پارہ 30
النبأ
نبا
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ نبأ
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
عَمَّ يَتَسَآءَلُونَ
یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں.[1]
حواشی
[1] جب رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کو خلعت نبوت سے نوازا گیا اور آپ نےتوحید، قیامت وغیرہ کا بیان فرمایا اور قرآن کی تلاوت فرمائی تو کفار ومشرکین باہم ایک دوسرے سے پوچھتے کہ یہ قیامت کیا واقعی ممکن ہے؟ جیسا کہ یہ شخص دعویٰ کر رہا ہے یا یہ قرآن واقعی اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے جیسا کہ محمد (صلى الله عليه وسلم) کہتا ہے۔ استفہام کے ذریعے سے اللہ نے پہلے ان چیزوں کی وہ حیثیت نمایاں کی جو ان کی ہے۔ پھر خود ہی جواب دیا کہ۔۔۔
آیت کے اختیارات
- 2
عَنِ ٱلنَّبَإِ ٱلْعَظِيمِ
اس بڑی خبر کے متعلق.
آیت کے اختیارات
- 3
ٱلَّذِى هُمْ فِيهِ مُخْتَلِفُونَ
جس کے بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں.[1]
حواشی
[1] یعنی جس بڑی خبر کی بابت ان کے درمیان اختلاف ہے، اس کے متعلق استفسار ہے۔ اس بڑی خبر سے بعض نے قرآن مجید مراد لیا ہے کافر اس کے بارے میں مختلف باتیں کرتے تھے، کوئی اسے جادو، کوئی کہانت، کوئی شعر اور کوئی پہلوں کی کہانیاں بتلاتا تھا۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد قیامت کا برپا ہونا اور دوبارہ زندہ ہونا ہے۔ اس میں بھی ان کے درمیان کچھ اختلاف تھا۔ کوئی بالکل انکار کرتا تھا کوئی صرف شک کا اظہار۔ بعض کہتے ہیں کہ سوال کرنے والےمومن وکافر دونوں ہی تھے، مومنین کا سوال تو اضافہ یقین اور ازدیاد بصیرت کے لئے تھا اور کافروں کا استہزا اور تمسخر کے طور پر۔
آیت کے اختیارات
- 4
كَلَّا سَيَعْلَمُونَ
یقیناً یہ عنقریب جان لیں گے۔
آیت کے اختیارات
- 5
ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُونَ
پھر بالیقین انہیں بہت جلد معلوم ہو جائے گا.[1]
حواشی
[1] یہ ڈانٹ اور زجر ہےکہ عنقریب سب کچھ معلوم ہو جائے گا۔ آگے اللہ تعالیٰ اپنی کاریگری اور عظیم قدرت کا تذکرہ فرما رہا ہے تاکہ توحید کی حقیقت ان کے سامنے واضح ہو اور اللہ کا رسول انہیں جس چیز کی دعوت دے رہا تھا، اس پر ایمان لانا ان کے لئے آسان ہو جائے۔
آیت کے اختیارات
- 6
أَلَمْ نَجْعَلِ ٱلْأَرْضَ مِهَـٰدًا
کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا؟[1]
حواشی
[1] یعنی فرش کی طرح تم زمین پر چلتے پھرتے، اٹھتے، بیٹھتے، سوتے اور سارے کام کاج کرتے ہو۔ زمین کوڈولتا ہوا نہیں رہنے دیا۔
آیت کے اختیارات
- 7
وَٱلْجِبَالَ أَوْتَادًا
اور پہاڑوں کو میخیں (نہیں بنایا؟)[1]
حواشی
[1] أَوْتَادٌ، وَتَدٌ کی جمع ہے میخیں۔ یعنی پہاڑوں کو زمین کے لئے میخیں بنایا تاکہ زمین ساکن رہے،حرکت نہ کرے، کیوں کہ حرکت واضطراب کی صورت میں زمین رہائش کے قابل ہی نہ ہوتی۔
آیت کے اختیارات
- 8
وَخَلَقْنَـٰكُمْ أَزْوَٰجًا
اور ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا.[1]
حواشی
[1] یعنی مذکر اور مونث۔ نراور مادہ یا ازواج بمعنی اصناف والوان ہے۔ یعنی مختلف شکلوں اور رنگوں میں پیدا کیا، خوب صورت، بدصورت، دراز قد، کوتاہ قد، سفید اور سیاہ وغیرہ۔
آیت کے اختیارات
- 9
وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا
اور ہم نے تمہاری نیند کو آرام کا سبب بنایا.[1]
حواشی
[1] سُبَاتٌ کے معنی قطع کرنے کے ہیں۔ رات بھی انسان وحیوان کی ساری حرکتیں منقطع کر دیتی ہے تاکہ سکون ہو جائے اور لوگ آرام کی نیند سو لیں۔ یا مطلب ہے کہ رات تمہارے اعمال کاٹ دیتی ہے یعنی عمل کے سلسلے کو ختم کر دیتی ہے۔ عمل ختم ہونے کا مطلب آرام ہے۔
آیت کے اختیارات
- 10
وَجَعَلْنَا ٱلَّيْلَ لِبَاسًا
اور رات کو ہم نے پرده بنایا.[1]
حواشی
[1] یعنی رات کا اندھیرا اور سیاہی ہر چیز کو اپنے دامن میں چھپا لیتی ہے، جس طرح لباس انسان کے جسم کو چھپا لیتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 11
وَجَعَلْنَا ٱلنَّهَارَ مَعَاشًا
اور دن کو ہم نے وقت روزگار بنایا.[1]
حواشی
[1] مطلب ہے کہ دن کو روشن بنایا تاکہ لوگ کسب معاش کے لئے جد وجہد کر سکیں۔
آیت کے اختیارات
- 12
وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا
اور تمہارے اوپر ہم نے سات مضبوط آسمان بنائے.[1]
حواشی
[1] ان میں سے ہر ایک کا فاصلہ پانچ سو سال کی مسافت جتنا ہے، جو اس کے استحکام اور مضبوطی کی دلیل ہے۔
آیت کے اختیارات
- 13
وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَهَّاجًا
اور ایک روشن چراغ (سورج) بنایا.[1]
حواشی
[1] اس سے مراد سورج ہے اور جَعَلَ بمعنی خَلَقَ ہے۔
آیت کے اختیارات
- 14
وَأَنزَلْنَا مِنَ ٱلْمُعْصِرَٰتِ مَآءً ثَجَّاجًا
اور بدلیوں سے ہم نے بکثرت بہتا ہوا پانی برسایا.[1]
حواشی
[1] مُعْصِرَاتٌ وہ بدلیاں جو پانی سے بھری ہوئی ہے لیکن ابھی برسی نہ ہوں۔ جیسے الْمَرْأَةُ الْمُعْتَصِرَةُ، اس عورت کو کہتے ہیں جس کی ماہواری قریب ہو، ثَجَّاجًا کثرت سے بہنے والا پانی۔
آیت کے اختیارات
- 15
لِّنُخْرِجَ بِهِۦ حَبًّا وَنَبَاتًا
تاکہ اس سے اناج اور سبزه اگائیں.[1]
حواشی
[1] حَبٌّ ( دانا ) وہ اناج جسے خوراک کے لئے ذخیرہ کر لیا جاتا ہے، جیسے گندم، چاول، جو، مکئی وغیرہ اور نبات، سبزیاں اور چارہ وغیرہ جو جانور کھاتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 16
وَجَنَّـٰتٍ أَلْفَافًا
اور گھنے باغ (بھی اگائیں).[1]
حواشی
[1] أَلْفَافًا شاخوں کی کثرت کی وجہ سے ایک دوسرے سے ملے ہوئے درخت یعنی گھنے باغ۔
آیت کے اختیارات
- 17
إِنَّ يَوْمَ ٱلْفَصْلِ كَانَ مِيقَـٰتًا
بیشک فیصلہ کے دن کا وقت مقرر ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی اولین اور آخرین سب کے جمع ہونے اور وعدے کا دن۔ اسے فیصلے کا دن اس لئے کہا کہ اس دن جمع ہونے کا مقصد ہی تمام انسانوں کا ان کے اعمال کی روشنی میں فیصلہ کرنا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 18
يَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا
جس دن کہ صور میں پھونکا جائے گا۔ پھر تم فوج در فوج چلے آؤ گے.[1]
حواشی
[1] بعض نے اس کا مفہوم یہ بھی بیان کیا ہے کہ ہر امت اپنے رسول کے ساتھ میدان محشر میں آئے گی۔ یہ دوسرا نفخہ ہوگا، جس میں سب لوگ قبروں سے زندہ اٹھ کر نکل آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سےپانی نازل فرمائے گا، جس سے انسان کھیتی کی طرح اگ آئے گا۔ انسان کی ہر چیز بوسیدہ ہو جائے گی، سوائے ریڑھ کی ہڈی کے آخری سرے کے۔ اسی سے قیامت والے دن تمام مخلوقات کی دوبارہ ترکیب ہوگی۔ ( صحیح بخاری، تفسیر سورۂ عم ) ۔
آیت کے اختیارات
- 19
وَفُتِحَتِ ٱلسَّمَآءُ فَكَانَتْ أَبْوَٰبًا
اور آسمان کھول دیا جائے گا تو اس میں دروازے ہی دروازے ہو جائیں گے.[1]
حواشی
[1] یعنی فرشتوں کے نزول کے لئے راستے بن جائیں گے اور وہ زمین پر اتر آئیں گے۔
آیت کے اختیارات
- 20
وَسُيِّرَتِ ٱلْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا
اور پہاڑ چلائے جائیں گے پس وه سراب ہو جائیں گے.[1]
حواشی
[1] سَرَابٌ، وہ ریت جو دور سے پانی محسوس ہوتی ہو۔ پہاڑ بھی سراب کی طرح صرف دور سے نظر آنے والی چیز بن کر رہ جائیں گے۔ اور اس کے بعد بالکل ہی معدوم ہو جائیں گے، ان کا کوئی نشان باقی نہیں رہے گا۔ بعض کہتے ہیں کہ قرآن میں پہاڑوں کی مختلف حالتیں بیان کی گئی ہیں، جن میں جمع وتطبیق کی صورت یہ ہے کہ پہلے انہیں ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً ( الحاقة: 14 ) 2- وہ دھنی ہوئی روئی کی طرح ہو جائیں گے۔ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوشِ ( القارعة: 5) 3- وہ گرد وغبار ہو جائیں گے۔ فَكَانَتْ هَبَاءً مُنْبَثًّا ( الواقعة :6)۔ 4- ان کو اڑا دیا جائے گا يَنْسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا (طه:105) اور پانچویں حالت یہ ہے کہ وہ سراب ہو جائیں گے۔ یعنی لا شَيْءَ جیسا کہ اس مقام پر ہے۔ ( فتح القدیر ) ۔
آیت کے اختیارات
- 21
إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا
بیشک دوزخ گھات میں ہے.[1]
حواشی
[1] گھات ایسی جگہ کو کہتے ہیں، جہاں چھپ کر دشمن کا انتظار کیا جاتا ہے تاکہ وہاں سے گزرے تو فوراً اس پر حملہ کر دیا جائے۔ جہنم کے داروغے بھی جہنمیوں کے انتظار میں اسی طرح بیٹھے ہیں یا خود جہنم اللہ کے حکم سے کفار کے لئے گھات لگائے بیٹھی ہے۔
آیت کے اختیارات
- 22
لِّلطَّـٰغِينَ مَـَٔابًا
سرکشوں کا ٹھکانہ وہی ہے.
آیت کے اختیارات
- 23
لَّـٰبِثِينَ فِيهَآ أَحْقَابًا
اس میں وه مدتوں تک پڑے رہیں گے.[1]
حواشی
[1] أَحْقَابٌ ، حُقُبٌ کی جمع ہے، بمعنی زمانہ۔ مراد ابد اور ہمیشگی ہے۔ ابد الاباد تک وہ جہنم میں ہی رہیں گے۔ یہ سزا کافروں اور مشرکوں کے لئے ہے۔
آیت کے اختیارات
- 24
لَّا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًا
نہ کبھی اس میں خنکی کا مزه چکھیں گے، نہ پانی کا.
آیت کے اختیارات
- 25
إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا
سوائے گرم پانی اور (بہتی) پیپ کے.[1]
حواشی
[1] جو جہنمیوں کے جسموں سے نکلے گی۔
آیت کے اختیارات
- 26
جَزَآءً وِفَاقًا
(ان کو) پورا پورا بدلہ ملے گا.[1]
حواشی
[1] یعنی یہ سزا ان کے ان اعمال کےمطابق ہے جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 27
إِنَّهُمْ كَانُوا۟ لَا يَرْجُونَ حِسَابًا
انہیں تو حساب کی توقع ہی نہ تھی.[1]
حواشی
[1] یہ پہلے جملے کی تعلیل ہے۔ یعنی وہ مذکورہ سزا کے اس لئے مستحق قرار پائے کہ عقیدۂ بعث بعدالموت کے وہ قائل ہی نہیں تھے کہ حساب کتاب کی وہ امید رکھتے۔
آیت کے اختیارات
- 28
وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا كِذَّابًا
اور بے باکی سے ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے.
آیت کے اختیارات
- 29
وَكُلَّ شَىْءٍ أَحْصَيْنَـٰهُ كِتَـٰبًا
ہم نے ہر ایک چیز کو لکھ کر شمار کر رکھا ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی لوح محفوظ میں۔ یا وہ ریکارڈ مراد ہے جو فرشتے لکھتے رہے۔ پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا وَكُلَّ شَيْءٍ أحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُبِينٍ ( يس:12) ۔
آیت کے اختیارات
- 30
فَذُوقُوا۟ فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا
اب تم (اپنے کیے کا) مزه چکھو ہم تمہارا عذاب ہی بڑھاتے رہیں گے.[1]
حواشی
[1] عذاب بڑھانے کا مطلب ہے کہ اب یہ عذاب دائمی ہے۔ جب ان کے چمڑے گل جائیں گے تو دوسرے بدل دیئے جائیں گے۔ ( النساء:56 ) جب آگ بجھنے لگے گی، تو پھر بھڑ کا دی جائے گی۔ بنی اسرائیل:97)۔
آیت کے اختیارات
- 31
إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا
یقیناً پرہیزگار لوگوں کے لئے کامیابی ہے.[1]
حواشی
[1] اہل شقاوت کےتذکرے کے بعد، یہ اہل سعادت کا تذکرہ اور ان نعمتوں کا بیان ہے جن سے حیات اخروی میں وہ بہرہ ور ہوں گے۔ یہ کامیابی اور نعمتیں انہیں تقویٰ کی بدولت حاصل ہوں گی۔ تقویٰ ، ایمان واطاعت کے تقاضوں کی تکمیل کا نام ہے، خوش قسمت ہیں وہ لوگ، جو ایمان لانے کے بعد تقویٰ اور عمل صالح کا اہتمام کرتے ہیں۔ جَعَلَنَا اللهُ مِنْهُمْ ۔
آیت کے اختیارات
- 32
حَدَآئِقَ وَأَعْنَـٰبًا
باغات ہیں اور انگور ہیں.[1]
حواشی
[1] یہ مفازاً سے بدل ہے ۔
آیت کے اختیارات
- 33
وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا
اور نوجوان کنواری ہم عمر عورتیں ہیں.[1]
حواشی
[1] كَوَاعِبَ كَاعِبةٌ کی جمع ہے، یہ كَعْبٌ ( ٹخنہ ) سے ہے، جس طرح ٹخنہ ابھرا ہوا ہوتا ہے، ان کی چھاتیوں میں بھی ایسا ہی ابھار ہوگا، جو ان کے حسن وجمال کا ایک مظہر ہے۔ أَتْرَابٌ ہم عمر۔
آیت کے اختیارات
- 34
وَكَأْسًا دِهَاقًا
اور چھلکتے ہوئے جام ہیں.[1]
حواشی
[1] دِهَاقًا، بھرے ہوئے، یا لگاتار، ایک کے بعد ایک۔ یا صاف شفاف۔ كَأْسٌ، ایسے جام کو کہتے ہیں جو لبالب بھرا ہوا ہو۔
آیت کے اختیارات
- 35
لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّٰبًا
وہاں نہ تو وه بیہوده باتیں سنیں گے اور نہ جھوٹی باتیں سنیں گے.[1]
حواشی
[1] یعنی کوئی بے فائدہ اور بے ہودہ بات وہاں نہیں ہوگی، نہ ایک دوسرے سے جھوٹ بولیں گے۔
آیت کے اختیارات
- 36
جَزَآءً مِّن رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًا
(ان کو) تیرے رب کی طرف سے (ان کے نیک اعمال کا)یہ بدلہ ملے گا جو کافی انعام ہوگا.[1]
حواشی
[1] عَطَاءً کے ساتھ حِسَابٌ مبالغے کے لئے آتا ہے، یعنی اللہ کی داد ودہش کی وہاں فراوانی ہوگی۔
آیت کے اختیارات
- 37
رَّبِّ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ٱلرَّحْمَـٰنِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خِطَابًا
(اس رب کی طرف سے ملے گا جو کہ) آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا پروردگار ہے اور بڑی بخشش کرنے واﻻ ہے۔ کسی کو اس سے بات چیت کرنے کا اختیار نہیں ہوگا.[1]
حواشی
[1] یعنی اس کی عظمت، ہیبت اور جلالت اتنی ہوگی کہ ابتداءً اس سےکسی کو بات کرنے کی ہمت نہ ہوگی، اسی لئے اس کی اجازت کے بغیر کوئی شفاعت کے لئے بھی لب کشائی نہیں کر سکے گا۔
آیت کے اختیارات
- 38
يَوْمَ يَقُومُ ٱلرُّوحُ وَٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا
جس دن روح اور فرشتے صفیں باندھ کر کھڑے ہوں گے[1] تو کوئی کلام نہ کر سکے گا مگر جسے رحمٰن اجازت دے دے اور وه ٹھیک بات زبان سے نکالے.[2]
حواشی
[1] یہاں جبرائیل (عليه السلام) سمیت رُوحٌ کے کئی مفہوم بیان کئے گئے ہیں، امام ابن کثیر نے بنو آدم ( انسان ) کو اشبہ ( قرین قیاس ) قرار دیا ہے۔ [2] یہ اجازت اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کو اور اپنے پیغمبروں کو عطا فرمائے گا اور وہ جو بات کریں گی حق وصواب ہی ہوگی، یا یہ مفہوم ہے کہ، اجازت صرف اسی کےبارے میں دی جائے گی جس نے درست بات کہی ہو۔ یعنی کلمہ توحید کا اقراری رہا ہو۔
آیت کے اختیارات
- 39
ذَٰلِكَ ٱلْيَوْمُ ٱلْحَقُّ ۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ مَـَٔابًا
یہ دن حق ہے[1] اب جو چاہے اپنے رب کے پاس (نیک اعمال کر کے) ٹھکانا بنالے.[2]
حواشی
[1] یعنی لا محالہ آنے والا ہے۔ [2] یعنی اس آنے والے دن کو سامنےرکھتے ہوئے ایمان وتقویٰ کی زندگی اختیار کرے تاکہ اس روز وہاں اس کو اچھا ٹھکانہ مل جائے۔
آیت کے اختیارات
- 40
إِنَّآ أَنذَرْنَـٰكُمْ عَذَابًا قَرِيبًا يَوْمَ يَنظُرُ ٱلْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ وَيَقُولُ ٱلْكَافِرُ يَـٰلَيْتَنِى كُنتُ تُرَٰبًۢا
ہم نے تمہیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرا دیا (اور چوکنا کر دیا) ہے[1] ۔ جس دن انسان اپنے ہاتھوں کی کمائی کو دیکھ لے گا[2] اور کافر کہے گا کہ کاش! میں مٹی ہو جاتا.[3]
حواشی
[1] یعنی قیامت والے دن کے عذاب سے جو قریب ہی ہے۔ کیوں کہ اس کا آنا یقینی ہے اور ہر آنے والے چیز قریب ہی ہے، کیونکہ بہر صورت اسے آکر ہی رہنا ہے۔ [2] یعنی اچھا یا برا، جو عمل بھی اس نے دنیا میں کیا وہ اللہ کے ہاں پہنچ گیا ہے، قیامت والے دن وہ اس کے سامنے آجائے گا اور اس کا مشاہدہ کر لے گا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا (الكهف ،49) يُنَبَّأُ الإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ ( القيامة ،13) ۔ [3] یعنی جب وہ اپنے لئے ہولناک عذاب دیکھے گا تو یہ آرزو کرے گا۔ بعض کہتے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ حیوانات کے درمیان بھی عدل وانصاف کے مطابق فیصلہ فرمائے گا، حتیٰ کہ ایک سینگ والی بکری نے بے سینگ کے جانور پر کوئی زیادتی کی ہوگی، تو اس کا بھی بدلہ دلائے گا اس سے فراغت کے بعد اللہ تعالیٰ جانوروں کو حکم دے گا کہ مٹی ہو جاو۔ چنانچہ وہ مٹی ہو جائیں گے۔ اس وقت کافر بھی آرزو کریں گے کہ کاش وہ بھی حیوان ہوتے اور آج مٹی بن جاتے۔ ( تفسیر ابن کثیر ) ۔
آیت کے اختیارات
النازعات
نازعات
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ نازعات
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
وَٱلنَّـٰزِعَـٰتِ غَرْقًا
ڈوب کر سختی سے کھینچنے والوں کی قسم![1]
حواشی
[1] نَزْعٌ کے معنی، سختی سے کھینچنا، غَرْقًا ڈوب کر۔ یہ جان نکالنے والے فرشتوں کی صفت ہے فرشتے کافروں کی جان، نہایت سختی سے نکالتے ہیں اور جسم کے اندر ڈوب کر۔
آیت کے اختیارات
- 2
وَٱلنَّـٰشِطَـٰتِ نَشْطًا
بند کھول کر چھڑا دینے والوں کی قسم![1]
حواشی
[1] نَشْطٌ کے معنی، گرہ کھول دینا، یعنی مومن کی جان فرشتے بہ سہولت نکالتے ہیں، جیسے کسی چیز کی گرہ کھول دی جائے۔
آیت کے اختیارات
- 3
وَٱلسَّـٰبِحَـٰتِ سَبْحًا
اور تیرنے پھرنے والوں کی قسم![1]
حواشی
[1] سَبْحٌ کے معنی، تیرنا، فرشتے روح نکالنے کے لئے انسان کے بدن میں اس طرح تیرتے پھرتے ہیں جیسے غواص سمندر سےموتی نکالنے کے لئے سمندر کی گہرائیوں میں تیرتا ہے۔ یا مطلب ہے کہ نہایت تیزی سے اللہ کا حکم لے کر آسمان سے اترتے ہیں۔ کیونکہ تیز رو گھوڑے کو بھی سابح کہتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 4
فَٱلسَّـٰبِقَـٰتِ سَبْقًا
پھر دوڑ کر آگے بڑھنے والوں کی قسم![1]
حواشی
[1] یہ فرشتے اللہ کی وحی، انبیا تک، دوڑ کر پہنچاتے ہیں تاکہ شیطان کو اس کی کوئی سن گن نہ ملے۔ یا مومنوں کی روحیں جنت کی طرف لے جانے میں نہایت سرعت سے کام لیتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 5
فَٱلْمُدَبِّرَٰتِ أَمْرًا
پھر کام کی تدبیر کرنے والوں کی قسم![1]
حواشی
[1] یعنی اللہ تعالیٰ جو کام ان کے سپرد کرتا ہے، وہ اس کی تدبیر کرتے ہیں اصل مدبر تو اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنی حکمت بالغہ کے تحت فرشتوں کے ذریعے سے کام کرواتا ہے تو انہیں بھی مدبر کہہ دیا جاتا ہے۔ اعتبار سے پانچوں صفات فرشتوں کی ہیں اور ان فرشتوں کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے۔ جواب قسم محذوف ہے یعنی لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ (تم ضرور زندہ کیے جاؤ گے اور تمہیں تمہارے عملوں کی بابت خبر دی جائے گی)۔ قرآن نے اس بعث وجزاء کے لئے کئی مواقع پر قسم کھالی ہے جیسے سورۂ تغابں: 7 میں بھی اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر مذکورہ الفاظ میں اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے۔ یہ بعث وجزا کب ہوگی؟ اس کی وضاحت آگے فرمائی۔
آیت کے اختیارات
- 6
يَوْمَ تَرْجُفُ ٱلرَّاجِفَةُ
جس دن کانپنے والی کانپے گی.[1]
حواشی
[1] یہ نفخۂ اولیٰ ہے جسے نفخۂ فنا کہتے ہیں، جس سے ساری کائنات کانپ اور لرز اٹھے گی اور ہر چیز فنا ہو جائے گی۔
آیت کے اختیارات
- 7
تَتْبَعُهَا ٱلرَّادِفَةُ
اس کے بعد ایک پیچھے آنے والی (پیچھے پیچھے) آئے گی.[1]
حواشی
[1] یہ دوسرا نفخہ ہوگا، جس سے سب لوگ زندہ ہو کر قبروں سے نکل آئیں گے۔ یہ دوسرا نفخہ پہلے نفخہ سےچالیس سال بعد ہوگا۔ اسے رَادِفَةٌ اس لئےکہا ہے کہ یہ پہلے نفخے کے بعد ہی ہوگا۔ یعنی نفخۂ ثانیہ، نفخۂ اولیٰ کا ردیف ہے۔
آیت کے اختیارات
- 8
قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ
(بہت سے) دل اس دن دھڑکتے ہوں گے.[1]
حواشی
[1] قیامت کےاہوال اور شدائد سے۔
آیت کے اختیارات
- 9
أَبْصَـٰرُهَا خَـٰشِعَةٌ
جن کی نگاہیں نیچی ہوں گی.[1]
حواشی
[1] یعنی أَبْصَارُ أَصْحَابِهَا، ایسے دہشت زدہ لوگوں کی نظریں بھی ( مجرموں کی طرح ) جھکی ہوئی ہوں گی۔
آیت کے اختیارات
- 10
يَقُولُونَ أَءِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِى ٱلْحَافِرَةِ
کہتے ہیں کہ کیا ہم پہلی کی سی حالت کی طرف پھر لوٹائے جائیں گے؟[1]
حواشی
[1] حَافِرَةٌ، پہلی حالت کو کہتے ہیں۔ یہ منکریں قیامت کا قول ہے کہ کیا ہم پھر اس طرح زندہ کر دیئے جائیں گےجس طرح مرنے سے پیشتر تھے؟
آیت کے اختیارات
- 11
أَءِذَا كُنَّا عِظَـٰمًا نَّخِرَةً
کیا اس وقت جب کہ ہم بوسیده ہڈیاں ہو جائیں گے؟[1]
حواشی
[1] یہ انکار قیامت کی مزید تاکید ہے کہ ہم کس طرح زندہ کردیئےجائیں گے جب کہ ہماری ہڈیاں بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گی۔
آیت کے اختیارات
- 12
قَالُوا۟ تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ
کہتے ہیں کہ پھر تو یہ لوٹنا نقصان ده ہے[1]
حواشی
[1] یعنی اگر واقعی ایسا ہوا جیسا کہ محمد ( (صلى الله عليه وسلم) ) کہتاہے، پھر تو یہ دوبارہ زندگی ہمارے لئے سخت نقصان دہ ہوگی۔
آیت کے اختیارات
- 13
فَإِنَّمَا هِىَ زَجْرَةٌ وَٰحِدَةٌ
(معلوم ہونا چاہئے) وه تو صرف ایک (خوفناک) ڈانٹ ہے.
آیت کے اختیارات
- 14
فَإِذَا هُم بِٱلسَّاهِرَةِ
کہ (جس کے ظاہر ہوتے ہی) وه ایک دم میدان میں جمع ہو جائیں گے.[1]
حواشی
[1] سَاهِرَةٌ سےمراد زمین کی سطح یعنی میدان ہے۔ سطح زمین کو سَاهِرَةٌ اس لئےکہا گیا ہے کہ تمام جانداروں کا سونا اور بیدار ہونا، اسی زمین پر ہوتا ہے، بعض کہتے ہیں کہ چٹیل میدانوں اور صحراوں میں خوف کی وجہ سےانسان کی نیند اڑ جاتی ہےاور وہاں بیدار رہتاہے، اس لئے سَاهِرَةٌ کہا جاتا ہے۔ ( فتح القدیر ) بہرحال یہ قیامت کی منظر کشی ہے کہ ایک ہی نفخے سے سب لوگ ایک میدان میں جمع ہو جائیں گے۔
آیت کے اختیارات
- 15
هَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ مُوسَىٰٓ
کیا موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر تمہیں پہنچی ہے؟
آیت کے اختیارات
- 16
إِذْ نَادَىٰهُ رَبُّهُۥ بِٱلْوَادِ ٱلْمُقَدَّسِ طُوًى
جب کہ انہیں ان کے رب نے پاک میدان طویٰ میں پکارا.[1]
حواشی
[1] یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ (عليه السلام) مدین سے واپس آگ کی تلاش میں کوہ طور پر پہنچ گئے تھے تو وہاں ایک درخت کی اوٹ سے اللہ تعالیٰ نےموسیٰ (عليه السلام) سے کلام فرمایا، جیسا کہ اس کی تفصیل سورۂ طہ کے آغاز میں گزری طُوَى اسی جگہ کا نام ہے، ہم کلامی کا مطلب نبوت ورسالت سےنوازنا ہے۔ یعنی موسیٰ (عليه السلام) آگ لینے گئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں رسالت عطا فرما دی۔
آیت کے اختیارات
- 17
ٱذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ
(کہ) تم فرعون کے پاس جاؤ اس نے سرکشی اختیار کر لی ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی کفر ومعصیت اور تکبر میں حد سےتجاوز کر گیا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 18
فَقُلْ هَل لَّكَ إِلَىٰٓ أَن تَزَكَّىٰ
اس سے کہو کہ کیا تو اپنی درستگی اور اصلاح چاہتا ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی کیا ایسا راستہ اور طریقہ تو پسندکرتا ہےجس سے تیری اصلاح ہو جائے اور وہ یہ ہے کہ مسلمان اور مطیع ہو جا۔
آیت کے اختیارات
- 19
وَأَهْدِيَكَ إِلَىٰ رَبِّكَ فَتَخْشَىٰ
اور یہ کہ میں تجھے تیرے رب کی راه دکھاؤں تاکہ تو (اس سے) ڈرنے لگے.[1]
حواشی
[1] یعنی اس کی توحید اور عبادت کا راستہ، تاکہ تو اس کے عقاب سے ڈرے۔ اس لئے کہ اللہ کا خوف اسی دل میں پیدا ہوتا ہے جو ہدایت پر چلنے والا ہوتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 20
فَأَرَىٰهُ ٱلْـَٔايَةَ ٱلْكُبْرَىٰ
پس اسے بڑی نشانی دکھائی.[1]
حواشی
[1] یعنی اپنی صداقت کے وہ دلائل پیش کئے جو اللہ کی طرف سے انہیں عطا کئے گئے تھے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو دیئے گئے تھے۔ مثلاً ید بیضا اور عصا اور بعض کے نزدیک آیات تسعہ۔
آیت کے اختیارات
- 21
فَكَذَّبَ وَعَصَىٰ
تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی.[1]
حواشی
[1] لیکن ان دلائل ومعجزات کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا اور تکذیب ونافرمانی کےراستے پر وہ گامزن رہا۔
آیت کے اختیارات
- 22
ثُمَّ أَدْبَرَ يَسْعَىٰ
پھر پلٹا دوڑ دھوپ کرتے ہوئے.[1]
حواشی
[1] یعنی اس نے ایمان واطاعت سےاعراض ہی نہیں کیا بلکہ زمین میں فساد پھیلانے اور موسیٰ (عليه السلام) کا مقابلہ کرنے کی سعی کرتا رہا، چنانچہ جادوگروں کو جمع کرکے ان کا مقابلہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) سےکرایا، تاکہ موسیٰ (عليه السلام) کو جھوٹا ثابت کیا جا سکے۔
آیت کے اختیارات
- 23
فَحَشَرَ فَنَادَىٰ
پھر سب کو جمع کرکے پکارا.[1]
حواشی
[1] اپنی قوم کو، یا قتال ومحاربہ کے لئے اپنے لشکروں کو، یا جادوگروں کو مقابلے کے لئے جمع کیا اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ربوبیت اعلیٰ کا علان کیا۔
آیت کے اختیارات
- 24
فَقَالَ أَنَا۠ رَبُّكُمُ ٱلْأَعْلَىٰ
تم سب کا رب میں ہی ہوں.
آیت کے اختیارات
- 25
فَأَخَذَهُ ٱللَّهُ نَكَالَ ٱلْـَٔاخِرَةِ وَٱلْأُولَىٰٓ
تو (سب سے بلند وباﻻ) اللہ نے بھی اسے آخرت کے اور دنیا کے عذاب میں گرفتار کرلیا.[1]
حواشی
[1] یعنی اللہ نے اس کی ایسی گرفت فرمائی کہ اسے دنیا میں آئندہ آنے والے متمردین کےلئے نشان عبرت بنا دیا اور قیامت کا عذاب اس کےعلاوہ ہے، جو اسے وہاں ملے گا۔
آیت کے اختیارات
- 26
إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَىٰٓ
بیشک اس میں اس شخص کے لئے عبرت ہے جو ڈرے.[1]
حواشی
[1] اس میں نبی (صلى الله عليه وسلم) کےلئے تسلی اور کفار مکہ کو تنبیہ ہے کہ اگر انہوں نےگزشتہ لوگوں کے واقعات سے عبرت نہ پکڑی تو ان کا انجام بھی فرعون کی طرح ہو سکتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 27
ءَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ ٱلسَّمَآءُ ۚ بَنَىٰهَا
کیا تمہارا پیدا کرنا زیاده دشوار ہے یا آسمان کا[1] ؟ اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا.
حواشی
[1] یہ کفار مکہ کو خطاب ہے اور مقصود زجر وتوبیخ ہے کہ جو اللہ اتنے بڑے آسمانوں اور ان کے عجائبات کو پیدا کر سکتا ہے، اس کے لئے تمہارا دوبارہ پیدا کرنا کون سا مشکل ہے۔ کیا تمہیں دوبارہ پیدا کرنا آسمان کے بنانے سے زیادہ مشکل ہے؟
آیت کے اختیارات
- 28
رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّىٰهَا
اس کی بلندی اونچی کی پھر اسے ٹھیک ٹھاک کر دیا.[1]
حواشی
[1] بعض نے سَمْكٌ کےمعنی چھت بھی کیے ہیں، ٹھیک ٹھاک کرنے کا مطلب، اسےایسی شکل وصورت میں ڈھالنا ہے کہ جس میں کوئی تفاوت، کجی، شگاف اور خلل باقی نہ رہے۔
آیت کے اختیارات
- 29
وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَىٰهَا
اسکی رات کو تاریک بنایا اور اس کے دن کو نکالا.[1]
حواشی
[1] أَغْطَشَ أَظْلَمَ أَخْرَجَ کا مطلب أَبْرَز َ اور نَهَارَهَا کی جگہ ضُحَاهَا اس لئے کہا کہ چاشت کا وقت سب سےاچھا اور عمدہ ہے۔ مطلب ہے کہ دن کو سورج کے ذریعے سے روشن بنایا۔
آیت کے اختیارات
- 30
وَٱلْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَىٰهَآ
اور اس کے بعد زمین کو (ہموار) بچھا دیا.[1]
حواشی
[1] یہ حم السجدۃ:9 میں گزر چکا ہے کہ خَلَقَ ( پیدائش ) اور چیز ہے اور دَحَى( ہموار کرنا ) اور چیز ہے۔ زمین کی تخلیق آسمان سے پہلی ہوئی لیکن اس کو ہموار آسمان کی پیدائش کے بعد کیا گیا ہےاور یہاں اسی حقیقت کا بیان ہے۔ اور ہموار کرنے یا پھیلانے کا مطلب ہے کہ زمین کو رہائش کےقابل بنانے کے لئے جن جن چیزوں کی ضرورت ہے اللہ نے ان کا اہتمام فرمایا، مثلاً زمین سے پانی نکالا، اس میں چارہ اور خوراک پیدا کی، پہاڑوں کو میخوں کی طرح مضبوط گاڑ دیا تاکہ زمین نہ ہلے۔ جیسا کہ یہاں بھی آگے یہی بیان ہے۔
آیت کے اختیارات
- 31
أَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَمَرْعَىٰهَا
اس میں سے پانی اور چاره نکالا.
آیت کے اختیارات
- 32
وَٱلْجِبَالَ أَرْسَىٰهَا
اور پہاڑوں کو (مضبوط) گاڑ دیا.
