم نے دیکھا ہی نہیں[1] ، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھتا ہے.
حواشی
[1] ان آیات میں غزوۂ احزاب کی کچھ تفصیل ہے جو 5 ہجری میں پیش آیا اسے احزاب اس لئے کہتے ہیں کہ اس موقعے پر تمام اسلام دشمن گروہ جمع ہو کر مسلمانوں کے مرکز مدینہ پر حملہ آور ہوئے تھے۔ احزاب حزب (گروہ) کی جمع ہے۔ اسے جنگ خندق بھی کہتے ہیں، اس لئے کہ مسلمانوں نے اپنے بچاؤ کے لئے مدینے کے اطراف میں خندق کھودی تھی تاکہ دشمن مدینے کے اندر نہ آسکیں۔ اس کی مختصر تفصیل اس طرح ہے کہ یہودیوں کے قبیلے بنو نضیر، جس کو رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے اس کی مسلسل بدعہدی کی وجہ سے مدینہ سے جلا وطن کردیا تھا، یہ قبیلہ خیبر میں جا آباد ہوا، اس نے کفار مکہ کو مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کے لئے تیار کیا،اسی طرح غطفان وغیرہ قبائل نجد کو بھی امداد کا یقین دلا کر آمادۂ قتال کیا اور یوں یہ یہودی اسلام اور مسلمانوں کے تمام دشمنوں کو اکھٹا کرکے مدینے پر حملہ آور ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ مشرکین مکہ کی قیادت ابوسفیان کے پاس تھی، انہوں نے احد کے آس پاس پڑاؤ ڈال کر تقریباً مدینے کا محاصرہ کر لیا، ان کی مجموعی تعداد 10 ہزار تھی، جب کہ مسلمان تین ہزار تھے۔ علاوہ ازیں جنوبی رخ پر یہودیوں کا تیسرا قبیلہ بنو قریظہ آباد تھا، جس سے ابھی تک مسلمانوں کا معاہدہ قائم اور وہ مسلمانوں کی مدد کرنے کا پابند تھا۔ لیکن اسے بھی بنو نضیر کے یہودی سردار حیی بن اخطب نےورغلا کر مسلمانوں پر کاری ضرب لگانے کے حوالے سے، اپنے ساتھ ملا لیا، یوں مسلمان چاروں طرف سے دشمن کے نرغے میں گھر گئے۔ اس موقع پر حضرت سلمان فارسی ! کے مشورے سے خندق کھودی گئی، جس کی وجہ سے دشمن کا لشکر مدینے سے اندر نہیں آسکا اور مدینے کے باہر قیام پذیر رہا۔ تاہم مسلمان اس محاصرے اور دشمن کی متحدہ یلغارسے سخت خوفزدہ تھے۔ کم وبیش ایک مہینے تک یہ محاصرہ قائم رہا اور مسلمان سخت خوف اور اضطراب کے عالم میں مبتلا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے پردۂ غیب سے مسلمانوں کی مدد فرمائی ان آیات میں ان ہی سراسیمہ حالات اور امداد غیبی کا تذکرہ فرمایا گیا ہے۔ پہلے جُنُودٌ سے مراد کفار کی فوجیں ہیں، جو جمع ہو کر آئی تھیں۔ تیز وتند ہوا سے مراد وہ ہوا ہے جو سخت طوفان اور آندھی کی شکل میں آئی، جس نے ان کے خیموں کو اکھاڑ پھینکا، جانور رسیاں تڑا کر بھاگ کھڑے ہوئے، ہانڈیاں الٹ گئیں اور سب بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ یہ وہی ہوا تھی جس کی بابت حدیث میں آتا ہے، نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ (صحيح بخاري ، كتاب الاستسقاء، باب نصرت بالصبا مسلم، باب في ريح الصبا والدبور) میری مدد صبا (مشرقی ہوا) سےکی گئی اور عاد دبور (پچھمی) ہوا سے ہلاک کیے گئے۔ وَجُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا سے مراد فرشتے ہیں، جو مسلمانوں کی مدد کے لئے آئے۔ انہوں نے دشمن کےدلوں پر ایسا خوف اور دہشت طاری کر دی کہ انہوں نے وہاں سے جلد بھاگ جانے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔
آیت کے اختیارات
- 10
إِذْ جَآءُوكُم مِّن فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ ٱلْأَبْصَـٰرُ وَبَلَغَتِ ٱلْقُلُوبُ ٱلْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِٱللَّهِ ٱلظُّنُونَا۠
جب کہ (دشمن) تمہارے پاس اوپر سے اور نیچے سے چڑھ آئے[1] اور جب کہ آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منھ کو آگئے اور تم اللہ تعالیٰ کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے.[2]
حواشی