آیت کے اختیارات
- 33
مَتَـٰعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَـٰمِكُمْ
یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لئے (ہیں).
آیت کے اختیارات
- 34
فَإِذَا جَآءَتِ ٱلطَّآمَّةُ ٱلْكُبْرَىٰ
پس جب وه بڑی آفت (قیامت) آجائے گی.
آیت کے اختیارات
- 35
يَوْمَ يَتَذَكَّرُ ٱلْإِنسَـٰنُ مَا سَعَىٰ
جس دن کہ انسان اپنے کیے ہوئے کاموں کو یاد کرے گا.
آیت کے اختیارات
- 36
وَبُرِّزَتِ ٱلْجَحِيمُ لِمَن يَرَىٰ
اور (ہر) دیکھنے والے کے سامنے جہنم ظاہر کی جائے گی.[1]
حواشی
[1] یعنی کافروں کے سامنے کر دی جائے گی تاکہ وہ دیکھ لیں کہ اب ان کا دائمی ٹھکانہ جہنم ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ مومن اور کافر دونوں ہی اسے دیکھیں گے، مومن اسےدیکھ کر اللہ کا شکر کریں گے کہ اس نے ایمان اور اعمال صالحہ کی بدولت انہیں اس سے بچا لیا، اور کافر، جو پہلے ہی خوف ودہشت میں مبتلا ہوں گے، اسے دیکھ کر ان کے غم وحسرت میں اور اضافہ ہو جائے گا۔
آیت کے اختیارات
- 37
فَأَمَّا مَن طَغَىٰ
تو جس (شخص) نے سرکشی کی (ہوگی).[1]
حواشی
[1] یعنی کفر ومعصیت میں حد سے تجاوز کیاہوگا۔
آیت کے اختیارات
- 38
وَءَاثَرَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا
اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی (ہوگی).[1]
حواشی
[1] یعنی دنیا کو ہی سب کچھ سمجھا ہوگا اور آخرت کے لئے کوئی تیاری نہیں کی ہوگی۔
آیت کے اختیارات
- 39
فَإِنَّ ٱلْجَحِيمَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ
اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے.[1]
حواشی
[1] اس کےعلاوہ اس کا کوئی ٹھکانا نہیں ہوگا۔ جہاں وہ اس سے بچ کر پناہ لے لے۔
آیت کے اختیارات
- 40
وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفْسَ عَنِ ٱلْهَوَىٰ
ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے[1] سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا.[2]
حواشی
[1] کہ اگر میں نے گناہ اور اللہ کی نافرمانی کی تو مجھے اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا، اس لئے وہ گناہوں سے اجتناب کرتا رہا ہو۔ [2] یعنی نفس کو ان معاصی اور محارم کے ارتکاب سے روکتا رہا ہو جن کی طرف نفس کا میلان ہوتا تھا۔
آیت کے اختیارات
- 41
فَإِنَّ ٱلْجَنَّةَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ
تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے.[1]
حواشی
[1] جہاں وہ قیام پذیر، بلکہ اللہ کا مہمان ہوگا۔
آیت کے اختیارات
- 42
يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَىٰهَا
لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کا وقت دریافت کرتے ہیں.[1]
حواشی
[1] یعنی قیامت کب واقع اور قائم ہوگی ؟ جس طرح کشتی اپنے آخری مقام پر پہنچ کر لنگر انداز ہوتی ہے اسی طرح قیامت کے وقوع کا صحیح وقت کیا ہے؟
آیت کے اختیارات
- 43
فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَىٰهَآ
آپ کو اس کے بیان کرنے سے کیا تعلق؟[1]
حواشی
[1] یعنی آپ کو اس کی بابت یقینی علم نہیں ہے، اس لئے آپ کا اس کو بیان کرنے سے کیا تعلق؟ اس کا یقینی علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔
آیت کے اختیارات
- 44
إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَىٰهَآ
اس کے علم کی انتہا تو اللہ کی جانب ہے.
آیت کے اختیارات
- 45
إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخْشَىٰهَا
آپ تو صرف اس سے ڈرتے رہنے والوں کو آگاه کرنے والے ہیں.[1]
حواشی
[1] یعنی آپ کا کام صرف انذار ( ڈرانا ) ہے، نہ کہ غیب کی خبریں دینا، جن میں قیامت کا علم بھی ہے جو اللہ نے کسی کو بھی نہیں دیا۔ مَنْ يَخْشَاهَا اس لئے کہا کہ انذار وتبلیغ سے اصل فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جن کے دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے، ورنہ انذار وتبلیغ کا حکم تو ہر ایک کے لئےہے۔
آیت کے اختیارات
- 46
كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَىٰهَا
جس روز یہ اسے دیکھ لیں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ صرف دن کا آخری حصہ یا اول حصہ ہی (دنیا میں) رہے ہیں.[1]
حواشی
[1] عَشِيَّةً، ظہر سے لے کر غروب شمس تک اور ضحیٰ، طلوع شمس سے نصف النہار تک کے لئے بولا جاتا ہے۔ یعنی جب کافر جہنم کا عذاب دیکھیں گے تو دنیا کی عیش وعشرت اور اس کےمزے سب بھول جائیں گے اور انہیں ایسا محسوس ہوگا کہ وہ دنیا میں پورا ایک دن بھی نہیں رہے۔ دن کا پہلا حصہ یا دن کا آخری حصہ ہی صرف دنیا میں رہے ہیں یعنی دنیا کی زندگی، انہیں اتنی قلیل معلوم ہوگی۔
آیت کے اختیارات
عبس
عبس
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ عبس
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
عَبَسَ وَتَوَلَّىٰٓ
وه ترش رو ہوا اور منھ موڑ لیا.
آیت کے اختیارات
- 2
أَن جَآءَهُ ٱلْأَعْمَىٰ
(صرف اس لئے) کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا.[1]
حواشی
[1] ابن ام مکتوم سےنبی (صلى الله عليه وسلم) کے چہرے پر جو ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے، اسے عَبَسَ سے اور توجہی کو تَوَلَّى ٰ سے تعبیر فرمایا۔
آیت کے اختیارات
- 3
وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُۥ يَزَّكَّىٰٓ
تجھے کیا خبر شاید وه سنور جاتا.[1]
حواشی
[1] یعنی وہ نابینا تجھ سے دینی رہنمائی حاصل کرکے عمل صالح کرتا جس سے اس کا اخلا ق وکردار سنور جاتا، اس کے باطن کی اصلاح ہو جاتی اور تیری نصیحت سننے سے اس کو فائدہ ہوتا۔
آیت کے اختیارات
- 4
أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ ٱلذِّكْرَىٰٓ
یا نصیحت سنتا اور اسے نصیحت فائده پہنچاتی.
آیت کے اختیارات
- 5
أَمَّا مَنِ ٱسْتَغْنَىٰ
جو بے پرواہی کرتا ہے.[1]
حواشی
[1] ایمان سے اور اس علم سے جو تیرے پاس اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ یا دوسرا ترجمہ ہے جو صاحب ثروت وغنا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 6
فَأَنتَ لَهُۥ تَصَدَّىٰ
اس کی طرف تو تو پوری توجہ کرتا ہے.[1]
حواشی
[1] اس میں آپ (صلى الله عليه وسلم) کو مزید توجہ دلائی گئی ہے کہ مخلصین کو چھوڑ کر معرضین کی طرف توجہ مبذول رکھنا صحیح بات نہیں ہے۔
آیت کے اختیارات
- 7
وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّىٰ
حاﻻنکہ اس کے نہ سنورنے سے تجھ پر کوئی الزام نہیں.[1]
حواشی
[1] کیوں کہ تیرا کام تو صرف تبلیغ ہے۔ اس لئے اس قسم کے کفار کے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔
آیت کے اختیارات
- 8
وَأَمَّا مَن جَآءَكَ يَسْعَىٰ
اور جو شخص تیرے پاس دوڑتا ہوا آتا ہے.[1]
حواشی
[1] اس بات کا طالب بن کر کہ تو خیر کی طرف اس کی رہنمائی کرے اور اسے وعظ ونصیحت سے نوازے۔
آیت کے اختیارات
- 9
وَهُوَ يَخْشَىٰ
اور وه ڈر (بھی) رہا ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی اللہ کا خوف بھی اس کے دل میں ہے، جس کی وجہ سے یہ امید ہے کہ تیری باتیں اس کےلئے مفید ہوں گی اور وہ ان کو اپنائے گا اور ان پر عمل کرے گا۔
آیت کے اختیارات
- 10
فَأَنتَ عَنْهُ تَلَهَّىٰ
تو اس سے بےرخی برتتا ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی ایسے لوگوں کی تو قدر افزائی کی ضرورت ہے نہ کہ ان سے بےرخی برتنے کی۔ ان آیات سے یہ بات معلوم ہوئی کہ دعوت وتبلیغ میں کسی کو خاص نہیں کرنا چاہئے بلکہ اصحاب حیثیت اور بےحیثیت، امیر اور غریب، آقا وغلام، مرد اور عورت، چھوٹے اور بڑے سب کو یکساں حیثیت دی جائے اور سب کو مشترکہ خطاب کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا اپنی حکمت بالغہ کے تحت، ہدایت سے نواز دے گا۔ ( ابن کثیر ) ۔
آیت کے اختیارات
- 11
كَلَّآ إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ
یہ ٹھیک نہیں[1] قرآن تو نصیحت (کی چیز) ہے.
حواشی
[1] یعنی غریب سے یہ اعراض اور اصحاب حیثیت کی طرف خصوصی توجہ، یہ ٹھیک نہیں۔ مطلب ہے کہ آئندہ اس کا اعادہ نہ ہو۔
آیت کے اختیارات
- 12
فَمَن شَآءَ ذَكَرَهُۥ
جو چاہے اس سے نصیحت لے.[1]
حواشی
[1] یعنی جو اس میں رغبت کرے، وہ اس سے نصیحت حاصل کرے، اسے یاد کرے اور اس کے موجبات پر عمل کرے۔ اور جو اس اعراض سے کرے اور بے رخی برتے، جیسے اشراف قریش نے کیا، تو ان کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
آیت کے اختیارات
- 13
فِى صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ
(یہ تو) پر عظمت صحیفوں میں (ہے).[1]
حواشی
[1] یعنی لوح محفوظ میں، کیوں کہ وہیں سے یہ قرآن اترتا ہے۔ یا مطلب ہے کہ یہ صحیفے اللہ کے ہاں بڑےمحترم ہیں کیوں کہ وہ علم وحکمت سے پر ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 14
مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ
جو بلند وباﻻ اور پاک صاف ہے.[1]
حواشی
[1] مَرْفُوعَةٍ اللہ کے ہاں رفیع القدر ہیں، یا شبہات اور تناقض سے بلند ہیں۔ مُطَهَّرَةٍ، وہ بالکل پاک ہیں کیوں کہ انہیں پاک لوگوں ( فرشتوں ) کے سوا کوئی چھوتا ہی نہیں، یا کمی بیشی سے پاک ہے۔
آیت کے اختیارات
- 15
بِأَيْدِى سَفَرَةٍ
ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہے.[1]
حواشی
[1] سَفَرَةٍ، سَافِرٌ کی جمع ہے، یہ سفارت سے ہے۔ مراد یہاں وہ فرشتے ہیں جو اللہ کی وحی اس کےرسولوں تک پہنچاتے ہیں۔ یعنی اللہ اور اس کےرسول کے درمیان سفارت کا کام کرتے ہیں۔ یہ قرآن ایسے سفیروں کے ہاتھوں میں ہےجو اسے لوح محفوظ سے نقل کرتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 16
كِرَامٍۭ بَرَرَةٍ
جو بزرگ اور پاکباز ہیں.[1]
حواشی
[1] یعنی خلق کے اعتبار سے وہ کریم یعنی شریف اور بزرگ ہیں اور افعال کے اعتبار سے وہ نیکو کار اور پاکباز ہیں۔ یہاں سے یہ بات معلوم ہوئی کہ حامل قرآن ( حافظ اور عالم ) کو بھی اخلاق وکردار اور افعال واطوار میں كِرَامٍ بَرَرَةٍ کا مصداق ہونا چاہئے۔ (ابن کثیر) حدیث میں بھی سَفَرَةٍ کا لفظ فرشتوں کے لئے استعمال ہوا ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا جو قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس کا ماہر ہے، وہ السَّفَرَةُ الكِرَامُ الْبَرَرَةُ ( فرشتوں ) کے ساتھ ہوگا اور جو قرآن پڑھتا ہے، لیکن مشقت کےساتھ۔ ( یعنی ماہرین کی طرح سہولت اور روانی سےنہیں پڑھتا ) اس کے لئے دوگنا اجر ہے۔ (صحيح بخاري، تفسير سورة عبس مسلم، كتاب الصلاة، باب فضل الماهر بالقرآن....)۔
آیت کے اختیارات
- 17
قُتِلَ ٱلْإِنسَـٰنُ مَآ أَكْفَرَهُۥ
اللہ کی مار انسان پر کیسا ناشکرا ہے.[1]
حواشی
[1] اس سے وہ انسان مراد ہے جو بغیر کسی سند اور دلیل کے قیامت کی تکذیب کرتا ہے۔ قُتِلَ بمعنی لُعِنَ اور مَا أَكْفَرَهُ ! فعل تعجب ہے، کس قدر ناشکرا ہے۔ آگے اس انسان کفور کو غور وفکر کی دعوت دی جا رہی ہے کہ شاید وہ اپنے کفر سے باز آجائے۔
آیت کے اختیارات
- 18
مِنْ أَىِّ شَىْءٍ خَلَقَهُۥ
اسے اللہ نے کس چیز سے پیدا کیا.
آیت کے اختیارات
- 19
مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُۥ فَقَدَّرَهُۥ
اسے) ایک نطفہ[1] سے پیدا کیا،پھراس کا اندازہ مقررکیا .[2]
حواشی
[1] یعنی جس کی پیدائش ایسے حقیر قطرۂ آب سے ہوئی ہے، کیا اسے تکبر زیب دیتا ہے؟ [2] اس کا مطلب ہے کہ اس کے مصالح نفس اسے مہیا کیے، اس کو دو ہاتھ دو پیر اوردو آنکھیں اور دیگر آلات وخواص عطا کیے۔
آیت کے اختیارات
- 20
ثُمَّ ٱلسَّبِيلَ يَسَّرَهُۥ
پھر اس کے لئے راستہ آسان کیا.[1]
حواشی
[1] یعنی خیر اور شر کے راستے اس کے لئے واضح کر دیئے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ ہے۔ لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔
آیت کے اختیارات
- 21
ثُمَّ أَمَاتَهُۥ فَأَقْبَرَهُۥ
پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں دفن کیا.
آیت کے اختیارات
- 22
ثُمَّ إِذَا شَآءَ أَنشَرَهُۥ
پھر جب چاہے گا اسے زنده کر دے گا۔
آیت کے اختیارات
- 23
كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ أَمَرَهُۥ
ہرگز نہیں[1] ۔ اس نے اب تک اللہ کے حکم کی بجا آوری نہیں کی.
حواشی
[1] یعنی معاملہ اس طرح نہیں ہے‘ جس طرح یہ کافر کہتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 24
فَلْيَنظُرِ ٱلْإِنسَـٰنُ إِلَىٰ طَعَامِهِۦٓ
انسان کو چاہئے کہ اپنے کھانے کو دیکھے.[1]
حواشی
[1] کہ اسے اللہ نے کس طرح پیدا کیا، جو اس کی زندگی کا سبب ہے اور کس طرح اس کے لئے اسباب معاش مہیا کئے تاکہ وہ ان کے ذریعے سے سعادت اخروی حاصل کر سکے۔
آیت کے اختیارات
- 25
أَنَّا صَبَبْنَا ٱلْمَآءَ صَبًّا
کہ ہم نے خوب پانی برسایا.
آیت کے اختیارات
- 26
ثُمَّ شَقَقْنَا ٱلْأَرْضَ شَقًّا
پھر پھاڑا زمین کو اچھی طرح.
آیت کے اختیارات
- 27
فَأَنۢبَتْنَا فِيهَا حَبًّا
پھر اس میں سے اناج اگائے.
آیت کے اختیارات
- 28
وَعِنَبًا وَقَضْبًا
اور انگور اور ترکاری.
آیت کے اختیارات
- 29
وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا
اور زیتون اور کھجور.
آیت کے اختیارات
- 30
وَحَدَآئِقَ غُلْبًا
اور گنجان باغات.
آیت کے اختیارات
- 31
وَفَـٰكِهَةً وَأَبًّا
اور میوه اور (گھاس) چاره (بھی اگایا).[1]
حواشی
[1] أباً، وہ گھاس چارہ جو خود رو ہو اور جسے جانور کھاتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 32
مَّتَـٰعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَـٰمِكُمْ
تمہارے استعمال وفائدے کے لئے اور تمہارے چوپایوں کے لئے.
آیت کے اختیارات
- 33
فَإِذَا جَآءَتِ ٱلصَّآخَّةُ
پس جب کہ کان بہرے کر دینے والی (قیامت) آجائے گی.[1]
حواشی
[1] قیامت کو صَاخَّةٌ (بہرا کر دینے والی) اس لئے کہا کہ وہ ایک نہایت سخت چیخ کے ساتھ واقع ہوگی جو کانوں کو بہرہ کر دے گی۔
آیت کے اختیارات
- 34
يَوْمَ يَفِرُّ ٱلْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ
اس دن آدمی اپنے بھائی سے.
آیت کے اختیارات
- 35
وَأُمِّهِۦ وَأَبِيهِ
اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے.
آیت کے اختیارات
- 36
وَصَـٰحِبَتِهِۦ وَبَنِيهِ
اور اپنی بیوی اور اپنی اوﻻد سے بھاگے گا.
آیت کے اختیارات
- 37
لِكُلِّ ٱمْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ
ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایسی فکر (دامن گیر) ہوگی جو اس کے لئے کافی ہوگی.[1]
حواشی
[1] یا اپنے اقربا اور احباب سے بے نیاز اور بے پروا کر دے گا۔ حدیث میں آتا ہے ۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ سب لوگ میدان محشر میں ننگے بدن، ننگے پیر، پیدل اور غیر مختون ہوں گے۔ حضرت عائشہ (رضی الله عنها) نے پوچھا، اس طرح شرم گاہوں پر نظر نہیں پڑے گی ؟ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے اس کے جواب میں یہی آیت تلاوت فرمائی۔ یعنی لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ ( الترمذي تفسير سورة عبس، النسائي، كتاب الجنائز، باب البعث) اس کی وجہ بعض کے نزدیک یہ ہے کہ انسان اپنے گھر والوں سے اس لئےبھاگے گا تاکہ وہ اس کی وہ تکلیف اور شدت نہ دیکھیں جس میں وہ مبتلا ہوگا۔ بعض کہتے ہیں، اس لئے کہ انہیں علم ہوگا کہ وہ کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور ان کے کچھ کام نہیں آسکتے۔ (فتح القدیر ) ۔
آیت کے اختیارات
- 38
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ
اس دن بہت سے چہرے روشن ہوں گے.
آیت کے اختیارات
- 39
ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ
(جو) ہنستے ہوئے اور ہشاش بشاش ہوں گے.[1]
حواشی
[1] یہ اہل ایمان کے چہرےہوں گے،جنہیں ان کے اعمال نامے ان کو دائیں ہاتھ میں ملیں گے جس سے انہیں اپنی اخروی سعادت وکامیابی کا یقین ہو جائے گا، جس سے ان کے چہرے خوشی سے تمتما رہے ہوں گے۔
آیت کے اختیارات
- 40
وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ
اور بہت سے چہرے اس دن غبار آلود ہوں گے.
آیت کے اختیارات
- 41
تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ
جن پر سیاہی چڑھی ہوئی ہوگی.[1]
حواشی
[1] یعنی ذلت اور معائینہ عذاب سے ان کے چہرے غبار آلود، کدورت زدہ اور سیاہ ہوں گے، جیسے محزون اور نہایت غمگین آدمی کا چہرہ ہوتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 42
أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَفَرَةُ ٱلْفَجَرَةُ
وه یہی کافر بدکردار لوگ ہوں گے.[1]
حواشی
[1] یعنی اللہ کا، رسولوں کا اور قیامت کا انکار کرنے والے بھی تھے اور بدکردار اور بداطوار بھی۔ اللَّهُمَّ! لا تَجْعَلْنَا مِنْهُمْ ۔
آیت کے اختیارات
التكوير
تکویر
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ تکویر
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
إِذَا ٱلشَّمْسُ كُوِّرَتْ
جب سورج لپیٹ لیا جائے گا.
آیت کے اختیارات
- 2
وَإِذَا ٱلنُّجُومُ ٱنكَدَرَتْ
اور جب ستارے بے نور ہو جائیں گی.[1]
حواشی
[1] دوسرا ترجمہ ہےجھڑ کر گر جائیں گے۔ یعنی آسمان پر ان کا وجود ہی نہیں رہے گا۔
آیت کے اختیارات
- 3
وَإِذَا ٱلْجِبَالُ سُيِّرَتْ
اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے.[1]
حواشی
[1] یعنی انہیں زمین سے اکھیڑ کر ہواؤں میں چلا دیا جائے گا اور وہ دھنی ہوئی روئی کی طرح اڑیں گے۔
آیت کے اختیارات
- 4
وَإِذَا ٱلْعِشَارُ عُطِّلَتْ
اور جب دس ماه کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں.[1]
حواشی
[1] عِشَارٌ ، عُشَراءُ کی جمع ہے، حمل والیاں یعنی گابھن اونٹیناں، جب ان کا حمل دس مہینوں کا ہو جاتا ہےتو عربوں میں یہ بہت نفیس اور قیمتی سمجھیں جاتی تھیں۔ جب قیامت برپا ہوگی تو ایسا ہولناک منظر ہوگا کہ اگر کسی کے پاس اس قسم کی قیمتی اونٹنی بھی ہوں گی تو وہ ان کی بھی پروا نہیں کرے گا۔
آیت کے اختیارات
- 5
وَإِذَا ٱلْوُحُوشُ حُشِرَتْ
اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے.[1]
حواشی
[1] یعنی انہیں بھی قیامت والے دن جمع کیا جائے گا۔
آیت کے اختیارات
- 6
وَإِذَا ٱلْبِحَارُ سُجِّرَتْ
اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے.[1]
حواشی
[1] یعنی ان میں اللہ کے حکم سے آگ بھڑک اٹھے گی۔
آیت کے اختیارات
- 7
وَإِذَا ٱلنُّفُوسُ زُوِّجَتْ
اور جب جانیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی.[1]
حواشی
[1] اس کے کئی مفہوم بیان کئے گئے ہیں۔ زیادہ قرین قیاس یہ معلوم ہوتاہے کہ ہر انسان کو اس کے ہم مذہب وہم مشرب کےساتھ ملا دیا جائے گا۔ مومن کو مومنوں کےساتھ اور بدکو بدوں کے ساتھ، یہودی کو یہودیوں کے ساتھ اور عیسائی کو عیسائیوں کے ساتھ، وَعَلَى هَذَا الْقِيَاسِ ۔
آیت کے اختیارات
- 8
وَإِذَا ٱلْمَوْءُۥدَةُ سُئِلَتْ
اور جب زنده گاڑی ہوئی لڑکی سے سوال کیا جائے گا.
آیت کے اختیارات
- 9
بِأَىِّ ذَنۢبٍ قُتِلَتْ
کہ کس گناه کی وجہ سے وه قتل کی گئی؟[1]
حواشی
[1] اس طرح دراصل قاتل کو سرزنش کی جائے گی کیونکہ اصل مجرم تو وہی ہوگا نہ کہ موءدۃ جس سے بظاہر سوال ہوگا۔
آیت کے اختیارات
- 10
وَإِذَا ٱلصُّحُفُ نُشِرَتْ
اور جب نامہٴ اعمال کھول دیئے جائیں گے.[1]
حواشی
[1] موت کے وقت یہ صحیفے لپیٹ دیئے جاتے ہیں، پھر قیامت والے دن حساب کےلئے کھول دیئے جائیں گے، جنہیں ہر شخص دیکھ لے گا بلکہ ہاتھوں میں پکڑا دیئے جائیں گے ۔
آیت کے اختیارات
- 11
وَإِذَا ٱلسَّمَآءُ كُشِطَتْ
اور جب آسمان کی کھال اتار لی جائے گی.[1]
حواشی
[1] یعنی وہ اس طرح ادھیڑ دیئے جائیں گےجس طرح چھت ادھیڑ دی جاتی ہے۔
آیت کے اختیارات
- 12
وَإِذَا ٱلْجَحِيمُ سُعِّرَتْ
اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی.
آیت کے اختیارات
- 13
وَإِذَا ٱلْجَنَّةُ أُزْلِفَتْ
اور جب جنت نزدیک کر دی جائے گی.
آیت کے اختیارات
- 14
عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّآ أَحْضَرَتْ
تو اس دن ہر شخص جان لے گا جو کچھ لے کر آیا ہوگا.[1]
حواشی
[1] یہ جواب ہے یعنی جب مذکورہ امور ظہور پذیر ہوں گے، جن میں سے پہلے چھ امور کا تعلق دنیا سے ہے اور دوسرے چھ امور کا آخرت سے۔ اس وقت ہر ایک کے سامنے اس کی حقیقت آجائے گی۔
آیت کے اختیارات
- 15
فَلَآ أُقْسِمُ بِٱلْخُنَّسِ
میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے.
آیت کے اختیارات
- 16
ٱلْجَوَارِ ٱلْكُنَّسِ
چلنے پھرنے والے چھپنے والے ستاروں کی.[1]
حواشی
[1] اس سے مراد ستارے خُنَّسٌ، خَنَسَ سے ہے جس کے معنی پیچھےہٹنے کے ہیں۔ یہ ستارے دن کے وقت اپنے منظر سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور نظر نہیں آتے۔ اور یہ زخل، مشتری، مریخ، زہرہ، عطارد ہیں، یہ خاص طور پر سورج کے رخ پر ہوتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ سارے ہی ستارےمراد ہیں، کیوں کہ سب ہی اپنے غائب ہونے کی جگہ پر غائب ہو جاتے ہیں یا دن کو چھپے رہتے ہیں الْجَوَارِ چلنے والے، الْكُنَّسِ چھپ جانے والے، جیسے ہرن اپنے مکان اور مسکن میں چھپ جاتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 17
وَٱلَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ
اور رات کی جب جانے لگے.[1]
حواشی
[1] عَسْعَسَ، اضداد میں سے ہے، یعنی آنے اور جانے دونوں معنوں میں اس کا استعمال ہوتا ہے، تاہم یہاں جانے کے معنی میں ہے۔
آیت کے اختیارات
- 18
وَٱلصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ
اور صبح کی جب چمکنے لگے.[1]
حواشی
[1] یعنی جب اس کا ظہور وطلوع ہو جائے، یا وہ پھٹ اور نکل آئے۔
آیت کے اختیارات
- 19
إِنَّهُۥ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ
یقیناً یہ ایک بزرگ رسول کا کہا ہوا ہے.[1]
حواشی
[1] اس لئے وہ اسے اللہ کی طرف لے کر آیا ہے۔ مراد حضرت جبرائیل (عليه السلام) ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 20
ذِى قُوَّةٍ عِندَ ذِى ٱلْعَرْشِ مَكِينٍ
جو قوت واﻻ ہے[1] ، عرش والے (اللہ) کے نزدیک بلند مرتبہ ہے.
حواشی
[1] یعنی جو کام اس کےسپرد کیاجائے،اسے پوری قوت سے کرتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 21
مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ
جس کی (آسمانوں میں) اطاعت کی جاتی ہے اورامین[1] ہے.
حواشی
[1] یعنی فرشتوں کے درمیان اس کی اطاعت کی جاتی ہے۔ وہ فرشتوں کا مرجع اور مطاع ہے نیز وحی کےسلسلے میں امین ہے۔
آیت کے اختیارات
- 22
وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ
اور تمہارا ساتھی دیوانہ نہیں ہے.[1]
حواشی
[1] یہ خطاب اہل مکہ سے ہے اور صاحب مراد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) ہیں۔ یعنی تم جو گمان رکھتے ہو کہ تمہارا ہم نسب اور ہم وطن ساتھ ساتھی، ( محمد صلى الله عليه وسلم) دیوانہ ہے ۔ نعوذ باللہ ۔ ایسا نہیں ہے، ذرا قرآن پڑھ کر تو دیکھوکہ کیا کوئی دیوانہ ایسے معارف وحقائق بیان کر سکتا ہے اور گزشتہ قوموں کے صحیح صحیح حالات بتلا سکتا ہے جو اس قرآن میں بیان کئے گئے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 23
وَلَقَدْ رَءَاهُ بِٱلْأُفُقِ ٱلْمُبِينِ
اس نے اس (فرشتے) کو آسمان کے کھلے کنارے پر دیکھا بھی ہے.[1]
حواشی
[1] یہ پہلے ذکر گزر چکا ہے کہ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت جبرائیل کو دو مرتبہ ان کی اصل حالت میں دیکھا ہے، جن میں سے ایک کا یہاں ذکر ہے۔ یہ ابتدائے نبوت کا واقعہ ہے، اس وقت حضرت جبرائیل (عليه السلام) کے چھ سو پر تھے، جنہوں نے آسمان کے کناروں کو بھر دیا تھا۔ دوسری مرتبہ معراج کے موقعے پر دیکھا۔ جیسا کہ سورۂ نجم میں تفصیل گزر چکی ہے۔
آیت کے اختیارات
- 24
وَمَا هُوَ عَلَى ٱلْغَيْبِ بِضَنِينٍ
اور یہ غیب کی باتوں کو بتلانے میں بخیل بھی نہیں.[1]
حواشی
[1] یہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی بابت وضاحت کی جا رہی ہے کہ آپ کو جن باتوں کی اطلاع دی جاتی ہے، جو احکام وفرائض آپ کو بتلائے جاتے ہیں، ان میں سےکوئی بات آپ اپنے پاس نہیں رکھتے بلکہ فریضۂ رسالت کی ذمے داریوں کا احساس کرتے ہوئے ہر بات اور ہر حکم لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 25
وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَـٰنٍ رَّجِيمٍ
اور یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں.[1]
حواشی
[1] جس طرح نجومیوں کے پاس شیطان آتے ہیں اور آسمانوں کی بعض چوری چھپی باتیں ادھوری شکل میں انہیں بتلا دیتے ہیں۔ قرآن ایسا نہیں ہے۔
آیت کے اختیارات
- 26
فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ
پھر تم کہاں جا رہے ہو.[1]
حواشی
[1] یعنی کیوں اس سےاعراض کرتے ہو ؟ اور اس کی اطاعت نہیں کرتے ؟
آیت کے اختیارات
- 27
إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَـٰلَمِينَ
یہ تو تمام جہان والوں کے لئے نصیحت نامہ ہے.
آیت کے اختیارات
- 28
لِمَن شَآءَ مِنكُمْ أَن يَسْتَقِيمَ
(بالخصوص) اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی راه پر چلنا چاہے.
آیت کے اختیارات
- 29
وَمَا تَشَآءُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلْعَـٰلَمِينَ
اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاه سکتے.[1]
حواشی
[1] یعنی تمہاری چاہت ، اللہ کی توفیق پر منحصر ہے، جب تک تمہاری چاہت کے ساتھ اللہ کی مشیت اور اس کی توفیق بھی شامل نہیں ہوگی، اس وقت تک تم سیدھا راستہ بھی اختیار نہیں کر سکتے۔ یہ وہی مضمون ہے جو إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ (القصص: 56) وغیرہ آیات میں بیان ہوا ہے۔
آیت کے اختیارات
الانفطار
انفطار
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ انفطار
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
إِذَا ٱلسَّمَآءُ ٱنفَطَرَتْ
جب آسمان پھٹ جائے گا.[1]
حواشی
[1] یعنی اللہ کے حکم اور اس کی ہیبت سےپھٹ جائے گا اور فرشتے نیچے اتر آئیں گے۔
آیت کے اختیارات
- 2
وَإِذَا ٱلْكَوَاكِبُ ٱنتَثَرَتْ
اور جب ستارے جھڑ جائیں گے.
آیت کے اختیارات
- 3
وَإِذَا ٱلْبِحَارُ فُجِّرَتْ
اور جب سمندر بہہ نکلیں گے.[1]
حواشی
[1] اور سب کا پانی ایک ہی سمندر میں جمع ہو جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ پچھمی ہوا بھیجے گا۔ جو اس میں آگ بھڑ کا دے گی جس سے فلک شگاف شعلے بلند ہوں گے۔
آیت کے اختیارات
- 4
وَإِذَا ٱلْقُبُورُ بُعْثِرَتْ
اور جب قبریں (شق کر کے) اکھاڑ دی جائیں گی.[1]
حواشی
[1] یعنی قبروں سے مردے زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے۔ بُعْثِرَتْ، اکھیڑ دی جائیں گی، یا ان کی مٹی پلٹ دی جائے گی۔
آیت کے اختیارات
- 5
عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَأَخَّرَتْ
(اس وقت) ہر شخص اپنے آگے بھیجے ہوئے اور پیچھے چھوڑے ہوئے (یعنی اگلے پچھلے اعمال) کو معلوم کر لے گا.[1]
حواشی
[1] یعنی جب مذکورہ امور واقع ہوں گے تو انسان کو اپنے تمام کیے دھرے کا علم ہو جائے گا، جو بھی اچھا یا برا عمل اس نے کیا ہوگا، وہ سامنے آجائے گا، پیچھے چھوڑےہوئے عمل سے مراد اپنے کردار وعمل کے اچھی یا برے نمونے ہیں جو دنیا میں وہ چھوڑ آیا اور لوگ ان نمونوں پر عمل کرتے ہیں۔ یہ نمونے اگر اچھے ہیں تو اس کےمرنے کے بعد ان نمونوں پر جو لوگ بھی عمل کریں گے، اس کا ثواب اسے بھی پہنچتا رہے گا اور اگر برے نمونے اپنے پیچھے چھوڑ گیا ہے تو جو جو بھی اسے اپنائے گا، ان کا گناہ بھی اس شخص کو پہنچتا رہے گا، جس کی مساعی سے وہ برا طریقہ یا کام رائج ہوا ۔
آیت کے اختیارات
- 6
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْإِنسَـٰنُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ ٱلْكَرِيمِ
اے انسان! تجھے اپنے رب کریم سے کس چیز نے بہکایا.[1]
حواشی
[1] یعنی کس چیز نےتجھے دھوکے اور فریب میں مبتلا کر دیا کہ تو نے اس رب کے ساتھ کفر کیا، جس نے تجھ پر احسان کیا اور تجھے وجود بخشا، تجھے عقل وفہم عطا کی اور اسباب حیات تیرے لئے مہیا کئے۔
آیت کے اختیارات
- 7
ٱلَّذِى خَلَقَكَ فَسَوَّىٰكَ فَعَدَلَكَ
جس (رب نے) تجھے پیدا کیا،[1] پھر ٹھیک ٹھاک کیا[2]، پھر (درست اور) برابر بنایا.[3]
حواشی
[1] یعنی حقیر نطفے سے، جب کہ اسے پہلے تیرا وجود نہیں تھا۔ [2] یعنی تجھے ایک کامل انسان بنا دیا، تو سنتا ہے، دیکھتا ہے اور عقل وفہم رکھتا ہے۔ [3] تجھے معتدل، کھڑا اور حسن صورت والا بنایا، یا تیری دونوں آنکھوں، دونوں کانوں، دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں کو برابر بنایا۔ اگر تیرےاعضا میں یہ برابری مناسبت نہ ہوتی تو تیرے وجود میں حسن کے بجائے بےڈھب پن ہو جاتا۔ اسی تخلیق کو دوسرےمقام پر أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ سےتعبیر فرمایا، لَقَدْ خَلَقْنَا الإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ۔
آیت کے اختیارات
- 8
فِىٓ أَىِّ صُورَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَ
جس صورت میں چاہا تجھے جوڑ دیا.[1]
حواشی
[1] اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اللہ بچے کو جس کے چاہے مشابہ بنا دے۔ باپ کے، ماں کے یا ماموں اور چچا کے۔ دوسرا مطلب ہے کہ وہ جس شکل میں چاہے، ڈھال دے، حتیٰ کہ قبیح ترین جانور کی شکل میں بھی پیدا کر سکتا ہے لیکن یہ اس کا لطف وکرم اور مہربانی ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتا اور بہترین انسانی شکل میں ہی پیدا فرماتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 9
كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُونَ بِٱلدِّينِ
ہرگز نہیں بلکہ تم تو جزا وسزا کے دن کو جھٹلاتے ہو.[1]
حواشی
[1] كَلا، حَقًّا کے معنی میں بھی ہو سکتا ہے۔ اور کافروں کےاس طرز عمل کی نفی بھی جو اللہ کریم کی رافت ورحمت سے دھوکے میں مبتلا ہونے پر مبنی ہے یعنی اس فریب نفس میں مبتلا ہونےکا کوئی جواز نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تمہارے دلوں میں اس بات پر یقین نہیں ہے کہ قیامت ہوگی اور وہاں جزا وسزا ہوگی۔
آیت کے اختیارات
- 10
وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَـٰفِظِينَ
یقیناً تم پر نگہبان عزت والے.
آیت کے اختیارات
- 11
كِرَامًا كَـٰتِبِينَ
لکھنے والے مقرر ہیں.
آیت کے اختیارات
- 12
يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ
جوکچھ تم کرتے ہو وه جانتے ہیں.[1]
حواشی
[1] یعنی تم جو جزا وسزا کے منکر ہو، لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ تمہارا ہر قول اور ہر فعل نوٹ ہو رہا ہے۔ اللہ کی طرف سے فرشتے تم پر بطور نگران مقرر ہیں جو تمہاری ہر اس بات کو جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔ یہ گویا انسانون کو تنبیہ ہے کہ ہر عمل اور بات سے پہلےسوچ لو کہ وہ غلط تو نہیں۔ یہ وہی بات ہے جو پہلے گزر چکی ہے مثلاً عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ (1) مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ ( سورة ق ، 17۔ 18) یعنی (ایک فرشتہ اس کے دائیں اور دوسرا اس کے بائیں جانب بیٹھا ہوا ہے، انسان جو بولتا ہے، اس کے پاس نگران، تیار اور حاضر ہے) یعنی لکھنے کے لئے۔ کہتے ہیں ایک فرشتہ نیکی اور دوسرا بدی لکھتا ہے۔ اور احادیث وآثار سے معلوم ہوتا ہے کہ دن کے دو فرشتے الگ اور رات کے دو فرشتے الگ ہیں۔ آگے نیکوں اور بدوں، دونوں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 13
إِنَّ ٱلْأَبْرَارَ لَفِى نَعِيمٍ
یقیناً نیک لوگ (جنت کے عیش وآرام اور) نعمتوں میں ہوں گے.
آیت کے اختیارات
- 14
وَإِنَّ ٱلْفُجَّارَ لَفِى جَحِيمٍ
اور یقیناً بدکار لوگ دوزخ میں ہوں گے.[1]
حواشی
[1] جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا، فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ (الشورى:7) ۔
آیت کے اختیارات
- 15
يَصْلَوْنَهَا يَوْمَ ٱلدِّينِ
بدلے والے دن اس میں جائیں گے.[1]
حواشی
[1] یعنی جس جزا وسزا کے دن کا وہ انکار کرتے تھے اسی دن جہنم میں اپنے اعمال کی پاداش میں داخل ہوں گے۔
آیت کے اختیارات
- 16
وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَآئِبِينَ
وه اس سے کبھی غائب نہ ہونے پائیں گے.[1]
حواشی
[1] یعنی کبھی اس سے جدا نہیں ہوں گے اور اس سے غائب نہیں ہوں گے۔ بلکہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔
آیت کے اختیارات
- 17
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا يَوْمُ ٱلدِّينِ
تجھے کچھ خبر بھی ہے کہ بدلے کا دن کیا ہے.
آیت کے اختیارات
- 18
ثُمَّ مَآ أَدْرَىٰكَ مَا يَوْمُ ٱلدِّينِ
میں پھر (کہتا ہوں کہ) تجھے کیا معلوم کہ جزا (اور سزا) کا دن کیا ہے.[1]
حواشی
[1] تکرار، اس کی عظمت وضخامت اور اس دن کی ہولناکیوں کی وضاحت کے لئے ہے۔
آیت کے اختیارات
- 19
يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْـًٔا ۖ وَٱلْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِّلَّهِ
(وه ہے) جس دن کوئی شخص کسی شخص کے لئے کسی چیز کا مختار نہ ہوگا، اور (تمام تر) احکام اس روز اللہ کے ہی ہوں گے.[1]
حواشی
[1] یعنی دنیا میں تو اللہ نے عارضی طور پر، آزمانے کے لئے، انسانوں کو کم وبیش کے کچھ فرق کے ساتھ اختیارات دے رکھے ہیں۔ لیکن قیامت والےدن تمام اختیارات کلیتاً صرف اور صرف اللہ کےپاس ہوں گے۔ جیسے فرمایا لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ۔ ( سورۂ مؤمن:16 ) چنانچہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے اپنی پھوپھی حضرت صفیہ (رضی الله عنها) اور اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ (رضی الله عنها) کو فرما دیا تھا، ”لا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا“ (صحيح مسلم، كتاب الإيمان) اور بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب کو بھی متنبہ فرما دیا، ”أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، وَاللهِ لا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا“ (مسلم ، كتاب مذكور ، بخاري ، سورة الشعراء ) ۔
آیت کے اختیارات
المطففين
مطفّفین
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ مطففین
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ
بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی.
آیت کے اختیارات
- 2
ٱلَّذِينَ إِذَا ٱكْتَالُوا۟ عَلَى ٱلنَّاسِ يَسْتَوْفُونَ
کہ جب لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں.
آیت کے اختیارات
- 3
وَإِذَا كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ
اور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں.[1]
حواشی
[1] یعنی لینے اور دینے کے الگ الگ پیمانے رکھنا اور اس طرح ڈنڈی مار کر ناپ تول میں کمی کرنا، بہت بڑی اخلاقی بیماری ہے جس کا نتیجہ دین وآخرت میں تباہی ہے۔ ایک حدیث میں ہے، جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے، تو اس پر قحط سالی، سخت محنت اور حکمرانوں کا ظلم مسلط کر دیا جاتا ہے۔ ( ابن ماجه ، نمبر 4019 ذكره الألباني في الصحيحة نمبر 106 من عدة طرق وله شواهد) ۔
آیت کے اختیارات
- 4
أَلَا يَظُنُّ أُو۟لَـٰٓئِكَ أَنَّهُم مَّبْعُوثُونَ
کیا انہیں اپنے مرنے کے بعد جی اٹھنے کا خیال نہیں.
آیت کے اختیارات
- 5
لِيَوْمٍ عَظِيمٍ
اس عظیم دن کے لئے.
آیت کے اختیارات
- 6
يَوْمَ يَقُومُ ٱلنَّاسُ لِرَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ
جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے.[1]
حواشی
[1] یہ ڈنڈی مارنے والے اس بات سے نہیں ڈرتے کہ ایک بڑا ہولناک دن آنے والا ہے جس میں سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے جو تمام پوشیدہ باتوں کوجانتا ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ یہ کام وہی لوگ کرتے ہیں جن کے دلوں میں اللہ کا خوف اور قیامت کا ڈر نہیں ہے۔ احادیث میں آتا ہے، کہ جس وقت رب العالمین کے لئے کھڑے ہوں گے تو پسینہ انسانوں کے آدھے آدھے کانوں تک پہنچا ہوگا۔ ( صحيح، بخاري، تفسير سورة المطففين ) ایک اور روایت میں ہے کہ قیامت والے دن سورج مخلوق کے اتنا قریب ہوگا کہ ایک میل کی مقدار کے قریب فاصلہ ہوگا۔ حدیث کے راوی حضرت سلیم بن عامر کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے میل سے زمین کے مسافت والا میل مراد لیا ہے یا وہ سلائی جس سے سرمہ آنکھوں میں ڈالا جاتا ہے۔ پس لوگ اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں ہوں گے، یہ پسینہ کسی کے ٹخنوں تک، کسی کے گھٹنوں تک، کسی کی کمر تک ہوگا اور کسی کے لئے یہ لگام بنا ہوا ہوگا، یعنی اس کے منہ تک پسینہ ہوگا۔ ( صحيح مسلم، صفة القيامة والجنة، باب في صفة يوم القيامة) ۔
آیت کے اختیارات
- 7
كَلَّآ إِنَّ كِتَـٰبَ ٱلْفُجَّارِ لَفِى سِجِّينٍ
یقیناً بدکاروں کا نامہٴ اعمال سِجِّينٌ میں ہے.[1]
حواشی
[1] سِجِّينٌ، بعض کہتے ہیں سِجْنٌ ( قید خانہ ) سے ہے، مطلب ہے کہ قید خانے کی طرح ایک نہایت تنگ مقام ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ زمین کے سب سے نچلے حصے میں ایک جگہ ہے، جہاں کافروں، ظالموں اور مشرکوں کی روحیں اور ان کے اعمال نامے جمع اور محفوظ ہوتے ہیں۔ اسی لئے آگے اسے (لکھی ہوئی کتاب) قرار دیا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 8
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا سِجِّينٌ
تجھے کیا معلوم سِجِّينٌ کیا ہے؟
آیت کے اختیارات
- 9
كِتَـٰبٌ مَّرْقُومٌ
(یہ تو) لکھی ہوئی کتاب ہے.
آیت کے اختیارات
- 10
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
اس دن جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہے.
آیت کے اختیارات
- 11
ٱلَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ ٱلدِّينِ
جو جزا وسزا کے دن کو جھٹلاتے رہے.
آیت کے اختیارات
- 12
وَمَا يُكَذِّبُ بِهِۦٓ إِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ
اسے صرف وہی جھٹلاتا ہےجو حد سے آگے نکل جانے واﻻ (اور) گناه گار ہوتا ہے.
آیت کے اختیارات
- 13
إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ءَايَـٰتُنَا قَالَ أَسَـٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ
جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ یہ اگلوں کے افسانے ہیں.[1]
حواشی
[1] یعنی اس کا گناہوں میں انہماک اور حد سے تجاوز اتنا بڑھ گیا ہے کہ اللہ کی آیات سن کر ان پر غور وفکر کرنے کے بجائے، انہیں اگلوں کی کہانیاں بتلاتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 14
كَلَّا ۖ بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ
یوں نہیں[1] بلکہ ان کے دلوں پر ان کےاعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گیا) ہے.[2]
حواشی
[1] یعنی یہ قرآن کہانیاں نہیں، جیسا کہ کافر کہتے اور سمجھتے ہیں۔ بلکہ یہ اللہ کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس کےرسول پر جبرائیل (عليه السلام) امین کے ذریعے سے نازل ہوئی ہے ۔ [2] یعنی ان کے دل اس قرآن اور وحی الٰہی پر ایمان اس لئے نہیں لاتے کہ ان کےدلوں پر گناہوں کی کثرت کی وجہ سے پردے پڑ گئے ہیں اور وہ زنگ آلود ہوگئے ہیں رَيْنٌ، گناہوں کی وہ سیاہی ہےجو مسلسل ارتکاب گناہ کی وجہ سے اس کے دل پر چھا جاتی ہے۔ حدیث میں ہے ”بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کر لیتا ہے تو وہ سیاہی دور کر دی جاتی ہے، اور اگر توبہ کے بجائے، گناہ پر گناہ کیے جاتا ہے تو وہ سیاہی بڑھتی جاتی ہے، حتیٰ کہ اس کےپورے دل پر چھا جاتی ہے۔ یہی وہ رَيْنٌ ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے“۔ ( ترمذي، باب تفسير سورة المطففين، ابن ماجه، كتاب الزهد، باب الذنوب - مسند أحمد 2 / 297 ) ۔
آیت کے اختیارات
- 15
كَلَّآ إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ
ہرگز نہیں یہ لوگ اس دن اپنے رب سےاوٹ میں رکھے جائیں گے.[1]
حواشی
[1] ان کے برعکس اہل ایمان روئیت باری تعالیٰ سےمشرف ہوں گے۔
آیت کے اختیارات
- 16
ثُمَّ إِنَّهُمْ لَصَالُوا۟ ٱلْجَحِيمِ
پھر یہ لوگ بالیقین جہنم میں جھونکے جائیں گے.
آیت کے اختیارات
- 17
ثُمَّ يُقَالُ هَـٰذَا ٱلَّذِى كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ
پھر کہہ دیا جائے گا کہ یہی ہے وه جسے تم جھٹلاتے رہے.
آیت کے اختیارات
- 18
كَلَّآ إِنَّ كِتَـٰبَ ٱلْأَبْرَارِ لَفِى عِلِّيِّينَ
لرگزنہیں،بےشک نیکوکاروں کے اعمال نامے علییں میں ہیں .[1]
حواشی
[1] عِلِّيِّينُ، عُلُوٌّ ( بلندی ) سے ہے۔ یہ سِجِّينٌ کے برعکس، آسمانوں میں یا جنت میں یا سدرۃ المنتہیٰ یا عرش کے پاس جگہ ہے جہاں نیک لوگوں کی روحیں اور ان کے اعمال نامے محفوظ ہیں، جس کے پاس مقرب فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 19
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا عِلِّيُّونَ
اورتجھے کیا پتہ کہ عِلِّیین کیا ہے؟
آیت کے اختیارات
- 20
كِتَـٰبٌ مَّرْقُومٌ
(وه تو) لکھی ہوئی کتاب ہے.
آیت کے اختیارات
- 21
يَشْهَدُهُ ٱلْمُقَرَّبُونَ
مقرب (فرشتے) اس کا مشاہده کرتے ہیں.
آیت کے اختیارات
- 22
إِنَّ ٱلْأَبْرَارَ لَفِى نَعِيمٍ
یقیناً نیک لوگ (بڑی) نعمتوں میں ہوں گے.
آیت کے اختیارات
- 23
عَلَى ٱلْأَرَآئِكِ يَنظُرُونَ
مسہریوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے.
آیت کے اختیارات
- 24
تَعْرِفُ فِى وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ ٱلنَّعِيمِ
تو ان کے چہروں سے ہی نعمتوں کی تروتازگی پہچان لے گا.[1]
حواشی
[1] جس طرح دنیا میں خوش حال لوگوں کے چہروں پر بالعموم تازگی اور شادابی ہوتی ہے۔ جو ان آسائشوں، سہولتوں اور دینوی نعمتوں کی مظہر ہوتی ہے جو فراوانی سے حاصل ہوتی ہیں۔ اسی طرح اہل جنت پر اعزاز وتکریم اور نعمتوں کی جوار زانی ہوگی، اس کے اثرات ان کے چہروں پر بھی ظاہر ہوں گے، وہ اپنے حسن وجمال اور رونق وبہجت سےپہچان لئے جائیں گے کہ یہ جنتی ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 25
يُسْقَوْنَ مِن رَّحِيقٍ مَّخْتُومٍ
یہ لوگ سربمہر خالص شراب پلائے جائیں گے.[1]
حواشی
[1] رَحِيقٌ صاف، شفاف اور خالص شراب کو کہتے ہیں جس میں کسی چیز کی آمیزش نہ ہو۔ مَخْتُومٌ ( سر بہ مہر ) اس کے خالص پن کی مزید وضاحت کے لئےہے، بعض کےنزدیک یہ مخلوط کےمعنی میں ہے، یعنی شراب میں کستوری کی آمیزش ہوگی جس سے اس کا ذائقہ دوبالا اورخوشبو مزید خوش کن اور راحت افزا ہو جائے گی۔ بعض کہتے ہیں،یہ ختم سے ہے۔ یعنی اس کا آخری گھونٹ کستوری کا ہوگا۔ بعض ختام کےمعنی خوشبو کرتے ہیں، ایسی شراب جس کی خوشبو کستوری کی طرح ہوگی۔ ( ابن کثیر) حدیث میں بھی یہی لفظ آیا ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ہے ”جس مومن نے کسی پیا سے مومن کوایک گھونٹ پانی پلایا، اللہ تعالیٰ اسے قیامت والے دن الرَّحِيقُ الْمَخْتُومُ پلائے گا، جس نے کسی بھوکے مومن کو کھانا کھلایا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کے پھل کھلائے گا، جس نے کسی ننگے مومن کو لباس پہنایا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کا سبز لباس پہنائے گا“۔ ( مسند احمد، 3/ 13 ۔ 14 ) ۔
آیت کے اختیارات
- 26
خِتَـٰمُهُۥ مِسْكٌ ۚ وَفِى ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ ٱلْمُتَنَـٰفِسُونَ
جس پر مشک کی مہر ہوگی، سبقت لے جانے والوں کو اسی میں سبقت کرنی چاہئے.[1]
حواشی
[1] یعنی عمل کرنے والےکو ایسے عملوں میں سبقت کرنی چاہئے جس کے صلے میں جنت اور اس کی یہ نعمتیں حاصل ہوں۔ جیسے فرمایا، لِمِثْلِ هَذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ ( الصافات:61 ) ۔
آیت کے اختیارات
- 27
وَمِزَاجُهُۥ مِن تَسْنِيمٍ
اور اس کی آمیزش تسنیم کی ہوگی.[1]
حواشی
[1] تَسْنِيمٌ کےمعنی، بلندی کے ہیں، اونٹ کی کوہان، جو اس کےجسم سےبلند ہوتی ہے، اسے سِنَامٌ کہتےہیں۔ قبر کے اونچا کرنے کو بھی تَسْنِيمُ الْقُبُورِ کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس میں تسنیم شراب کی آمیزش ہوگی جو جنت کے بالائی علاقوں سے ایک چشمے کے ذریعے سے آئے گی۔ یہ جنت کی بہترین اور اعلیٰ شراب ہوگی۔
آیت کے اختیارات
- 28
عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا ٱلْمُقَرَّبُونَ
(یعنی) وه چشمہ جس کا پانی مقرب لوگ پیئں گے.
آیت کے اختیارات
- 29
إِنَّ ٱلَّذِينَ أَجْرَمُوا۟ كَانُوا۟ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ يَضْحَكُونَ
گنہگار لوگ ایمان والوں کی ہنسی اڑایا کرتے تھے.[1]
حواشی
[1] یعنی انہیں حقیر جانتے ہوئے ان کا استہزا کرتے اور مذاق اڑاتے تھے۔
آیت کے اختیارات
- 30
وَإِذَا مَرُّوا۟ بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ
اور ان کے پاس سے گزرتے ہوئے آپس میں آنکھ کےاشارے کرتے تھے.[1]
حواشی
[1] غَمْزٌ کے معنی ہوتے ہیں، پلکوں اور ابروں سے اشارہ کرنا۔ یعنی ایک دوسرے کو اپنی پلکوں اور ابروں سے اشارہ کر کے ان کی تحقیرا ور ان کے مذہب پر طعن کرتے۔
آیت کے اختیارات
- 31
وَإِذَا ٱنقَلَبُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَهْلِهِمُ ٱنقَلَبُوا۟ فَكِهِينَ
اور جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے تو دل لگیاں کرتے تھے.[1]
حواشی
[1] یعنی اہل ایمان کا ذکر کرکے خوش ہوتے اور دل لگیاں کرتے۔ دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ جب اپنے گھروں میں لوٹتے تو وہاں خوشحالی اور فراغت ان کا استقبال کرتی اور جو چاہتے وہ انہیں مل جاتا۔ اس کے باوجود انہوں نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ اہل ایمان کی تحقیر اور ان پر حسد کرنے میں ہی مشغول رہے۔ ( ابن کثیر ) ۔
آیت کے اختیارات
- 32
وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوٓا۟ إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ لَضَآلُّونَ
اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے یقیناً یہ لوگ گمراه (بے راه) ہیں.[1]
حواشی
[1] یعنی اہل توحید، اہل شرک کی نظر میں اور اہل ایمان اہل کفر کے نزدیک گمراہ ہوتے ہیں۔ یہی صورت حال آج بھی ہے۔ گمراہ اپنے کو اہل حق اور اہل حق کو گمراہ باور کراتے ہیں۔ حتیٰ کہ ایک سراسر باطل فرقہ اپنے سوا کسی کو مومن کہتا ہے اور نہ سمجھتا ہے۔ هَدَاهَا اللهُ تَعَالَى ۔
آیت کے اختیارات
- 33
وَمَآ أُرْسِلُوا۟ عَلَيْهِمْ حَـٰفِظِينَ
یہ ان پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجے گئے.[1]
حواشی
[1] یعنی یہ کافر مسلمانوں پر نگران بنا کر تو نہیں بھیجے گئے ہیں کہ یہ ہر وقت مسلمانوں کےاعمال واحوال ہی دیکھتے اور ان پر تبصرے کرتے رہیں، یعنی جب یہ ان کے مکلف ہی نہیں ہیں تو پھر کیوں ایسا کرتے ہیں۔ٍ
آیت کے اختیارات
- 34
فَٱلْيَوْمَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنَ ٱلْكُفَّارِ يَضْحَكُونَ
پس آج ایمان والے ان کافروں پر ہنسیں گے.[1]
حواشی
[1] یعنی جس طرح دنیا میں کافر اہل ایمان پر ہنستے تھے، قیامت والے دن یہ کافر اللہ کی گرفت میں ہوں گے اور اہل ایمان ان پر ہنسیں گے۔ ان کو ہنسی اس بات پر آئے گی کہ یہ گمراہ ہونے کے باوجود ہمیں گمراہ کہتے اور ہم پر ہنستے تھے۔ آج ان کو پتہ چل گیا کہ گمراہ کون تھا ؟ اور کون اس قابل تھا کہ اس کا استہزا کیا جائے۔
آیت کے اختیارات
- 35
عَلَى ٱلْأَرَآئِكِ يَنظُرُونَ
تختوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے.
آیت کے اختیارات
- 36
هَلْ ثُوِّبَ ٱلْكُفَّارُ مَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ
کہ اب ان منکروں نے جیسا یہ کرتے تھے پورا پورا بدلہ پالیا.[1]
حواشی
[1] ثُوِّبَ بمعنی أُثِيبَ، بدلہ دے دیئے گئے، یعنی کیا کافروں کو، جو کچھ وہ کرتے تھے، اس کا بدلہ دے دیا گیا ہے۔
آیت کے اختیارات
الانشقاق
انشقاق
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ انشقاق
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
إِذَا ٱلسَّمَآءُ ٱنشَقَّتْ
جب آسمان پھٹ جائے گا.[1]
حواشی
[1] یعنی جب قیامت برپا ہوگی۔
آیت کے اختیارات
- 2
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ
اور اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گا[1] اور اسی کے ﻻئق وه ہے.[2]
حواشی
[1] یعنی اللہ اس کوپھٹنے کا جو حکم دے گا، اسے سنے گا اور اطاعت کرے گا۔ [2] یعنی اس کے یہی لائق ہے کہ سنے اور اطاعت کرے، اس لئے کہ وہ سب پرغالب ہے اور سب اس کے ماتحت ہیں، اس کے حکم سے سرتابی کرنے کی کس کو مجال ہو سکتی ہے ؟
آیت کے اختیارات
- 3
وَإِذَا ٱلْأَرْضُ مُدَّتْ
اور جب زمین (کھینچ کر) پھیلا دی جائے گی.[1]
حواشی
[1] یعنی اس کے طول وعرض میں مزید وسعت کر دی جائےگی۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس پر جو پہاڑ وغیرہ ہیں، سب کو ریزہ ریزہ کر کے زمین کو صاف اور ہموار کرکے بچھا دیا جائے گا۔ اس میں کوئی اونچ نیچ نہیں رہے گی۔
آیت کے اختیارات
- 4
وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ
اور اس میں جو ہے اسے وه اگل دے گی اور خالی ہو جائے گی.[1]
حواشی
[1] یعنی اس میں جو مردے دفن ہیں، سب زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے جو خزانے اس کے بطن میں موجود ہیں، وہ انہیں ظاہر کر دے گی، اور خود بالکل خالی ہو جائے گی۔
آیت کے اختیارات
- 5
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ
اور اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی[1] اور اسی کے ﻻئق وه ہے.
حواشی
[1] یعنی القا اور تخلی کا جو حکم اسے دیا جائے گا، وہ اس کے مطابق عمل کرے گی ۔
آیت کے اختیارات
- 6
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْإِنسَـٰنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَـٰقِيهِ
اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے واﻻ ہے.[1]
حواشی
[1] یہاں انسان بطور جنس کے ہے جس میں مومن اور کافر دونوں شامل ہیں۔ کدح،سخت محنت کو کہتے ہیں، وہ محنت خیر کے کاموں کے لئے ہو یا شر کےلئے۔ مطلب یہ ہے کہ جب مذکورہ چیزیں ظہور پذیر ہوں گی یعنی قیامت آجائے گی تو اے انسان تو نے جو بھی، اچھا یا برا عمل کیا ہوگا، وہ تو اپنے سامنے پالے گا اور اسی کے مطابق تجھے اچھی یا بری جزا بھی ملے گی۔ آگے اس کی مزید تفصیل ووضاحت ہے۔
آیت کے اختیارات
- 7
فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـٰبَهُۥ بِيَمِينِهِۦ
تو (اس وقت) جس شخص کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا.
آیت کے اختیارات
- 8
فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا
اس کا حساب تو بڑی آسانی سے لیا جائے گا.[1]
حواشی
[1] آسان حساب یہ ہے کہ مومن کا اعمال نامہ پیش ہوگا۔ اس کی غلطیاں بھی اس کے سامنے لائی جائیں گی، پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور فضل وکرم سے انہیں معاف فرما دے گا۔ حضرت عائشہ (رضی الله عنها) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”جس کا حساب لیا گیا وہ ہلاک ہوگیا“۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا، جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا گیا، اس کا حساب آسان ہوگا۔ مطلب حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کا یہ تھا کہ اس آیت کی رو سے حساب تو مومن کا بھی ہوگا لیکن وہ ہلاکت سےدوچار نہیں ہوگا۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے وضاحت فرمائی ”یہ تو پیشی ہے“۔ یعنی مومن کے ساتھ معاملہ حساب کا نہیں ہوگا، ایک سرسری سی پیشی ہوگی مومن رب کے سامنے پیش کیے جائیں گے، جس کا مناقشہ ہوا یعنی پوچھ گچھ ہوئی وہ مارا گیا۔ ( صحيح البخاري، تفسير سورة انشقاق ) ایک اور روایت میں حضرت عائشہ (رضی الله عنها) فرماتی ہیں۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) اپنی بعض نماز میں یہ دعا پڑھتے تھے۔ ”اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا“ (اے اللہ میرا حساب آسان فرمانا) نماز سے فراغت کے بعد میں نے پوچھا، حسابا یسیرا ”آسان حساب“ کا کیا مطلب ہے ؟ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا، اللہ تعالیٰ اس کا اعمال نامہ دیکھے گا اور پھر اسے معاف فرما دے گا۔۔۔ ( مسند احمد،6 / 48 ) ۔
آیت کے اختیارات
- 9
وَيَنقَلِبُ إِلَىٰٓ أَهْلِهِۦ مَسْرُورًا
اور وه اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی لوٹ آئے گا.[1]
حواشی
[1] یعنی جو اس کے گھر والوں میں سے جنتی ہوں گے۔ یا اس سے مراد وہ حورعین اور ولدان ہیں جو جنتیوں کو ملیں گے۔
آیت کے اختیارات
- 10
وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـٰبَهُۥ وَرَآءَ ظَهْرِهِۦ
ہاں جس شخص کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا.
آیت کے اختیارات
- 11
فَسَوْفَ يَدْعُوا۟ ثُبُورًا
تو وه موت کو بلانے لگے گا.[1]
حواشی
[1] ثُبُورًا ہلاکت، خسارہ۔ یعنی وہ چیخے گا، پکارے گا، واویلا کرے گا کہ میں تو مارا گیا، ہلاک ہوگیا۔
آیت کے اختیارات
- 12
وَيَصْلَىٰ سَعِيرًا
اور بھڑکتی ہوئی جہنم میں داخل ہوگا.
آیت کے اختیارات
- 13
إِنَّهُۥ كَانَ فِىٓ أَهْلِهِۦ مَسْرُورًا
یہ شخص اپنے متعلقین میں (دنیا میں) خوش تھا.[1]
حواشی
[1] یعنی دنیا میں اپنی خواہشات میں مگن اور اپنے گھر والوں کےدرمیان بڑا خوش تھا۔
آیت کے اختیارات
- 14
إِنَّهُۥ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ
اس کا خیال تھا کہ اللہ کی طرف لوٹ کر ہی نہ جائے گا.[1]
حواشی
[1] یہ اس کے خوش ہونے کی علت ہے۔ یعنی آخرت پر اس کا عقیدہ ہی نہیں تھا ۔ حور کےمعنی ہیں، لوٹنا۔ جس طرح نبی (صلى الله عليه وسلم) کی دعا ہے اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْحَورِ بَعْدَ الْكَورِ(صحيح مسلم، الحج، باب ما يقول إذا ركب إلى سفر الحج وغيره، ترمذي، ابن ماجه ) مسلم میں بعد الكون ہے۔ مطلب ہے، اس بات سے میں پناہ مانگتا ہوں کہ ایمان کے بعد کفر، اطاعت کے بعد معصیت یاخیر کے بعد شر کی طرف لوٹوں۔
آیت کے اختیارات
- 15
بَلَىٰٓ إِنَّ رَبَّهُۥ كَانَ بِهِۦ بَصِيرًا
کیوں نہیں[1] ، حاﻻنکہ اس کا رب اسے بخوبی دیکھ رہا تھا.[2]
حواشی
[1] ایک ترجمہ اس کا یہ بھی ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ نہ لوٹے اور دوبارہ زندہ نہ ہو، یا بَلَى، کیوں نہیں، یہ ضرور اپنے رب کی طرف لوٹے گا۔ [2] یعنی اس سے اس کا کوئی عمل مخفی نہیں تھا۔
آیت کے اختیارات
- 16
فَلَآ أُقْسِمُ بِٱلشَّفَقِ
مجھے شفق کی قسم[1] ! اور رات کی!
حواشی
[1] شَفَقٌ، اس سرخی کو کہتے ہیں جو سورج غروب ہونے کے بعد آسمان پر ظاہر ہوتی ہے اور عشا کا وقت شروع ہونے تک رہتی ہے۔
آیت کے اختیارات
- 17
وَٱلَّيْلِ وَمَا وَسَقَ
اور اس کی جمع کرده[1] چیزوں کی قسم.
حواشی
[1] اندھیرا ہوتے ہی ہر چیز اپنےماویٰ اور مسکن کی طرف جمع اور سمٹ آتی ہے یعنی رات کا اندھیرا جن چیزوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 18
وَٱلْقَمَرِ إِذَا ٱتَّسَقَ
اور چاند کی جب کہ وه کامل ہو جاتا ہے.[1]
حواشی
[1] إِذَا اتَّسَقَ کے معنی ہیں، جب وہ مکمل ہو جائے جیسے وہ تیرھویں کی رات سے سولھویں تاریخ کی رات تک رہتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 19
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ
یقیناً تم ایک حالت سے دوسری حالت پر پہنچو گے.[1]
حواشی
[1] طَبَقٌ کے اصل معنی شدت کے ہیں۔ یہاں مراد وہ شدائد ہیں جو قیامت والے دن واقع ہوں گے۔ یعنی اس روز ایک سے بڑھ کر ایک حالت طاری ہوگی۔ (فتح الباري ، تفسير سورة انشقاق) یہ جواب قسم ہے۔
آیت کے اختیارات
- 20
فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
انہیں کیا ہو گیا کہ ایمان نہیں ﻻتے.
آیت کے اختیارات
- 21
وَإِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ ٱلْقُرْءَانُ لَا يَسْجُدُونَ ۩
اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجده نہیں کرتے.[1]
حواشی
[1] احادیث سے یہاں نبی (صلى الله عليه وسلم) اور صحابہ کرام کا سجدہ کرنا ثابت ہے۔
آیت کے اختیارات
- 22
بَلِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يُكَذِّبُونَ
بلکہ جنہوں نے کفر کیا وه جھٹلا رہے ہیں.[1]
حواشی
[1] یعنی ایمان لانے کےبجائے جھٹلاتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 23
وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُوعُونَ
اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں رکھتے ہیں.[1]
حواشی
[1] یعنی تکذیب، یاجو افعال وہ چھپ کر کرتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 24
فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
انہیں المناک عذابوں کی خوشخبری سنا دو.
آیت کے اختیارات
- 25
إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍۭ
ہاں ایمان والوں اور نیک اعمال والوں کو بے شمار اور نہ ختم ہونے واﻻ اجر ہے.
آیت کے اختیارات
البروج
بروج
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ بروج
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلْبُرُوجِ
برجوں والے آسمان کی قسم![1]
حواشی
[1] بُرُوجٌ، بُرْجٌ محل کی جمع ہے۔ بُرْجٌ کے اصل معنی ہیں ظہور۔ یہ کواکب کی منزلیں ہیں جنہیں ان کے محل اور قصور کی حیثیت حاصل ہے۔ ظاہر اور نمایاں ہونے کی وجہ سے انہیں بروج کہا جاتا ہے۔ تفصیل کے لئےدیکھئے الفرقان،61 کا حاشیہ۔ بعض نے بروج سے مراد ستارے لئے ہیں۔ یعنی ستارے والے آسمان کی قسم۔ بعض کے نزدیک اس سے آسمان کے دروازے یا چاند کی منزلیں مراد ہیں ۔( فتح القدیر )۔
آیت کے اختیارات
- 2
وَٱلْيَوْمِ ٱلْمَوْعُودِ
وعده کیے ہوئے دن کی قسم![1]
حواشی
[1] اس سے مراد بالاتفاق قیامت کا دن ہے۔
آیت کے اختیارات
- 3
وَشَاهِدٍ وَمَشْهُودٍ
حاضر ہونے والے اور حاضر کئے گئے کی قسم![1]
حواشی
[1] شَاهِدٍ اور مَشْهُودٍ کی تفسیر میں بہت اختلاف ہے۔ امام شوکانی نے احادیث وآثار کی بنیاد پر کہا ہے کہ شاہد سے مراد جمعہ کا دن ہے، اس دن جس نےجو بھی عمل کیا ہوگا یہ قیامت کے دن اس کی گواہی دے گا۔ اور مشہود سے عرفے (9 ذوالحجہ ) کا دن ہے جہاں لوگ حج کے لئے جمع اور حاضر ہوتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 4
قُتِلَ أَصْحَـٰبُ ٱلْأُخْدُودِ
(کہ) خندقوں والے ہلاک کیے گئے.[1]
حواشی
[1] یعنی جن لوگوں نے خندقیں کھود کر اس میں رب کے ماننے والوں کو ہلاک کیا، ان کے لئے ہلاکت اور بربادی ہے، قُتِلَ بمعنی لُعِنَ ۔
آیت کے اختیارات
- 5
ٱلنَّارِ ذَاتِ ٱلْوَقُودِ
وه ایک آگ تھی ایندھن والی.[1]
حواشی
[1] النَّارِ، الأُخْدُودِ سے بدل اشتمال ہے ذَاتِ الْوَقُودِ، النَّارِ کی صفت ہے۔ یعنی یہ خندقیں کیا تھیں ؟ ایندھن والی آگ تھیں، جو اہل ایمان کو اس میں جھونکنے کے لئے دہکائی گئی تھی۔
آیت کے اختیارات
- 6
إِذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُودٌ
جب کہ وه لوگ اس کے آس پاس بیٹھے تھے.[1]
حواشی
[1] کافر بادشاہ یا اس کے کارندے، آگ کے کنارے بیٹھے اہل ایمان کے جلنے کا تماشا دیکھ رہے تھے، جیسا کہ اگلی آیت میں ہے۔
آیت کے اختیارات
- 7
وَهُمْ عَلَىٰ مَا يَفْعَلُونَ بِٱلْمُؤْمِنِينَ شُهُودٌ
اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کو اپنے سامنے دیکھ رہے تھے.