[1] اس سے مراد یہ ہے کہ ہر طرف سے دشمن آگئے یا اوپر سے مراد غطفان، ہوا زن اور دیگر نجد کے مشرکین ہیں اور نیچے کی سمت سے قریش اور ان کے اعوان وانصار۔ [2] یہ مسلمانوں کی اس کیفیت کا اظہار ہے جس سے اس وقت دوچار تھے۔
آیت کے اختیارات
- 11
هُنَالِكَ ٱبْتُلِىَ ٱلْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا۟ زِلْزَالًا شَدِيدًا
یہیں مومن آزمائے گئے اور پوری طرح وه جھنجھوڑ دیئے گئے.[1]
حواشی
[1] یعنی مسلمانوں کو خوف، قتال، بھوک اور محاصرے میں مبتلا کرکے ان کو جانچا پرکھا گیا تاکہ منافق الگ ہو جائیں۔
آیت کے اختیارات
- 12
وَإِذْ يَقُولُ ٱلْمُنَـٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ إِلَّا غُرُورًا
اور اس وقت منافق اور وه لوگ جن کے دلوں میں (شک کا) روگ تھا کہنے لگے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے ہم سے محض دھوکا فریب کا ہی وعده کیا تھا.[1]
حواشی
[1] یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کا وعدہ ایک فریب تھا۔ یہ تقریباً ستر منافقین تھے جن کی زبانوں پر وہ بات آگئی جو دلوں میں تھی۔
آیت کے اختیارات
- 13
وَإِذْ قَالَت طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ يَـٰٓأَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَٱرْجِعُوا۟ ۚ وَيَسْتَـْٔذِنُ فَرِيقٌ مِّنْهُمُ ٱلنَّبِىَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ وَمَا هِىَ بِعَوْرَةٍ ۖ إِن يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًا
ان ہی کی ایک جماعت نے ہانک لگائی کہ اے مدینہ والو[1] ! تمہارے لئے ٹھکانہ نہیں چلو لوٹ چلو[2]، اور ان کی ایک اور جماعت یہ کہہ کر نبی ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ سے اجازت مانگنے لگی کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں[3]، حاﻻنکہ وه (کھلے ہوئے اور) غیر محفوظ نہ تھے (لیکن) ان کا پختہ اراده بھاگ کھڑے ہونے کا تھا.[4]
حواشی
[1] یثرب اس پورے علاقے کا نام تھا، مدینہ اسی کا ایک حصہ تھا، جسے یہاں یثرب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا نام یثرب اس لئے پڑا کہ کسی زمانے میں عمالقہ میں سے کسی نے یہاں پڑاو کیا تھا جس کا نام یثرب بن عمیل تھا۔ (فتح القدیر)۔ [2] یعنی مسلمانوں کے لشکر میں رہنا تو سخت خطرناک ہے، اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ جاؤ۔ [3] یعنی بنو قریظہ کی طرف سے حملے کا خطرہ ہے یوں اہل خانہ کی جان ومال اور آبرو خطرے میں ہے۔ [4] یعنی جو خطرہ وہ ظاہر کر رہے ہیں، نہیں ہے وہ اس بہانے سے راہ فرار چاہتے ہیں۔ عَوْرَةٌ کے لغوی اور معروف معنی کے لئے دیکھئے، سورۂ نور، آیت 58 کا حاشیہ۔
آیت کے اختیارات
- 14
وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَيْهِم مِّنْ أَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا۟ ٱلْفِتْنَةَ لَـَٔاتَوْهَا وَمَا تَلَبَّثُوا۟ بِهَآ إِلَّا يَسِيرًا
اور اگر مدینے کے اطراف سے ان پر (لشکر) داخل کیے جاتے پھر ان سے فتنہ طلب کیا جاتا تو یہ ضرور اسے برپا کر دیتے اور نہ لڑتے مگر تھوڑی مدت.[1]
حواشی
[1] یعنی مدینے یا ان کے گھروں میں چاروں طرف سے دشمن داخل ہو جائیں اور ان سے مطالبہ کریں کہ تم کفر وشرک کی طرف دوبارہ واپس آجاؤ، تو یہ ذرا توقف نہ کریں گے اور اس وقت گھروں کے غیر محفوظ ہونے کا عذر بھی نہیں کریں گے بلکہ فوراً مطالبۂ شرک کے سامنے جھک جائیں۔ مطلب یہ ہے کہ کفر وشرک ان کو مرغوب ہے اور اس کی طرف یہ لپکتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 15
وَلَقَدْ كَانُوا۟ عَـٰهَدُوا۟ ٱللَّهَ مِن قَبْلُ لَا يُوَلُّونَ ٱلْأَدْبَـٰرَ ۚ وَكَانَ عَهْدُ ٱللَّهِ مَسْـُٔولًا
اس سے پہلے تو انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ پیٹھ نہ پھیریں گے[1] ، اور اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے وعده کی باز پرس ضرور[2] ہوگی.