آیت کے اختیارات
- 8
وَمَا نَقَمُوا۟ مِنْهُمْ إِلَّآ أَن يُؤْمِنُوا۟ بِٱللَّهِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَمِيدِ
یہ لوگ ان مسلمانوں (کے کسی اور گناه کا) بدلہ نہیں لے رہے تھے، سوائے اس کے کہ وه اللہ غالب ﻻئق حمد کی ذات پر ایمان ﻻئے تھے.[1]
حواشی
[1] یعنی ان لوگوں کا جرم، جنہیں آگ میں جھونکا جا رہا تھا، یہ تھا کہ وہ اللہ غالب پر ایمان لے آئے تھے۔ اس واقعے کی تفصیل جو صحیح احادیث سے ثابت ہے ، ملاحظہ فرمائیں۔ واقعہ اصحاب الاخدود : گزشتہ زمانے میں ایک بادشاہ کا جادوگر اور کاہن تھا، جب وہ کاہن بوڑھا ہو گیا تو اس نے بادشاہ سےکہا کہ مجھے ایک ذہین لڑکا دو، جسے میں یہ علم سکھا دوں۔ چنانچہ بادشاہ نے ایک سمجھدار لڑکا تلاش کرکے اس کے سپرد کر دیا۔ لڑکے کے راستے میں ایک راہب کا بھی مکان تھا، یہ لڑکا آتے جاتے اس کےپاس بھی بیٹھتا اور اس کی باتیں سنتا، جو اسے اچھی لگتیں۔ اسی طرح سلسلہ چلتا رہا۔ ایک مرتبہ یہ لڑکا جا رہا تھا کہ راستے میں ایک بہت بڑے جانور ( شیر یا سانپ وغیرہ ) نے لوگوں کا راستہ روک رکھا تھا۔ لڑکے نے سوچا، آج میں پتہ کرتا ہوں کہ جادوگر صحیح ہے یا راہب ؟ اس نے ایک پتھر پکڑا اور کہا اے اللہ، اگر راہب کا معاملہ، تیرے نزدیک جادوگر کے معاملے سے بہتر اور پسندیدہ ہے تو اس جانور کو مار دے، تاکہ لوگوں کی آمد ورفت جاری ہو جائے۔ یہ کہہ کر اس نے پتھر مارا اور وہ جانور مر گیا۔ لڑکے نے جا کر یہ واقعہ راہب کو بتلایا۔ راہب نے کہا، بیٹے! اب تم فضل وکمال کو پہنچ گئے ہو اور تمہاری آزمائش شروع ہونے والی ہے۔ لیکن اس دور ابتلا میں میرا نام ظاہر نہ کرنا۔ یہ لڑکا مادر زاد اندھے، برص اور دیگر بعض بیماریوں کا علاج بھی کرتا تھا، لیکن ایمان باللہ کی شرط پر، اسی شرط پر اس نے بادشاہ کے ایک نابینا مصاحب کی آنکھیں بھی، اللہ سے دعا کرکے صحیح کر دیں۔ یہ لڑکا یہی کہتا تھا کہ اگر تم ایمان لے آؤ گے تو میں اللہ سے دعا کروں گا، وہ شفا عطا فرما دے گا، چنانچہ اس کی دعا سے اللہ شفایاب فرما دیتا۔ یہ خبر بادشاہ تک بھی پہنچی تو وہ بہت پریشان ہوا۔ بعض اہل ایمان کو تو اس نے قتل کروا دیا۔ اس لڑکے کے بارے میں اس نے چند آدمیوں کو کہا کہ اسے پہاڑ کی چوٹی پر لےجا کر نیچے پھینک دو، اس نے اللہ سے دعا کی، پہاڑ میں لرزش پیدا ہوئی، جس سے وہ سب گر کر مر گئے اور اللہ نے اسے بچا لیا۔ بادشاہ نے اسےدوسرے آدمیوں کےسپرد کرکے کہا کہ ایک کشتی میں بٹھا کر سمندر کے بیچ میں لے جا کر اسے پھینک دو، وہاں بھی اس کی دعا سے کشتی الٹ گئی، جس سے وہ سب غرق ہوگئےاور یہ بچ گیا۔ اس لڑکے نے بادشاہ سے کہا، اگر مجھے ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک کھلے میدان میں لوگوں کو جمع کرو اور ( بِسْمِ اللهِ رَبِّ الْغُلامِ ) کہہ کر مجھے تیر مار۔ بادشاہ نے ایسا ہی کیا، جس سے وہ لڑکا مر گیا لیکن سارے لوگ پکار اٹھے، کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے۔ بادشاہ اور زیادہ پریشان ہوگیا۔ چنانچہ اس نے خندقیں کھدوائیں اور اس میں آگ جلوائی اور حکم دیا کہ جو ایمان سے انحراف نہ کرے، اس کو آگ میں پھینک دو۔ اس طرح ایمان دار آتے رہے اور آگ کے حوالے ہوتے رہے، حتیٰ کہ ایک عورت آئی، جس کےساتھ ایک بچہ تھا، وہ ذرا ٹھٹھکی، تو بچہ بول پڑا، اماں، صبر کر، تو حق پر ہے۔ ( صحيح مسلم، ملخصًا، كتاب الزهد والرقاق، باب قصة أصحاب الأخدود ) امام ابن کثیر نے اور بھی بعض واقعات نقل کیے ہیں اور جو اس سے مختلف ہیں اور کہا ہے، ممکن ہے اس قسم کے متعدد واقعات مختلف جگہوں پر ہوئے ہوں۔ ( تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر ابن کثیر)۔
آیت کے اختیارات
- 9
ٱلَّذِى لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ شَهِيدٌ
جس کے لئے آسمان وزمین کا ملک ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہرچیز کو دیکھ رہا ہے.
آیت کے اختیارات
- 10
إِنَّ ٱلَّذِينَ فَتَنُوا۟ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَـٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا۟ فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ ٱلْحَرِيقِ
بیشک جن لوگوں نے مسلمان مردوں اور عورتوں کو ستایا پھر توبہ (بھی) نہ کی تو ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور جلنے کا عذاب ہے.
آیت کے اختیارات
- 11
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ لَهُمْ جَنَّـٰتٌ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْكَبِيرُ
بیشک ایمان قبول کرنے والوں اور نیک کام کرنے والوں کے لئے وه باغات ہیں۔ جن کے نیچے بہریں بہہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے.
آیت کے اختیارات
- 12
إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ
یقیناً تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی جب وہ اپنے ان دشمنوں کی گرفت پر آئے جو اس کے رسولوں کی تکذیب کرتے اور ان کے حکموں کی مخالفت کرتے ہیں۔ تو پھر اس کی گرفت سے انہیں کوئی نہیں بچا سکتا۔
آیت کے اختیارات
- 13
إِنَّهُۥ هُوَ يُبْدِئُ وَيُعِيدُ
وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوباره پیدا کرے گا.[1]
حواشی
[1] یعنی وہی اپنی قوت اور قدرت کاملہ سے پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور پھر قیامت والے دن دوبارہ انہیں اسی طرح پیدا فرمائے گا جس طرح اس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔
آیت کے اختیارات
- 14
وَهُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلْوَدُودُ
وه بڑا بخشش کرنے واﻻ اور بہت محبت کرنے واﻻ ہے.
آیت کے اختیارات
- 15
ذُو ٱلْعَرْشِ ٱلْمَجِيدُ
عرش کا مالک عظمت واﻻ ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی تمام مخلوقات سے معظم اور بلند ہے اور عرش، جو سب سے اوپر ہے، وہ اس کا مستقر ہے۔ جیسا کہ صحابہ وتابعین اور محدثین کا عقیدہ ہے۔ الْجِيدِ صاحب فضل وکرم۔ یہ مرفوع اس لئے ہے کہ یہ ذُو ۔ یعنی رب کی صفت ہے، عرش کی صفت نہیں۔ اگرچہ بعض لوگ اسے عرش کی صفت تسلیم کرکے اسے مجرور پڑھتے ہیں۔ معناً دونوں صحیح ہیں۔ ( ابن کثیر ) ۔
آیت کے اختیارات
- 16
فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ
جو چاہے اسے کر گزرنے واﻻ ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی وہ جو چاہے، کر گزرتا ہے، اس کے حکم اور مشیت کو ٹالنے والا کوئی نہیں ہے نہ اس سے کوئی پوچھنے والا ہی ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق (رضي الله عنه) سے ان کے مرض الموت میں کسی نے پوچھا: کیا کسی طبیب نے آپ کو دیکھا ؟ انہوں نے فرمایا، ہاں۔ پوچھا، اس نے کیا کہا ؟ فرمایا، اس نے کہا ہے، إِنِّي فَعَّالٌ لِمَا أُرِيدُ میں جو چاہوں کروں، میرے معاملے میں کوئی دخل دینے والا نہیں۔ ( ابن کثیر ) مطلب یہ تھا کہ اب طبیبوں کے ہاتھوں میں نہیں رہا، میرا آخری وقت آگیا ہے اور اللہ ہی اب میرا طبیب ہے، جس کی مشیت کو ٹالنے کی کسی کے اندر طاقت نہیں ہے۔
آیت کے اختیارات
- 17
هَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ٱلْجُنُودِ
تجھے لشکروں کی خبر بھی ملی ہے؟[1]
حواشی
[1] یعنی ان پر جب میرا عذاب آیا اور میں نے انہیں اپنی گرفت میں لیا، جسے کوئی ٹال نہیں سکا۔
آیت کے اختیارات
- 18
فِرْعَوْنَ وَثَمُودَ
(یعنی) فرعون اور ثمود کی.[1]
حواشی
[1] یعنی ان پر جب میرا عذاب آیا اور میں نے انہیں اپنی گرفت میں لیا، جسے کوئی ٹال نہیں سکا۔
آیت کے اختیارات
- 19
بَلِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فِى تَكْذِيبٍ
(کچھ نہیں) بلکہ کافر تو جھٹلانے میں پڑے ہوئے ہیں.
آیت کے اختیارات
- 20
وَٱللَّهُ مِن وَرَآئِهِم مُّحِيطٌۢ
اور اللہ تعالیٰ بھی انہیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے.[1]
حواشی
[1] یہ إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ ہی کا اثبات اور اس کی تاکید ہے۔
آیت کے اختیارات
- 21
بَلْ هُوَ قُرْءَانٌ مَّجِيدٌ
بلکہ یہ قرآن ہے بڑی شان واﻻ.
آیت کے اختیارات
- 22
فِى لَوْحٍ مَّحْفُوظٍۭ
لوح محفوظ میں (لکھا ہوا).[1]
حواشی
[1] یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، جہاں فرشتے اس کی حفاظت پر مامور ہیں، اللہ تعالیٰ حسب ضرورت واقتضا اسے نازل فرماتا ہے۔
آیت کے اختیارات
الطارق
طارق
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیرسورۂ طارق
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
وَٱلسَّمَآءِ وَٱلطَّارِقِ
قسم ہے آسمان کی اور اندھیرے میں روشن ہونے والے کی.
آیت کے اختیارات
- 2
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلطَّارِقُ
تجھے معلوم بھی ہے کہ وه رات کو نمودار ہونے والی چیز کیا ہے؟
آیت کے اختیارات
- 3
ٱلنَّجْمُ ٱلثَّاقِبُ
وه روشن ستاره ہے.[1]
حواشی
[1] طارق سے کیا مراد ہے ؟ خود قرآن نے واضح کر دیا۔ روشن ستارہ طَارِقٌ، طُرُوقٌ سے ہے جس کے لغوی معنی کٹھکھٹانے کے ہیں، لیکن طارق رات کو آنے والے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ستاروں کو بھی طارق اسی لئے کہا ہے کہ یہ دن کو چھپ جاتے اور رات کو نمودار ہوتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 4
إِن كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ
کوئی ایسا نہیں جس پر نگہبان فرشتہ نہ ہو.[1]
حواشی
[1] یعنی ہر نفس پر اللہ کی طرف سے فرشتے مقرر ہیں جو اس کے اچھے یا برے سارے عمل لکھتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں، یہ انسانوں کی حفاظت کرنے والے فرشتے ہیں، جیسا کہ سورۂ رعد کی آیت نمبر ۔ 11 سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی حفاظت کے لئے بھی انسان کے آگے پیچھے فرشتے ہوتے ہیں، جس طرح قول وفعل لکھنے والے ہوتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 5
فَلْيَنظُرِ ٱلْإِنسَـٰنُ مِمَّ خُلِقَ
انسان کو دیکھنا چاہئے کہ وه کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے.
آیت کے اختیارات
- 6
خُلِقَ مِن مَّآءٍ دَافِقٍ
وه ایک اچھلتے پانی سے پیدا کیا گیا ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی منی سے، جو قضائے شہوت کے بعد زور سے نکلتی ہے۔ یہی قطرۂ آب ( منی ) رحم عورت میں جاکر، اگر اللہ کا حکم ہوتا ہے تو، حمل کا باعث بنتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 7
يَخْرُجُ مِنۢ بَيْنِ ٱلصُّلْبِ وَٱلتَّرَآئِبِ
جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے.[1]
حواشی
[1] کہا جاتا ہے کہ پیٹھ، مرد کی اور سینہ عورت کا، ان دونوں کے پانی سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے۔ لیکن اسے ایک ہی پانی اس لئے کہا کہ یہ دونوں مل کر ایک ہی بن جاتا ہے۔ تَرَائِبُ، تَرِيبَةٌ کی جمع ہے، سینے کا وہ حصہ جو ہار پہننے کی جگہ ہے۔
آیت کے اختیارات
- 8
إِنَّهُۥ عَلَىٰ رَجْعِهِۦ لَقَادِرٌ
بیشک وه اسے پھیر ﻻنے پر یقیناً قدرت رکھنے واﻻ ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی انسان کےمرنے کے بعد، اسےدوبارہ زندہ کرنے پر وہ قادر ہے۔ بعض کے نزدیک اس کا مطلب ہے کہ وہ اس قطرۂ آب کو دوبارہ شرمگاہ کے اندر لوٹانے کی قدرت رکھتا ہے جہاں سے وہ نکلا تھا۔ پہلے مفہوم کو امام شوکانی اور امام ابن جریر طبری نے زیادہ صحیح قرار دیا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 9
يَوْمَ تُبْلَى ٱلسَّرَآئِرُ
جس دن پوشیده بھیدوں کی جانچ پڑتال ہوگی.[1]
حواشی
[1] یعنی ظاہر ہو جائیں گے، کیوں کہ ان پر جزا وسزا ہوگی۔ بلکہ حدیث میں آتا ہے ہر غدر ( بدعہدی ) کرنے والے کے سرین کے پاس جھنڈا گاڑ دیا جائے گا اور اعلان کر دیا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے۔ (صحيح بخاري، كتاب الجزية، باب إثم الغادر للبر والفاجر- مسلم كتاب الجهاد، باب تحريم الغدر) مطلب یہ ہے کہ وہاں کسی کا کوئی عمل مخفی نہیں رہے گا۔
آیت کے اختیارات
- 10
فَمَا لَهُۥ مِن قُوَّةٍ وَلَا نَاصِرٍ
تو نہ ہوگا اس کے پاس کچھ زور نہ مدددگار.[1]
حواشی
[1] یعنی خود انسان کے پاس اتنی قوت ہوگی کہ وہ اللہ کے عذاب سے بچ جائے، نہ کسی اور طرف سے اس کو کوئی ایسا مددگار مل سکے گا جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔
آیت کے اختیارات
- 11
وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلرَّجْعِ
بارش والے آسمان کی قسم![1]
حواشی
[1] رَجْعٌ کے لغوی معنی ہیں، لوٹنا پلٹنا، بارش بھی بار بار اور پلٹ پلٹ کر ہوتی ہے، اس لئے بارش کو رَجْعٌ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ بادل، سمندروں سے ہی پانی لیتا ہے اور پھر زمین پر لوٹا دیتا ہے، اس لئے بارش کو رَجْعٌ کہا۔ بعض کہتے ہیں بطور تفاؤل عرب بارش کو رَجْعٌ کہتے تھے تاکہ وہ بار بار ہوتی رہے۔ ( فتح القدیر ) ۔
آیت کے اختیارات
- 12
وَٱلْأَرْضِ ذَاتِ ٱلصَّدْعِ
اور پھٹنے والی زمین کی قسم![1]
حواشی
[1] یعنی زمین پھٹتی ہے تو اس سے پودا باہر نکلتا ہے، زمین پھٹتی ہے تو چشمہ جاری ہوتا ہے اور اسی طرح ایک دن آئے گا کہ زمین پھٹے گی، سارے مردے زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے۔ اس لئے زمین کو پھٹنے والی اور شگاف والی کہا۔
آیت کے اختیارات
- 13
إِنَّهُۥ لَقَوْلٌ فَصْلٌ
بیشک یہ (قرآن) البتہ دو ٹوک فیصلہ کرنے واﻻ کلام ہے.[1]
حواشی
[1] یہ جواب قسم ہے، یعنی کھول کر بیان کر نے والا ہے جس سے حق اور باطل دونوں واضح ہو جاتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 14
وَمَا هُوَ بِٱلْهَزْلِ
یہ ہنسی کی (اور بے فائده) بات نہیں.[1]
حواشی
[1] یعنی کھیل کود اور مذاق والی چیز نہیں ہے، هَزْلٌ، جِدٌّ ( قصد وارادہ ) کی ضد ہے ۔ یعنی ایک واضح مقصد کی حامل کتاب ہے، لہو ولعب کی طرح بےمقصد نہیں ہے۔
آیت کے اختیارات
- 15
إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا
البتہ کافر داؤ گھات میں ہیں.[1]
حواشی
[1] یعنی نبی (صلى الله عليه وسلم) جو دین حق لے کر آئے ہیں، اس کو ناکام کرنے کے لئے سازشیں کرتے ہیں، یا نبی (صلى الله عليه وسلم) کو دھوکہ اور فریب دیتے ہیں اور منہ پر ایسی باتیں کرتے ہیں کہ دل میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 16
وَأَكِيدُ كَيْدًا
اور میں بھی ایک چال چل رہا ہوں.[1]
حواشی
[1] یعنی میں ان کی چالوں اور سازشوں سے غافل نہیں ہوں، میں بھی ان کے خلاف تدبیر کر رہا ہوں یا ان کی چالوں کا توڑ کر رہا ہوں۔ كَيْدٌ خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں، جو برے مقصد کے لئے ہو تو بری ہے اور مقصد نیک ہو تو بری نہیں۔
آیت کے اختیارات
- 17
فَمَهِّلِ ٱلْكَـٰفِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًۢا
تو کافروں کو مہلت دے[1] انہیں تھوڑے دنوں چھوڑ دے.
حواشی
[1] یعنی ان کے لئے تعجیل عذاب کا سوال نہ کر، بلکہ انہیں کچھ مہلت دے دے۔ رُوَيْدًا : قَلَيلا یا قَرِيبًا یہ امہال واستدراج بھی کافروں کے حق میں اللہ کی طرف سے ایک کید کی صورت ہے جیسے فرمایا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِنْ حَيْثُ لا يَعْلَمُونَ (1) وَأُمْلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ ( الأعراف:182-183 ) ۔
آیت کے اختیارات
الأعلى
اعلى
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ اَعلیٰ
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
سَبِّحِ ٱسْمَ رَبِّكَ ٱلْأَعْلَى
اپنے بہت ہی بلند اللہ کے نام کی پاکیزگی بیان کر.[1]
حواشی
[1] یعنی ایسی چیزوں سے اللہ کی پاکیزگی جو اس کے لائق نہیں ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) اس کے جواب میں پڑھا کرتے تھے، سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى (مسند أحمد، 1/ 232 ۔ أبو داود، كتاب الصلاة، باب الدعاء في الصلاة، وقال الألباني صحيح ) ۔
آیت کے اختیارات
- 2
ٱلَّذِى خَلَقَ فَسَوَّىٰ
جس نے پیدا کیا اور صحیح سالم بنایا.[1]
حواشی
[1] دیکھئے سورۃ الانفطار کا حاشیہ نمبر۔ 7
آیت کے اختیارات
- 3
وَٱلَّذِى قَدَّرَ فَهَدَىٰ
اور جس نے (ٹھیک ٹھاک) اندازه کیا اور پھر راه دکھائی.[1]
حواشی
[1] یعنی نیکی اور بدی کی۔ اس طرح ضروریات زندگی کی۔ یہ ہدایت حیوانات کو بھی عطا فرمائی۔ قَدَرٌ کا مفہوم ہے۔ اشیا کی جنسوں، ان کی انواع وصفات اور خصوصیات کا اندازہ فرما کر انسان کی بھی ان کی طرف رہنمائی فرما دی تاکہ انسان ان سے استفادہ کر سکے۔
آیت کے اختیارات
- 4
وَٱلَّذِىٓ أَخْرَجَ ٱلْمَرْعَىٰ
اور جس نے تازه گھاس پیدا کی.[1]
حواشی
[1] جسے جانور چرتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 5
فَجَعَلَهُۥ غُثَآءً أَحْوَىٰ
پھر اس نے اس کو (سکھا کر) سیاه کوڑا کر دیا.[1]
حواشی
[1] گھاس خشک ہو جائے تو اسے غُثَاءً کہتے ہیں، أَحْوَى سیاہ کر دیا۔ یعنی تازہ اور شاداب گھاس کو ہم سکھا کر سیاہ کوڑا بھی کر دیتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 6
سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنسَىٰٓ
ہم تجھے پڑھائیں گے پھر تو نہ بھولے گا.[1]
حواشی
[1] حضرت جبرائیل (عليه السلام) وحی لے کر آتے تو آپ اسے جلدی جلدی پڑھتے تاکہ بھول نہ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اس طرح جلدی نہ کریں۔ نازل شدہ وحی ہم آپ کو پڑھوائیں گے یعنی آپ کی زبان پر جاری کر دیں گے، پس آپ اسے بھولیں گے نہیں۔ مگر جسے اللہ چاہے گا، لیکن اللہ نے ایسا نہیں چاہا، اس لئے آپ کو سب کچھ یاد ہی رہا۔ بعض نے کہا کہ اس کا مفہوم ہے کہ جن کو اللہ منسوخ کرنا چاہے گا وہ آپ کو بھلوا دے گا۔ ( فتح القدیر ) ۔
آیت کے اختیارات
- 7
إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۚ إِنَّهُۥ يَعْلَمُ ٱلْجَهْرَ وَمَا يَخْفَىٰ
مگر جو کچھ اللہ چاہے۔ وه ظاہر اور پوشیده کو جانتا ہے.[1]
حواشی
[1] یہ عام ہے، جہر قرآن کا وہ حصہ بھی ہے جسے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) یاد کر لیں، اور جو آپ کے سینے سے محو کر دیا جائے، وہ مخفی ہے۔ اس طرح جہر اونچی آواز سےپڑھے، خفی پست آواز سےپڑھے، خفی، چھپ کر عمل کرے اور جہر ظاہر، ان سب کو اللہ جانتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 8
وَنُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرَىٰ
ہم آپ کے لئے آسانی پیدا کر دیں گے.[1]
حواشی
[1] یہ بھی عام ہے۔ مثلاً آپ پر وحی آسان کر دیں گے تاکہ اس کو یاد کرنا اور اس پر عمل کرنا آسان ہو جائے۔ ہم آپ کی اس طریقے کی طرف رہنمائی کریں گے جو آسان ہوگا۔ ہم جنت والا عمل آپ کے لئے آسان کر دیں گے، ہم آپ کے لئے ایسے افعال واقوال آسان کر دیں گے جن میں خیر ہو اور ہم آپ کے لئے ایسی شریعت مقرر کریں گے، جو سہل، مستقیم اور متعدل ہوگی، جس میں کوئی کجی، عسر اور تنگی نہیں ہوگی۔
آیت کے اختیارات
- 9
فَذَكِّرْ إِن نَّفَعَتِ ٱلذِّكْرَىٰ
تو آپ نصیحت کرتے رہیں اگر نصیحت کچھ فائده دے.[1]
حواشی
[1] یعنی وعظ ونصیحت وہاں کریں جہاں محسوس ہو کہ فائدہ مند ہوگی۔ یہ وعظ ونصیحت اور تعلیم کے لئے ایک اصول اور ادب بیان فرما دیا۔ ( ابن کثیر ) امام شوکانی کے نزدیک مفہوم یہ ہے کہ آپ نصیحت کرتے رہیں، چاہے فائدہ دے یا نہ دے۔ کیونکہ انذار وتبلیغ دونوں صورتوں میں آپ کے لئے ضروری تھی۔ یعنی أَوْ لَمْ تَنْفَعْ یہاں محذوف ہے۔
آیت کے اختیارات
- 10
سَيَذَّكَّرُ مَن يَخْشَىٰ
ڈرنے واﻻ تو نصیحت لے گا.[1]
حواشی
[1] یعنی آپ کی نصیحت سے وہ یقیناً عبرت حاصل کریں گے جن کے دلوں میں اللہ کا خوف ہوگا، ان میں خشیت الہیٰ اور اپنی اصلاح کا جذبہ مزید قوی ہو جائے گا۔
آیت کے اختیارات
- 11
وَيَتَجَنَّبُهَا ٱلْأَشْقَى
(ہاں) بد بخت اس سے گریز کرے گا.[1]
حواشی
[1] یعنی اس نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے کیوں کہ ان کا کفر پر اصرار اور اللہ کی معصیتوں میں انہماک جاری رہتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 12
ٱلَّذِى يَصْلَى ٱلنَّارَ ٱلْكُبْرَىٰ
جو بڑی آگ میں جائے گا.
آیت کے اختیارات
- 13
ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ
جہاں پھر نہ وه مرے گا نہ جئےگا[1] ، (بلکہ حالت نزع میں پڑا رہے گا).
حواشی
[1] ان کے برعکس جو لوگ صرف اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کے لئے عارضی طور پر جہنم میں رہ گئے ہوں گے انہیں اللہ تعالیٰ ایک طرح کی موت دے دے گا۔ حتیٰ کہ وہ آگ میں جل کر کوئلہ ہو جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ انبیا وغیرہ کی سفارش سے ان کو گروہوں کی شکل میں نکالے گا، ان کو جنت کی نہر میں ڈالا جائے گا، جنتی بھی ان پر پانی ڈالیں گے، جس سے وہ اس طرح جی اٹھیں گے جیسے سیلاب کے کوڑے پردانہ اگ آتا ہے ۔ (صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب إثبات الشفاعة وإخراج الموحدين من النار)۔
آیت کے اختیارات
- 14
قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ
بیشک اس نے فلاح پالی جو پاک ہوگیا.[1]
حواشی
[1] جنہوں نے اپنے نفس کو اخلاق رذیلہ سے اور دلوں کو شرک ومعصیت کی آلودگی سے پاک کر لیا۔
آیت کے اختیارات
- 15
وَذَكَرَ ٱسْمَ رَبِّهِۦ فَصَلَّىٰ
اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا.
آیت کے اختیارات
- 16
بَلْ تُؤْثِرُونَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا
لیکن تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو.
آیت کے اختیارات
- 17
وَٱلْـَٔاخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰٓ
اور آخرت بہت بہتر اور بہت بقا والی ہے.[1]
حواشی
[1] کیوں کہ دنیا اور اس کی ہر چیز فانی ہے، جب کہ آخرت کی زندگی دائمی اور ابدی ہے، اس لئے عاقل فانی چیز کو باقی رہنے والی پر ترجیح نہیں دیتا۔
آیت کے اختیارات
- 18
إِنَّ هَـٰذَا لَفِى ٱلصُّحُفِ ٱلْأُولَىٰ
یہ باتیں پہلی کتابوں میں بھی ہیں.
آیت کے اختیارات
- 19
صُحُفِ إِبْرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ
(یعنی) ابراہیم اور موسیٰ کی کتابوں میں.
آیت کے اختیارات
سورت کا اختتام: تفسیر سعدی (اردو)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
الغاشية
غاشیہ
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ غاشیہ
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
هَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ٱلْغَـٰشِيَةِ
کیا تجھے بھی چھپا لینے والی (قیامت) کی خبر پہنچی ہے.[1]
حواشی
[1] هَلْ بمعنی قَدْ ہے۔ غَاشِيَةٌ سے مراد قیامت ہے۔ اس لئے کہ اس کی ہولناکیاں تمام مخلوق کو ڈھانک لیں گی۔
آیت کے اختیارات
- 2
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَـٰشِعَةٌ
اس دن بہت سے چہرے ذلیل ہوں گے.[1]
حواشی
[1] یعنی کافروں کے چہرے۔ خَاشِعَةٌ جھکے ہوئے، پست اور ذلیل۔ جیسے، نمازی، نماز کی حالت میں اللہ کے سامنے عاجزی اور تذلل سےجھکا ہوتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 3
عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ
(اور) محنت کرنے والے تھکے ہوئے ہوں گے.[1]
حواشی
[1] نَاصِبَةٌ کے معنی ہیں، تھک کر چور ہو جانا۔ یعنی انہیں اتنا پر مشقت عذاب ہوگا کہ اس سے ان کا سخت برا حال ہو گا۔ اس کا ایک دوسرا مفہوم یہ ہے کہ دنیا میں عمل کرکرے تھکے ہوئے ہوں گے یعنی بہت عمل کرتے رہے ہوں گے۔ لیکن وہ عمل باطل مذہب کے مطابق یا بدعات پر مبنی ہوں گے، اس لئے عبادات اور اعمال شاقہ کے باوجود جہنم میں جائیں گے۔ چنانچہ اسی مفہوم کی رو سے حضرت ابن عباس (رضي الله عنه) ما نے ”عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ“ سے نصاریٰ مراد لئے ہیں (صحيح البخاري تفسير سورة غاشية)۔
آیت کے اختیارات
- 4
تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً
وه دہکتی ہوئی آگ میں جائیں گے.
آیت کے اختیارات
- 5
تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ ءَانِيَةٍ
اور نہایت گرم چشمے کا پانی ان کو پلایا جائے گا.[1]
حواشی
[1] یہاں وہ سخت کھولتا ہوا پانی مراد ہے جس کی گرمی انتہا کو پہنچی ہوئی ہو۔ ( فتح القدیر ) ۔
آیت کے اختیارات
- 6
لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ
ان کے لئے سوائے کانٹے دار درختوں کے اور کچھ کھانے کو نہ ہوگا.[1]
حواشی
[1] یہ ایک کانٹے دار درخت ہوتا ہے جسے خشک ہونے پر جانور بھی کھانا پسند نہیں کرتے۔ بہرحال یہ بھی زقوم کی طرح ایک نہایت تلخ، بدمزہ اور ناپاک ترین کھانا ہوگا، جو جز وبدن بنے گا، نہ اس سے بھوک ہی مٹے گی۔
آیت کے اختیارات
- 7
لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِى مِن جُوعٍ
جو نہ موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا.
آیت کے اختیارات
- 8
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌ
بہت سے چہرے اس دن تروتازه اور (آسوده حال) ہوں گے.
آیت کے اختیارات
- 9
لِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ
اپنی کوشش پر خوش ہوں گے.
آیت کے اختیارات
- 10
فِى جَنَّةٍ عَالِيَةٍ
بلند وباﻻ جنتوں میں ہوں گے.
آیت کے اختیارات
- 11
لَّا تَسْمَعُ فِيهَا لَـٰغِيَةً
جہاں کوئی بیہوده بات نہیں سنیں گے.
آیت کے اختیارات
- 12
فِيهَا عَيْنٌ جَارِيَةٌ
جہاں بہتا ہوا چشمہ ہوگا.
آیت کے اختیارات
- 13
فِيهَا سُرُرٌ مَّرْفُوعَةٌ
(اور) اس میں اونچے اونچے تخت ہوں گے.
آیت کے اختیارات
- 14
وَأَكْوَابٌ مَّوْضُوعَةٌ
اور آبخورے رکھے ہوئے (ہوں گے).
آیت کے اختیارات
- 15
وَنَمَارِقُ مَصْفُوفَةٌ
اور ایک قطار میں لگے ہوئے تکیے ہوں گے.
آیت کے اختیارات
- 16
وَزَرَابِىُّ مَبْثُوثَةٌ
اور مخملی مسندیں پھیلی پڑی ہوں گی.[1]
حواشی
[1] یہ اہل جنت کا تذکرہ ہے، جو جہنمیوں کے برعکس نہایت آسودہ حال اور ہر قسم کی آسائشوں سے بہرہ ور ہوں گے۔ عَيْنٌ بطور جنس کے ہے یعنی متعدد چشمے ہوں گے۔ نَمَارِقُ بمعنی وَسَائِدَ ( تکیے ) ہے زَرَابِيُّ مسندیں، قالین اور گدے بستر مَبْثُوثَةٌ پھیلی ہوئی۔ یعنی یہ مسندیں جگہ جگہ بچھی ہوئی ہوں گی۔ اہل جنت جہاں آرام کرنا چاہیں گے، کر سکیں گے۔
آیت کے اختیارات
- 17
أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى ٱلْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ
کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ وه کس طرح پیدا کیے گئے ہیں.[1]
حواشی
[1] اونٹ عرب میں عام تھے اور ان عربوں کی غالب سواری یہی تھی، اس لئے اللہ نے اسی کا ذکر کر کے فرمایا کہ اس کی خلقت پر غور کرو، اللہ نے اسے کتنا بڑا وجود عطا کیا ہے اور کتنی قوت وطاقت اس کے اندر رکھی ہے۔ اس کے باوجود وہ تمہارے لئے نرم اور تابع ہے، تم اس پر جتنا چاہو بوجھ لاد دو، وہ انکار نہیں کرے گا، تمہارا ماتحت ہو کر رہے گا۔ علاوہ ازیں اس کا گوشت تمہارے کھانے کے، اس کا دودھ تمہارے پینے کے اور اس کی اون، گرمی حاصل کرنے کے کام آتی ہے۔
آیت کے اختیارات
- 18
وَإِلَى ٱلسَّمَآءِ كَيْفَ رُفِعَتْ
اور آسمان کو کہ کس طرح اونچا کیا گیا ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی آسمان کتنی بلندی پر ہے، پانچ سو سال کی مسافت پر، پھر بھی بغیر ستون کے وہ کھڑا ہے۔ اس میں کوئی شگاف اور کجی بھی نہیں ہے۔ نیز ہم نے اسے ستاروں سے مزین کیا ہوا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 19
وَإِلَى ٱلْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ
اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح گاڑ دیئے گئے ہیں.[1]
حواشی
[1] یعنی کس طرح انہیں زمین پر میخوں کی طرح گاڑ دیا گیا ہے تاکہ زمین حرکت نہ کرے۔ نیز ان میں جو معدنیات اور دیگر منافع ہیں، وہ اس کے علاوہ ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 20
وَإِلَى ٱلْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ
اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی کس طرح اسے ہموار کرکے انسان کے رہنے کے قابل بنایا ہے، وہ اس پر چلتا پھرتا، کاروبار کرتا اور فلک بوس عمارتیں تعمیر کرتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 21
فَذَكِّرْ إِنَّمَآ أَنتَ مُذَكِّرٌ
پس آپ نصیحت کر دیا کریں (کیونکہ) آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں.[1]
حواشی
[1] یعنی آپ کا کام صرف تذکیر اور تبلیغ ودعوت ہے، اس کے علاوہ یا اس سے بڑھ کر نہیں۔
آیت کے اختیارات
- 22
لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ
آپ کچھ ان پر داروغہ نہیں ہیں.[1]
حواشی
[1] کہ انہیں ایمان لانے پر مجبور کریں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ ہجرت سے قبل کا حکم ہے جو آیت سیف سے منسوخ ہو گیا، کیوں کہ اس کے بعد نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا۔ ”أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لا إِلَهَ إِلا اللهُ فَإِذَا قَالُوهَا، عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلا بِحَقِّهَا؛ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ“۔ (صحيح بخاري، باب وجوب الزكاة مسلم كتاب الإيمان، باب الأمر بقتال الناس حتى يقولوا...) ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لیں۔ جب وہ یہ اقرار کر لیں گے تو انہوں نے مجھ سے اپنے خونوں اور مالوں کو بچا لیا۔ سوائے حق اسلام کے، ( جو اگر ہمارے علم میں نہ آیا تو ) ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے“۔
آیت کے اختیارات
- 23
إِلَّا مَن تَوَلَّىٰ وَكَفَرَ
ہاں! جو شخص روگردانی کرے اور کفر کرے.
آیت کے اختیارات
- 24
فَيُعَذِّبُهُ ٱللَّهُ ٱلْعَذَابَ ٱلْأَكْبَرَ
اسے اللہ تعالیٰ بہت بڑا عذاب دے گا.[1]
حواشی
[1] یعنی جہنم کا دائمی عذاب۔
آیت کے اختیارات
- 25
إِنَّ إِلَيْنَآ إِيَابَهُمْ
بیشک ہماری طرف ان کا لوٹنا ہے.
آیت کے اختیارات
- 26
ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُم
پھر بیشک ہمارے ذمہ ہے ان سے حساب لینا.[1]
حواشی
[1] مشہور ہے کہ اس کے جواب میں اللَّهُمَّ! حَاسِبْنَا حِسَابًا يَسِيرًا ۔ پڑھا جائے۔ یہ دعا تو نبی (صلى الله عليه وسلم) سے ثابت ہے جو آپ (صلى الله عليه وسلم) اپنی بعض نمازوں میں پڑھتے تھے، جیسا کہ سورۂ انشقاق میں گزرا۔ لیکن اس کے جواب میں پڑھنا، یہ آپ (صلى الله عليه وسلم) سے ثابت نہیں ہے۔
آیت کے اختیارات
الفجر
فجر
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ فجر
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
وَٱلْفَجْرِ
قسم ہے فجر کی![1]
حواشی
[1] اس سے مراد مطلق فجر ہے، کسی خاص دن کی فجر نہیں۔
آیت کے اختیارات
- 2
وَلَيَالٍ عَشْرٍ
اور دس راتوں کی![1]
حواشی
[1] اس سے اکثر مفسرین کے نزدیک ذوالحجہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں۔ جن کی فضیلت احادیث سے ثابت ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”عشرہ ذوالحجہ میں کیے گئے عمل صالح اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ حتیٰ کہ جہاد فی سبیل اللہ بھی اتنا پسندیدہ نہیں، سوائے اس جہاد کے جس میں انسان شہید ہی ہو جائے“۔ (البخاري، كتاب العيدين، باب فضل العمل في أيام التشريق)۔
آیت کے اختیارات
- 3
وَٱلشَّفْعِ وَٱلْوَتْرِ
اور جفت اور طاق کی![1]
حواشی
[1] اس سے مراد جفت اور طاق عدد ہیں یا وہ معدودات جو جفت اور طاق ہوتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں، کہ یہ دراصل مخلوق کی قسم ہے، اس لئے کہ مخلوق جفت (جوڑا) یا طاق (فرد) ہے۔ اس کے علاوہ نہیں۔ (ایسر التفاسیر)۔
آیت کے اختیارات
- 4
وَٱلَّيْلِ إِذَا يَسْرِ
اور رات کی جب وه چلنے لگے.[1]
حواشی
[1] یعنی جب آئے اور جب جائے، کیوں کہ سَيْرٌ (چلنا) آتے، جاتے دونوں صورتوں میں ہوتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 5
هَلْ فِى ذَٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِى حِجْرٍ
کیا ان میں عقلمند کے واسطے کافی قسم ہے.[1]
حواشی
[1] ذَلِكَ سے مذکور مقسم بہ اشیا کی طرف اشارہ ہے یعنی کیا ان کی قسم اہل عقل ودانش کے واسطے کافی نہیں ہے ؟ حِجْرٌ کے معنی ہوتے ہیں، روکنا، منع کرنا۔ انسانی عقل بھی انسان کو غلط کاموں سے روکتی ہے، اس لئے عقل کو بھی حجر کہا جاتا ہے، جس طرح اسی مفہوم کے اعتبار سے اسے نھیہ بھی کہتے ہیں۔ جواب قسم یا مقسم علیہ لَتُبْعَثُنَّ ہے کیوں کہ مکی سورتوں میں عقیدے کی اصلاح پر زور دیا گیا ہے۔ بعض کے نزدیک جواب قسم آگے آنے والے الفاظ ”إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ“ ہے۔ آگے بہ طریق استشہاد اللہ تعالیٰ بعض ان قوموں کا ذکر فرما رہاہے جو تکذیب وعناد کی بنا پر ہلاک کی گئی تھیں۔ مقصد اہل مکہ کو تنبیہ ہے کہ اگر تم ہمارے رسول (صلى الله عليه وسلم) کی تکذیب سے باز نہ آئے تو تمہارا بھی اسی طرح مواخذہ ہو سکتا ہے، جیسے گزشتہ قوموں کا اللہ نے کیا۔
آیت کے اختیارات
- 6
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے عادیوں کے ساتھ کیا کیا.[1]
حواشی
[1] ان کی طرف حضرت ہود (عليه السلام) نبی بنا کر بھیجے گئے تھے انہوں نے تکذیب کی، بالآخر اللہ تعالیٰ نے سخت ہوا کا عذاب ان پر نازل کیا جو متواتر سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی ( الحاقہ: 7 - 10 ) اور انہیں تہس نہس کرکے رکھ دیا۔
آیت کے اختیارات
- 7
إِرَمَ ذَاتِ ٱلْعِمَادِ
ستونوں والے ارم کے ساتھ.[1]
حواشی
[1] إِرَمَ، عَادٍ سے عطف بیان یا بدل ہے۔ یہ قوم عاد کے دادا کا نام ہے۔ ان کا سلسلہ نسب ہے، عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح۔ ( فتح القدیر ) اس کا مقصد یہ وضاحت ہے کہ یہ عاد اولیٰ ہے۔ ذات العماد ( ستونوں والے ) سے اشارہ ہے ان کی قوت وطاقت اور دراز قامتی کی طرف۔ علاوہ ازیں وہ فن تعمیر میں بھی بڑی مہارت رکھتے تھے اور نہایت مضبوط بنیادوں پر عظم الشان عمارتیں تعمیر کرتے تھے۔ ذات العماد میں دونوں مفہوم شامل ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 8
ٱلَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى ٱلْبِلَـٰدِ
جس کی مانند (کوئی قوم) ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی.[1]
حواشی
[1] یعنی ان جیسی دراز قامت اور قوت وطاقت والی قوم کوئی اور پیدا نہیں ہوئی۔ یہ قوم کہا کرتی تھی مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ( حم السجدة،: 15 ) (ہم سے زیادہ کوئی طاقت ور ہے) ؟۔
آیت کے اختیارات
- 9
وَثَمُودَ ٱلَّذِينَ جَابُوا۟ ٱلصَّخْرَ بِٱلْوَادِ
اور ثمودیوں کے ساتھ جنہوں نے وادی میں بڑے بڑے پتھر تراشے تھے.[1]
حواشی
[1] یہ حضرت صالح (عليه السلام) کی قوم تھی، اللہ نے اسے پتھر تراشنے کی خاص صلاحیت وقوت عطا کی تھی، حتیٰ کہ یہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر ان میں اپنی رہائش گاہیں تعمیر کر لیتے تھے، جیسا کہ قرآن نے کہا ہے وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا فَارِهِينَ ( الشعراء: 149 ) ۔
آیت کے اختیارات
- 10
وَفِرْعَوْنَ ذِى ٱلْأَوْتَادِ
اور فرعون کے ساتھ جو میخوں واﻻ تھا.[1]
حواشی
[1] اس کا مطلب یہ ہے کہ بڑے لشکروں والا تھا جس کے پاس میخوں کی کثرت تھی جنہیں میخیں گاڑ کر کھڑا کیا جاتا تھا۔ یا اس سے اس کے ظلم وستم کی طرف اشارہ ہے کہ میخوں کے ذریعے وہ لوگوں کو سزائیں دیتا تھا۔ (فتح القدیر) ۔
آیت کے اختیارات
- 11
ٱلَّذِينَ طَغَوْا۟ فِى ٱلْبِلَـٰدِ
ان سبھوں نے شہروں میں سر اٹھا رکھا تھا.
آیت کے اختیارات
- 12
فَأَكْثَرُوا۟ فِيهَا ٱلْفَسَادَ
اور بہت فساد مچا رکھا تھا.
آیت کے اختیارات
- 13
فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ
آخر تیرے رب نے ان سب پر عذاب کا کوڑا برسایا.[1]
حواشی
[1] یعنی ان پر آسمان سے اپنا عذاب نازل فرما کر ان کو تباہ وبرباد یا انہیں عبرت ناک انجام سےدوچار کر دیا۔
آیت کے اختیارات
- 14
إِنَّ رَبَّكَ لَبِٱلْمِرْصَادِ
یقیناً تیرا رب گھات میں ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی تمام مخلوقات کے اعمال دیکھ رہا ہے اور اس کے مطابق وہ دنیا اور آخرت میں جزا دیتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 15
فَأَمَّا ٱلْإِنسَـٰنُ إِذَا مَا ٱبْتَلَىٰهُ رَبُّهُۥ فَأَكْرَمَهُۥ وَنَعَّمَهُۥ فَيَقُولُ رَبِّىٓ أَكْرَمَنِ
انسان (کا یہ حال ہے کہ) جب اسے اس کا رب آزماتا ہے اور عزت ونعمت دیتا ہے تو وه کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنایا.[1]
حواشی
[1] یعنی جب اللہ کسی کو رزق ودولت کی فراوانی عطا فرماتا ہے تو وہ اپنی بابت اس غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے کہ اللہ اس پر بہت مہربان ہے، حالانکہ یہ فراوانی امتحان اور آزمائش کے طور پر ہوتی ہے۔
آیت کے اختیارات
- 16
وَأَمَّآ إِذَا مَا ٱبْتَلَىٰهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُۥ فَيَقُولُ رَبِّىٓ أَهَـٰنَنِ
اور جب وه اس کو آزماتا ہے اس کی روزی تنگ کر دیتا ہے تو وه کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے میری اہانت کی (اور ذلیل کیا).[1]
حواشی
[1] یعنی وہ تنگی میں مبتلا کرکے آزماتا ہے تو اللہ کے بارے میں بدگمانی کا اظہار کرتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 17
كَلَّا ۖ بَل لَّا تُكْرِمُونَ ٱلْيَتِيمَ
ایسا ہرگز نہیں[1] بلکہ (بات یہ ہے) کہ تم (ہی) لوگ یتیموں کی عزت نہیں کرتے.[2]
حواشی
[1] یعنی بات اس طرح نہیں ہے جیسے لوگ سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مال اپنے محبوب بندوں کو بھی دیتا ہے اور ناپسندیدہ افراد کو بھی، تنگی میں بھی وہ اپنوں اور بیگانوں دونوں کو مبتلا کرتا ہے۔ اصل مدار دونوں حالتوں میں اللہ کی اطاعت پر ہے۔ جب اللہ مال دے تو اللہ کا شکر کرے، تنگی آئے تو صبر کرے۔ [2] یعنی ان کے ساتھ وہ حسن سلوک نہیں کرتے جس کے وہ مستحق ہیں، نبی (صلى الله عليه وسلم) کا فرمان ہے ”وہ گھر سب سے بہتر ہے جس میں یتیم کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے اور وہ گھر بدترین ہے جس میں اس کے ساتھ بدسلوکی کی جائے۔ پھر انگلی کے ساتھ اشارہ کرکے فرمایا، میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ساتھ ساتھ ہوں گے جیسے یہ دونگلیاں ساتھ ملی ہوئی ہیں“۔ ( أبو داود، كتاب الأدب، باب في ضم اليتيم)
آیت کے اختیارات
- 18
وَلَا تَحَـٰٓضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلْمِسْكِينِ
اور مسکینوں کے کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے.
آیت کے اختیارات
- 19
وَتَأْكُلُونَ ٱلتُّرَاثَ أَكْلًا لَّمًّا
اور (مردوں کی) میراث سمیٹ سمیٹ کر کھاتے ہو.[1]
حواشی
[1] یعنی جس طریقے سے بھی حاصل ہو، حلال طریقے سے یا حرام طریقے سے لَمَّا بمعنی جَمْعًا
آیت کے اختیارات
- 20
وَتُحِبُّونَ ٱلْمَالَ حُبًّا جَمًّا
اور مال کو جی بھر کر عزیز رکھتے ہو.[1]
حواشی
[1] جَمًّا بمعنی كَثِيرًا ۔
آیت کے اختیارات
- 21
كَلَّآ إِذَا دُكَّتِ ٱلْأَرْضُ دَكًّا دَكًّا
یقیناً[1] جس وقت زمین کوٹ کوٹ کر برابر کر دی جائے گی.
حواشی
[1] یا تمہارا عمل ایسا نہیں ہونا چاہئے جو مذکور ہوا، کیوں کہ ایک وقت آنے والا ہے جب ۔۔۔
آیت کے اختیارات
- 22
وَجَآءَ رَبُّكَ وَٱلْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا
اور تیرا رب (خود) آجائے گا اور فرشتے صفیں باندھ کر (آ جائیں گے).[1]
حواشی
[1] کہا جاتا ہے کہ جب فرشتے، قیامت والے دن آسمان سے نیچے اتریں گے تو ہر آسمان کے فرشتوں کی الگ صف ہو گی، اس طرح سات صفیں ہوں گی جو زمین کو گھیر لیں گی ۔
آیت کے اختیارات
- 23
وَجِا۟ىٓءَ يَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ ۚ يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ ٱلْإِنسَـٰنُ وَأَنَّىٰ لَهُ ٱلذِّكْرَىٰ
اور جس دن جہنم بھی ﻻئی جائے گی[1] اس دن انسان کو سمجھ آئے گی مگر آج اس کے سمجھنے کا فائده کہاں؟[2]
حواشی
[1] ستر ہزار لگاموں کے ساتھ جہنم جکڑی ہوئی ہوگی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے۔ (صحيح مسلم، كتاب الجنة، باب في شدة حر نار جهنم وبعد قعرها ترمذي، أبواب صفة جهنم، باب ما جاء في صفة النار) اسے عرش کے بائیں جانب کھڑا کر دیا جائے گا، پس اسے دیکھ کر تمام مقرب اور انبیا علیہم السلام گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور ”يَا رَبِّ! نَفْسِي نَفْسِي“ پکاریں گے۔ (فتح القدیر) ۔ [2] یعنی یہ ہولناک منظر دیکھ کر انسان کی آنکھیں کھلیں گی اور اپنے کفر ومعاصی پر نادم ہوگا، لیکن اس روز اس ندامت اور نصیحت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
آیت کے اختیارات
- 24
يَقُولُ يَـٰلَيْتَنِى قَدَّمْتُ لِحَيَاتِى
وه کہے گا کہ کاش کہ میں نے اپنی اس زندگی کے لئے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا.[1]
حواشی
[1] یہ افسوس اور حسرت کا اظہار، اسی ندامت کا حصہ ہے جو اس روز فائدہ مند نہیں ہوگی۔
آیت کے اختیارات
- 25
فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُۥٓ أَحَدٌ
پس آج اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی کا نہ ہوگا.
آیت کے اختیارات
- 26
وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُۥٓ أَحَدٌ
نہ اسکی قید وبند جیسی کسی کی قید وبند ہوگی.[1]
حواشی
[1] اس لئے کہ اس روز تمام اختیارات صرف ایک اللہ کےپاس ہوں گے۔ دوسرے، کسی کو اس کے سامنے رائے یا دم زنی نہیں ہوگا حتیٰ کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی کسی کی سفارش تک نہیں کر سکے گا۔ ایسے حالات میں کافروں کو جو عذاب ہوگا اور جس طرح وہ اللہ کی قید وبند میں جکڑے ہوں گے، اس کا یہاں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا چہ جائکہ اس کا کچھ اندازہ ممکن ہو۔ یہ تو مجرموں اور ظالموں کا حال ہوگا لیکن اہل ایمان وطاعت کا حال اس سے بالکل مختلف ہوگا، جیسا کہ اگلی آیات میں ہے۔
آیت کے اختیارات
- 27
يَـٰٓأَيَّتُهَا ٱلنَّفْسُ ٱلْمُطْمَئِنَّةُ
اے اطمینان والی روح.
آیت کے اختیارات
- 28
ٱرْجِعِىٓ إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً
تو اپنے رب کی طرف[1] لوٹ چل اس طرح کہ تو اس سے راضی وه تجھ سے خوش.
حواشی
[1] یعنی اس کے اجر وثواب اور ان نعمتوں کی طرف جو اس نے اپنے بندوں کے لئے جنت میں تیار کی ہے۔ بعض کہتے ہیں قیامت والے دن کہا جائے گا بعض کہتے ہیں کہ موت کے وقت بھی فرشتے خوشخبری دیتے ہیں، اسی طرح قیامت والے دن بھی اسے یہ کہا جائے گا جو یہاں مذکور ہے۔ حافظ ابن کثیر نے ابن عسا کرکے حوالے سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) نے ایک آدمی کو یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَفْسًا، بِكَ مُطْمَئِنَّةً، تُؤْمِنُ بِلِقَائِكَ، وَتَرْضَى بِقَضَائِكَ وَتَقْنَعُ بِعَطَائِكَ“۔ (ابن كثير)۔
آیت کے اختیارات
- 29
فَٱدْخُلِى فِى عِبَـٰدِى
پس میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا.
آیت کے اختیارات
- 30
وَٱدْخُلِى جَنَّتِى
اور میری جنت میں چلی جا.
آیت کے اختیارات
البلد
بلد
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ بلد
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
لَآ أُقْسِمُ بِهَـٰذَا ٱلْبَلَدِ
میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں.[1]
حواشی
[1] اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے جس میں اس وقت، جب اس سورت کا نزول ہوا، نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کا قیام تھا، آپ (صلى الله عليه وسلم) کا مولد بھی یہی شہر تھا۔ یعنی اللہ نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کو مولد ومسکن کی قسم کھائی، جس سے اس کی عظمت کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔
آیت کے اختیارات
- 2
وَأَنتَ حِلٌّۢ بِهَـٰذَا ٱلْبَلَدِ
اور آپ اس شہر میں مقیم ہیں.[1]
حواشی
[1] یہ اشارہ ہے اس وقت کی طرف جب مکہ فتح ہوا، اس وقت اللہ نے نبی (صلى الله عليه وسلم) کے لئے اس بلد حرام میں قتال کو حلال فرما دیا تھا جب کہ اس میں لڑائی کی اجازت نہیں ہے چنانچہ حدیث میں ہے، نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا (اس شہر کو اللہ نے اس وقت سے حرمت والا بنایا ہے، جب سے اس نے آسمان وزمین پیدا کیے۔ پس یہ اللہ کی ٹھہرائی ہوئی حرمت سے قیامت تک حرام ہے، نہ اس کا درخت کاٹا جائے نہ اس کے کانٹے اکھیڑے جائیں، میرے لئے اسے صرف دن کی ایک ساعت کے لئے حلال کیا گیا تھا اور آج اس کی حرمت پھر اسی طرح لوٹ آئی ہے، جیسے کل تھی ۔۔۔ اگر کوئی یہاں قتال کے لئے دلیل میں میری لڑائی کو پیش کرے تو اس سےکہو کہ اللہ کے رسول کو تو اس کی اجازت اللہ نے دی تھی جب کہ تمہیں یہ اجازت اس نے نہیں دی)۔ ( صحيح بخاري، كتاب العلم ، باب ليبلغ الشاهد منكم الغائب- مسلم، كتاب الحج، باب تحريم مكة ...) اس اعتبار سے معنی ہوں گے وَأَنْتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِ فِي الْمُسْتَقْبَلِ یہ جملہ معترضہ ہے۔
آیت کے اختیارات
- 3
وَوَالِدٍ وَمَا وَلَدَ
اور (قسم ہے) انسانی باپ اور اوﻻد کی.[1]
حواشی
[1] بعض نے اس سے مراد حضرت آدم (عليه السلام) اور ان کی اولاد لی ہے، اور بعض کے نزدیک یہ عام ہے، ہر باپ اور اس کی اولاد اس میں شامل ہے۔
آیت کے اختیارات
- 4
لَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ فِى كَبَدٍ
یقیناً ہم نے انسان کو (بڑی) مشقت میں پیدا کیا ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی اس کی زندگی محنت ومشقت اور شدائد سے معمور ہے۔ امام طبری نے اسی مفہوم کو اختیار کیا ہے، جب جواب قسم ہے۔
آیت کے اختیارات
- 5
أَيَحْسَبُ أَن لَّن يَقْدِرَ عَلَيْهِ أَحَدٌ
کیا یہ گمان کرتا ہے کہ یہ کسی کے بس میں ہی نہیں؟[1]
حواشی
[1] یعنی کوئی اس کی گرفت کرنے پر قادر نہیں؟
آیت کے اختیارات
- 6
يَقُولُ أَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًا
کہتا (پھرتا) ہے کہ میں نے تو بہت کچھ مال خرچ کر ڈاﻻ.[1]
حواشی
[1] لُبَدًا ۔ کثیر، ڈھیر۔ یعنی دنیا کے معاملات اور فضولیات میں خوب پیسہ اڑاتا ہے، پھر فخر کے طور پر لوگوں کے سامنے بیان کرتا پھرتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 7
أَيَحْسَبُ أَن لَّمْ يَرَهُۥٓ أَحَدٌ
کیا (یوں) سمجھتا ہے کہ کسی نے اسے دیکھا (ہی) نہیں؟[1]
حواشی
[1] اس طرح اللہ کی نافرمانی میں مال خرچ کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ کوئی اسے دیکھنے والا نہیں ہے؟ حالانکہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ جس پر وہ اسے جزا دے گا۔ آگے اللہ تعالی اپنے بعض انعامات کا تذکرہ فرما رہا ہے تاکہ ایسے لوگ عبرت پکڑیں۔
آیت کے اختیارات
- 8
أَلَمْ نَجْعَل لَّهُۥ عَيْنَيْنِ
کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہیں بنائیں.[1]
حواشی
[1] جن سے یہ دیکھتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 9
وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ
اور زبان اور دو ہونٹ (نہیں بنائے).[1]
حواشی
[1] زبان سے وہ بولتا اور اپنے مافی الضمیر کا اظہار کرتا ہے۔ ہونٹوں سے وہ بولنے اور کھانے کے لئے مدد حاصل کرتا ہے۔ علاوہ ازیں وہ اس کے چہرے اور منہ کے لئے خوبصورتی کا بھی باعث ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 10
وَهَدَيْنَـٰهُ ٱلنَّجْدَيْنِ
ہم نے دکھا دیئے اس کو دونوں راستے.[1]
حواشی
[1] یعنی خیر کی بھی اور شر کی بھی اور ایمان کی بھی، سعادت کی بھی اور شقاوت کی بھی۔ جیسے فرمایا، إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا (الدهر: 3 ) نَجْدٌ کے معنی ہیں، اونچی جگہ۔ اس لئے بعض نے یہ ترجمہ کیا ہے ”ہم نے انسان کی ( ماں کے ) دو پستانوں کی طرف رہنمائی کر دی“ یعنی وہ عالم شیر خوارگی میں ان سے اپنی خوراک حاصل کرے۔ لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔
آیت کے اختیارات
- 11
فَلَا ٱقْتَحَمَ ٱلْعَقَبَةَ
سو اس سے نہ ہو سکا کہ گھاٹی میں داخل ہوتا.[1]
حواشی
[1] عَقَبَةٌ گھاٹی کو کہتے ہیں یعنی وہ راستہ جو پہاڑ میں ہو۔ یہ عام طور پر نہایت دشوار گزار ہوتا ہے۔ یہ جملہ یہاں استفہام بمعنی انکار کے مفہوم میں ہے۔ یعنی أَفَلا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ کیا وہ گھاٹی میں داخل نہیں ہوا؟ مطلب ہے نہیں ہوا۔ یہ ایک مثال ہے اس محنت ومشقت کی وضاحت کے لئے جو نیکی کے کاموں کے لئے ایک انسان کو شیطان کے وسوسوں اور نفس کے شہوانی تقاضوں کے خلاف کرنی پڑتی ہے، جیسے گھاٹی پر چڑھنے کے لئے سخت جد وجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ (فتح القدیر) ۔
آیت کے اختیارات
- 12
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلْعَقَبَةُ
اور کیا سمجھا کہ گھاٹی ہے کیا؟.
آیت کے اختیارات
- 13
فَكُّ رَقَبَةٍ
کسی گردن (غلام ،لونڈی) کو آزاد کرنا.
آیت کے اختیارات
- 14
أَوْ إِطْعَـٰمٌ فِى يَوْمٍ ذِى مَسْغَبَةٍ
یا بھوک والے دن کھانا کھلانا.
آیت کے اختیارات
- 15
يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ
کسی رشتہ دار یتیم کو.
آیت کے اختیارات
- 16
أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَبَةٍ
یا خاکسار مسکین کو.[1]
حواشی
[1] مَسْغَبَةٍ، مَجَاعَةٍ (بھوک) يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ، بھوک والے دن۔ ذَا مَتْرَبَةٍ (مٹی والا) یعنی جو فقر وغربت کی وجہ سے مٹی زمین پر پڑا ہو۔ اس کا گھر بار بھی نہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ کسی گردن کو آزاد کر دینا، کسی بھوکے کو، رشتے دار یتیم کو یا مسکین کو کھانا کھلا دینا، یہ دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہونا ہے جس کے ذریعے سے انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جا پہنچے گا۔ یتیم کی کفالت ویسے ہی بڑے اجر کا کام ہے، لیکن اگر وہ رشتے دار بھی ہوں تو اس کی کفالت کا اجر بھی دگنا ہے۔ ایک صدقے کا، دوسرا صلہ رحمی کا۔ اسی طرح غلام آزاد کرانے کی بھی بڑی فضیلت احادیث میں آئی ہے۔ آج کل اس کی ایک صورت کسی مقروض کو قرض کے بوجھ سے نجات دلا دینا ہو سکتی ہے، یہ بھی ایک گونہ فَكُّ رَقَبَةٍ ہے۔
آیت کے اختیارات
- 17
ثُمَّ كَانَ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَتَوَاصَوْا۟ بِٱلصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا۟ بِٱلْمَرْحَمَةِ
پھر ان لوگوں میں سے ہو جاتا جو ایمان ﻻتے[1] اور ایک دوسرے کو صبر کی اور رحم کرنے کی وصیت کرتے ہیں.[2]
حواشی
[1] اس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ اعمال خیر، اسی وقت نافع اور اخروی سعادت کا باعث ہوں گے جب ان کا کرنے والا صاحب ایمان ہوگا۔ [2] اہل ایمان کی صفت ہے کہ وہ ایک دوسرے کو صبر کی اور رحم کی تلقین کرتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 18
أُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلْمَيْمَنَةِ
یہی لوگ ہیں دائیں بازو والے (خوش بختی والے).
آیت کے اختیارات
- 19
وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا هُمْ أَصْحَـٰبُ ٱلْمَشْـَٔمَةِ
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا یہ کم بختی والے ہیں.
آیت کے اختیارات
- 20
عَلَيْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌۢ
انہی پر آگ ہوگی جو چاروں طرف سے گھیری[1] ہوئی ہوگی.
حواشی
[1] مُؤْصَدَةٌ کے معنی مُغْلَقَةٌ ( بند ) یعنی ان کو آگ میں ڈال کر چاروں طرف سے بند کر دیا جائے گا، تاکہ ایک تو آگ کی پوری شدت وحرارت ان کو پہنچے۔ دوسرے، وہ بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں۔
آیت کے اختیارات
الشمس
شمس
پڑھنے کی ترتیبات
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
وَٱلشَّمْسِ وَضُحَىٰهَا
قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی.[1]
حواشی
[1] ﯾﺎ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻛﯽ, ﯾﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺿﺤﲐ ﺳﮯ ﺩﻥ ﮨﮯ۔ ﯾﻌﻨﯽ ﺳﻮﺭﺝ ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻥ ﻛﯽ ﻗﺴﻢ۔
آیت کے اختیارات
- 2
وَٱلْقَمَرِ إِذَا تَلَىٰهَا
قسم ہے چاند کی جب اس کے پیچھے آئے.[1]
حواشی
[1] یعنی جب سورج غروب ہونے کے بعد وہ طلوع ہو، جیسا کہ پہلے نصف مہینے میں ایسا ہوتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 3
وَٱلنَّهَارِ إِذَا جَلَّىٰهَا
قسم ہے دن کی جب سورج کو نمایاں کرے.[1]
حواشی
[1] یا تاریکی کو دور کرے، ظلمت کا پہلے ذکر تو نہیں ہے لیکن سیاق اس پر دلالت کرتا ہے۔ (فتح القدیر)۔
آیت کے اختیارات
- 4
وَٱلَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰهَا
قسم ہے رات کی جب اسے ڈھانﭗ لے.[1]
حواشی
[1] یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور ہر سمت اندھیرا چھا جائے۔
آیت کے اختیارات
- 5
وَٱلسَّمَآءِ وَمَا بَنَىٰهَا
قسم ہے آسمان کی اور اس کے بنانے کی.[1]
حواشی
[1] یا اس ذات کی جس نے اسے بنایا۔ پہلی معنی کی رو سے ما بمعنی مَنْ ہوگا۔
آیت کے اختیارات
- 6
وَٱلْأَرْضِ وَمَا طَحَىٰهَا
قسم ہے زمین کی اور اسے ہموار کرنے کی.[1]
حواشی
[1] یا جس نے اسے ہموار کیا۔
آیت کے اختیارات
- 7
وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّىٰهَا
قسم ہے نفس کی اور اسے درست بنانے کی.[1]
حواشی
[1] یا جس نے اسے درست کیا۔ درست کرنے کا مطلب ہے، اسے متناسب الاعضاء بنایا، بےڈھبا اور بےڈھنگا نہیں بنایا۔
آیت کے اختیارات
- 8
فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَىٰهَا
پھر سمجھ دی اس کو بدکاری کی اور بچ کر چلنے کی.[1]
حواشی
[1] الہام کا مطلب یا تو یہ ہے کہ انہیں اچھی طرح سمجھا دیا اور انہیں انبیا علیہم السلام اور آسمانی کتابوں کے ذریعے سے خیر وشر کی پہچان کروا دی۔ یا مطلب ہے کہ ان کی عقل اور فطرت میں خیر اور شر، نیکی اور بدی کا شعور ودیعت کر دیا۔ تاکہ وہ نیکی کو اپنائیں اور بدی سے اجتناب کریں۔
آیت کے اختیارات
- 9
قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّىٰهَا
جس نے اسے پاک کیا وه کامیاب ہوا.[1]
حواشی
[1] شرک سے، معصیت سے اور اخلاقی آلائشوں سے پاک کیا، وہ آخروی فوز وفلاح سے ہمکنار ہوگا۔
آیت کے اختیارات
- 10
وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّىٰهَا
اور جس نے اسے خاک میں ملا دیا وه ناکام ہوا.[1]
حواشی
[1] یعنی جس نے اسے گمراہ کر لیا، وہ خسارے میں رہا۔ دَسٌّ، تَدْسِيسٌ سے ہے، جس کے معنی ہیں۔ ایک چیز کو دوسری چیز میں چھپا دینا۔ دَسَّاهَا کے معنی ہوں گے جس نے اپنے نفس کو چھپا دیا اور اسے بے کار چھوڑ دیا اور اسے اللہ کی اطاعت اور عمل صالح کے ساتھ مشہور نہیں کیا۔
آیت کے اختیارات
- 11
كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَىٰهَآ
(قوم) ثمود نے اپنی سرکشی کے باعث جھٹلایا.[1]
حواشی
[1] طُغْيَانٌ وہ سرکشی جو حد سےتجاوز کر جائے اسی طغیان نے انہیں تکذیب پر آمادہ کیا۔
آیت کے اختیارات
- 12
إِذِ ٱنۢبَعَثَ أَشْقَىٰهَا
جب ان میں کا بڑا بدبخت اٹھ کھڑا ہوا.[1]
حواشی
[1] جس کا نام مفسرین قدار بن سالف بتلاتے ہیں۔ اس کا ایسا کام کیا کہ یہ رئیس الاشقیاء بن گیا سب سے بڑا شقی (بدبخت)۔
آیت کے اختیارات
- 13
فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ ٱللَّهِ نَاقَةَ ٱللَّهِ وَسُقْيَـٰهَا
انہیں اللہ کے رسول نے فرما دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری کی (حفاظت کرو).[1]
حواشی
[1] یعنی اس اونٹنی کو کوئی نقصان نہ پہنچائے، اسی طرح اس کے لئے پانی پینے کا جو دن ہو، اس میں بھی گڑ بڑ نہ کی جائے۔ اونٹنی اور قوم ثمود دونوں کے لئے پانی کا ایک ایک دن مقرر کر دیا گیا تھا۔ اس کی حفاظت کی تاکید کی گئی۔ لیکن ان ظالموں نے پروا نہیں کی۔
آیت کے اختیارات
- 14
فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنۢبِهِمْ فَسَوَّىٰهَا
ان لوگوں نے اپنے پیغمبر کو جھوٹا سمجھ کر اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں[1] ، پس ان کے رب نے ان کے گناہوں کے باعث ان پر ہلاکت ڈالی[2] اور پھر ہلاکت کو عام کر دیا اور اس بستی کو برابر کردیا.[3]
حواشی
[1] یہ کام ایک ہی شخص قدار نے کیا تھا۔ لیکن چوں کہ اس شرارت میں قوم بھی اس کے ساتھ تھی اس لئے اس میں سب کو برابر کا مجرم قرار دیا گیا۔ اور تکذیب اور اونٹنی کی کوچیں کاٹنے کی نسبت پوری قوم کی طرف کی گئی۔ جس سے یہ اصول معلوم ہوا کہ ایک برائی کا ارتکاب کرنے والے اگر چند ایک افراد ہوں لیکن پوری قوم اس برائی پر نکیر کرنے کے بجائے اسےپسند کرتی ہو تو اللہ کے ہاں پوری قوم اس برائی کی مرتکب قرار پائے گی اور اس جرم یا برائی میں برابر کی شریک سمجھی جائے گی۔ [2] دَمْدَمَ عَلَيْهِمْ ، ان کو ہلاک کر دیا اور ان پر سخت عذاب نازل کیا۔ [3] عام کر دیا، یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کر دیا، کسی کو نہیں چھوڑا، چھوٹا بڑا، سب کو نیست ونابود کر دیا گیا۔ یا زمین کو ان پر برابر کر دیا یعنی سب کو تہ خاک کر دیا۔
آیت کے اختیارات
- 15
وَلَا يَخَافُ عُقْبَـٰهَا
وه نہیں ڈرتا اس کے تباه کن انجام سے.[1]
حواشی
[1] یعنی اللہ تعالیٰ کو یہ ڈر نہیں ہے کہ اس نے انہیں سزا دی ہے کہ کوئی بڑی طاقت اس کا اس سے بدلہ لے گی۔ وہ انجام سے بےخوف ہے کیوں کہ کوئی ایسی طاقت نہیں ہے جو اس سے بڑھ کر یا اس کے برابر ہی ہو، جو اس سے انتقام لینے کی قدرت رکھتی ہو۔
آیت کے اختیارات
الليل
لیل
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ لیل
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
وَٱلَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ
قسم ہے رات کی جب چھا جائے.[1]
حواشی
[1] یعنی افق پر چھا جائے جس سے دن کی روشنی ختم اور اندھیرا ہو جائے۔
آیت کے اختیارات
- 2
وَٱلنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ
اور قسم ہے دن کی جب روشن ہو.[1]
حواشی
[1] یعنی رات کا اندھیرا ختم اور دن کا اجالا پھیل جائے۔
آیت کے اختیارات
- 3
وَمَا خَلَقَ ٱلذَّكَرَ وَٱلْأُنثَىٰٓ
اور قسم ہے اس ذات کی جس نے نر وماده کو پیدا کیا.[1]
حواشی
[1] یہ اللہ نے اپنی قسم کھائی، کیونکہ مرد وعورت دونوں کا خالق اللہ ہی ہے ماموصولہ ہے۔ - یعنی کوئی اچھے عمل کرتا ہے، جس کا صلہ جنت ہے اور کوئی برے عمل کرتا ہے جس کا بدلہ جہنم ہے۔
آیت کے اختیارات
- 4
إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّىٰ
یقیناً تمہاری کوشش مختلف قسم کی ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی کوئی اچھے عمل کرتا ہے، جس کا صلہ جنت ہے اور کوئی برے عمل کرتا ہے جس کا بدلہ جہنم ہے۔ یہ جواب قسم ہے شَتَّى، شَتِيتٌ کی جمع ہے، جیسے مَرِيضٌ کی جمع مَرْضَى۔
آیت کے اختیارات
- 5
فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَٱتَّقَىٰ
جس نے دیا (اللہ کی راه میں) اور ڈرا (اپنے رب سے).[1]
حواشی
[1] یعنی خیر کے کاموں میں خرچ کرے گا اور محارم سے بچے گا۔
آیت کے اختیارات
- 6
وَصَدَّقَ بِٱلْحُسْنَىٰ
اور نیک بات کی تصدیق کرتا رہے گا.[1]
حواشی
[1] یا اچھے صلے کی تصدیق کرے گا، یعنی اس بات پر یقین رکھے گا کہ انفاق اور تقویٰ کا اللہ کی طرف سے عمدہ صلہ ملے گا۔
آیت کے اختیارات
- 7
فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلْيُسْرَىٰ
تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے.[1]
حواشی
[1] يُسْرَى کا مطلب نیکی اور الْخَصْلَةُ الْحُسْنَى ہے۔ یعنی ہم اس کو نیکی واطاعت کی توفیق دیتے اور ان کو اس کے لئے آسان کر دیتے ہیں۔ مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق (رضي الله عنه) کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جنہوں نے چھ غلام آزاد کیے، جنہیں اہل مکہ مسلمان ہونے کی وجہ سے سخت اذیت دیتے تھے۔ ( فتح القدیر ) ۔
آیت کے اختیارات
- 8
وَأَمَّا مَنۢ بَخِلَ وَٱسْتَغْنَىٰ
لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی.[1]
حواشی
[1] یعنی اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرے گا اور اللہ کے حکم سے بے پرواہی، کرے گا۔ - یا آخرت کی جزا اور حساب کتاب کا انکار کرے گا۔
آیت کے اختیارات
- 9
وَكَذَّبَ بِٱلْحُسْنَىٰ
اور نیک بات کی تکذیب کی.[1]
حواشی
[1] یا آخرت کی جزا اور حساب کتاب کا انکار کرے گا۔-
آیت کے اختیارات
- 10
فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلْعُسْرَىٰ
تو ہم بھی اس کی تنگی ومشکل کے سامان میسر کر دیں گے.[1]
حواشی
[1] عُسْرَى( تنگی ) سےمراد کفر ومعصیت اور طریق شر ہے۔ یعنی ہم اس کے لئے نافرمانی کا راستہ آسان کر دیں گے، جس سے اس کے لئے خیر وسعادت کے راستے مشکل ہو جائیں گے۔ قرآن مجید میں یہ مضمون کئی جگہ بیان کیا گیا ہے کہ جو خیر ورشد کا راستہ اپناتا ہے، اس کے صلے میں اللہ اسے خیر کی توفیق سے نوازتا ہے اور جو شر ومعصیت کو اختیار کرتا ہے، اللہ اس کو اس کے حال پر چھوڑدیتا ہے اور یہ اس تقدیر کے مطابق ہی ہوتا ہے جو اللہ نے اپنے علم سے لکھ رکھی ہے۔ ( ابن کثیر ) یہ مضمون حدیث میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا تم عمل کرو، ہر شخص جس کام کے لئے پیدا کیا گیا ہے، وہ اس کے لئے آسان کر دیا جاتا ہے، جو اہل سعادت سے ہوتا ہے، اسے اہل سعادت والے عمل کی توفیق دے دی جاتی ہے اور جو اہل شقاوت سے ہوتا ہے، اس کے لئے اہل شقاوت والے عمل آسان کر دیئے جاتے ہیں۔ ( صحيح البخاري، تفسير سورة الليل )
آیت کے اختیارات
- 11
وَمَا يُغْنِى عَنْهُ مَالُهُۥٓ إِذَا تَرَدَّىٰٓ
اس کا مال اسے (اوندھا) گرنے کے وقت کچھ کام نہ آئے گا.[1]
حواشی
[1] یعنی جب جہنم میں گرے گا تو یہ مال، جسے وہ خرچ نہیں کرتا تھا، کچھ کام نہ آئے گا۔
آیت کے اختیارات
- 12
إِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدَىٰ
بیشک راه دکھا دینا ہمارے ذمہ ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی حلال اور حرام، خیر اور شر، ہدایت اور ضلالت کو واضح اور بیان کرنا ہمارے ذمے ہے۔ ( جو کہ ہم نے کر دیا ہے)
آیت کے اختیارات
- 13
وَإِنَّ لَنَا لَلْـَٔاخِرَةَ وَٱلْأُولَىٰ
اور ہمارے ہی ہاتھ آخرت اور دنیا ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی دونوں کے مالک ہم ہی ہیں، ان میں جس طرح چاہیں تصرف کریں اس لئے ان دونوں کے یا ان میں سے کسی ایک کے طالب ہم سے ہی مانگیں کیوں کہ ہر طالب کو ہم ہی اپنی مشیت کے مطابق دیتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 14
فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ
میں نے تو تمہیں شعلے مارتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا ہے.