حواشی
[1] بیان کیا جاتا ہے کہ منافقین جنگ بدر تک مسلمان نہیں ہوئے۔ لیکن جب مسلمان فاتح ہوکر اور مال غنیمت لے کر واپس آئے تو انہوں نے نہ صرف یہ کہ اسلام کا اظہار کیا بلکہ یہ عہد بھی کیا کہ آئندہ جب بھی کفار سے معرکہ پیش آیا تو وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر ضرور لڑیں گے، یہاں ان کو وہی عہد یاد کرایا گیا ہے۔ [2] یعنی اسےپورا کرنے کا ان سے مطالبہ کیا جائے گا اور عدم وفا پر سزا کے وہ مستحق ہوں گے۔
آیت کے اختیارات
- 16
قُل لَّن يَنفَعَكُمُ ٱلْفِرَارُ إِن فَرَرْتُم مِّنَ ٱلْمَوْتِ أَوِ ٱلْقَتْلِ وَإِذًا لَّا تُمَتَّعُونَ إِلَّا قَلِيلًا
کہہ دیجئے کہ گو تم موت سے یا خوف قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہیں کچھ بھی کام نہ آئے گا اور اس وقت تم بہت ہی کم فائده اٹھاؤ گے.[1]
حواشی
[1] یعنی موت سے تو کوئی صورت مفر نہیں ہے۔ اگر میدان جنگ سے بھاگ کر آبھی جاؤ گے، تو کیا فائدہ؟ کچھ عرصے بعد موت کا پیالہ تو پھر بھی پینا ہی پڑے گا۔
آیت کے اختیارات
- 17
قُلْ مَن ذَا ٱلَّذِى يَعْصِمُكُم مِّنَ ٱللَّهِ إِنْ أَرَادَ بِكُمْ سُوٓءًا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً ۚ وَلَا يَجِدُونَ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا
پوچھیئے! تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی برائی پہنچانا چاہے یا تم پر کوئی فضل کرنا چاہے تو کون ہے جو تمہیں بچا سکے (یا تم سے روک سکے؟)[1] ، اپنے لیے بجز اللہ تعالیٰ کے نہ کوئی حمایتی پائیں گے نہ مددگار.
حواشی
[1] یعنی تمہیں ہلاک کرنا، بیمار کرنا، یا مال وجائیداد میں نقصان پہنچانا یا قحط سالی میں مبتلا کرنا چاہے، تو کون ہے جو تمہیں اس سے بچا سکے؟ یا اپنا فضل وکرم کرنا چاہے تو وہ روک سکے؟
آیت کے اختیارات
- 18
۞ قَدْ يَعْلَمُ ٱللَّهُ ٱلْمُعَوِّقِينَ مِنكُمْ وَٱلْقَآئِلِينَ لِإِخْوَٰنِهِمْ هَلُمَّ إِلَيْنَا ۖ وَلَا يَأْتُونَ ٱلْبَأْسَ إِلَّا قَلِيلًا
اللہ تعالیٰ تم میں سے انہیں (بخوبی) جانتا ہے جو دوسروں کو روکتے ہیں اور اپنے بھائی بندوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس[1] چلے آؤ۔ اور کبھی کبھی ہی لڑائی میں آجاتے ہیں.[2]
حواشی
[1] یہ کہنے والے منافقین تھے، جو اپنے دوسرے ساتھیوں کو بھی مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شریک ہونے سے روکتے تھے۔ [2] کیوں کہ وہ موت کے خوف سے پیچھے ہی رہتے تھے۔
آیت کے اختیارات
- 19
أَشِحَّةً عَلَيْكُمْ ۖ فَإِذَا جَآءَ ٱلْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ تَدُورُ أَعْيُنُهُمْ كَٱلَّذِى يُغْشَىٰ عَلَيْهِ مِنَ ٱلْمَوْتِ ۖ فَإِذَا ذَهَبَ ٱلْخَوْفُ سَلَقُوكُم بِأَلْسِنَةٍ حِدَادٍ أَشِحَّةً عَلَى ٱلْخَيْرِ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ لَمْ يُؤْمِنُوا۟ فَأَحْبَطَ ٱللَّهُ أَعْمَـٰلَهُمْ ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرًا
تمہاری مدد میں (پورے) بخیل ہیں[1] ، پھر جب خوف ودہشت کا موقعہ آجائے تو آپ انہیں دیکھیں گے کہ آپ کی طرف نظریں جما دیتے ہیں اور ان کی انکھیں اس طرح گھومتی ہیں جیسے اس شخص کی جس پر موت کی غشی طاری ہو[2]۔ پھر جب خوف جاتا رہتا ہے تو تم پر اپنی تیز زبانوں سے بڑی باتیں بناتے ہیں[3] مال کے بڑے ہی حریص ہیں[4]، یہ ایمان ﻻئے ہی نہیں ہیں[5] اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام اعمال نابود کر دیئے ہیں[6]، اور اللہ تعالیٰ پر یہ بہت ہی آسان ہے.[7]
حواشی
[1] یعنی تمہارے ساتھ خندق کھود کر تم سے تعاون کرنے میں یا اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں یا تمہارے ساتھ مل کرلڑنے میں بخیل ہیں۔ [2] یہ ان کی بزدلی اور پست ہمتی کی کیفیت کا بیان ہے۔ [3] یعنی اپنی شجاعت ومردانگی کی بابت ڈینگیں مارتے ہیں، جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں، یا غنیمت کی تقسیم کے وقت اپنی زبان کی تیزی وطراری سے لوگوں کو متاثر کرکے زیادہ سے زیادہ مال حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت قتادہ (رضي الله عنه) فرماتے ہیں، غنیمت کی تقسیم کے وقت یہ سب سے زیادہ بخیل اور سب سے زیادہ برا حصہ لینے والے اور لڑائی کے وقت سب سے زیادہ بزدل اور ساتھیوں کو بےیارو مددگار چھوڑ کر بھاگ جانے والے ہیں۔ [4] یادوسرا مفہوم ہے کہ خیر کا جذبہ بھی ان کےاندر نہیں ہے۔ یعنی مذکورہ خرابیوں اور کوتاہیوں کے ساتھ خیر اور بھلائی سے بھی وہ محروم ہیں۔ [5] یعنی دل سے، بلکہ یہ منافق ہیں، کیوں کہ ان کے دل کفر وعناد سے بھرے ہوئے ہیں۔ [6] اس لئے کہ وہ مشرک اور کافر ہیں اور کافر ومشرک کے اعمال باطل ہیں، جن پر کوئی اجر وثواب نہیں۔ یا أَحْبَطَ أَظْهَرَ کے معنی میں ہے، یعنی ان کے عملوں کے بطلان کو ظاہر کر دیا، اس لیے کہ ان کے اعمال ایسے ہیں ہی نہیں کہ وہ ثواب کے مقتضی ہوں اور اللہ ان کو باطل کر دے۔ (فتح القدیر)۔ [7] ان کے اعمال کا برباد کر دینا، یا ان کا نفاق۔
آیت کے اختیارات
- 20
يَحْسَبُونَ ٱلْأَحْزَابَ لَمْ يَذْهَبُوا۟ ۖ وَإِن يَأْتِ ٱلْأَحْزَابُ يَوَدُّوا۟ لَوْ أَنَّهُم بَادُونَ فِى ٱلْأَعْرَابِ يَسْـَٔلُونَ عَنْ أَنۢبَآئِكُمْ ۖ وَلَوْ كَانُوا۟ فِيكُم مَّا قَـٰتَلُوٓا۟ إِلَّا قَلِيلًا
سمجھتے ہیں کہ اب تک لشکر چلے نہیں گئے[1] ، اور اگر فوجیں آجائیں تو تمنائیں کرتے ہیں کہ کاش! وه صحرا میں بادیہ نشینوں کے ساتھ ہوتے کہ تمہاری خبریں دریافت کیا کرتے[2]، اگر وه تم میں موجود ہوتے (تو بھی کیا؟) نہ لڑتے مگر برائے نام.[3]
حواشی
[1] یعنی ان منافقین کی بزدلی، دوں ہمتی اور خوف ودہشت کا یہ حال ہے کہ کافروں کے گروہ اگرچہ ناکام ونامراد واپس جا چکے ہیں۔ لیکن یہ اب تک یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ ابھی تک اپنے مورچوں اور خیموں میں موجود ہیں۔ [2] یعنی بالفرض اگر کفار کی ٹولیاں دوبارہ لڑائی کی نیت سے واپس آجائیں تو منافقین کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ مدینہ شہر کے اندر رہنے کے بجائے، باہر صحرا میں بادیہ نشینوں کے ساتھ ہوں اور وہاں لوگوں سے تمہاری بابت پوچھتے رہیں کہ محمد (صلى الله عليه وسلم) اور اس کے ساتھی ہلاک ہوئے یا نہیں؟ یا لشکر کفار کامیاب رہا یا ناکام؟ [3] محض عار کے ڈر سے یاہم وطنی کی حمیت کی وجہ سے۔ اس میں ان لوگوں کے لئے سخت وعید ہے جو جہاد سے گریز کرتے یا اس سے پیچھے رہتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 21
لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِى رَسُولِ ٱللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلْيَوْمَ ٱلْـَٔاخِرَ وَذَكَرَ ٱللَّهَ كَثِيرًا
یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے[1] ، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے.[2]
حواشی
[1] یعنی اے مسلمانو ! اور منافقو ! تم سب کے لئے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی ذات کے اندر بہترین نمونہ ہے، پس تم جہاد میں اور صبر وثبات میں اسی کی پیروی کرو۔ ہمارا یہ پیغمبر جہاد میں بھوکا رہا حتیٰ کہ اسے پیٹ پر پتھر باندھنے پڑے، اس کا چہرہ زخمی ہو گیا، اس کا رباعی دانت ٹوٹ گیا، خندق اپنے ہاتھوں سے کھودی اور تقریباً ایک مہینہ دشمن کے سامنے سینہ سپر رہا۔ یہ آیت اگرچہ جنگ احزاب کے ضمن میں نازل ہوئی ہے جس میں جنگ کے موقعے پر بطور خاص رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کے اسوۂ حسنہ کو سامنے رکھنے اور اس کی اقتدا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن یہ حکم عام ہے یعنی آپ (صلى الله عليه وسلم) کے تمام اقوال، افعال اور احوال میں مسلمانوں کے لئے آپ (صلى الله عليه وسلم) کی اقتدا ضروری ہے چاہے ان کا تعلق عبادات سے ہو یا معاشرت سے، معیشت سے، یا سیاست سے، زندگی کے ہر شعبے میں آپ کی ہدایات واجب الاتباع ہیں۔ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ الآية (الحشر) اور إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ الآية (آل عمران: 31) کا مفاد بھی یہی ہے۔ [2] اس سے یہ واضح ہوگیا کہ اسوۂ رسول (صلى الله عليه وسلم) کو وہی اپنائے گا جو آخرت میں اللہ کی ملاقات پر یقین رکھتا اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہے۔ آج مسلمان بھی بالعموم ان دونوں وصفوں سے محروم ہیں، اس لئے اسوۂ رسول (صلى الله عليه وسلم) کی بھی کوئی اہمیت ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ ان میں جو اہل دین ہیں ان کے پیشوا، پیر اور مشائخ ہیں اور جو اہل دنیا واہل سیاست ہیں ان کے مرشد ورہنما آقایان مغرب ہیں۔ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) سےعقیدت کے زبانی دعوے بڑے ہیں، لیکن آپ (صلى الله عليه وسلم) کو مرشد اور پیشوا ماننے کے لئے ان میں سے کوئی بھی آمادہ نہیں ہے۔ فَإِلَى اللهِ الْمُشْتَكَى۔
آیت کے اختیارات
- 22
وَلَمَّا رَءَا ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلْأَحْزَابَ قَالُوا۟ هَـٰذَا مَا وَعَدَنَا ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَصَدَقَ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ ۚ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّآ إِيمَـٰنًا وَتَسْلِيمًا
اور ایمان والوں نے جب (کفار کے) لشکروں کو دیکھا (بے ساختہ) کہہ اٹھے! کہ انہیں کا وعده ہمیں اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے دیا تھا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا[1] ، اور اس (چیز) نے ان کے ایمان میں اور شیوہٴ فرماں برداری میں اور اضافہ کر دیا.[2]
حواشی