آیت کے اختیارات
- 15
لَا يَصْلَىٰهَآ إِلَّا ٱلْأَشْقَى
جس میں صرف وہی بدبخت داخل ہوگا.
آیت کے اختیارات
- 16
ٱلَّذِى كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ
جس نے جھٹلایا اور (اس کی پیروی سے) منھ پھیر لیا.[1]
حواشی
[1] اس آیت سے مرجئہ فرقے نے (جو ایک باطل فرقہ گزرا ہے) استدلال کیا ہے کہ جہنم میں صرف کافر ہی جائیں گے۔ کوئی مسلمان چاہے کتنا ہی گناہ گار ہو، وہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ لیکن یہ عقیدہ ان نصوص صریحہ کے خلاف ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے مسلمان بھی، جن کو اللہ تعالیٰ کچھ سزا دینا چاہے گا، کچھ عرصے کے لئے جہنم میں جائیں گے، پھر وہ نبی (صلى الله عليه وسلم) ، ملائکہ اور دیگر صالحین کی شفاعت سے نکال لئے جائیں گے، یہاں حصر کے انداز میں جو کہا گیا ہے، اس کا مطلب ہے کہ جو لوگ پکے کافر اور نہایت بدبخت ہیں، جہنم دراصل ان ہی کے لئے بنائی گئی ہے، جس میں وہ لازمی اور حتمی طور پر اور ہمیشہ کے لئے داخل ہوں گے۔ اگر کچھ نافرمان قسم کے مسلمان جہنم میں جائیں گے تو وہ لازمی اور حتمی طور پر اور ہمیشہ کے لئے نہیں جائیں گے، بلکہ بطور سزا ان کا یہ دخول عارضی ہوگا۔ ( فتح القدیر )۔
آیت کے اختیارات
- 17
وَسَيُجَنَّبُهَا ٱلْأَتْقَى
اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہو گا.[1]
حواشی
[1] یعنی جہنم سے دور رہے گا اور جنت میں داخل ہوگا۔
آیت کے اختیارات
- 18
ٱلَّذِى يُؤْتِى مَالَهُۥ يَتَزَكَّىٰ
جو پاکی حاصل کرنے کے لئے اپنا مال دیتا ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی جو اپنا مال اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کرتا ہے تاکہ اس کا نفس بھی اور اس کا مال بھی پاک ہو جائے۔
آیت کے اختیارات
- 19
وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُۥ مِن نِّعْمَةٍ تُجْزَىٰٓ
کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو.[1]
حواشی
[1] یعنی بدلہ اتارنے کے لیے خرچ نہ کرتا ہو۔
آیت کے اختیارات
- 20
إِلَّا ٱبْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ ٱلْأَعْلَىٰ
بلکہ صرف اپنے پروردگار بزرگ وبلند کی رضا چاہنے کے لئے.[1]
حواشی
[1] بلکہ اخلاص سے اللہ کی رضا اور جنت میں اس کے دیدار کے لئے خرچ کرتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 21
وَلَسَوْفَ يَرْضَىٰ
یقیناً وه (اللہ بھی) عنقریب رضامند ہو جائے گا.[1]
حواشی
[1] یا وہ راضی ہو جائے گا، یعنی جو شخص ان صفات کا حامل ہوگا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کی نعمتیں اور عزت وشرف عطا فرمائے گا، جس سے وہ راضی ہو جائے گا۔ اکثر مفسرین نے کہا ہے بلکہ بعض نے اجماع تک نقل کیا ہے کہ یہ آیات حضرت ابوبکر صدیق (رضي الله عنه) کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ تاہم معنی ومفہوم کے اعتبار سے یہ عام ہیں۔ جو بھی ان صفات عالیہ سے متصف ہوگا، وہ بارگاہ الٰہی میں ان کا مصداق قرار پائے گا۔
آیت کے اختیارات
الضحى
ضحى
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ ضحیٰ
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
وَٱلضُّحَىٰ
قسم ہے چاشت کے وقت کی.[1]
حواشی
[1] چاشت ( ضُحًى) اس وقت کو کہتے ہیں، جب سورج بلند ہوتا ہے۔ یہاں مراد پورا دن ہے۔
آیت کے اختیارات
- 2
وَٱلَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ
اور قسم ہے رات کی جب چھا جائے.[1]
حواشی
[1] سَجَى کے معنی ہیں سکن، جب ساکن ہو جائے۔ یعنی جب اندھیرا مکمل چھا جائے، کیونکہ اس وقت ہر چیز ساکن ہو جاتی ہے۔
آیت کے اختیارات
- 3
مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ
نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ وه بیزار ہو گیا ہے.[1]
حواشی
[1] جیسا کہ کافر سمجھ رہے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 4
وَلَلْـَٔاخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ ٱلْأُولَىٰ
یقیناً تیرے لئے انجام آغاز سے بہتر ہوگا.[1]
حواشی
[1] یا آخرت دنیا سے بہتر ہے۔ دونوں مفہوم معانی کے اعتبار سے صحیح ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 5
وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰٓ
تجھے تیرا رب بہت جلد (انعام) دے گا اور تو راضی (وخوش) ہو جائے گا.[1]
حواشی
[1] اس سے دنیا کی فتوحات اور آخرت کا اجر وثواب مراد ہے۔ اس میں وہ حق شفاعت بھی داخل ہے جو آپ (صلى الله عليه وسلم) کو اپنی امت کے گناہ گاروں کے لئے ملے گا۔
آیت کے اختیارات
- 6
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَـَٔاوَىٰ
کیا اس نے تجھے یتیم پا کر جگہ نہیں دی.[1]
حواشی
[1] یعنی باپ کے سہارے سے بھی تو محروم تھا، ہم نے تیری دست گیری اور چارہ سازی کی۔
آیت کے اختیارات
- 7
وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدَىٰ
اور تجھے راه بھوﻻ پا کر ہدایت نہیں دی.[1]
حواشی
[1] یعنی تجھے دین شریعت اور ایمان کا پتہ نہیں تھا، ہم نے تجھے راہ یاب کیا، نبوت سے نوازا اور کتاب نازل کی، ورنہ اس سے قبل تو ہدایت کے لئے سرگرداں تھا۔
آیت کے اختیارات
- 8
وَوَجَدَكَ عَآئِلًا فَأَغْنَىٰ
اور تجھے نادار پاکر تونگر نہیں بنا دیا؟[1]
حواشی
[1] تونگر کا مطلب ہے، اپنے سوا تجھ کو ہر ایک سے بےنیاز کر دیا، پس تو فقر میں صابر اور غنا میں شاکر رہا۔ جیسے خود نبی (صلى الله عليه وسلم) کا بھی فرمان ہے کہ تونگری، ساز وسامان کی کثرت کا نام نہیں ہے، اصل تونگری دل کی تونگری ہے۔ ( صحيح مسلم، كتاب الزكاة، باب ليس الغنى عن كثرة العرض ) ۔
آیت کے اختیارات
- 9
فَأَمَّا ٱلْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ
پس یتیم پر تو بھی سختی نہ کیا کر.[1]
حواشی
[1] بلکہ اس کے ساتھ نرمی واحسان کا معاملہ کر۔
آیت کے اختیارات
- 10
وَأَمَّا ٱلسَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْ
اور نہ سوال کرنے والے کو ڈانٹ ڈپٹ.[1]
حواشی
[1] یعنی اس سے سختی اور تکبر نہ کر، اور نہ درشت اور تلخ لہجہ اختیار کر۔ بلکہ جواب بھی دینا ہو تو پیار اور محبت سے دو۔
آیت کے اختیارات
- 11
وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ
اور اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرتا ره.[1]
حواشی
[1] یعنی اللہ نے تجھ پر جو احسانات کئے ہیں، مثلاً ہدایت اور رسالت ونبوت سے نوازا، یتیمی کے باوجود تیری کفالت وسرپرستی کا انتظام کیا۔ تجھے قناعت وتونگری عطا کی وغیرہ۔ انہیں جذبات تشکر وممنونیت کے ساتھ بیان کرتا رہ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے انعامات کا تذکرہ اور ان کا اظہار اللہ کو پسند ہے لیکن تکبر اور فخر کے طور پر نہیں بلکہ اللہ کے فضل وکرم اور اس کے احسان سے زیر بار ہوتے ہوئے اور اس کی قدرت وطاقت سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ ہمیں ان نعمتوں سے محروم نہ کر دے۔
آیت کے اختیارات
الشرح
شرح
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ انشراح
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ
کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھول دیا.[1]
حواشی
[1] گزشتہ سورت میں تین انعامات کا ذکر تھا، اس سورت میں مزید تین احسانات جتلائے جا رہے ہیں۔ سینہ کھول دینا، ان میں پہلا ہے۔ اس کا مطلب ہے سینے کا منور اور فراخ ہو جانا، تاکہ حق واضح بھی ہو جائے اور دل میں سما بھی جائے۔ اسی مفہوم میں قرآن کریم کی یہ آیت فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلامِ (سورة الأنعام: 125 ) ”جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت سے نوازنے کا ارادہ کرے۔ اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے“۔ یعنی وہ اسلام کو دین حق کے طور پرپہچان بھی لیتا ہے اور اسے قبول بھی کر لیتا ہے۔ اس شرح صدر میں وہ شق صدر بھی آجاتا ہے جو معتبر روایات کی رو سے دو مرتبہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کا کیا گیا۔ ایک مرتبہ بچپن میں، جب کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) عمر کے چوتھے سال میں تھے۔ حضرت جبرائیل (عليه السلام) آئے اور انہوں نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کا دل چیرا اور اس سے وہ حصہ شیطانی نکال دیا جو ہر انسان کے اندر ہے، پھر اسے دھوکر بند کر دیا، ( صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب الإسراء) دوسری مرتبہ معراج کے موقعے پر۔ اس موقعے پر آپ (صلى الله عليه وسلم) کا سینہ مبارک چاک کرکے دل نکالا گیا، اسے آپ زمزم سے دھوکر اپنی جگہ رکھ دیا گیااور اسےایمان وحکمت سے بھر دیا گیا۔ (صحيحين، أبواب المعراج وكتاب الصلاة) ۔
آیت کے اختیارات
- 2
وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ
اور تجھ پر سے تیرا بوجھ ہم نے اتار دیا.[1]
حواشی
[1] یہ بوجھ نبوت سے قبل چالیس سالہ دور زندگی سے متعلق ہے۔ اس دور میں اگرچہ اللہ نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کو گناہوں سے محفوظ رکھا، کسی بت کے سامنے آپ (صلى الله عليه وسلم) سجدہ ریز نہیں ہوئے، کبھی شراب نوشی نہیں کی اور بھی دیگر برائیوں سے دامن کش رہے، تاکہ معروف معنوں میں اللہ کی عبادت واطاعت کا نہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کو علم تھا نہ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے کی۔ اس لئے آپ (صلى الله عليه وسلم) کے دل ودماغ پر اس چالیس سالہ عدم عبادت وعدم اطاعت کا بوجھ تھا، جو حقیقت میں تو نہیں تھا، لیکن آپ (صلى الله عليه وسلم) کے احساس وشعور نے اسے بوجھ بنا رکھا تھا۔ اللہ نے اسے اتار دینے کا اعلان فرما کر آپ (صلى الله عليه وسلم) پر احسان فرمایا۔ یہ گویا وہی مفہوم ہے جو لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ (سورة الفتح) کا ہے۔ بعض کہتے ہیں، یہ نبوت کا بوجھ تھا، جسے اللہ نے ہلکا کر دیا، یعنی اس راہ کی مشکلات برداشت کرنے کا حوصلہ اور تبلیغ ودعوت میں آسانیاں پیدا فرما دیں۔
آیت کے اختیارات
- 3
ٱلَّذِىٓ أَنقَضَ ظَهْرَكَ
جس نے تیری پیٹھ توڑ دی تھی.
آیت کے اختیارات
- 4
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
اور ہم نے تیرا ذکر بلند کر دیا.[1]
حواشی
[1] یعنی جہاں اللہ کا نام آتا ہے وہیں آپ (صلى الله عليه وسلم) کا نام بھی آتا ہے۔ مثلاً اذان، نماز اور دیگر بہت سے مقامات پر، گزشتہ کتابوں میں آپ (صلى الله عليه وسلم) کا تذکرہ اور صفات کی تفصیل ہے، فرشتوں میں آپ (صلى الله عليه وسلم) کا ذکر خیر ہے، آپ (صلى الله عليه وسلم) کی اطاعت کو اللہ نے اپنی اطاعت قرار دیا اور اپنی اطاعت کے ساتھ ساتھ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی اطاعت کا بھی حکم دیا، وغیرہ ۔
آیت کے اختیارات
- 5
فَإِنَّ مَعَ ٱلْعُسْرِ يُسْرًا
پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے.
آیت کے اختیارات
- 6
إِنَّ مَعَ ٱلْعُسْرِ يُسْرًا
بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے.[1]
حواشی
[1] یہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کے لئے اور صحابہ (رضي الله عنهم) کے لئے خوشخبری ہے کہ تم اسلام کی راہ میں جو تکلیفیں برداشت کر رہے ہو تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بعد ہی اللہ تمہیں فراغت وآسانی سے نوازے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، جسے ساری دنیا جانتی ہے۔
آیت کے اختیارات
- 7
فَإِذَا فَرَغْتَ فَٱنصَبْ
پس جب تو فارغ ہو تو عبادت میں محنت کر.[1]
حواشی
[1] یعنی نماز سے، یا تبلیغ سے یا جہاد سے، تو دعا میں محنت کر، یا اتنی عبادت کر کہ تو تھک جائے۔
آیت کے اختیارات
- 8
وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَٱرْغَب
اور اپنے پروردگار ہی کی طرف دل لگا.[1]
حواشی
[1] یعنی اسی سے جنت کی امید رکھ، اسی سے اپنی حاجتیں طلب کر اور تمام معاملات میں اسی پر اعتماد اور بھروسہ رکھ۔
آیت کے اختیارات
التين
تین
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ تین
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِّسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
وَٱلتِّينِ وَٱلزَّيْتُونِ
قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی.
آیت کے اختیارات
- 2
وَطُورِ سِينِينَ
اور طور سِینِین کی.[1]
حواشی
[1] یہ وہی کوہ طور ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ (عليه السلام) سے ہم کلام ہوا تھا۔
آیت کے اختیارات
- 3
وَهَـٰذَا ٱلْبَلَدِ ٱلْأَمِينِ
اور اس امن والے شہر کی.[1]
حواشی
[1] اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے، جس میں قتال کی اجازت نہیں ہے۔ علاوہ ازیں جو اس میں داخل ہو جائے، اسے بھی امن حاصل ہو جاتا ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ دراصل تین مقامات کی قسم ہے، جن میں سے ہر ایک جگہ میں جلیل القدر، صاحب شریعت پیغمبر مبعوث ہوا۔ انجیر اور زیتون سے مراد وہ علاقہ ہے جہاں اس کی پیداوار ہے اور وہ ہے بیت المقدس، جہاں حضرت عیسیٰ (عليه السلام) پیغمبر بن کر ائے۔ طور سینا یا سینین پر حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو نبوت عطا کی گئی اور شہر مکہ میں سید الرسل حضرت محمد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی بعثت ہوئی۔ ابن کثیر ) ۔
آیت کے اختیارات
- 4
لَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ فِىٓ أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ
یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا.[1]
حواشی
[1] یہ جواب قسم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس کا منہ نیچے کو جھکا ہوا ہے صرف انسان کو دراز قامت، سیدھا بنایا ہے جو اپنے ہاتھوں سے کھاتا پیتاہے۔ پھر اس کے اعضا کو نہایت تناسب کے ساتھ بنایا، ان میں جانوروں کی طرح بےڈھنگا پن نہیں ہے۔ ہر اہم عضو دو دو بنائے اور ان میں نہایت مناسب فاصلہ رکھا، پھر اس میں عقل وتدبر، فہم وحکمت اور سمع وبصر کی قوتیں ودیعت کیں، جو دراصل یہ انسان اللہ کی قدرت کا مظہر اور اس کا پر تو ہے۔ بعض علما نے اس حدیث کوبھی اسی معنی ومفہوم پر محمول کیا ہے، جس میں ہے کہ إِنَّ اللهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ ( مسلم، كتاب البر والصلة والآداب ) اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت میں پیدا فرمایا انسان کی پیدائش میں ان تمام چیزوں کا اہتمام ہی احسن تقویم ہے، جس کا ذکر اللہ نے تین قسموں کے بعد فرمایا۔ (فتح القدیر)۔
آیت کے اختیارات
- 5
ثُمَّ رَدَدْنَـٰهُ أَسْفَلَ سَـٰفِلِينَ
پھر اسے نیچوں سے نیچا کر دیا.[1]
حواشی
[1] یہ اشارہ انسان کے ارذل عمر ( بہت زیادہ عمر ) کی طرف۔ جس میں جوانی اور قوت کے بعد بڑھاپا اور ضعف آجاتا ہے اور انسان کی عقل اور ذہن بچے کی طرح ہو جاتا ہے۔ بعض نے اس سے کردار کا وہ سفلہ پن لیا ہے جس میں مبتلا ہو کر انسان انتہائی پست اور سانپ بچھو سے بھی زیادہ گیا گزرا ہو جاتا ہے اور بعض نے اس سے ذلت ورسوائی کا وہ عذاب مراد لیا ہے جو جہنم میں کافروں کے لئے ہے۔ گویا انسان اللہ اور رسول کی اطاعت سے انحراف کرکے اپنے کو احسن تقویم کے بلند رتبہ واعزاز سے گرا کر جہنم کی اسفل سافلین میں ڈال لیتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 6
إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ
لیکن جو لوگ ایمان ﻻئے اور (پھر) نیک عمل کیے تو ان کے لئے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا.[1]
حواشی
[1] آیت ماقبل کے پہلے مفہوم کے اعتبار سے یہ جملہ مبینہ ہے، مومنوں کی کیفیت بیان کر رہا ہے اور دوسرے تیسرے مفہوم کے اعتبار سے، ماقبل کی تاکید ہے کہ اس انجام سے اس نے مومنوں کا استثنا کردیا۔ ( فتح القدیر ) ۔
آیت کے اختیارات
- 7
فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِٱلدِّينِ
پس تجھے اب روز جزا کے جھٹلانے پر کون سی چیز آماده کرتی ہے.[1]
حواشی
[1] یہ انسان سے خطاب ہے، زجر وتوبیخ کے لئے۔ کہ اللہ نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا اور وہ تجھے اس کے برعکس قعر مذلت میں بھی گرانے کی قدرت رکھتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کے لئے دوبارہ پیدا کرنا کوئی مشکل نہیں۔ اس کے بعد بھی تو قیامت اور جزا کا انکار کرتا ہے؟
آیت کے اختیارات
- 8
أَلَيْسَ ٱللَّهُ بِأَحْكَمِ ٱلْحَـٰكِمِينَ
کیا اللہ تعالیٰ (سب) حاکموں کا حاکم نہیں ہے.[1]
حواشی
[1] جو کسی پر ظلم نہیں کرتا اور اس کے عدل ہی کا یہ تقاضا ہے کہ وہ قیامت برپا کرے اور ان کی داد رسی کرے جن پر دنیا میں ظلم ہوا۔ پہلے گزر چکا ہے کہ ایک ضعیف حدیث میں اس کا یہ جواب دینا منقول ہے۔ بَلَى، وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ ) ( الترمذي ) ۔
آیت کے اختیارات
العلق
علق
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ علق
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
ٱقْرَأْ بِٱسْمِ رَبِّكَ ٱلَّذِى خَلَقَ
پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا.[1]
حواشی
[1] یہ سب سے پہلی وحی ہے جو نبی (صلى الله عليه وسلم) پر اس وقت آئی جب آپ (صلى الله عليه وسلم) غار حرا میں مصروف عبادت تھے۔ فرشتے نے آکر کہا، پڑھ، آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا، میں تو پڑھا ہوا ہی نہیں ہوں، فرشتے نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کو پکڑ کر زور سے بھینچا، اور کہا پڑھ، آپ (صلى الله عليه وسلم) نے پھر وہی جواب دیا۔ اس طرح تین مرتبہ اس نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کو بھینچا۔ ( تفصیل کے لئے دیکھئے صحیح بخاری، بدء الوحی، مسلم، الایمان، باب بدء الوحی ) اقْرَأْ جو تیری طرف وحی کی جاتی ہے وہ پڑھ۔ خَلَقَ، جس نے تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
آیت کے اختیارات
- 2
خَلَقَ ٱلْإِنسَـٰنَ مِنْ عَلَقٍ
جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا.[1]
حواشی
[1] مخلوقات میں سے بطور خاص انسان کی پیدائش کا ذکر فرمایا جس سے اس کا شرف واضح ہے۔
آیت کے اختیارات
- 3
ٱقْرَأْ وَرَبُّكَ ٱلْأَكْرَمُ
تو پڑھتا ره تیرا رب بڑے کرم واﻻ ہے.[1]
حواشی
[1] یہ بطور تاکید فرمایا اور اس میں بڑے بلیغ انداز سے اس اعتذار کا بھی ازالہ فرما دیا، جو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے پیش کیا کہ میں تو قاری ہی نہیں۔ اللہ نے فرمایا، اللہ بہت کرم والا ہے پڑھ، یعنی انسانوں کی کوتاہیوں سے درگزر کرنا اس کا وصف خاص ہے۔
آیت کے اختیارات
- 4
ٱلَّذِى عَلَّمَ بِٱلْقَلَمِ
جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا.[1]
حواشی
[1] قَلَمٌ کے معنی ہیں قطع کرنا، تراشنا، قلم بھی پہلے زمانے میں تراش کر ہی بنائے جاتے تھے، اس لئے آلۂ کتابت کو قلم سے تعبیر کیا۔ کچھ علم تو انسان کے ذہن میں ہوتا ہے، کچھ کا اظہار زبان کے ذریعے سے ہوتا ہے اور کچھ انسان قلم سے کاغذ پر لکھ لیتا ہے۔ ذہن وحافظہ میں جو ہوتا ہے، وہ انسان کے ساتھ ہی چلا جاتا ہے۔ زبان سے جس کا اظہار کرتا ہے، وہ بھی محفوظ نہیں رہتا۔ البتہ قلم سے لکھا ہوا، اگر وہ کسی وجہ سے ضائع نہ ہو تو ہمیشہ محفوظ رہتا ہے، اسی قلم کی بدولت تمام علوم، پچھلے لوگوں کی تاریخیں اور اسلاف کا علمی ذخیرہ محفوظ ہے۔ حتیٰ کہ آسمانی کتابوں کی حفاظت کا بھی ذریعہ ہے۔ اس سے قلم کی اہمیت محتاج وضاحت نہیں رہتی۔ اسی لئے اللہ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اس کو تمام مخلوقات کی تقدیر لکھنے کا حکم دیا۔
آیت کے اختیارات
- 5
عَلَّمَ ٱلْإِنسَـٰنَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
جس نے انسان کو وه سکھایا جسے وه نہیں جانتا تھا.
آیت کے اختیارات
- 6
كَلَّآ إِنَّ ٱلْإِنسَـٰنَ لَيَطْغَىٰٓ
سچ مچ انسان تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے.
آیت کے اختیارات
- 7
أَن رَّءَاهُ ٱسْتَغْنَىٰٓ
اس لئے کہ وه اپنے آپ کو بے پروا (یا تونگر) سمجھتا ہے.
آیت کے اختیارات
- 8
إِنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ ٱلرُّجْعَىٰٓ
یقیناً لوٹنا تیرے رب کی طرف ہے.
آیت کے اختیارات
- 9
أَرَءَيْتَ ٱلَّذِى يَنْهَىٰ
(بھلا) اسے بھی تو نے دیکھا جو بندے کو روکتا ہے.
آیت کے اختیارات
- 10
عَبْدًا إِذَا صَلَّىٰٓ
جبکہ وه بنده نماز ادا کرتا ہے.[1]
حواشی
[1] مفسرین کہتے ہیں کہ روکنے والے سے مراد ابوجہل ہے جو اسلام کا شدید دشمن تھا۔ عبدًا سے مراد نبی (صلى الله عليه وسلم) ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 11
أَرَءَيْتَ إِن كَانَ عَلَى ٱلْهُدَىٰٓ
بھلا بتلا تو اگر وه ہدایت پر ہو.[1]
حواشی
[1] یعنی جس کو یہ نماز پڑھنے سے روک رہا ہے، وہ ہدایت پرہو۔
آیت کے اختیارات
- 12
أَوْ أَمَرَ بِٱلتَّقْوَىٰٓ
یا پرہیز گاری کا حکم دیتا ہو.[1]
حواشی
[1] یعنی اخلاص، توحید اور عمل صالح کی تعلیم، جس سے جہنم کی آگ سے انسان بچ سکتا ہے۔ تو کیا یہ چیزیں ( نماز پڑھنا اور تقویٰ کی تعلیم دینا ) ایسی ہیں کہ ان کی مخالفت کی جائے اور اس پر اس کو دھمکیاں دیں جائیں؟
آیت کے اختیارات
- 13
أَرَءَيْتَ إِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰٓ
بھلا دیکھو تو اگر یہ جھٹلاتا ہو اور منھ پھیرتا ہو تو.[1]
حواشی
[1] یعنی یہ ابوجہل اللہ کے پیغمبر کو جھٹلاتا ہو اور ایمان سے اعراض کرتا ہو أَرَأَيْتَ بمعنی أَخْبِرْنِي ( مجھے بتلاؤ ) ہے۔
آیت کے اختیارات
- 14
أَلَمْ يَعْلَم بِأَنَّ ٱللَّهَ يَرَىٰ
کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ اسے خوب دیکھ رہا ہے.[1]
حواشی
[1] مطلب یہ ہے کہ یہ شخص جو مذکورہ حرکتیں کر رہا ہے کیا نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھ رہا ہے، وہ اس کی اس کو جزا دے گا۔ یعنی یہ «أَلَمْ تَعْلَمْ» مذکورہ شرطوں «إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى، أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى» کی جزا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 15
كَلَّا لَئِن لَّمْ يَنتَهِ لَنَسْفَعًۢا بِٱلنَّاصِيَةِ
یقیناً اگر یہ باز نہ رہا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے.[1]
حواشی
[1] یعنی نبی (صلى الله عليه وسلم) کی مخالفت اور دشمنی سے اور آپ (صلى الله عليه وسلم) کو نماز پڑھنے سے جو روکتا ہے، اس سے باز نہ آیا لَنَسْفَعَنَّ کے معنی ہیں لَنَأْخُذَنَّ تو ہم اسے اس کی پیشانی سے پکڑ کر گھسیٹیں گے۔ حدیث میں آتا ہے ابوجہل نے کہا تھا کہ اگر محمد (صلى الله عليه وسلم) کعبے کے پاس نماز پڑھنے سے باز نہ آیا تو میں اس کی گردن پر پاؤں رکھ دوں گا۔ (یعنی اسے روندوں گا اور یوں ذلیل کروں گا) نبی (صلى الله عليه وسلم) کو یہ بات پہنچی تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا۔ اگر وہ ایسا کرتا تو فرشتے اسے پکڑ لیتے۔ (صحيح البخاري، تفسير سورة العلق)۔
آیت کے اختیارات
- 16
نَاصِيَةٍ كَـٰذِبَةٍ خَاطِئَةٍ
ایسی پیشانی جو جھوٹی خطا کار ہے.[1]
حواشی
[1] پیشانی کی یہ صفات بطور مجاز ہیں، جھوٹی ہے اپنی بات میں، خطاکار ہے اپنے فعل میں۔
آیت کے اختیارات
- 17
فَلْيَدْعُ نَادِيَهُۥ
یہ اپنی مجلس والوں کو بلالے.
آیت کے اختیارات
- 18
سَنَدْعُ ٱلزَّبَانِيَةَ
ہم بھی (دوزخ کے) پیادوں کو بلالیں گے.[1]
حواشی
[1] حدیث میں آتا ہے کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔ ابوجہل گزرا تو کہا اے محمد! (صلى الله عليه وسلم) میں نے تجھے نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا تھا؟ اور آپ (صلى الله عليه وسلم) سے سخت دھمکی آمیز باتیں کیں، آپ (صلى الله عليه وسلم) نے کڑا جواب دیا تو کہنے لگا اے محمد! (صلى الله عليه وسلم) تو مجھے کس چیز سے ڈراتا ہے؟ اللہ کی قسم، اس وادی میں سب سے زیادہ میرے حمایتی اور مجلس والے ہیں، جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت ابن عباس (رضي الله عنه) ما فرماتے ہیں، اگر وہ اپنے حمایتیوں کو بلاتا تو اسی وقت ملائکہ عذاب اسے اسے پکڑ لیتے۔( ترمذی، تفسیر سورۂ اقر مسند احمد، 1/ 329 وتفسیر ابن جریر) اور صحیح مسلم کے الفاظ ہیں کہ اس نے آگے بڑھ کر آپ (صلى الله عليه وسلم) کی گردن پر پیر رکھنے کا ارادہ کیا کہ ایک دم الٹے پاؤں پیچھے ہٹا اور اپنے ہاتھوں سے اپنا بچاؤ کرنے لگا، اس سے کہا گیا، کیا بات ہے؟ اس نے کہا کہ میرے اور محمد(صلى الله عليه وسلم) کے درمیان آگ کی خندق، ہولناک منظر اور بہت سارے پر ہیں۔ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا، اگر یہ میرے قریب ہوتا تو فرشتے اس کی بوٹی بوٹی نوچ لیتے۔ (كتاب صفة القيامة، باب إن الإنسان ليطغى) الزَّبَانِيَة، داروغے اور پولیس۔ یعنی طاقتور لشکر، جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
آیت کے اختیارات
- 19
كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَٱسْجُدْ وَٱقْتَرِب ۩
خبردار! اس کا کہنا ہرگز نہ ماننا اور سجده کر اور قریب ہو جا۔
آیت کے اختیارات
القدر
قدر
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ قدر
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِّسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
إِنَّآ أَنزَلْنَـٰهُ فِى لَيْلَةِ ٱلْقَدْرِ
یقیناً ہم نے اسے شب قدر میں نازل فرمایا.[1]
حواشی
[1] یعنی اتارنے کا آغاز کیا، یا لوح محفوظ سے اس بیت العزت میں، جو آسمان پر ہے، ایک ہی مرتبہ اتار دیا۔ اور وہاں سے حسب وقائع نبی (صلى الله عليه وسلم) پر اترتا رہا تا آنکہ 23 سال میں پورا ہوگیا۔ اور لیلتہ القدر رمضان میں ہی ہوتی ہے، جیسا کہ قرآن کی آیت «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ» (البقرة: 185 ) سے واضح ہے۔
آیت کے اختیارات
- 2
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا لَيْلَةُ ٱلْقَدْرِ
تو کیا سمجھا کہ شب قدر کیا ہے؟[1]
حواشی
[1] اس استفہام سے اس رات کی عظمت واہمیت واضح ہے، گویاکہ مخلوق اس کی تہ تک پوری طرح نہیں پہنچ سکتی، یہ صرف ایک اللہ ہی ہے جو اس کو جانتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 3
لَيْلَةُ ٱلْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ
شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی اس ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے اور ہزار مہینے 83 سال 4 مہینے بنتے ہیں۔ یہ امت محمدیہ پر اللہ کا کتنا احسان عظیم ہے کہ مختصر عمر میں زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کرنے کے لئے کیسی سہولت عطا فرما دی۔
آیت کے اختیارات
- 4
تَنَزَّلُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ
اس (میں ہر کام) کے سر انجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (جبرائیل) اترتے ہیں.[1]
حواشی
[1] روح سے مراد حضرت جبرائیل (عليه السلام) ہیں، یعنی فرشتے حضرت جبرائیل (عليه السلام) سمیت، اس رات میں زمین پر اترتے ہیں،ان کاموں کو سرانجام دینے کے لئے جن کا فیصلہ اس سال میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 5
سَلَـٰمٌ هِىَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ ٱلْفَجْرِ
یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے[1] اور فجر کے طلوع ہونے تک (رہتی ہے).
حواشی
[1] یعنی اس میں شر نہیں۔ یا اس معنی میں سلامتی والی ہے کہ مومن اس رات کو شیطان کے شر سے محفوظ رہتے ہیں۔ یا فرشتے اہل ایمان کو سلام عرض کرتے ہیں۔ یا فرشتے ہی آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں۔ شب قدر کے لئے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بطور خاص یہ دعا بتلائی ہے «اللَّهُمَّ! إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي» ( ترمذي أبواب الدعوات، ابن ماجه، كتاب الدعاء، باب الدعاء بالعفو والعافية ) ۔
آیت کے اختیارات
البينة
بینہ
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ بینہ
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
لَمْ يَكُنِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ وَٱلْمُشْرِكِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّىٰ تَأْتِيَهُمُ ٱلْبَيِّنَةُ
اہل کتاب کے کافر[1] اور مشرک[2] لوگ جب تک کہ ان کے پاس ظاہر دلیل نہ آجائے باز رہنے والے نہ تھے (وه دلیل یہ تھی کہ).