[1] یعنی منافقین نے تو دشمن کی کثرت تعداد اور حالات کی سنگینی دیکھ کر کہا تھا کہ اللہ اور رسول ( (صلى الله عليه وسلم) ) کے وعدے فریب تھے، ان کے برعکس اہل ایمان نے کہا کہ اللہ اور رسول نے جو وعدہ کیا ہے کہ ابتلا وامتحان سے گزرنے کے بعد تمہیں فتح ونصرت سے ہمکنار کیا جائے گا، وہ سچا ہے۔ [2] یعنی حالات کی شدت اور ہولناکی نےان کے ایمان کو متزلزل نہیں کیا، بلکہ ان کے ایمان میں جذبۂ اطاعت وانقیاد اور تسلیم ورضا میں مزید اضافہ کر دیا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ لوگوں اور ان کے مختلف احوال کے اعتبار سے ایمان اور اس کی قوت میں کمی بیشی ہوتی ہے جیسا کہ محدثین کا مسلک ہے۔
آیت کے اختیارات
- 23
مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا۟ مَا عَـٰهَدُوا۟ ٱللَّهَ عَلَيْهِ ۖ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُۥ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوا۟ تَبْدِيلًا
مومنوں میں (ایسے) لوگ بھی ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کیا تھا انہیں سچا کر دکھایا[1] ، بعض نے تو اپنا عہد پورا کر[2] دیا اور بعض (موقعہ کے) منتظر ہیں اور انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی.[3]
حواشی
[1] یہ آیت ان بعض صحابہ (رضي الله عنهم) کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جنہوں نے اس موقع پر جاں نثاری کےعجیب وغریب جوہر دکھائے تھے اور انہیں میں وہ صحابہ (رضي الله عنهم) بھی شامل ہیں جو جنگ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے لیکن انہوں نے یہ عہد کر رکھا تھا کہ اب آئندہ کوئی معرکہ پیش آیا، تو جہاد میں بھرپور حصہ لیں گے، جیسے نضربن انس وغیرہ (رضي الله عنهم) ، جو بالآخر لڑتے ہوئے جنگ احد میں شہید ہوئے۔ ان کے جسم پر تلوار، نیزے اور تیروں کے 80 سے اوپر زخم تھے، شہادت کے بعد ان کی ہمشیرہ نے انہیں ان کی انگلی کے پورے سے پہچانا، (مسند احمد،ج۔4، ص - 193)۔ [2] نَحْبٌ کی معنی عہد، نذر اور موت کے کیے گئے ہیں، مطلب ہے کہ ان صادقین میں سے کچھ نے تو اپنا عہد یا نذر پوری کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر لیا ہے۔ [3] اور دوسرے وہ ہیں جو ابھی تک عروس شہادت سے ہمکنار نہیں ہوئے ہیں تاہم اس کے شوق میں شریک جہاد ہوتے ہیں اور شہادت کی سعادت کے آرزو مند ہیں، اپنی اس نذر یا عہد میں انہوں نے تبدیلی نہیں کی۔
آیت کے اختیارات
- 24
لِّيَجْزِىَ ٱللَّهُ ٱلصَّـٰدِقِينَ بِصِدْقِهِمْ وَيُعَذِّبَ ٱلْمُنَـٰفِقِينَ إِن شَآءَ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا
تاکہ اللہ تعالیٰ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے اور اگر چاہے تو منافقوں کو سزا دے یا ان کی توبہ قبول فرمائے[1] ، اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے واﻻ بہت ہی مہربان ہے.
حواشی
[1] یعنی انہیں قبول اسلام کی توفیق دے دے۔
آیت کے اختیارات
- 25
وَرَدَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا۟ خَيْرًا ۚ وَكَفَى ٱللَّهُ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٱلْقِتَالَ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا
اور اللہ تعالیٰ نےکافروں کو غصے بھرے ہوئے ہی (نامراد) لوٹا دیا انہوں نے کوئی فائده نہیں پایا[1] ، اور اس جنگ میں اللہ تعالیٰ خود ہی مومنوں کو کافی ہوگیا[2] اللہ تعالیٰ بڑی قوتوں واﻻ اور غالب ہے.
حواشی
[1] یعنی مشرک جو مختلف جہات سے جمع ہو کرآئے تھے تاکہ مسلمانوں کا نشان مٹا دیں۔ اللہ نے انہیں اپنے غیظ وغضب سمیت واپس لوٹا دیا۔ نہ دنیا کا مال ومتاع ان کے ہاتھ لگا اور نہ آخرت میں وہ اجر وثواب کے مستحق ہوں گے، کسی بھی قسم کی خیر انہیں حاصل نہیں ہوئی۔ [2] یعنی مسلمانوں کو ان سے لڑنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہوا اور فرشتوں کے ذریعے سے اپنے مومن بندوں کی مدد کا سامان بہم پہنچا دیا۔ اسی لئے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا «لا إِلهَ إِلا اللهُ وَحْدَهُ ، صَدَقَ وَعْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ ، فَلا شَيْءَ بَعْدَهُ» (صحيح بخاري ، كتاب العمرة ، باب ما يقول إذا رجع من الحج أو العمرة أو الغزو - مسلم باب ما يقول إذا قفل من سفر الحج وغيره) ”ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس نے اپنا وعدہ سچ کردکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، اپنے لشکر کو سرخرو کیا، اور تمام گروہوں کو اکیلے اس نے ہی شکست دے دی، اس کے بعد کوئی شے نہیں“ یہ دعا حج، عمرہ، جہاد اور سفر سے واپسی پر بھی پڑھنی چاہئے۔
آیت کے اختیارات
- 26
وَأَنزَلَ ٱلَّذِينَ ظَـٰهَرُوهُم مِّنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ مِن صَيَاصِيهِمْ وَقَذَفَ فِى قُلُوبِهِمُ ٱلرُّعْبَ فَرِيقًا تَقْتُلُونَ وَتَأْسِرُونَ فَرِيقًا
اور جن اہل کتاب نے ان سے سازباز کر لی تھی انہیں (بھی) اللہ تعالیٰ نے ان کے قلعوں سے نکال دیا اور ان کے دلوں میں (بھی) رعب بھر دیا کہ تم ان کے ایک گروه کو قتل کر رہے ہو اور ایک گروه کو قیدی بنا رہے ہو.
آیت کے اختیارات
- 27
وَأَوْرَثَكُمْ أَرْضَهُمْ وَدِيَـٰرَهُمْ وَأَمْوَٰلَهُمْ وَأَرْضًا لَّمْ تَطَـُٔوهَا ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرًا
اور اس نے تمہیں ان کی زمینوں کا اور ان کے گھر بار کا اور ان کے مال کا وارث کر دیا[1] اور اس زمین کا بھی جس کو تمہارے قدموں نے روندا نہیں[2]، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے.
حواشی
[1] اس میں غزوۂ بنی قریظہ کا ذکر ہے جیسا کہ پہلے گزرا کہ اس قبیلے نے نقض عہد کرکے جنگ احزاب میں مشرکوں اور دوسرے یہودیوں کا ساتھ دیا تھا۔ چنانچہ جنگ احزاب سے واپس آکر رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) ابھی غسل ہی فرما سکے تھے کہ حضرت جبرائیل (عليه السلام) آگئے اور کہا کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے ہتھیار رکھ دیے؟ ہم فرشتوں نے تو نہیں رکھے ہیں۔ چلئے، اب بنو قریظہ کے ساتھ نمٹنا ہے، مجھے اللہ نے اسی لئے آپ (صلى الله عليه وسلم) کی طرف بھیجا ہے۔ چنانچہ آپ نے مسلمانوں میں اعلان فرما دیا بلکہ ان کو تاکید کر دی کہ عصر کی نماز وہاں جا کر پڑھنی ہے۔ ان کی آبادی مدینے سے چند میل کے فاصلے پر تھی۔ یہ اپنے قلعوں میں بند ہو گئے، باہر سے مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کر لیا جو کم وبیش پچیس روز جاری رہا۔ بالآخر انہوں نے سعد بن معاذ (رضي الله عنه) کو اپنا حکم (ثالث) تسلیم کر لیا کہ وہ جو فیصلہ بابت دیں گے، ہمیں منظور ہوگا۔ چنانچہ انہوں نے یہ فیصلہ دیا کہ ان سے لڑنے والے لوگوں کو قتل اور بچوں، عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے اور ان کا مال مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے یہ فیصلہ سن کر فرمایا کہ یہی فیصلہ آسمانوں کے اوپر االلہ تعالیٰ کا بھی ہے۔ اس کے مطابق ان کے جنگ جو افراد کی گردنیں اڑا دی گئیں۔ اور مدینے کو ان کے ناپاک وجود سے پاک کر دیا گیا۔ (دیکھئے صحیح بخاری، باب غزوۂ خندق) أَنْزَلَ قلعوں سے نیچے اتار دیا، ظَاهَرُوهُمْ کافروں کی انہوں نے مدد کی۔ [2] بعض نے اس سے خیبر کی زمین مراد لی ہے کیونکہ اس کے بعد ہی 6 ہجری میں صلح حدیبیہ کے بعد مسلمانوں نے خیبر فتح کیا ہے۔ بعض نے کہا کہ مکہ ہے اور بعض نے ارض فارس وروم کو اس کا مصداق قرار دیا ہے اور بعض کے نزدیک تمام وہ زمینیں ہیں جو قیامت تک مسلمان فتح کریں گے۔ (فتح القدیر)۔
آیت کے اختیارات
- 28
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّأَزْوَٰجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا
اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم زندگانی دنیا اور زینت دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دﻻ دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں.