حواشی
[1] اس سے مراد یہود ونصاریٰ ہیں۔ [2] مشرک سے مراد عرب وعجم کے وہ لوگ ہیں جو بتوں اور آگ کے پجاری تھے۔ مُنْفَكِّينَ باز آنے والے، بَيِّنَةٌ ( دلیل ) سے مراد نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) ہیں۔ یعنی یہود ونصاریٰ اور عرب وعجم کے مشرکین اپنے کفر وشرک سے باز آنے والے نہیں ہیں یہاں تک کہ ان کے پاس محمد (صلى الله عليه وسلم) قرآن لے کر آجائیں اور وہ ان کی ضلالت وجہالت بیان کریں اور انہیں ایمان کی دعوت دیں۔
آیت کے اختیارات
- 2
رَسُولٌ مِّنَ ٱللَّهِ يَتْلُوا۟ صُحُفًا مُّطَهَّرَةً
اللہ تعالیٰ کا ایک رسول[1] جو پاک صحیفے پڑھے.[2]
حواشی
[1] یعنی حضرت محمد (صلى الله عليه وسلم) ۔ [2] یعنی قرآن مجید جو لوح محفوظ میں پاک صحیفوں میں درج ہے۔
آیت کے اختیارات
- 3
فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ
جن میں صحیح اور درست احکام ہوں.[1]
حواشی
[1] یہاں كُتُبٌ سے مراد احکام دینیہ اور قَيِّمَةٌ، معتدل اورسیدھے۔
آیت کے اختیارات
- 4
وَمَا تَفَرَّقَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ ٱلْبَيِّنَةُ
اہل کتاب اپنے پاس ظاہر دلیل آجانے کے بعد ہی (اختلاف میں پڑ کر) متفرق ہوگئے.[1]
حواشی
[1] یعنی اہل کتاب، حضرت نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کی آمد سے قبل مجتمع تھے، یہاں تک کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی بعثت ہوگئی، اس کے بعد یہ متفرق ہوگئے، ان میں سے کچھ مومن ہوگئے، لیکن اکثریت ایمان سے محروم ہی رہی۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی بعثت ورسالت کو دلیل سے تعبیر کرنے میں یہی نکتہ ہے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی صداقت واضح تھی جس میں مجال انکار نہیں تھی۔ لیکن ان لوگوں نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کی تکذیب محض حسد اور عناد کی وجہ سے کی۔ یہی وجہ ہے کہ، یہاں تفرق کا ارتکاب کرنے والوں میں صرف اہل کتاب کا نام لیا ہے، حالاں کہ دوسروں نے بھی اس کا ارتکاب کیا تھا، کیوں کہ یہ بہرحال علم والے تھے اور آپ (صلى الله عليه وسلم) کی آمد اور صفات کا تذکرہ ان کی کتابوں میں موجود تھا۔
آیت کے اختیارات
- 5
وَمَآ أُمِرُوٓا۟ إِلَّا لِيَعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ وَيُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ ۚ وَذَٰلِكَ دِينُ ٱلْقَيِّمَةِ
انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا[1] کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں۔ ابراہیم حنیف[2] کے دین پر اور نماز کو قائم رکھیں اور زکوٰة دیتے رہیں یہی ہے دین سیدھی ملت کا.[3]
حواشی
[1] یعنی ان کی کتابوں میں انہیں حکم تو یہ دیا گیا تھا کہ۔۔۔ [2] حَنِيفٌ کے معنی ہیں، مائل ہونا، کسی ایک طرف یکسو ہونا، حُنَفَاءَ جمع ہے۔ یعنی شرک سے توحید کی طرف اور تمام ادیان سے منقطع ہو کر صرف دین اسلام کی طرف مائل اور یکسو ہوتے ہوئے۔ جیسے حضرت ابراہیم (عليه السلام) نے کیا۔ [3] الْقَيِّمَةُ محذوف موصوف کی صفت ہے۔ دِينُ الْمِلَّةِ الْقَيِّمَةِ أَيْ: الْمُسْتَقِيمَةِ یا الأُمَّةُ الْمُسْتَقِيمَةُ الْمُعْتَدِلَةُ، یہی اس ملت یا امت کا دین ہے جو سیدھی اور متعدل ہے۔ اکثر ائمہ نے اس آیت سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ اعمال، ایمان میں داخل ہیں۔ (ابن کثیر) ۔
آیت کے اختیارات
- 6
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ وَٱلْمُشْرِكِينَ فِى نَارِ جَهَنَّمَ خَـٰلِدِينَ فِيهَآ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمْ شَرُّ ٱلْبَرِيَّةِ
بیشک جو لوگ اہل کتاب میں کافر ہوئے اور مشرکین سب دوزخ کی آگ میں (جائیں گے) جہاں وه ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ یہ لوگ بدترین خلائق ہیں.[1]
حواشی
[1] یہ اللہ کے رسولوں اور اس کی کتابون کا انکار کرنے والوں کا انجام ہے۔ نیز انہیں تمام مخلوقات میں بدترین قرار دیا گیا۔
آیت کے اختیارات
- 7
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمْ خَيْرُ ٱلْبَرِيَّةِ
بیشک جو لوگ ایمان ﻻئےاور نیک عمل کیے یہ لوگ بہترین خلائق ہیں.[1]
حواشی
[1] یعنی جو دل کے ساتھ ایمان لائے اور جنہوں نے اعضا کے ساتھ عمل کیے، وہ تمام مخلوقات سے بہتر اور افضل ہیں۔ جو اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ مومن بندے ملائکہ سے شرف وفضل میں بہترین ہیں ۔ ان کی ایک دلیل یہ آیت بھی ہے۔ الْبَرِيَّةُ، بَرَأَ ( خلق) سے ہے۔ اسی سے اللہ کی صفت البارئ ہے۔ اس لئے بَرِيَّةٌ، اصل میں بَرِيئَةٌ ہے،ہمزہ کو یا سے بدل کر یا کایا میں ادغام کردیاگیا۔
آیت کے اختیارات
- 8
جَزَآؤُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّـٰتُ عَدْنٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًا ۖ رَّضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِىَ رَبَّهُۥ
ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشگی والی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا[1] اور یہ اس سے راضی ہوئے[2]۔ یہ ہے اس کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرے.[3]
حواشی
[1] ان کے ایمان اور طاعت اور اعمال صالحہ کے سبب۔ اور اللہ کی رضا مندی سب سے بڑی چیز ہے۔ «وَرِضْوَانٌ مِنَ اللَّهِ أَكْبَرُ» (التوبة:72) ۔ [2] اس لئے کہ اللہ نے انہیں ایسی نعمتوں سے نواز دیا، جن میں ان کی روح اور بدن دونوں کی سعادتیں ہیں۔ [3] یعنی یہ جززا اور اضا مندی ان لوگوں کے لئے ہے جو دنیا میں اللہ سے درتے رہے اور اس ڈر کی وجہ سے اللہ کینافرمانی کے ارتکاب سے بچتے رہے ۔اگر کسی وقت بہ تقا ضائےشریعت نا فرمانی ہو گئی تو فور توبہ کر لی اور آئندہ کے لئےاپنی اصلاحکر لی ،حتیٰ کہ ان کی موت اسی اطاعت پر ہوئی نہ کہ مصیبت پر ،اس کا مطلب ہے کہ اللہ سے ڈرنے والا مصیبت پر اصرار اور دوام نیئں کر سکتا اور جو ایسا کرتا ہے ، حقیقت میں اس کا دل اللہ ک خوف سے خالی ہے
آیت کے اختیارات
الزلزلة
زلزلہ
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ زلزال
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
إِذَا زُلْزِلَتِ ٱلْأَرْضُ زِلْزَالَهَا
جب زمین پوری طرح جھنجھوڑ دی جائے گی.[1]
حواشی
[1] اس کے مدنی اور مکی ہونے میں اختلاف ہے، اس کی فضلیت میں متعدد روایات منقول ہیں لیکن ان میں سے کوئی روایت صحیح نہیں ہے۔
آیت کے اختیارات
- 2
وَأَخْرَجَتِ ٱلْأَرْضُ أَثْقَالَهَا
اور اپنے بوجھ باہر نکال پھینکے گی.[1]
حواشی
[1] اس کا مطلب ہے سخت بھونچال سے ساری زمین لرز اٹھے گی اور ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی، یہ اس وقت ہوگا، جب پہلا نفخہ پھونکا جائے گا۔
آیت کے اختیارات
- 3
وَقَالَ ٱلْإِنسَـٰنُ مَا لَهَا
انسان کہنے لگے گا کہ اسے کیا ہوگیا؟[1]
حواشی
[1] یعنی زمین میں جتنے انسان دفن ہیں، وہ زمین کا بوجھ ہیں، جنہیں زمین قیامت والے دن باہر نکال پھینکے گی۔ یعنی اللہ کے حکم سے سب زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے۔ یہ دوسرے نفخے میں ہوگا، اسی طرح زمین کے خزانے بھی باہر نکل آئیں گے۔
آیت کے اختیارات
- 4
يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا
اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کردے گی.[1]
حواشی
[1] یعنی دہشت زدہ ہوکر کہے گا کہ اسے کیا ہو گیا ہے، یہ کیوں اس طرح ہل رہی ہے اور اپنے خزانے اگل رہی ہے۔
آیت کے اختیارات
- 5
بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَىٰ لَهَا
اس لئے کہ تیرے رب نے اسے حکم دیا ہوگا.[1]
حواشی
[1] یہ جواب شرط ہے۔ حدیث میں ہے، نبی (صلى الله عليه وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی اورپوچھا، جانتے ہو، زمین کی خبریں کیا ہیں؟ صحابہ (رضي الله عنهم) نے عرض کیا، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا، اس کی خبریں یہ ہیں کہ جس بندے یا بندی نے زمین کی پشت پر جو کچھ کیا ہوگا، اس کی گواہی دے گی۔ کہے گی فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں عمل، فلاں فلاں دن میں کیا تھا۔ ( ترمذي، أبواب صفة القيامة وتفسير سورة إذا زلزلت- مسند أحمد 2/ 374 ) ۔ یعنی زمین کو یہ قوت گویائی اللہ عطا فرمائے گا، اس لئے اس میں تعجب والی بات نہیں ہے، جس طرح انسانی اعضا میں اللہ تعالیٰ یہ قوت پیدا فرما دے گا، زمین کو بھی اللہ تعالیٰ متکلم بنا دے گا اور وہ اللہ کے حکم سے بولے گی۔
آیت کے اختیارات
- 6
يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ ٱلنَّاسُ أَشْتَاتًا لِّيُرَوْا۟ أَعْمَـٰلَهُمْ
اس روز لوگ مختلف جماعتیں ہو کر (واپس) لوٹیں[1] گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں.[2]
حواشی
[1] يَصْدُرُ، يَرْجِعُ ( لوٹیں گے ) یہ ورود کی ضد ہے۔ یعنی قبروں سے نکل کر موقف حساب کی طرف، یا حساب کے بعد جنت اور دوزخ کی طرف لوٹیں گے۔ أَشْتَاتًا، متفرق، یعنی ٹولیاں ٹولیاں۔ بعض بےخوف ہوں گے، بعض خوف زدہ، بعض کے رنگ سفید ہوں گے جیسے جنتوں کے ہوں گے اور بعض کے رنگ سیاہ، جو ان کے جہنمی ہونے کی علامت ہوگی۔ بعض کا رخ دائیں جانب ہوگا بعض کا بائیں جانب۔ یا یہ مختلف گروہ ادیان ومذاہب اور اعمال وافعال کی بنیاد پر ہوں گے۔ [2] یہ متعلق ہے يَصْدُرُ کے یا اس کا تعلق أَوْحَى لَهَا سے ہے۔ یعنی زمین اپنی خبریں اس لئے بیان کرے گی تاکہ انسانوں کو ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں۔
آیت کے اختیارات
- 7
فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُۥ
پس جس نے ذره برابر نیکی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا.[1]
حواشی
[1] پس وہ اس سے خوش ہوگا۔
آیت کے اختیارات
- 8
وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُۥ
اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا.[1]
حواشی
[1] وہ اس پرسخت پشیمان اور مضطرب ہوگا۔ ذَرَّةٍ بعض کے نزدیک چیونٹی سے بھی چھوٹی چیز ہے۔ بعض اہل لغت کہتے ہیں، انسان زمین پر ہاتھ مارتا ہے، اس سے اس کے ہاتھ پرجو مٹی لگ جاتی ہے، وہ ذرہ ہے۔ بعض کےنزدیک سوراخ سے آنے والی سورج کی شعاعوں میں گرد وغبار کے جو ذرات نظر آتے ہیں، وہ ذرہ ہے۔ لیکن امام شوکانی نے پہلے معنی کو اولیٰ کہا ہے۔ امام مقاتل کہتے ہیں کہ یہ سورت ان دو آمیوں کے بیان میں نازل ہوئی ہے۔ جن میں سے ایک شخص، سائل کو تھوڑا سا صدقہ دینے میں تامل کرتا اور دوسرا شخص چھوٹا گناہ کرنے میں کوئی خوف محسوس نہ کرتا تھا۔ (فتح القدیر) ۔
آیت کے اختیارات
العاديات
عادیات
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ عادیات
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
وَٱلْعَـٰدِيَـٰتِ ضَبْحًا
ہانپتے ہوئے دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم![1]
حواشی
[1] عَادِيَاتٌ، عَادِيَةٌ کی جمع ہے۔ یہ عَدُوٌّ سے ہے جیسے غَزْوٌ ہے۔ غَازِيَاتٌ کی طرح اس کے واو کو بھی یا سے بدل دیاگیا ہے۔ تیز رو گھوڑے۔ ضَبْحٌ کے معنی بعض کے نزدیک ہانپنا اور بعض کے نزدیک ہنہنانا ہے۔ مراد وہ گھوڑے ہیں جو ہانپتے یا ہنہناتے ہوئےجہاد میں تیزی سے دشمن کی طرف دوڑتے ہیں
آیت کے اختیارات
- 2
فَٱلْمُورِيَـٰتِ قَدْحًا
پھر ٹاپ مار کر آگ جھاڑنے والوں کی قسم![1]
حواشی
[1] مُورِيَاتٌ، إِيرَاءُ سے ہے۔ آگ نکالنے والے۔ قَدْحٌ کے معنی ہیں۔ صَكٌّ چلنے میں گھٹنوں یا ایڑیوں کا ٹکرانا، یا ٹاپ مارنا۔ اسی سے قَدْحٌ بِالزِّنَادِ ہے۔ چقماق سے آگ نکالنا۔ یعنی ان گھوڑوں کی قسم جن کی رگڑ سے پتھروں سے آگ نکلتی ہے، جیسے چقماق سے نکلتی ہے۔
آیت کے اختیارات
- 3
فَٱلْمُغِيرَٰتِ صُبْحًا
پھر صبح کے وقت دھاوا بولنے والوں کی قسم.[1]
حواشی
[1] مُغِيرَاتٌ، أَغَارَ يُغِيرُ سے ہے، شب خون مارنے یا دھاوا بولنے والے۔ صُبْحًا صبح کے وقت، عرب میں عام طور پر حملہ اسی وقت کیا جاتا تھا، شب خون تو وہ مارتے ہیں جو فوجی گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں، لیکن اس کی نسبت گھوڑوں کی طرف اس لئے کی ہے کہ دھاوا بولنے میں فوجیوں کے یہ بہت زیادہ کام آتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 4
فَأَثَرْنَ بِهِۦ نَقْعًا
پس اس وقت گرد وغبار اڑاتے ہیں[1]
حواشی
[1] أَثَارَ، اڑانا۔ نَقْعٌ، گردوغبار۔ یعنی یہ گھوڑے جس وقت تیزی سے دوڑتے یا دھاوا بولتے ہیں تو اس جگہ پر گرد وغبار چھا جاتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 5
فَوَسَطْنَ بِهِۦ جَمْعًا
پھر اسی کے ساتھ فوجیوں کے درمیان گھس جاتے ہیں.[1]
حواشی
[1] فَوَسَطْنَ، درمیان میں گھس جاتے ہیں۔ اس وقت، یا حالت گرد وغبار میں۔ جَمْعًا دشمن کے لشکر۔ مطلب ہے کہ اس وقت، یا جب کہ فضا گرد وغبار سے اٹی ہوئی ہے، یہ گھوڑے دشمن کے لشکروں میں گھس جاتے ہیں اور گھمسان کی جنگ کرتے ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 6
إِنَّ ٱلْإِنسَـٰنَ لِرَبِّهِۦ لَكَنُودٌ
یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے.[1]
حواشی
[1] یہ جواب قسم ہے۔ انسان سے مراد کافر، یعنی بعض افراد ہیں۔ كَنُودٌ بمعنی كَفُورٍ، ناشکرا۔
آیت کے اختیارات
- 7
وَإِنَّهُۥ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ
اور یقیناً وه خود بھی اس پر گواه ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی انسان خود بھی اپنی ناشکری کی گواہی دیتا ہے۔ بعض لَشَهِيدٌ کافاعل اللہ کو قرار دیتے ہیں۔ لیکن امام شوکانی نے پہلے مفہوم کو راجح قرار دیا ہے، کیوں کہ مابعد کی آیات میں ضمیر کا مرجع انسان ہی ہے۔ اس لئے یہاں بھی انسان ہی ہونا زیادہ صحیح ہے۔
آیت کے اختیارات
- 8
وَإِنَّهُۥ لِحُبِّ ٱلْخَيْرِ لَشَدِيدٌ
یہ مال کی محنت میں بھی بڑا سخت ہے.[1]
حواشی
[1] خَيْرٌ سے مراد مال ہے، جیسے «إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ» (البقرة :180 ) میں ہے معنی واضح ہیں۔ ایک دوسرا مفہوم یہ ہے کہ نہایت حریص اور بخیل ہے جو مال کی شدید محبت کا لازمی نتیجہ ہے۔
آیت کے اختیارات
- 9
۞ أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِى ٱلْقُبُورِ
کیا اسے وه وقت معلوم نہیں جب قبروں میں جو (کچھ) ہے نکال لیا جائے گا.[1]
حواشی
[1] بُعْثِرَ، نُثِرَ وَبُعِثَ یعنی قبروں کے مردوں کو زندہ کرکے اٹھا کھڑا کردیا جائے گا۔
آیت کے اختیارات
- 10
وَحُصِّلَ مَا فِى ٱلصُّدُورِ
اور سینوں کی پوشیده باتیں ظاہر کر دی جائیں گی.[1]
حواشی
[1] حُصِّلَ، مُيِّزَ وَبُيِّنَ یعنی سینوں کی باتوں کو ظاہر اور کھول دیا جائے گا۔
آیت کے اختیارات
- 11
إِنَّ رَبَّهُم بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِيرٌۢ
بیشک ان کا رب اس دن ان کے حال سے پورا باخبر ہوگا.[1]
حواشی
[1] یعنی جو رب ان کو قبروں سے نکال لے گا، ان کے سینوں کے رازوں کو ظاہرکردے گا، اس کے متعلق ہر شخص جان سکتا ہے کہ وہ کتنا باخبر ہے؟ اور اس سے کوئی چیز مخفی نہیں رہ سکتی۔ چنانچہ پھر وہ ہر ایک کو اس کے عملوں کے مطابق اچھی یا بری جزا دے گا۔ یہ گویا ان اشخاص کو تنبیہ ہےجو رب کی نعمتیں تو استعمال کرتے ہیں، لیکن اس کا شکر ادا کرنےکے بجائے، اس کی ناشکری کرتے ہیں۔ اسی طرح مال کی محبت میں گرفتار ہو کر مال کے وہ حقوق ادا نہیں کرتے جو اللہ نے اس میں دوسرے لوگوں کے رکھے ہیں۔
آیت کے اختیارات
القارعة
قارعہ
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ قارعہ
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
ٱلْقَارِعَةُ
کھڑکھڑا دینے والی۔
آیت کے اختیارات
- 2
مَا ٱلْقَارِعَةُ
کیا[1] ہے وه کھڑکھڑا دینے والی.
حواشی
[1] یہ بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ جیسے اس سے قبل اس کے متعدد نام گزر چکے ہیں، مثلاً، الْحَاقَّةُ، الطَّامَّةُ، الصَّاخَّةُ، الْغَاشِيَةُ، السَّاعَةُ، الْوَاقِعَة وغیرہ۔ الْقَارِعَةُ، اسے اس لئے کہتے ہیں۔ کہ یہ اپنی ہولناکیوں سے دلوں کو بیدار اور اللہ کے دشمنوں کو عذاب سے خبردار کر دے گی، جیسے دروازہ کھٹکھٹانے والا کرتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 3
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلْقَارِعَةُ
تجھے کیا معلوم کہ وه کھڑ کھڑا دینے والی کیا ہے.
آیت کے اختیارات
- 4
يَوْمَ يَكُونُ ٱلنَّاسُ كَٱلْفَرَاشِ ٱلْمَبْثُوثِ
جس دن انسان بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گے.[1]
حواشی
[1] فِرَاشٌ، مچھر اور شمع کے گرد منڈلانے والے پرندے وغیرہ۔ مَبْثُوثٌ، منتشر اور بکھرے ہوئے۔ یعنی قیامت والے دن انسان بھی پروانوں کی طرح پراگندہ اور بکھرے ہوئے ہوں گے۔
آیت کے اختیارات
- 5
وَتَكُونُ ٱلْجِبَالُ كَٱلْعِهْنِ ٱلْمَنفُوشِ
اور پہاڑ دھنے ہوئے رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے.[1]
حواشی
[1] عِهْنٌ اس اون کو کہتے ہیں جو مختلف رنگوں کے ساتھ رنگی ہوئی ہو، مَنْفُوشٌ، دھنی ہوئی۔ یہ پہاڑوں کی وہ کیفیت بیان کی گئی ہے جو قیامت والے دن ان کی ہوگی۔ قرآن کریم میں پہاڑوں کی یہ کیفیت مختلف انداز میں بیان کی گئی ہے، جس کی تفصیل پہلے گزرچکی ہے۔ اب آگے ان دو فریقوں کا اجمالی ذکر کیا جا رہا ہے جو قیامت والے دن اعمال کے اعتبار سے ہوں گے۔
آیت کے اختیارات
- 6
فَأَمَّا مَن ثَقُلَتْ مَوَٰزِينُهُۥ
پھر جس کے پلڑے بھاری ہوں گے.[1]
حواشی
[1] مَوَازِينُ، مِيزَانٌ کی جمع ہے۔ ترازو، جس میں صحائف اعمال تولے جائیں گے۔ جیسا کہ اس کا ذکر سورۂ اعراف: 8، سورۂ کہف: 105 اور سورۂ انبیاء: 47 میں بھی گزرا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہاں یہ میزان نہیں، موزون کی جمع ہے یعنی ایسے اعمال جن کی اللہ کے ہاں کوئی اہمیت اور خاص وزن ہوگا۔ ( فتح القدیر ) لیکن پہلا مفہوم ہی راجح اور صحیح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن کی نیکیاں زیادہ ہوں گی اور وزن اعمال کے وقت ان کی نیکیوں والا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔
آیت کے اختیارات
- 7
فَهُوَ فِى عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ
وه تو دل پسند آرام کی زندگی میں ہوگا.[1]
حواشی
[1] یعنی ایسی زندگی، جس کو وہ صاحب زندگی پسند کرے گا۔
آیت کے اختیارات
- 8
وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَٰزِينُهُۥ
اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے.[1]
حواشی
[1] یعنی جس کی برائیاں نیکیوں پر غالب ہوں گی، اور برائیوں کا پلڑا بھاری اور نیکیوں کا ہلکا ہوگا۔
آیت کے اختیارات
- 9
فَأُمُّهُۥ هَاوِيَةٌ
اس کا ٹھکانا ہاویہ ہے.[1]
حواشی
[1] هَاوِيَةٌ جہنم کا نام ہے، اس کو ہاویہ اس لئے کہتے ہیں کہ جہنمی اس کی گہرائی میں گرے گا۔ اور اس کو ام ( ماں ) سے اس لئے تعبیر کیا کہ جس طرح انسان کے لئے ماں، جائےپناہ ہوتی ہے اسی طرح جہنمیوں کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ بعض کہتے ہیں کہ ام کے معنی دماغ کے ہیں۔ جہنمی، جہنم میں سر کے بل ڈالے جائیں گے۔ ( ابن کثیر ) ۔
آیت کے اختیارات
- 10
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا هِيَهْ
تجھے کیا معلوم کہ وه کیا ہے.[1]
حواشی
[1] یہ استفہام اس کی ہولناکی اور شدت عذاب کو بیان کرنے کے لئے ہے کہ وہ انسان کے وہم وتصور سے بالا ہے، انسانی علوم اس کا احاطہ نہیں کر سکتے اور اس کی کنہ نہیں جان سکتے۔
آیت کے اختیارات
- 11
نَارٌ حَامِيَةٌۢ
وه تند وتیز آگ (ہے).[1]
حواشی
[1] جس طرح حدیث میں ہے کہ انسان دنیامیں جو آگ جلاتا ہے، یہ جہنم کی آگ کا ستر واں حصہ ہے، جہنم کی اگ دنیا کی آگ سے 69 درجہ زیادہ ہے۔ (صحيح بخاري، كتاب بدء الخلق ، باب صفة النار وأنها مخلوقة ، مسلم كتاب الجنة، باب في شدة حر نار جهنم ) ایک اور حدیث میں ہے کہ ( آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ میرا ایک حصہ دوسرے حصے کو کھائے جا رہا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت فرما دی۔ ایک سانس گرمی اور ایک سانس سردی میں پس جو سخت سردی ہوتی ہے یہ اس کا ٹھنڈا سانس ہے۔ اور نہایت سخت گرمی جو پڑتی ہے، وہ جہنم کا گرم سانس ہے)۔ (بخاری، کتاب وباب مذکور) ایک اور حدیث میں نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”جب گرمی زیادہ سخت ہو تو نماز ٹھنڈی کرکے پڑھو، اس لئے کہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے“۔ (حوالہ مذکور، مسلم، کتاب المساجد ) ۔
آیت کے اختیارات
التكاثر
تکاثر
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ تکاثر
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
أَلْهَىٰكُمُ ٱلتَّكَاثُرُ
زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کردیا.[1]
حواشی
[1] أَلْهَى يُلْهِي، کے معنی ہیں، غافل کر دینا۔ تَكَاثُرٌ، زیادتی کی خواہش۔ یہ عام ہے۔ مال، اولاد، اعوان وانصار اور خاندان وقبیلہ وغیرہ، سب کو شامل ہے۔ ہر وہ چیز، جس کی کثرت انسان کو محبوب ہو اور کثرت کے حصول کی کوشش وخواہش اسے اللہ کے احکام اور آخرت سے غافل کر دے۔ یہاں اللہ تعالیٰ انسان کی اسی کمزوری کو بیان کر رہا ہے، جس میں انسانوں کی اکثریت ہر دور میں مبتلا رہی ہے۔
آیت کے اختیارات
- 2
حَتَّىٰ زُرْتُمُ ٱلْمَقَابِرَ
یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے.[1]
حواشی
[1] اس کا مطلب ہے کہ حصول کثرت کے لئے محنت کرتے کرتے، تمہیں موت آگئی، اور تم قبروں میں جا پہنچے۔
آیت کے اختیارات
- 3
كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ
ہرگز نہیں[1] تم عنقریب معلوم کر لو گے.
حواشی
[1] یعنی تم جس تکاثر وتفاخر میں ہو، یہ صحیح نہیں۔
آیت کے اختیارات
- 4
ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ
ہرگز نہیں پھر تمہیں جلد علم ہو جائے گا.[1]
حواشی
[1] اس کا انجام عنقریب تم جان لو گے، یہ بطور تاکید دو مرتبہ فرمایا۔
آیت کے اختیارات
- 5
كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ ٱلْيَقِينِ
ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو.[1]
حواشی
[1] اس کا جواب محذوف ہے۔ مطلب ہے کہ اگر تم اس سے غفلت کا انجام اس طرح یقینی طور پر جان لو، جس طرح دنیا کی کسی دیکھی بھالی چیز کا تمہیں یقین ہوتا ہے تو تم یقیناً اس تکاثر وتفاخر میں مبتلا نہ ہو۔
آیت کے اختیارات
- 6
لَتَرَوُنَّ ٱلْجَحِيمَ
تو بیشک تم جہنم دیکھ لو گے.[1]
حواشی
[1] یہ قسم محذوف کا جواب ہے یعنی اللہ کی قسم تم جہنم ضرور دیکھو گے یعنی اس کی سزا بھگتو گے۔
آیت کے اختیارات
- 7
ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ ٱلْيَقِينِ
اور تم اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے.[1]
حواشی
[1] پہلا دیکھنا دور سے ہوگا، یہ دیکھنا قریب سے ہوگا، اسی لئے اسے عَيْنُ الْيَقِينِ (جس کا یقین مشاہدۂ عینی سے حاصل ہو) کہا گیا۔
آیت کے اختیارات
- 8
ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ ٱلنَّعِيمِ
پھر اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہوگا.[1]
حواشی
[1] یہ سوال ان نعمتوں کے بارے میں ہوگا، جو اللہ نے دنیا میں عطا کی ہوں گی۔ جیسے آنکھ، کان، دل، دماغ، امن وصحت، مال ودولت اور اولاد وغیرہ۔ بعض کہتے ہیں، یہ سوال صرف کافروں سے ہوگا۔ بعض کہتے ہیں، ہر ایک سے ہی ہوگا کیوں کہ محض سوال مستلزم عذاب نہیں۔ جنہوں نے ان نعمتوں کا استعمال اللہ کی ہدایت کے مطابق کیا ہوگا، وہ سوال کے باوجود عذاب سے محفوظ رہیں گے ، اور جنہوں نے کفران نعمت کا ارتکاب کیا ہوگا، وہ دھر لیے جائیں گے۔
آیت کے اختیارات
العصر
عصر
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ عصر
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
وَٱلْعَصْرِ
زمانے کی قسم.[1]
حواشی
[1] زمانے سے مراد، شب وروز کی یہ گردش اور ان کا ادل بدل کر آنا ہے۔ رات آتی ہے تو اندھیرا چھا جاتاہے اور دن طلوع ہوتا ہے تو ہرچیز روشن ہو جاتی ہے۔ علاوہ ازیں کبھی رات لمبی، دن چھوٹا ور کبھی دن لمبا، رات چھوٹی ہو جاتی ہے۔ یہی مرور ایام، زمانہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور کاریگری پر دلالت کرتا ہے۔ اسی لئے رب نے اس کی قسم کھائی ہے۔ یہ پہلے بتلایا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھا سکتا ہے لیکن انسانوں کے لئے اللہ کی قسم کے علاوہ کسی چیز کی قسم کھانا جائز نہیں ہے۔
آیت کے اختیارات
- 2
إِنَّ ٱلْإِنسَـٰنَ لَفِى خُسْرٍ
بیشک (بالیقین) انسان سرتا سر نقصان میں ہے.[1]
حواشی
[1] یہ جواب قسم ہے۔ انسان کا خسارہ اور ہلاکت واضح ہے کہ جب تک وہ زندہ رہتا ہے، اس کے شب وروز سخت محنت کرتے ہوئے گزرتے ہیں پھر جب موت سے ہم کنار ہوتا ہے تو موت کے بعد بھی آرام وراحت نصیب نہیں ہوتی، بلکہ وہ جہنم کا ایندھن بنتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 3
إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَتَوَاصَوْا۟ بِٱلْحَقِّ وَتَوَاصَوْا۟ بِٱلصَّبْرِ
سوائے ان لوگوں کے جو ایمان ﻻئے اور نیک عمل[1] کیے اور (جنہوں نے) آپس میں حق کی وصیت کی[2] اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی.[3]
حواشی
[1] ہاں اس خسارے سے وہ لوگ محفوظ ہیں جو ایمان اور عمل صالح کے جامع ہیں، کیوں کہ ان کی زندگی چاہے جیسی بھی گزری ہو، موت کے بعد وہ بہرحال ابدی نعمتوں اور جنت کی پرآسائش زندگی سے بہرہ ور ہوں گے۔ آگے اہل ایمان کی مزید صفات کا تذکرہ ہے۔ [2] یعنی اللہ کی شریعت کی پابندی اور محرمات ومعاصی سے اجتناب کی تلقین۔ [3] یعنی مصائب وآلام پرصبر، احکام وفرائض شریعت پر عمل کرنے میں صبر، معاصی سے اجتناب پر صبر، لذات وخواہشات کی قربانی پر صبر، صبر بھی اگرچہ تواصی بالحق میں شامل ہے، تاہم اسے خصوصیت سےالگ ذکر کیا گیا، جس سے اسکا شرف وفضل اور خصال حق میں اس کا ممتاز ہونا واضح ہے۔
آیت کے اختیارات
الهمزة
ہمزہ
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ ھُمَزه
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ
بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کی جو عیب ٹٹولنے واﻻ غیبت کرنے واﻻ ہو.[1]
حواشی
[1] هُمَزَةٌ اور لُمَزَةٌ بعض کے نزدیک ہم معنی ہیں۔ بعض اس میں کچھ فرق کرتے ہیں۔ هُمَزَةٌ وہ شخص ہے جو رودر رو برائی کرے اور لُمَزَةٌ، وہ جو پیٹھ پیچھے غیبت کرے۔ بعض اس کے برعکس معنی کرتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں هَمْزٌ، آنکھوں اور ہاتھوں کے اشارے سے برائی کرنا ہے اور لَمْزٌ زبان سے۔
آیت کے اختیارات
- 2
ٱلَّذِى جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُۥ
جو مال کو جمع کرتا جائے اور گنتا جائے.[1]
حواشی
[1] اس سے مراد یہی ہے کہ جمع کرنا اور گن گن کر رکھنا یعنی سینت سینت کر رکھنا اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنا۔ ورنہ مطلق مال جمع کرکے رکھنا مذموم نہیں ہے۔ یہ مذموم اسی وقت ہے جب زکوٰۃ وصدقات اور انفاق فی سبیل اللہ کا اہتمام نہ ہو۔
آیت کے اختیارات
- 3
يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُۥٓ أَخْلَدَهُۥ
وه سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس سدا رہے گا.[1]
حواشی
[1] أَخْلَدَهُ کا زیادہ صحیح ترجمہ یہ ہے کہ (اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا) یعنی یہ مال،جسےوہ جمع کرکے رکھتا ہے، اس کی عمر میں اضافہ کر دے گا اور اسے مرنے نہیں دے گا۔
آیت کے اختیارات
- 4
كَلَّا ۖ لَيُنۢبَذَنَّ فِى ٱلْحُطَمَةِ
ہرگز نہیں[1] یہ تو ضرور توڑ پھوڑ دینے والی آگ میں پھینک دیا جائے گا.[2]
حواشی
[1] یعنی معاملہ ایسا نہیں ہےجیسا اس کا زعم اور گمان ہے۔ [2] ایسا بخیل شخص حطمہ میں پھینک دیا جائے گا۔ یہ بھی جہنم کا ایک نام ہے، توڑ پھوڑ دینے والی۔
آیت کے اختیارات
- 5
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلْحُطَمَةُ
اور تجھے کیا معلوم کہ ایسی آگ کیا ہوگی؟[1]
حواشی
[1] یہ استفہام اس کی ہولناکی کے بیان کے لئے ہے، یعنی وہ اتنی ہولناک آگ ہوگی کہ تمہاری عقلیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور تمہارا فہم وشعور اس کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا۔
آیت کے اختیارات
- 6
نَارُ ٱللَّهِ ٱلْمُوقَدَةُ
وه اللہ تعالیٰ کی سلگائی ہوئی آگ ہوگی.
آیت کے اختیارات
- 7
ٱلَّتِى تَطَّلِعُ عَلَى ٱلْأَفْـِٔدَةِ
جو دلوں پر چڑھتی چلی جائے گی.[1]
حواشی
[1] یعنی اس کی حرارت دلوں تک پہنچ جائے گی۔ ویسے تو دنیا کی آگ کے اندر بھی یہ خاصیت ہے کہ وہ ہر چیز کو جلا ڈالتی ہے لیکن دنیا میں یہ آگ دل تک پہنچ نہیں پاتی کہ انسان کی موت اس سے قبل ہی واقع ہو جاتی ہے۔ جہنم میں ایسا نہیں ہوگا، وہ آگ دلوں تک بھی پہنچ جائے گی، لیکن موت نہیں آئے گی،بلکہ آرزو کے باوجود بھی موت نہیں آئے گی۔
آیت کے اختیارات
- 8
إِنَّهَا عَلَيْهِم مُّؤْصَدَةٌ
وہ ان پر ہر طرف سے بند کی ہوئی ہوگی.[1]
حواشی
[1] مُؤْصَدَةٌ بند، یعنی جہنم کے دروازے اور راستے بند کر دیئے جائیں گے، تاکہ کوئی باہر نہ نکل سکے، اور انہیں لوہے کی میخوں کے ساتھ باندھ دیا جائے گا، جو لمبےلمبے ستونوں کی طرح ہوں گی، بعض کے نزدیک عمد سے مراد بیڑیاں یا طوق ہیں اور بعض کےنزدیک ستون ہیں جن میں انہیں عذاب دیا جائے گا۔ (فتح القدیر)۔
آیت کے اختیارات
- 9
فِى عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍۭ
بڑے بڑے ستونوں میں.