آیت کے اختیارات
- 29
وَإِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَٱلدَّارَ ٱلْـَٔاخِرَةَ فَإِنَّ ٱللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَـٰتِ مِنكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا
اور اگر تمہاری مراد اللہ اور اس کا رسول اور آخرت کا گھر ہے تو (یقین مانو کہ) تم میں سے نیک کام کرنے والیوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے بہت زبردست اجر رکھ چھوڑے ہیں.[1]
حواشی
[1] فتوحات کے نتیجے میں جب مسلمانوں کی حالت پہلے کی نسبت کچھ بہتر ہوگئی تو انصار ومہاجرین کی عورتوں کو دیکھ کر ازواج مطہرات نے بھی نان نفقہ میں اضافہ کا مطالبہ کر دیا۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) چونکہ نہایت سادگی پسند تھے، اس لئے ازواج مطہرات کے اس مطالبے پر سخت کبیدہ خاطر ہوئے اور بیویوں سے علیحدگی اختیار کر لی جو ایک مہینے تک جاری رہی بالآخر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی۔ اس کے بعد سب سے پہلے آپ نے حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کو یہ آیت سنا کر انہیں اختیار دیا تاہم انہیں کہا کہ اپنے طور پر فیصلہ کرنے کے بجائے اپنے والدین سے مشورے کے بعد کوئی اقدام کرنا۔ حضرت عائشہ (رضی الله عنها) نے فرمایا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں آپ کے بارے میں مشورہ کروں؟ بلکہ میں اللہ اور رسول (صلى الله عليه وسلم) کو پسند کرتی ہوں . یہی بات دیگر ازواج مطہرات (رضي الله عنه) ن نے بھی کہی اور کسی نے بھی رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کو چھوڑ کر دنیا کی عیش وآرام کو ترجیح نہیں دی (صحیح بخاری، تفسیر سورۃ الاحزاب) اس وقت آپ (صلى الله عليه وسلم) کے حبالۂ عقد میں 9 بیویاں تھیں، پانچ قریش میں سے تھیں۔ حضرت عائشہ، حفصہ، ام حبیبہ، سودہ اور ام سلمہ۔ (رضي الله عنه) ن اور چار ان کے علاوہ، یعنی حضرت صفیہ، میمونہ، زینب اور جویریہ تھیں۔ (رضي الله عنهن)۔ بعض لوگ مرد کی طرف سے اختیار علیحدگی کو طلاق قرار دیتے ہیں، لیکن یہ بات صحیح نہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ اختیار علیحدگی کے بعد اگر عورت علیحدگی کو پسند کر لے، پھر تو یقیناً طلاق ہوجائے گی (اور یہ طلاق بھی رجعی ہوگی نہ کہ بائنہ، جیسا کہ بعض علما کا مسلک ہے) تاہم اگر عورت علیحدگی کو اختیار نہیں کرتی تو پھر طلاق نہیں ہوگی، جیسے ازواج مطہرات (رضي الله عنه) ن نے علیحدگی کے بجائے حرم رسول (صلى الله عليه وسلم) میں ہی رہنا پسند کیا تو اس اختیار کو طلاق شمار نہیں کیا گیا۔ (صحيح بخاري ، كتاب الطلاق ، باب من خير نساءه ، مسلم باب بيان أن تخيير امرأته لا يكون طلاقا إلا بالنية)۔
آیت کے اختیارات
- 30
يَـٰنِسَآءَ ٱلنَّبِىِّ مَن يَأْتِ مِنكُنَّ بِفَـٰحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُضَـٰعَفْ لَهَا ٱلْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرًا
اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو بھی کھلی بے حیائی (کا ارتکاب) کرے گی اسے دوہرا دوہرا عذاب دیا جائے گا[1] ، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بہت ہی سہل (سی بات) ہے.
حواشی
[1] قرآن میں الْفَاحِشَةُ (مُعَرَّفٌ بِاللامِ) کو زنا کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے لیکن فَاحِشَةٌ (نکرہ) کو برائی کے لئے، جیسے یہاں ہے۔ یہاں اس کے معنی بداخلاقی اور نامناسب رویے کے ہیں۔ کیونکہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کے ساتھ بداخلاقی اور نامناسب رویہ، آپ (صلى الله عليه وسلم) کو ایذا پہنچانا ہے جس کا ارتکاب کفر ہے۔ علاوہ ازیں ازواج مطہرات (رضي الله عنه) ن خود بھی مقام بلند کی حامل تھیں اور بلند مرتبت لوگوں کی معمولی غلطیاں بھی بڑی شمار ہوتی ہیں، اس لئے انہیں دوگنے عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔
آیت کے اختیارات