آیت کے اختیارات
الفيل
فیل
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ فیل
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَـٰبِ ٱلْفِيلِ
کیا تو نے نہ دیکھا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟[1]
حواشی
[1] جو یمن سے خانہ کعبہ کی تخریب کے لئے آئے تھے أَلَمْ تَرَ کے معنی ہیں أَلَمْ تَعْلَمْ کیا تجھے معلوم نہیں؟ استفہام تقریر کے لئے ہے۔ یعنی تو جانتا ہے یا وہ سب لوگ جانتے ہیں جو تیرے ہم عصر ہیں۔ یہ اس لئےفرمایا کہ عرب میں یہ واقعہ گزرے ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ مشہور ترین قول کے مطابق یہ واقعہ اس سال پیش آیا جس سال نبی (صلى الله عليه وسلم) کی ولادت ہوئی تھی۔ اس لئے عربوں میں اس کی خبریں مشہور اور متواتر تھیں۔ یہ واقعہ مختصراً حسب ذیل ہے ۔ واقعہ اصحاب الفیل : حبشہ کے بادشاہ کی طرف سی یمن میں ابرہتہ الاشرم گورنر تھا، اس نے صنعاء میں ایک بہت بڑا گرجا (عبادت گھر) تعمیر کیا اور کوشش کی کہ لوگ خانہ کعبہ کے بجائے عبادت اور حج وعمرہ کے لئے ادھر آیا کریں۔ یہ بات اہل مکہ اور دیگر قبائل عرب کے لئے سخت ناگوار تھی۔ چنانچہ ان میں سے ایک شخص نے ابرہہ کے بنائے ہوئے عبادت خانے کو غلاظت سے پلید کردیا، جس کی اطلاع اس کو کر دی گئی کہ کسی نے اس طرح اس گرجا کو ناپاک کر دیا ہے، جس پراس نے خانہ کعبہ کو ڈھانے کا عزم کر لیا اور ایک لشکر جرار لے کر مکے پر حملہ آور ہوا، کچھ ہاتھی بھی اس کے ساتھ تھے۔ جب یہ لشکر وادی محسر کے پاس پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے پرندوں کے غول بھیج دیئےجن کی چونچوں اور پنچوں میں کنکریاں تھیں جو چنے یا مسور کے برابر تھیں، جس فوجی کےبھی یہ کنکری لگتی وہ پگھل جاتا اور اس کا گوشت جھڑ جاتا اور بالآخر مر جاتا۔ خود ابرہہ کابھی صنعاء پہنچتے پہنچتے یہی انجام ہوا۔ اس طرح اللہ نے اپنے گھر کی حفاظت فرمائی۔ مکے کے قریب پہنچ کر ابرہہ کے لشکر نے نبی (صلى الله عليه وسلم) کے دادا کے،جو مکے کے سردار تھے، اونٹوں پر قبضہ کر لیا، جس پر عبدالمطلب نے آکر ابرہہ سے کہا کہ تو میرے اونٹ واپس کر دے جو تیرے لشکریوں نے پکڑے ہیں۔ باقی رہا خانہ کعبہ کامسئلہ، جس کو ڈھانے کے لئے تو آیا ہے تو وہ تیرا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے، وہ اللہ کا گھر ہے، وہی اس کا محافظ ہے، تو جانے اور بیت اللہ کا مالک اللہ جانے۔ (ایسر التفاسیر) ۔
آیت کے اختیارات
- 2
أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِى تَضْلِيلٍ
کیا ان کے مکر کو بےکار نہیں کردیا؟[1]
حواشی
[1] یعنی وہ جو خانہ کعبہ کو ڈھانے کا ارادہ لے کر آیا تھا ، اس میں اس کو ناکام کر دیا۔ استفہام تقریری ہے۔
آیت کے اختیارات
- 3
وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ
اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیئے.[1]
حواشی
[1] ابابیل، پرندے کا نام نہیں ہے، بلکہ اس کے معنی ہیں غول در غول۔
آیت کے اختیارات
- 4
تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ
جو انہیں مٹی اور پتھر کی کنکریاں مار رہے تھے.[1]
حواشی
[1] سِجِّيلٍ مٹی کو اگ میں پکا کر اس سے بنائےہوئےکنکر۔ ان چھوٹے چھوٹے پتھروں یا کنکروں نے توپ کے گولوں اور بندوق کی گولیوں سے زیادہ مہلک کام کیا۔
آیت کے اختیارات
- 5
فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍۭ
پس انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کردیا.[1]
حواشی
[1] یعنی ان کے اجزائے جسم اس طرح بکھر گئے جیسےکھائی ہوئی بھوسی ہوتی ہے۔
آیت کے اختیارات
قريش
قریش
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ قریش
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
لِإِيلَـٰفِ قُرَيْشٍ
قریش کے مانوس کرنے کے لئے.
آیت کے اختیارات
- 2
إِۦلَـٰفِهِمْ رِحْلَةَ ٱلشِّتَآءِ وَٱلصَّيْفِ
(یعنی) انہیں جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے لئے[1] ۔ (اس کے شکریہ میں).
حواشی
[1] إِيلافٌ کے معنی ہیں، مانوس اور عادی ہونا، یعنی اس کا کام سے کلفت اور نفرت کا دور ہو جانا۔ قریش کی گزر ان کا ذریعہ تجارت تھی۔ سال میں دو مرتبہ ان کا تجارتی قافلہ باہر جاتا اور وہاں سے اشیاء تجارت لاتا۔ سردیوں میں یمن، جو گرم علاقہ تھا اور گرمیوں میں شام کی طرف جو ٹھنڈا تھا۔ خانہ کعبہ کے خدمت گزار ہونے کی وجہ سے تمام اہل عرب ان کی عزت کرتے تھے، اس لئے ان کے قافلے بلا روک ٹوک سفر کرتے، اللہ تعالیٰ اس سورت میں قریش کو بتلا رہا ہے کہ تم جو گرمی، سردی میں دو سفر کرتے ہو تو ہمارے اس احسان کی وجہ سے کہ ہم نے تمہیں مکے میں امن عطا کیا ہے اور اہل عرب میں معزز بنایا ہوا ہے۔ اگر یہ چیز نہ ہوتی تو تمہارا سفر ممکن نہ ہوتا۔ اور اصحاب الفیل کو بھی ہم نے اسی لئے تباہ کیا ہے کہ تمہاری عزت بھی برقرار رہے اور تمہارے سفروں کا سلسلہ بھی، جس کے تم خوگر ہو، قائم رہے، اگر ابرہہ اپنے مذموم مقصد میں کامیاب ہو جاتا تو تمہاری عزت وسیادت بھی ختم ہو جاتی اور سلسلہ سفر بھی منقطع ہو جاتا۔ اس لئے تمہیں چاہئے کہ صرف اسی بیت اللہ کے رب کی عبادت کرو۔
آیت کے اختیارات
- 3
فَلْيَعْبُدُوا۟ رَبَّ هَـٰذَا ٱلْبَيْتِ
پس انہیں چاہئے کہ اسی گھر کے رب کی عبادت کرتے رہیں.
آیت کے اختیارات
- 4
ٱلَّذِىٓ أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَءَامَنَهُم مِّنْ خَوْفٍۭ
جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا[1] اور ڈر (اور خوف) میں امن (وامان) دیا.[2]
حواشی
[1] مذکورہ تجارت اور سفر کے ذریعے سے۔ [2] عرب میں قتل وغارت گری عام تھی لیکن قریش مکہ کو حرم مکہ کی وجہ سے جو احترام حاصل تھا، اس کی وجہ سے وہ خوف وخطر سے محفوظ تھے۔
آیت کے اختیارات
الماعون
ماعون
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ ماعون
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
أَرَءَيْتَ ٱلَّذِى يُكَذِّبُ بِٱلدِّينِ
کیا تو نے (اسے بھی) دیکھا جو (روز) جزا کو جھٹلاتا ہے؟[1]
حواشی
[1] رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کو خطاب ہے اور استفہام سے مقصد اظہار تعجب ہے۔ رویت معرفت کے مفہوم میں ہے اور دین سے مراد آخرت کا حساب اور جزا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ کلام میں حذف ہے۔ اصل عبارت ہے (کیا تو نےاس شخص کو پہچانا جو روز جزا کو جھٹلاتا ہے؟ آیا وہ اپنی اس بات میں صحیح ہے یا غلط؟
آیت کے اختیارات
- 2
فَذَٰلِكَ ٱلَّذِى يَدُعُّ ٱلْيَتِيمَ
یہی وه ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے.[1]
حواشی
[1] اس لئے کہ ایک توبخیل ہے۔ دوسرا، قیامت کا منکر ہے، بھلا ایسا شخص یتیم کے ساتھ کیوں کر حسن سلوک کر سکتا ہے؟ یتیم کے ساتھ تو وہی شخص اچھا برتاؤ کرے گا جس کے دل میں مال کے بجائے انسانی قدروں اور اخلاقی ضابطوں کی اہمیت ومحبت ہوگی۔ دوسرے اسے اس امر کا یقین ہو کہ اس کے بدلے میں مجھے قیامت والے دن اچھی جزا ملے گی۔
آیت کے اختیارات
- 3
وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلْمِسْكِينِ
اور مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا.[1]
حواشی
[1] یہ کام بھی وہی کرے گا جس میں مذکورہ خوبیاں ہوں گی ورنہ یہ یتیم کی طرح مسکین کو بھی دھکا ہی دے گا۔
آیت کے اختیارات
- 4
فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ
ان نمازیوں کے لئے افسوس (اور ویل نامی جہنم کی جگہ) ہے.
آیت کے اختیارات
- 5
ٱلَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ
جو اپنی نماز سے غافل ہیں.[1]
حواشی
[1] اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو نماز یا تو پڑھتے ہی نہیں۔ یا پہلے پڑھتے رہے ہیں، پھر سست ہوگئے یا نماز کو اس کے اپنے مسنون وقت میں نہیں پڑھتے، جب جی چاہتاہے پڑھ لیتے ہیں یا تاخیر سے پڑھنے کو معمول بنا لیتے ہیں یا خشوع خضوع کے ساتھ نہیں پڑھتے۔ یہ سارے ہی مفہوم اس میں آجاتے ہیں، اس لئے نماز کی مذکورہ ساری ہی کوتاہیوں سے بچنا چاہئے۔ یہاں اس مقام پر ذکر کرنے سے یہ بھی واضح ہے کہ نماز میں ان کی کوتاہیوں کے مرتکب وہی لوگ ہوتے ہیں جو آخرت کی جزا اور حساب کتاب پر یقین نہیں رکھتے۔ اسی لئے منافقین کی ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے۔ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلاةِ قَامُوا كُسَالَى يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلا قَلِيلا (النساء: 142) ۔
آیت کے اختیارات
- 6
ٱلَّذِينَ هُمْ يُرَآءُونَ
جو ریاکاری کرتے ہیں.[1]
حواشی
[1] یعنی ایسے لوگوں کو شیوہ یہ ہوتا ہے، کہ لوگوں کے ساتھ ہوئے تو نماز پڑھ لی، بصورت دیگر نماز پڑھنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے، یعنی صرف نمود ونمائش اور ریاکاری کے لئے نماز پڑھتے ہیں ۔
آیت کے اختیارات
- 7
وَيَمْنَعُونَ ٱلْمَاعُونَ
اور برتنے کی چیز روکتے ہیں.[1]
حواشی
[1] مَعْنٌ : شَيْءٌ قَلِيلٌ کہتے ہیں۔ بعض اس سے مراد زکوٰۃ لیتے ہیں، کیوں کہ وہ بھی اصل مال کے مقابلے میں بالکل تھوڑی سی ہی ہوتی ہے، ( ڈھائی فی صد ) اور بعض اس سے گھروں میں برتنے والی چیزیں مراد لیتے ہیں جو پڑوسی ایک دوسرے سےعاریتاً مانگ لیتے ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ گھریلو استعمال کی چیزیں عاریتاً دے دینا اور اس میں کبیدگی محسوس نہ کرنا اچھی صفت ہے اور اس کے برعکس بخل اور کنجوسی برتنا، یہ منکرین قیامت ہی کا شیوہ ہے۔
آیت کے اختیارات
الكوثر
کوثر
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ کوثر
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
إِنَّآ أَعْطَيْنَـٰكَ ٱلْكَوْثَرَ
یقیناً ہم نے تجھے (حوض) کوﺛر (اور بہت کچھ) دیا ہے.[1]
حواشی
[1] كَوْثَرٌ، کثرت سے ہے۔ اس کے معتدد معنی بیان کیے گئے ہیں۔ ابن کثیر نے (خیر کثیر) کے مفہوم کو ترجیح دی ہے کیوں کہ اس میں ایسا عموم ہے کہ جس میں دوسرے معنی بھی آجاتے ہیں۔ مثلاً صحیح احادیث میں بتلایا گیا ہے، کہ اس سے ایک نہر مراد ہےجو جنت میں آپ (صلى الله عليه وسلم) کو عطا کی جائے گی۔ اسی طرح بعض احادیث میں اس کا مصداق حوض بتلایا گیا ہے، جس سے اہل ایمان جنت میں جانے سے قبل نبی (صلى الله عليه وسلم) کے دست مبارک سے پانی پئیں گے۔ اس حوض میں پھر پانی اسی جنت والی نہر سے آرہا ہوگا۔ اسی طرح دنیا کی فتوحات اور آپ (صلى الله عليه وسلم) کا رفع ودوام ذکر اور آخرت کا اجر وثواب، سب ہی چیزیں (خیر کثیر) میں آجاتی ہیں۔ (ابن کثیر) ۔
آیت کے اختیارات
- 2
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنْحَرْ
پس تو اپنے رب کے لئے نماز پڑھ اور قربانی کر.[1]
حواشی
[1] یعنی نماز بھی صرف ایک اللہ کے لئے اور قربانی بھی صرف ایک اللہ کے نام پر۔ مشرکین کی طرح ان میں دوسروں کو شریک نہ کر۔ نَحْرٌ کے اصل معنی ہیں اونٹ کے حلقوم میں نیزہ یا چھری مار کر اسے ذبح کرنا۔ دوسرے جانوروں کو زمین پر لٹا کر ان کے گلوں پر چھری پھیری جاتی ہے اسے ذبح کرنا کہتے ہیں۔ لیکن یہاں نحر سے مراد مطلق قربانی ہے، علاوہ ازیں اس میں بطور صدقہ وخیرات جانور قربان کرنا۔ حج کے موقعے پر منیٰ میں اور عیدالاضحیٰ کے موقعے پر قربانی کرنا، سب شامل ہیں۔
آیت کے اختیارات
- 3
إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلْأَبْتَرُ
یقیناً تیرا دشمن ہی ﻻوارث اور بے نام ونشان ہے.[1]
حواشی
[1] أَبْتَرُ ایسے شخص کوکہتے ہیں جو مقطوع النسل یا مقطوع الذکر ہو، یعنی اس کی ذات پر اس کی نسل کا خاتمہ ہوجائے یا کوئی اس کا نام لیوا نہ رہے۔ جب نبی (صلى الله عليه وسلم) کی اولاد نرینہ زندہ نہ رہی تو بعض کفار نے نبی (صلى الله عليه وسلم) کو ابتر کہا، جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کو تسلی دی کہ ابتر تو نہیں، تیرے دشمن ہی ہوں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کی نسل کو باقی رکھا گو اس کا سلسلہ لڑکی کی طرف سے ہی ہے۔ اسی طرح آپ (صلى الله عليه وسلم) کی امت بھی آپ (صلى الله عليه وسلم) کی اوالاد معنوی ہی ہے، جس کی کثرت پر آپ (صلى الله عليه وسلم) قیامت والے دن فخر کریں گے، علاوہ ازیں آپ (صلى الله عليه وسلم) کا ذکر پوری دنیا میں نہایت عزت واحترام سے کیا جاتا ہے، جبکہ آپ (صلى الله عليه وسلم) سے بغض وعناد رکھنے والے صرف صفحات تاریخ پر ہی موجود رہ گئے ہیں لیکن کسی دل میں ان کا احترام نہیں اور کسی زبان پر ان کا ذکر خیرنہیں۔
آیت کے اختیارات
الكافرون
کافرون
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ کافرون
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
قُلْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْكَـٰفِرُونَ
آپ کہہ دیجئے کہ اے کافرو![1]
حواشی
[1] الْكَافِرُونَ میں الف لام جنس کے لئے ہے۔ لیکن یہاں بطور خاص صرف ان کافروں سے خطاب ہے جن کی بابت اللہ کو علم تھا کہ ان کا خاتمہ کفر وشرک پر ہوگا۔ کیوں کہ اس سورت کے نزول کے بعد کئی مشرک مسلمان ہوئے اور انہوں نے اللہ کی عبادت کی۔ ( فتح القدیر ) ۔
آیت کے اختیارات
- 2
لَآ أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ
نہ میں عبادت کرتا ہوں اس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو.
آیت کے اختیارات
- 3
وَلَآ أَنتُمْ عَـٰبِدُونَ مَآ أَعْبُدُ
نہ تم عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں.
آیت کے اختیارات
- 4
وَلَآ أَنَا۠ عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ
اور نہ میں عبادت کروں گا جس کی تم عبادت کرتے ہو.
آیت کے اختیارات
- 5
وَلَآ أَنتُمْ عَـٰبِدُونَ مَآ أَعْبُدُ
اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں.[1]
حواشی
[1] بعض نے پہلی آیت کو حال کے اوردوسری کو استقبال کے مفہوم میں لیا ہے، لیکن امام شوکانی نے کہا ہے کہ ان تکلفات کی ضرورت نہیں ہے۔ تاکید کے لئے تکرار، عربی زبان کا عام اسلوب ہے، جسے قرآن کریم میں کئی جگہ اختیار کیا گیا ہے۔ جیسے سورۂ رحمٰن، سورۂ مرسلات میں ہے۔ اسی طرح یہاں بھی تاکید کے لئے یہ جملہ دہرایا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ کبھی ممکن نہیں کہ میں توحید کا راستہ چھوڑ کر شرک کا راستہ اختیار کر لوں، جیسا کہ تم چاہتے ہو۔ اور اگر اللہ نے تمہاری قسمت میں ہدایت نہیں لکھی ہے، تو تم بھی اس توحید اور عبادت الٰہی سے محروم ہی رہو گے۔ یہ بات اس وقت فرمائی گئی، جب کفار نے یہ تجویز پیش کی کہ ایک سال ہم آپ (صلى الله عليه وسلم) کے معبود کی اور ایک سال آپ (صلى الله عليه وسلم) ہمارے معبودوں کی عبادت کریں۔
آیت کے اختیارات
- 6
لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِىَ دِينِ
تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی اگر تم اپنے دین پر راضی ہو اور اسے چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہو، تو میں اپنے دین پر راضی ہوں، میں اسے کیوں چھوڑ وں؟ «لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ» (القصص:55) ۔
آیت کے اختیارات
النصر
نصر
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورہ ٔنصر
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
إِذَا جَآءَ نَصْرُ ٱللَّهِ وَٱلْفَتْحُ
جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے۔
آیت کے اختیارات
- 2
وَرَأَيْتَ ٱلنَّاسَ يَدْخُلُونَ فِى دِينِ ٱللَّهِ أَفْوَاجًا
اور تو لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق آتا دیکھ لے.[1]
حواشی
[1] اللہ کی مدد کا مطلب، اسلام اور مسلمانوں کا کفر اور کافروں پر غلبہ ہے، اور فتح سے مراد فتح مکہ ہے، جو نبی (صلى الله عليه وسلم) کا مولد ومسکن تھا، لیکن کافروں نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کو اور صحابہ کرام (رضي الله عنهم) کو وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا تھا، چنانچہ جب 8 ہجری میں یہ مکہ فتح ہو گیا تو لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے شروع ہوگئے، جب کہ اس سے قبل ایک ایک دو دو فرد مسلمان ہوتے تھے۔ فتح مکہ سے لوگوں پر یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کے سچے پیغمبر ہیں اور دین اسلام دین حق ہے،جس کے بغیر اب نجات اخروی ممکن نہیں، اللہ تعالیٰ نےفرمایا جب ایسا ہو تو۔
آیت کے اختیارات
- 3
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَٱسْتَغْفِرْهُ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ تَوَّابًۢا
تو اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ، بیشک وه بڑا ہی توبہ قبول کرنے واﻻ ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی یہ سمجھ لےکہ تبلیغ رسالت اور احقاق حق کا فرض، جو تیرے ذمے تھا، پورا ہو گیا اور اب تیرا دنیا سے کوچ کرنے کا مرحلہ قریب آگیا ہے، اس لئے حمد وتسبیح الٰہی اور استغفار کا خوب اہتمام کر۔ اس سے معلوم ہوا کہ زندگی کے آخری ایام میں ان چیزوں کا اہتمام کثرت سے کرنا چاہئے۔
آیت کے اختیارات
المسد
مسد
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ لہب
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
تَبَّتْ يَدَآ أَبِى لَهَبٍ وَتَبَّ
ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وه (خود) ہلاک ہو گیا.[1]
حواشی
[1] يَدَا، يَدٌ( ہاتھ ) کا تثنیہ ہے، مراد اس سے اس کا نفس ہے، جزبول کر کل مراد لیا گیا ہے یعنی ہلاک وبرباد ہوجائے۔ یہ بددعا ان الفاظ کے جواب میں ہے جو اس نے نبی (صلى الله عليه وسلم) کے متعلق غصے اور عداوت میں بولے تھے۔ وَتَبَّ ( اور وہ ہلاک ہوگیا ) یہ خبر ہے یعنی بد دعا کے ساتھ ہی اللہ نے اس کی ہلاکت اور بربادی کی خبر بھی دے دی۔ چنانچہ جنگ بدر کے چند روز بعد یہ عدسیہ بیماری میں مبتلا ہوا، جس میں طاعون کی طرح گلٹی سی نکلتی ہے، اسی میں اس کی موت واقع ہوگئی۔ تین دن تک اس کی لاش یوں ہی پڑی رہی، حتیٰ کہ سخت بدبو دار ہوگئی۔ بالآخر اس کے لڑکوں نے بیماری کے پھیلنے اور عار کے خوف سے، اس کے جسم پر دور سے ہی پتھر اور مٹی ڈال کر اسے دفنا دیا۔ ( ایسر التفاسیر ) ۔
آیت کے اختیارات
- 2
مَآ أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُۥ وَمَا كَسَبَ
نہ تو اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی.[1]
حواشی
[1] کمائی میں اس کی رئیسانہ حیثیت اور جاہ ومنصب اور اس کی اولاد بھی شامل ہے۔ یعنی جب اللہ کی گرفت آئی تو کوئی چیز اس کے کام نہ آئی۔
آیت کے اختیارات
- 3
سَيَصْلَىٰ نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ
وه عنقریب بھڑکنے والی آگ میں جائے گا.
آیت کے اختیارات
- 4
وَٱمْرَأَتُهُۥ حَمَّالَةَ ٱلْحَطَبِ
اور اس کی بیوی بھی (جائے گی،) جو لکڑیاں ڈھونے والی ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی جہنم میں یہ اپنے خاوند کی آگ پر لکڑیاں لا لاکر ڈالے گی، تاکہ آگ مزید بھڑکے۔ یہ اللہ کی طرف سے ہوگا، یعنی جس طرح یہ دنیا میں اپنے خاوند کی، اس کے کفر وعناد میں، مددگار تھی، آخرت میں بھی عذاب میں اس کی مدد گار ہوگی۔ ( ابن کثیر ) بعض کہتے ہیں کہ وہ کانٹے دار جھاڑیاں ڈھو ڈھو کر لاتی اور نبی (صلى الله عليه وسلم) کے راستے میں لاکر بچھا دیتی تھی۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اس کی چغل خوری کی عادت کی طرف اشارہ ہے۔ چغل خوری کے لئے یہ عربی محاورہ ہے۔ یہ کفار قریش کے پاس جاکر نبی (صلى الله عليه وسلم) کی غیبت کرتی اور انہیں آپ (صلى الله عليه وسلم) کی عداوت پر اکساتی تھی۔ ( فتح الباري)
آیت کے اختیارات
- 5
فِى جِيدِهَا حَبْلٌ مِّن مَّسَدٍۭ
اس کی گردن میں پوست کھجور کی بٹی ہوئی رسی ہوگی.[1]
حواشی
[1] جِيدٌ گردن۔ مَسَدٌ، مضبوط بٹی ہوئی رسی۔ وہ مونج کی یا کھجور کی پوست کی ہو یا آہنی تاروں کی۔ جیسا کہ مختلف لوگوں نے اس کا ترجمہ کیا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ وہ دنیا میں ڈالے رکھتی تھی جسے بیان کیا گیا ہے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جہنم میں اس کے گلے میں جو طوق ہوگا، وہ آہنی تاروں سے بٹا ہوا ہوگا۔ مَسَدٌ سے تشبیہ، اس کی شدت اور مضبوطی کو واضح کرنے کے لئے دی گئی ہے۔
آیت کے اختیارات
الإخلاص
اخلاص
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ اِخلاص
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
قُلْ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ
آپ کہہ دیجئے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے.
آیت کے اختیارات
- 2
ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ
اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے.[1]
حواشی
[1] یعنی سب اس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں۔
آیت کے اختیارات
- 3
لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ
نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وه کسی سے پیدا ہوا.[1]
حواشی
[1] یعنی نہ اس سے کوئی چیز نکلی ہے نہ وہ کسی چیز سے نکلا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 4
وَلَمْ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدٌۢ
اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے.[1]
حواشی
[1] اس کی ذات میں، نہ اس کی صفات میں اور نہ اس کے افعال میں۔ «لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ» (الشورى:11) حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”انسان مجھے گالی دیتا ہے یعنی میرے لئے اولاد ثابت کرتا ہے، حالانکہ میں ایک ہوں بےنیاز ہوں، میں نےکسی کو جنا ہے نہ کسی سے پیدا ہوا ہوں اور نہ کوئی میرا ہمسر ہے“۔ ( صحيح البخاري تفسير سورة قل هو الله أحد) اس سورت میں ان کا بھی رد ہوگیا جو متعدد خداوں کے قائل ہیں اور جو اللہ کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں اور جو اس کو دوسروں کا شریک گردانتے ہیں اور ان کا بھی جو سرے سے وجود باری تعالیٰ ہی کے قائل نہیں۔
آیت کے اختیارات
الفلق
فلق
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ فلق
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلْفَلَقِ
آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں.[1]
حواشی
[1] فَلَقٌ کے راجح معنی صبح کے ہیں۔ صبح کی تخصیص اس لئے کی کہ جس طرح اللہ تعالیٰ رات کا اندھیرا ختم کرکے دن کی روشنی لا سکتا ہے، وہ اللہ اسی طرح خوف اور دہشت کو دور کرکے پناہ مانگنے والے کو امن بھی دے سکتا ہے۔ یا انسان جس طرح رات کو اس بات کا منتظر ہوتا ہے کہ صبح روشنی ہوجائے گی، اسی طرح خوف زدہ آدمی پناہ کے ذریعے سے صبح کامیابی کے طلوع کا امیدوار ہوتا ہے۔ ( فتح القدیر )۔
آیت کے اختیارات
- 2
مِن شَرِّ مَا خَلَقَ
ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے.[1]
حواشی
[1] یہ عام ہے، اس میں شیطان اور اس کی ذریت، جہنم اور ہر اس چیز سےپناہ ہے جس سے انسان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 3
وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ
اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے.[1]
حواشی
[1] رات کے اندھیرے میں ہی خطرناک درندے اپنی کچھاروں سے اور موذی جانور اپنے بلوں سے اور اسی طرح جرائم پیشہ افراد اپنے مذموم ارادوںکو عملی جامہ پہنانے کے لئے نکلتے ہیں۔ ان الفاظ کے ذریعے سے ان تمام سے پناہ طلب کی گئی ہے۔ غَاسِقٍ، رات، وَقَبَ داخل ہو جائے، چھا جائے۔
آیت کے اختیارات
- 4
وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّـٰثَـٰتِ فِى ٱلْعُقَدِ
اور گره (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی).[1]
حواشی
[1] نَفَّاثَاتٌ، مونث کا صیغہ ہے، جو النُّفُوسُ (موصوف محذوف) کی صفت ہے مِنْ شَرِّ النُّفُوسِ النَّفَّاثَاتِ یعنی گرہوں میں پھونکنے والے نفسوں کی برائی سے پناہ۔ اس سے مراد جادو کا کالا عمل کرنے والے مرد اور عورت دونوں ہیں۔ یعنی اس میں جادوگروں کی شرارت سے پناہ مانگی گئی ہے۔ جادوگر، پڑھ پڑھ کر پھونک مارتے اور گرہ لگاتے جاتے ہیں۔ عام طور پر جس پر جادو کرنا ہوتا ہے اس کے بال یا کوئی چیز حاصل کرکے اس پر یہ عمل کیا جاتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 5
وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ
اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وه حسد کرے.[1]
حواشی
[1] حسد یہ ہے کہ حاسد، محسود سے زوال نعمت کی آرزو کرتا ہے، چنانچہ اس سے بھی پناہ طلب کی گئی ہے۔ کیوں کہ حسد بھی ایک نہایت بری اخلاقی بیماری ہے، جو نیکیوں کو کھا جاتی ہے۔
آیت کے اختیارات
الناس
ناس
پڑھنے کی ترتیبات
سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)
تفسیر سورۂ ناس
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com
- 1
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ
آپ کہہ دیجئے! کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناه میں آتا ہوں.[1]
حواشی
[1] رَبٌّ ( پروردگار ) کا مطلب ہے جو ابتدا سے ہی، جب کہ انسان ابھی ماں کے پیش میں ہی ہوتا ہے، اس کی تدبیر واصلاح کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ بالغ عاقل ہو جاتا ہے۔ پھر وہ یہ تدبیر چند مخصوص افراد کے لئے نہیں، بلکہ، تمام انسانوں کے لئے کرتا ہے اور تمام انسانوں کے لئے ہی نہیں، بلکہ اپنی تمام مخلوقات کے لئے کرتا ہے، یہاں صرف انسانوں کا ذکر انسان کے اس شرف وفضل کے اظہار کے لئے ہے جو تمام مخلوقات پر اس کو حاصل ہے۔
آیت کے اختیارات
- 2
مَلِكِ ٱلنَّاسِ
لوگوں کے مالک کی[1] (اور).
حواشی
[1] جوذات، تمام انسانوں کی پرورش اور نگہداشت کرنے والی ہے، وہی اس لائق ہے کہ کائنات کی حکمرانی اور بادشاہی بھی اس کے پاس ہو۔
آیت کے اختیارات
- 3
إِلَـٰهِ ٱلنَّاسِ
لوگوں کے معبود کی (پناه میں).[1]
حواشی
[1] اور جو تمام کائنات کا پروردگار ہو، پوری کائنات پر اسی کی بادشاہی ہو، وہی ذات اس بات کی مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور وہی تمام لوگوں کا معبود ہو۔ چنانچہ میں اسی عظیم وبرتر ہستی کی پناہ حاصل کرتا ہوں۔
آیت کے اختیارات
- 4
مِن شَرِّ ٱلْوَسْوَاسِ ٱلْخَنَّاسِ
وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے.[1]
حواشی
[1] الْوَسْوَاسُ، بعض کے نزدیک اسم فاعل الْمُوَسْوِسُ کے معنی میں ہے اوربعض کےنزدیک یہ ذِي الْوَسْوَاسِ ہے۔ وسوسہ، مخفی آواز کو کہتے ہیں۔ شیطان بھی نہایت غیر محسوس طریقوں سے انسان کے دل میں بری باتیں ڈال دیتا ہے، اسی کو وسوسہ کہا جاتا ہے۔ الْخَنَّاسِ، ( کھسک جانے والایہ ) شیطان کی صفت ہے۔ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو یہ کھسک جاتا ہے اور اللہ کی یاد سے غفلت برتی جائے تو دل پر چھا جاتا ہے۔
آیت کے اختیارات
- 5
ٱلَّذِى يُوَسْوِسُ فِى صُدُورِ ٱلنَّاسِ
جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے.
آیت کے اختیارات
- 6
مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ
(خواه) وه جن میں سے ہو یا انسان میں سے.[1]
حواشی
[1] یہ وسوسہ ڈالنے والوں کی دو قسمیں ہیں۔ شیاطین الجن کو تو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو گمراہ کرنے کی قدرت دی ہے۔ علاوہ ازیں ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان اس کا ساتھی ہوتا ہے جو اس کو گمراہ کرتا رہتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ جب نبی (صلى الله عليه وسلم) نے یہ بات فرمائی تو صحابہ (رضي الله عنهم) نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! کیا وہ آپ کے ساتھ بھی ہے؟ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا، ہاں ! میرے ساتھ بھی ہے، لیکن اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے، اور وہ میرا مطیع ہو گیا ہے۔ مجھے خیر کے علاوہ کسی بات کا حکم نہیں دیتا۔ ( صحيح مسلم، كتاب صفة القيامة، باب تحريش الشيطان وبعثه سراياه لفتنة الناس) اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) اعتکاف فرما تھے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی زوجہ مطہرہ حضرت صفیہ (رضی الله عنها) آپ (صلى الله عليه وسلم) سے ملنےکے لئے آئیں۔ رات کا وقت تھا، آپ (صلى الله عليه وسلم) انہیں چھوڑنے کےلئے ان کے ساتھ گئے۔ راستے میں دو انصاری صحابی وہاں سے گزرے، تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے انہیں بلاکر فرمایا کہ یہ میری اہلیہ، صفیہ بنت حیی، ہیں۔ انہوں نے عرض کیا، یارسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) آپ کی بابت ہمیں کیا بدگمانی ہو سکتی تھی؟ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا یہ تو ٹھیک ہے، لیکن شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔ مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دلوں میں کچھ شبہ نہ ڈال دے۔ ( صحيح بخاري، كتاب الأحكام، والشهادة، تكون عند الحاكم في ولاية القضاء) ۔ دوسرے شیطان، انسانوں میں سےہوتے ہیں جو ناصح، مشفق کے روپ میں انسانوں کو گمراہی کی ترغیب دیتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ شیطان جن کو گمراہ کرتا ہے یہ ان کی دو قسمیں ہیں، یعنی شیطان انسانوں کو بھی گمراہ کرتا ہے اور جنات کو بھی۔ صرف انسانون کا ذکر تغلیب کے طور پر ہے، ورنہ جنات بھی شیطان کے وسوسوں سے گمراہ ہونے والوں میں شامل ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ جنوں پر بھی قرآن میں رجال کا لفظ بولا گیا ہے۔ (سورۃ الجن: 6) اس لئے وہ بھی ناس کا مصداق ہیں ۔
آیت کے اختیارات
سورت کا اختتام: تفسیر سعدی (اردو)
وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ أَوَّلًا وَّآخِرًا ظَاھِرًا وَّبَاطِنًا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ اپنی نعمتوں کا اتمام کرے، ہمارے گناہوں کو بخش دے جو ہمارے اور اس کی بہت سے برکات کے درمیان حائل ہیں۔ وہ ہماری خطاؤ ں اور شہوات کو معاف کر دے جنھوں نے ہماری عقلوں کو اس کی آیات میں تدبر و تفکر سے عاری کر دیا۔ ہم امید کرتے ہیں اور ہم توقع رکھتے ہیں کہ ہمارے دامن میں جو برائیاں ہیں، ان کے بدلے میں وہ ہمیں اپنی بھلائی سے محروم نہیں کرے گا۔ پس اللہ تعالیٰ کی رحمت سے صرف کافر ہی مایوس اور اس کی رحمت سے صرف گمراہ ہی ناامید ہوتے ہیں۔ وَصَلَّی اللہُ وَسَلَّمَ عَلٰی رَسُولِہِ مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ أَجْمَعِینَ صَلَاۃً وَّسَلَامًا دَائِمًا مُّتَوَاصِلِینَ أَبَدَا الْأَوْقَاتِ وَالْحَمْدُ لِلہِ الَّذِي بِنِعْمَتِہِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ. کتاب اللہ کی تفسیر اس کی مدد اور توفیق سے اس کے مرتب اور کاتب عبدالرحمن بن ناصر بن عبداللہ المعروف بہ ’’ابن سعدی‘‘ کے ہاتھوں مکمل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اس کی، اس کے والدین کی اور تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے۔ اور اس کی ترتیب یکم ربیع الاول ۱۳۴۴ھ میں اور اس کی نقل شعبان ۱۳۴۵ھ میں مکمل ہوئی۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا وَاعْفُ عَنَّا إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ ۔